Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2909

نکاح کا بیان

خطبہ کے ابواب اشارے کے ساتھ نکاح کا پیغام دینے کا بیان اللہ کا فرمان ہے : { لاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ } [البقرۃ ٢٣٥] ” اور تم پر کوئی گناہ نہیں جو تم نے عورتوں کو اشارۃً نکاح کا پیغام دیا۔ “

14 hadiths in this chapter

14021

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14021

Sahih

(۱۴۰۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ مَوْلَی الأَسْوَدِ بْنِ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ : أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَہَا الْبَتَّۃَ وَہُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا وَکِیلَہُ بِشَعِیرٍ فَسَخِطَتْہُ فَقَالَ : وَاللَّہِ مَا لَکَ عَلَیْنَا مِنْ شَیْئٍ فَجَائَ تْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : لَیْسَ لَکِ عَلَیْہِ نَفَقَۃٌ ۔ وَأَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ فِی بَیْتِ أُمِّ شَرِیکٍ ثُمَّ قَالَ : تِلْکَ امْرَأَۃٌ یَغْشَاہَا أَصْحَابِی اعْتَدِّی عِنْدَ ابْنِ أَمِّ مَکْتُومٍ فَإِنَّہُ رَجُلٌ أَعْمَی تَضَعِینَ ثِیَابَکِ فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِینِی ۔ قَالَتْ : فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَکَرَتُ لَہُ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ وَأَبَا جَہْمٍ خَطَبَانِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَمَّا أَبُو جَہْمٍ فَلاَ یَضَعُ عَصَاہُ عَنْ عَاتِقِہِ وَأَمَّا مُعَاوِیَۃُ فَصُعْلُوکٌ لاَ مَالَ لَہُ انْکِحِی أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ ۔ قَالَتْ : فَکَرِہْتُہُ ثُمَّ قَالَ : انْکِحِی أُسَامَۃَ ۔ فَنَکَحْتُہُ فَجَعَلَ اللَّہُ فِیہِ خَیْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۸۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٠١٥) سلمہ بن عبدالرحمن فاطمہ بنت قیس سے نقل فرماتے ہیں کہ ابو عمرو بن حفص نے اس کو طلاق بائنہ دے دی اور وہ غائب تھے۔ ابو عمرو بن حفص کے وکیل نے فاطمہ بنت قیس کو کچھ جو دیے جن کی وجہ سے وہ ناراض ہوگئی تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! ہمارے ذمہ تیرے لیے کچھ بھی نہیں ہے تو فاطمہ نے آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تذکرہ کیا، آپ نے فرمایا : اس کے ذمہ تیرا خرچہ نہیں ہے اور فرمایا : تو ام شریک کے گھر عدت گذار لے۔ پھر فرمایا : میرے صحابہ کا اس عورت کے پاس آنا جانا رہتا ہے، آپ عبداللہ بن ام مکتوم کے ہاں عدت گزار لیں، وہ نابینا صحابی ہے، کبھی آپ کا کپڑا اتر بھی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، جب عدت گزر جائے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب عدت گزر گئی تو میں نے بتایا کہ مجھے معاویہ بن ابی سفیان اور ابو جہم نے نکاح کا پیغام دیا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابو جہم اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں رکھتا اور معاویہ فقیر آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں ہے۔ آپ اسامہ سے نکاح کرلیں۔ کہتی ہیں : میں نے اس کو ناپسند کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسامہ سے نکاح کرلو۔ کہتی ہیں : میں نے نکاح کرلیا تو اللہ نے اس میں برکت ڈال دی اور میں رشک کی جانے لگی۔

