Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 49 · Chapter 3108

ظہار کا بیان

ظہار کرنے والے شخص پر کفارہ دینا لازم ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَالَّذِیْنَ یُظَاہِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِ ہِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْریْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا } [المجادلہ ٣] ” وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں پھ

2 hadiths in this chapter

15261

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15261

Zaeef

(۱۵۲۵۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ: الَّذِی حَفِظْتُ مِمَّا سَمِعْتُ فِی { یَعُودُونَ لِمَا قَالُوا } أَنَّ الْمُظَاہِرَ حَرَّمَ امْرَأَتَہُ بِالظِّہَارِ فَإِذَا أَتَتْ عَلَیْہِ مُدَّۃٌ بَعْدَ الْقَوْلِ بِالظِّہَارِ لَمْ یُحَرِّمْہَا بِالطَّلاَقِ الَّذِی تَحْرُمُ بِہِ وَلاَ بِشَیْئٍ یَکُونُ لَہُ مَخْرَجٌ مِنْ أَنْ تَحْرُمَ بِہِ فَقَدْ وَجَبَتْ عَلَیْہِ کَفَّارَۃُ الظِّہَارِ کَأَنَّہُمْ یَذْہَبُونَ إِلَی أَنَّہُ إِذَا أَمْسَکَ مَا حَرَّمَ عَلَی نَفْسِہِ أَنَّہُ حَلاَلٌ فَقَدْ عَادَ لِمَا قَالَ مُخَالَفَۃً فَأَحَلَّ مَا حَرَّمَ قَالَ وَلاَ أَعْلَمُ لَہُ مَعْنًی أَوْلَی بِہِ مِنْ ہَذَا قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : لاَ أَعْلَمُ مُخَالِفًا فِی أَنَّ عَلَیْہِ کَفَّارَۃَ الظِّہَارِ وَإِنْ لَمْ یَعُدْ بِتَظَاہُرٍ آخَرَ فَلَمْ یَجُزْ أَنْ یُقَالَ مَا لَمْ أَعْلَمْ مُخَالِفًا فِی أَنَّہُ لَیْسَ بِمَعْنَی الآیَۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٥٥) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : جو میں نے یاد رکھا : { یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا } [المجادلہ ٣] کہ ظہار کرنے والا اپنی بیوی کو ظہار کی بنا پر حرام کرلیتا ہے۔ ظہار کہنے کے بعد جب ایک عرصہ ہوگیا تو طلاق کی بدولت وہ (عورت) حرام نہیں ہوگی جیسے اس ظہار کے ساتھ ہوتی ہے اور نہ کوئی ایسی چیز جو اس کے لیے اس حرام سے نکلنے کا سبب ہو تو اس پر ظہار کا کفارہ واجب ہے گویا کہ ان کا موقف ہے کہ جب اس چیز سے وہ رک گیا جو اس نے اپنے اوپر حرام کرلی حالانکہ وہ حلال ہے تو اگر اس نے وہی بات دوبارہ مخالفت کرتے ہوئے کی تو اس نے جو حرام ٹھہرایا تھا اس کو حلال کرلیا اور مجھے علم نہیں کون سا معنی اولیٰ ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : میرے علم میں نہیں کہ اس پر کفارہ ظہار کا کوئی مخالف ہو۔ اگر اس نے دوبارہ ظہار کیا تو یہ کہنا جائز نہیں کہ مجھے علم نہیں کہ اس کا کوئی مخالف ہے اس بات کے متعلق کہ یہی آیت کا معنی ہے۔

