Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2944

نکاح کا بیان

جس نے عزل کو مکروہ جانا اور اس کے بارے میں مختلف روایات اور جو اس کی کراہیت کے بارے میں منقول ہے

4 hadiths in this chapter

14334

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14334

Sahih

(۱۴۳۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ : کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَنْہَی عَنِ الْعَزْلِ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یَنْہَی عَنْ ذَلِکَ وَکَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ وَزِیدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَعْزِلاَنِ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٣٢٨) سالم بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اور عبداللہ بن عمر عزل سے منع فرماتے تھے، جبکہ سعد بن ابی وقاص اور زید بن ثابت دونوں عزل کرتے تھے۔

14335

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14335

Sahih

(۱۴۳۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ سَنَۃَ سِتِّینَ وَمِائَتَیْنِ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُ کَانَ یَضْرِبُ بَنِیہِ عَلَی الْعَزْلِ أَیْ یَنْہَی عَنْہُ۔ وَرُوِّینَا عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُمَا کَرِہَا الْعَزْلَ وَرُوِّینَا عَنْہُمَا الإِبَاحَۃَ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٣٢٩) نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) اپنے بیٹوں کو عزل کرنے پر مارتے تھے، یعنی منع فرماتے ہیں، لیکن حضرت علی بن ابی طالب (رض) اور عبداللہ بن مسعود (رض) دونوں عزل کو مکروہ خیال کرتے تھے اور ان سے جواز بھی منقول ہے۔

14336

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14336

Sahih

(۱۴۳۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ حَدَّثَنِی أَبُو الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنْ جُدَامَۃَ بِنْتِ وَہْبٍ أُخْتِ عُکَّاشَۃَ بْنِ وَہْبٍ قَالَتْ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی أُنَاسٍ وَہُوَ یَقُولُ : لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ أَنْہَی عَنِ الْغِیلَۃِ فَنَظَرْتُ فِی الرُّومِ وَفَارِسَ فَإِذَا ہُمْ یُغِیلُونَ أَوْلاَدَہُمْ فَلاَ یَضُرُّ أَوْلاَدَہُمْ شَیْئًا۔ وَسَأَلُوہُ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْوَأْدُ الْخَفِیُّ {وَإِذَا الْمَوْئُ ودَۃُ سُئِلَتْ}۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدٍ وَغَیْرِہِ عَنِ الْمُقْرِئِ۔ وَقَدْ رُوِّینَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الْعَزْلِ خِلاَفَ ہَذَا وَرُوَاۃُ الإِبَاحَۃِ أَکْثَرُ وَأَحْفَظُ وَأَبَاحَہُ مَنْ سَمَّیْنَا مِنَ الصَّحَابَۃِ فَہِیَ أَوْلَی وَتَحْتَمِلُ کَرَاہِیَۃُ مَنْ کَرِہَہُ مِنْہُمُ التَّنْزِیہَ دُونَ التَّحْرِیمِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۴۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٣٣٠) جدامہ بنت وہب جو عکاشہ بن وہب کی بہن ہے، فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ جب آپ لوگوں میں تشریف فرما تھے اور فرما رہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا کہ غیلہ سے منع کر دو ، پھر میں نے فارس اور روم میں دیکھا کہ وہ غیلہ کرتے ہیں اپنی اولادوں پر تو ان کی اولاد کو کچھ بھی نقصان نہیں دیتا اور انھوں نے عزل کے بارے میں سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ مخفی انداز سے زندہ درگور کرنا ہے، { وَاِذَا الْمَوْئٗ دَۃُ سُئِلَتْ } [التکویر ٨] جب زندہ درگور کی ہوئی سے پوچھا جائے گا۔ “ نوٹ : عزل کی روایات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ منقول اور جواز کی ہیں لیکن جس نے مکروہ خیال کیا تو یہ تنزیہی ہے نہ کہ حرام ہے۔

14337

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14337

Zaeef

(۱۴۳۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : الْفَضْلُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الإِسْفَرَائِینِیُّ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنِ الرُّکَیْنِ بْنِ الرَّبِیعِ بْنِ عُمَیْلَۃَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ عَمِّہِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَکْرَہُ عَشْرَ خِلاَلٍ التَّخَتُّمَ بِالذَّہَبِ وَجَرَّ الإِزَارِ وَالصُّفْرَۃَ یَعْنِی الْخَلُوقَ وَتَغْیِیرَ الشَّیْبِ وَالرُّقَی إِلاَّ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَعَقَدَ التَّمَائِمِ وَالضَّرْبَ بِالْکِعَابِ وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّینَۃِ لِغَیْرِ مَحِلِّہَا وَعَزْلَ الْمَائِ عَنْ مَحِلِّہِ وَإِفْسَادَ الصَّبِیِّ غَیْرَ مُحَرِّمِہِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٣٣١) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دس چیزوں کو ناپسند فرماتے : 1 سونے کی انگوٹھی 2 چادر لٹکانا 3 خلوق خوشبو کی لیپ کرنا 4 بڑھاپے کو تبدیل کرنا۔ 5 ۔ دم کرنا سوائے معوذات کے 6 تعویذ باندھنا 7 نرد کے ساتھ کھیلنا 8 بغیر محل کے زینت ظاہر کرنا۔ 9 عزل کرنا 10 ۔ اور بچے کو خراب کرنا۔