14022

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14022

Sahih

(۱۴۰۱۶) وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَرْسَلَ إِلَیْہَا أَنْ لاَ تَسْبِقِینِی بِنَفْسِکِ۔ وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ فَقَالَ : وَلاَ تُفَوِّتِینَا بِنَفْسِکِ ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ یَحْیَی (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رِبْحٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو کِلاَہُمَا عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ فَاطِمَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَذَکَرَ فِیہِ اللَّفْظَتَیْنِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٠١٦) ابو سلمہ بن عبدالرحمن حضرت فاطمہ بنت قیس سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پیغام دیا کہ اپنے نفس کے بارے میں مجھ سے سبقت نہ کرنا۔ (ب) حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن فاطمہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اپنے نفس کے بارے میں ہم سے سبقت نہ کرنا۔

14023

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14023

Zaeef

(۱۴۰۱۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَنْظَلَۃَ الْغَسِیلِ قَالَ حَدَّثَتْنِی خَالَتِی سُکَیْنَۃُ بِنْتُ حَنْظَلَۃَ وَکَانَتْ بِقُبَائٍ تَحْتَ ابْنِ عَمٍّ لَہَا تُوُفِّیَ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ وَأَنَا فِی عِدَّتِی فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : کَیْفَ أَصْبَحْتِ یَا بِنْتَ حَنْظَلَۃَ فَقُلْتُ : بِخَیْرٍ جَعَلَکَ اللَّہُ بِخَیْرٍ فَقَالَ : أَنَا مَنْ قَدْ عَلِمْتِ قَرَابَتِی مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَرَابَتِی مِنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَحَقِّی فِی الإِسْلاَمِ وَشَرَفِی فِی الْعَرَبِ قَالَتْ فَقُلْتُ : غَفَرَ اللَّہُ لَکَ یَا أَبَا جَعْفَرٍ أَنْتَ رَجُلٌ یُؤْخَذُ مِنْکَ وَیُرْوَی عَنْکَ تَخْطُبُنِی فِی عِدَّتِی فَقَالَ : مَا فَعَلْتُ إِنَّمَا أَخْبَرْتُکِ بِمَنْزِلَتِی مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ بِنْتِ أَبِی أُمَیَّۃَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ الْمَخْزُومِیَّۃِ وَتَأَیَّمَتْ مِنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الأَسَدِ وَہُوَ ابْنُ عَمِّہَا فَلَمْ یَزَلْ یُذَکِّرُہَا بِمَنْزِلَتِہِ مِنَ اللَّہِ تَعَالَی حَتَّی أَثَّرَ الْحَصِیرُ فِی کَفَّہِ مِنْ شِدَّۃِ مَا کَانَ یَعْتَمِدُ عَلَیْہِ فَمَا کَانَتْ تِلْکَ خِطْبَۃً۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٠١٧) عبدالرحمن بن حنظلہ غسیل اپنی خالہ سکینہ بنت حنظلہ سے نقل فرماتے ہیں جو قباء میں اپنے چچا کے بیٹے کے نکاح میں تھی۔ وہ فوت ہوگیا، کہتی ہیں کہ ابو جعفر محمد بن علی عدت کے اندر میرے پاس آئے، سلام کہا اور پوچھنے لگے : اے بنت حنظلہ ! کیسی صبح کی ؟ میں نے کہا : بہتر اللہ نے اس میں بہتری رکھی۔ کہنے لگے : میری قرابت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت علی (رض) سے ہے اور میرا حق اسلام میں ہے اور عرب میں میرا مقام ہے، میں نے کہا، یعنی سکینہ بنت حنظلہ نے : اے ابوجعفر ! اللہ آپ کو معاف کرے، آپ ایسے آدمی ہیں جن سے لیا جاتا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ کی جانب سے میری عدت میں پیغام نکاح تو اس نے کہا کہ میں نے ایسا نہیں کیا، میں نے تو صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی قرابت داری کا تذکرہ کیا ہے، پھر کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام سلمہ بنت ابی امیہ بن مغیرہ مخزومیہ کے پاس آئے، جو ابی سلمہ کی بیوی تھی، جو ان کے چچا کا بیٹا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ کے ہاں ان کے مرتبہ کا تذکرہ کرتے رہے، یہاں تک کہ چٹائی کے نشانات ان کی ہتھیلی پر ظاہر ہوگئے یہ پیغام نکاح تو نہ تھا۔