15262

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15262

Zaeef

(۱۵۲۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ حَدَّثَنِی أَبُو الْعَالِیَۃِ الرَّیَاحِیُّ قَالَ : کَانَتْ خَوْلَۃُ بِنْتُ دُلَیْجٍ تَحْتَ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَکَانَ سَیِّئَ الْخُلُقِ ضَرِیرَ الْبَصَرِ فَقِیرًا وَکَانَتِ الْجَاہِلِیَّۃُ إِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ یُفَارِقَ امْرَأَتَہُ قَالَ لَہَا : أَنْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِ أُمِّی فَنَازَعَتْہُ فِی بَعْضِ الشَّیْئِ فَقَالَ : أَنْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِ أُمِّی وَکَانَ لَہُ عَیِّلٌ أَوْ عَیِّلاَنِ فَلَمَّا سَمِعَتْہُ یَقُولُ مَا قَالَ احْتَمَلَتْ صِبْیَانَہَا فَانْطَلَقَتْ تَسْعَی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَوَافَقَتْہُ عِنْدَ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی بَیْتِہَا وَإِذَا عَائِشَۃُ تَغْسِلُ شِقَّ رَأْسِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَامَتْ عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ زَوْجَہَا فَقِیرٌ ضَرِیرُ الْبَصَرِ سَیِّیئُ الْخُلُقِ وَإِنِّی نَازَعْتُہُ فِی شَیْئٍ فَقَالَ : أَنْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِ أُمِّی وَلَمْ یُرِدِ الطَّلاَقَ فَرَفَعَ النَّبِیُّ -ﷺ- رَأْسَہُ فَقَالَ : مَا أَعْلَمُ إِلاَّ قَدْ حَرُمْتِ عَلَیْہِ ۔ قَالَ : فَاسْتَکَانَتْ وَقَالَتْ : أَشْتَکِی إِلَی اللَّہِ مَا نَزَلَ بِی وَبِصِبْیَتِی قَالَ وَتَحَوَّلَتْ عَائِشَۃُ تَغْسِلُ شِقَّ رَأْسِہِ الآخَرِ فَتَحَوَّلَتْ مَعَہَا فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِکَ قَالَتْ وَلِی مِنْہُ عَیِّلٌ أَوْ عَیِّلاَنِ فَرَفَعَ النَّبِیُّ -ﷺ- رَأْسَہُ إِلَیْہَا فَقَالَ : مَا أَعْلَمُ إِلاَّ قَدْ حَرُمْتِ عَلَیْہِ ۔ فَبَکَتْ وَقَالَتْ : أَشْتَکِی إِلَی اللَّہِ مَا نَزَل بِی وَبِصِبْیَتِی وَتَغَیَّرَ وَجْہُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : وَرَائَ کِ فَتَنَحَّتْ وَمَکَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَا شَائَ اللَّہُ ثُمَّ انْقَطَعَ الْوَحْیُ فَقَالَ : یَا عَائِشَۃُ أَیْنَ الْمَرْأَۃُ قَالَتْ : ہَا ہِیَ ہَذِہِ قَالَ : ادْعِیہَا ۔ فَدَعَتْہَا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : اذْہَبِی فَجِیئِی بِزَوْجِکِ ۔ قَالَ : فَانْطَلَقَتْ تَسْعَی فَلَمْ تَلْبَثْ أَنْ جَائَ تْ بِہِ فَأَدْخَلَتْہُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَإِذَا ہُوَ کَمَا قَالَتْ ضَرِیرُ الْبَصَرِ فَقِیرٌ سَیِّئُ الْخُلُقِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَسْتَعِیذُ بِالسَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ {قَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا وَتَشْتَکِی إِلَی اللَّہِ} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَتَجِدُ عِتْقَ رَقَبَۃٍ ۔ قَالَ : لاَ قَالَ : أَفَتَسْتَطِیعُ صَوْمَ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔ قَالَ لَہُ : وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ إِذَا لَمْ آکُلِ الْمَرَّۃَ وَالْمَرَّتَیْنِ وَالثَّلاَثَ یَکَادُ أَنْ یَعْشُوَ بَصَرِی قَالَ : فَتَسْتَطِیعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّینَ مِسْکِینًا۔ قَالَ : لاَ إِلاَّ أَنْ تُعِینَنِی فِیہَا قَالَ فَدَعَا بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَکَفَّرَ یَمِینَہُ۔ ہَذَا مُرْسَلٌ وَلَکِنْ لَہُ شَوَاہِدُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٥٦) ابو العالیہ ریاحی فرماتے ہیں کہ خولہ بنت دلیج ایک انصاری کے نکاح میں تھی، وہ بداخلاق اور کمزور نظر والا، فقیر تھا اور جاہلیت میں جب خاوند بیوی کو جدا کرنا چاہتا تو بیوی سے کہہ دیتا : تو مجھ پر میری ماں جیسی ہے تو اس نے کسی چیز میں جھگڑا کیا۔ اس نے کہہ دیا کہ تو میرے اوپر میری ماں کی طرح ہے، اس کی اولاد بھی تھی۔ جب اس نے سنا، جو اس نے کہہ دیا تو وہ اپنے بچوں کو اٹھا کر دوڑتی ہوئی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عائشہ (رض) کے گھر میں تھے اور حضرت عائشہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر کی ایک جانب دھو رہی تھیں۔ وہاں آکر کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا خاوند فقیر، کمزور نظر والا اور بداخلاق ہے۔ میں نے کسی بات پر اس سے جھگڑا کیا تو اس نے کہہ دیا : تو میرے لیے میری ماں کی طرح ہے۔ لیکن طلاق کا ارادہ نہ کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سر اٹھایا۔ آپ نے فرمایا : میرے علم کے مطابق تو اس پر حرام ہے، فرماتے ہیں : اس نے عاجزی و انکساری کی اور کہتی ہیں : میں اپنی مصیبت کی شکایت اللہ رب العزت سے کرتی ہوں۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عائشہ (رض) نے سر کی دوسری جانب دھونی چاہی، وہ بھی آپ کے ساتھ ہی پھر گئی۔ پھر اس نے اسی کی مثل کہا۔ کہتی ہیں : میرے اس سے بچے ہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر اٹھا کر فرمایا : تو اس پر حرام ہوگئی ہے، وہ رو پڑی اور کہنے لگی : میں اپنی مصیبت کی شکایت اللہ رب العزت سے کرتی ہوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : پیچھے ہوجاؤ۔ وہ پیچھے ہٹ گئی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٹھہرے رہے، جتنی دیر اللہ نے چاہا۔ پھر وحی ختم ہوئی تو فرمایا : اے عائشہ ! عورت کہاں ہے ؟ فرماتی ہیں : یہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاؤ تو عائشہ (رض) نے بلایا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ اپنے خاوند کو لے کر آؤ۔ راوی کہتے ہیں : وہ دوڑتی ہوئی گئی اور اپنے خاوند کو لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئی۔ وہ ویسا ہی تھا جیسے اس نے کہا کمزور نظر والا، فقیر اور بداخلاق تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں سمیع علیم کے ساتھ شیطان مردود سے پناہ پکڑتا ہوں { بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ۔ قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْٓ اِلَی اللّٰہِ } [المجادلہ ١] ” کہ اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھی اور اللہ سے شکایت کر رہی تھی۔ “ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو غلام آزاد کرسکتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ فرمایا : کیا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ اللہ کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ میں دن میں ایک دو یا تین مرتبہ کھانا کھاتا ہوں۔ تاکہ میری نظر باقی رہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں، مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری اس کے بارے میں مدد کریں، راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلایا اور قسم کا کفارہ دے دیا۔