14024

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14024

Sahih

(۱۴۰۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {لاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ } قَالَ : التَّعْرِیضُ زَادَ فِیہِ غَیْرُہُ وَالتَّعْرِیضُ مَا لَمْ یَنْصِبْ لِلْخِطْبَۃِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٠١٨) حضرت عبداللہ بن عباس اللہ کے اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں : { لاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ } [البقرۃ ٢٣٥] ” اور تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ہے جو تم عورتوں کے نکاح کے بارے میں اشارۃً بات کہو “ اور تعریف خطبہ کے لیے ہی نہیں ہوتی۔

14025

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14025

Sahih

(۱۴۰۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ الرَّزْجَاہِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا ابْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ {لاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ } إِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ إِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ۔ وَقَالَ الْبُخَارِیُّ قَالَ لِی طَلْقٌ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ یَقُولُ : إِنِّی أُرِیدُ التَّزْوِیجَ وَلَوَدِدْتُ إِنْ تَیَسَّرَ لِی امْرَأَۃٌ صَالِحَۃٌ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق عن منصور]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٠١٩) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کا ارشاد : { لاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نکاح کا ارادہ رکھتا ہوںـ، میں نکاح کا ارادہ رکھتا ہوں۔ (ب) مجاہد حضرت عبداللہ بن عباس سے فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نکاح کا ارادہ رکھتا ہوں اور میری چاہت ہے کہ مجھے نیک بیوی مل جائے۔

14026

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14026

Sahih

(۱۴۰۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ } أَنْ یَقُولَ الرَّجُلُ لِلْمَرْأَۃِ وَہِیَ فِی عِدَّتِہَا مِنْ وَفَاۃِ زَوْجِہَا : إِنَّکِ عَلَیَّ لَکَرِیمَۃٌ وَإِنِّی فِیکِ لَرَاغِبٌ وَإِنَّ اللَّہَ لَسَائِقٌ إِلَیْکَ خَیْرًا وَرِزْقًا وَنَحْوَ ہَذَا مِنَ الْقَوْلِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۱۱۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٠٢٠) عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے اللہ کے اس فرمان : { وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ } [البقرۃ ٢٣٥] کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کسی عورت سے کہے جو اپنے خاوند کی وفات کے بعد عدت گزار رہی ہو کہ تو میرے نزدیک معزز ہے، میں تیرے بارے میں رغبت رکھتا ہوں اور اللہ تیری طرف بھلائی اور رزق کو لانے والا ہے، اس طرح کی بات کہے۔

14027

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14027

Sahih

(۱۴۰۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِینِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی { وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ } قَالَ ہُوَ قَوْلُ الرَّجُلِ لِلْمَرْأَۃِ فِی عِدَّتِہَا إِنِّی أُرِیدُ التَّزْوِیجَ وَإِنِّی إِنْ تَزَوَّجْتُ أَحْسَنْتُ إِلَی امْرَأَتِی۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٠٢١) سعید بن جبیر اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ } [البقرۃ ٢٣٥] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کوئی شخص عورت کی عدت کے اندر یہ کہے کہ میں نکاح کا ارادہ رکھتا ہوں، اگر میں نے شادی کی تو اپنی بیوی سے اچھا سلوک کروں گا۔

14028

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14028

Zaeef

(۱۴۰۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ قَالَ : ہُوَ قَوْلُ الرَّجُلِ لِلْمَرْأَۃِ فِی عِدَّتِہَا إِنَّکِ لَجَمِیلَۃٌ وَإِنَّکِ لَتُعْجِبِینِی وَیُضْمِرُ خِطْبَتَہَا فَلاَ یُبْدِیہِ لَہَا ہَذَا کُلُّہُ حِلٌّ مَعْرُوفٌ { وَلَکِنْ لاَ تُوَاعِدُوہُنَّ سِرًّا} قَالَ یَقُولُ لَہَا لاَ تَسْبِقِینِی بِنَفْسِکِ فَإِنِّی نَاکِحُکَ۔ ہَذَا لاَ یَحِلُّ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٠٢٢) مجاہد اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مرد کا عورت کو عدت کے اندر کہنا : آپ خوبصورت ہیں، آپ مجھے اچھی لگتی ہیں، نکاح کا پیغام پوشیدہ رکھے، ظاہر نہ کرے، یہ تمام جائز ہیں { وَلَکِنْ لاَ تُوَاعِدُوہُنَّ سِرًّا } پوشیدہ وعدہ نہ دو کہ کوئی شخص اس سے کہے کہ اپنا نکاح خود نہ کرنا میں تجھ سے نکاح کروں گا، یہ حلال نہیں ہے۔

14029

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14029

Sahih

(۱۴۰۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {وَلَکِنْ لاَ تُوَاعِدُوہُنَّ سِرًّا} قَالَ : لاَ یَخْطُبُہَا فِی عِدَّتِہَا {إِلاَّ أَنْ تَقُولُوا قَوْلاً مَعْرُوفًا} یَقُولُ : إِنَّکِ لَجَمِیلَۃٌ وَإِنَّکِ لَفِی مَنْصِبٍ وَإِنَّکِ لَمَرْغُوبٌ فِیکِ۔ [صحیح۔ اخرجہ سعید بن منصور ۳۸۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٠٢٣) مجاہد اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَلٰکِنْ لاَّ تُوَاعِدُوْہُنَّ سِرًّا } کہ عورت کو عدت کے ایام میں پیغامِ نکاح نہ دے { اِلاَّ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا } [البقرۃ ٢٣٥] یعنی یہ کہہ دے کہ آپ بڑی خوبصورت ہیں، آپ کا ایک مقام ہے، آپ میں رغبت کی جاتی ہے۔

14030

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14030

Sahih

(۱۴۰۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : یُقَاطِعُہَا عَلَی کَذَا وَکَذَا أَنْ لاَ تَزَوَّجَ غَیْرَہُ { إِلاَّ أَنْ تَقُولُوا قَوْلاً مَعْرُوفًا } قَالَ یَقُولُ : إِنِّی فِیکِ لَرَاغِبٌ وَإِنِّی لأَرْجُو أَنْ نَجْتَمِعَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٠٢٤) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ وہ کہے کہ وہ اتنے پر بات کا تعین کرتا ہے کہ کسی دوسرے سے شادی نہ کرے { اِلاَّ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا } [البقرۃ ٢٣٥] بیان کرتے ہیں کہ وہ کہے کہ مجھے تیرے لیے رغبت ہے میں امید کرتا ہوں کہ ہم جمع ہوجائیں۔

14031

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14031

Zaeef

(۱۴۰۲۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ ذَکَرَ عَنِ الشَّعْبِیِّ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ : {وَلٰکِنْ لاَّ تُوَاعِدُوْہُنَّ سِرًّا} قَالَ لاَ یَأْخُذُ مِیثَاقَہَا أَنْ لاَ تَنْکِحَ غَیْرَہُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٠٢٥) شعبی نے اس آیت کے بارے میں بیان کیا ہے : { وَلٰکِنْ لاَّ تُوَاعِدُوْہُنَّ سِرًّا } [البقرۃ ٢٣٥] کہ وہ اس سے پختہ وعدہ نہ لے کہ وہ کسی دوسرے سے شادی نہ کرے گی۔

14032

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14032

Zaeef

(۱۴۰۲۶) قَالَ وَحَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِیبٍ الْقَاضِی عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ {وَلٰکِنْ لاَّ تُوَاعِدُوْہُنَّ سِرًّا} قَالَ : الزِّنَا۔ قَالَ ثُمَّ سَأَلْتُ عَنْہَا الْحَسَنَ أَیْضًا فَقَالَ : ہُوَ الزِّنَا۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٠٢٦) سدی ابراہیم سے نقل فرماتے ہیں کہ { وَلٰکِنْ لاَّ تُوَاعِدُوْہُنَّ سِرًّا } فرماتے ہیں : زنا مراد ہے، کہتے ہیں : پھر میں نے حضرت حسن سے اس کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا : زنا مراد ہے۔

14033

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14033

Sahih

(۱۴۰۲۷) قَالَ وَحَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ {وَلٰکِنْ لاَّ تُوَاعِدُوْہُنَّ سِرًّا} قَالَ : الزِّنَا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٠٢٧) سدی ابراہیم سے نقل فرماتے ہیں کہ { وَلٰکِنْ لاَّ تُوَاعِدُوْہُنَّ سِرًّا } سے مراد زنا ہے۔

14034

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14034

Sahih

(۱۴۰۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ قَالَ: بَلَغْنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّہُ یَعْنِی {وَلٰکِنْ لاَّ تُوَاعِدُوْہُنَّ سِرًّا} الرَّفَثُ مِنَ الْکَلاَمِ أَیْ لاَ یُوَاجِہُہَا الرَّجُلُ فِی تَعْرِیضِ الْجِمَاعِ مِنْ نَفْسِہِ وَیَقُولُ آخَرُونَ ہُوَ الزِّنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَرُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ قَالَ فِی التَّعْرِیضِ یُرْسِلُ إِلَیْہَا فِی عِدَّتِہَا وَیَقُولُ : إِنِّی فِیکِ لَرَاغِبٌ وَإِنِّی عَلَیْکِ لَحَرِیصٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْلِمَکِ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُکِ رَأَیْتِ رَأْیَکِ۔ وَعَنْ عَطَائٍ قَالَ یُعَرِّضُ وَلاَ یَبُوحُ یَقُولُ : إِنَّ لِی حَاجَۃً وَأَبْشِرِی فَأَنْتِ بِحَمْدِ اللَّہِ نَافِقَۃٌ وَتَقُولُ ہِیَ : قَدْ أَسْمَعُ مَا تَقُولُ وَعَنْ عَطَائٍ قَالَ : إِنْ وَاعَدَتْ رَجُلاً فِی عِدَّتِہَا ثُمَّ نَکَحَہَا بَعْدُ لَمْ یُفَرَّقْ بَیْنَہُمَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٠٢٨) مقاتل بن حیان فرماتے ہیں کہ { وَلٰکِنْ لاَّ تُوَاعِدُوْہُنَّ سِرًّا } بےہودہ کلام، لیکن دل میں جماع کا ارادہ نہ ہو اور دوسرے کہتے ہیں کہ زنا مراد ہے۔ (ب) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ عدت کے اندر عورت کو نکاح کا اشارہ دینا، یعنی میں تیرے بارے میں رغبت رکھتا ہوں، میں تیرے لیے حریص ہوں، میں پسند کرتا ہوں کہ تو مجھے بتائے جب تیری عدت ختم ہوجائے، آپ کی کیا رائے ہے، حضرت عطاء کہتے ہیں کہ وہ اشارہ کرے، ظاہر نہ کرے۔ وہ کہے : مجھے بھی ضرورت ہے، تو خوش ہوجا تو الحمد للہ خرچے والی ہے، وہ کہہ دیتی ہے میں نے سن لیا جو تو نے کہہ دیا، حضرت عطاء کہتے ہیں : اگر اس نے کسی مرد کو عدت کے اندر وعدہ دے دیا، پھر نکاح کرلیا تو دونوں میں تفریق نہ کی جائے گی۔ [حسن ]