Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2901

نکاح کا بیان

اہل کتاب کی آزاد عورتیں اور ان کی لونڈیاں اور مسلمانوں کی لونڈیوں کا بیان اہل کتاب کے علاوہ مشرک آزاد عورتوں کی حرمت اور مومنہ عورتوں کی کفار پر حرمت کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { اِذَا جَائَکُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوْہُنَّ اللّٰ

19 hadiths in this chapter

13976

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13976

Sahih

(۱۳۹۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِی کَامِلٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِی ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَمِّہِ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ أَنَّہُ سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ یُخْبِرَانِ خَبَرًا مِنْ خَبَرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ غَزْوَۃِ الْحُدَیْبِیَۃِ فَکَانَ فِیمَا أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ عَنْہُمَا : أَنَّہُ لَمَّا کَاتَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ عَلَی قَضِیَّۃِ الْمُدَّۃِ کَانَ فِیمَا اشْتَرَطَ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّہُ لاَ یَأْتِیکَ مِنَّا أَحَدٌ وَإِنْ کَانَ عَلَی دِینِکَ إِلاَّ رَدَدْتَہُ إِلَیْنَا وَخَلَّیْتَ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُ وَأَبَی سُہَیْلٌ أَنْ یُقَاضِیَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ِلاَّ عَلَی ذَلِکَ فَکَرِہَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِکَ وَأَلْغَطُوا فِیہِ وَتَکَلَّمُوا فِیہِ فَلَمَّا أَبَی سُہَیْلٌ أَنْ یُقَاضِیَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِلاَّ عَلَی ذَلِکَ کَاتَبَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَرَدَّ أَبَا جَنْدَلِ بْنَ سُہَیْلٍ یَوْمَئِذٍ إِلَی أَبِیہِ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو وَلَمْ یَأْتِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلاَّ رُدَّ فِی تِلْکَ الْمُدَّۃِ وَإِنْ کَانَ مُسْلِمًا ثُمَّ جَائَ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ وَکَانَتْ أُمُّ کُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ مِمَّنْ ہَاجَرَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہِیَ عَاتِقٌ فَجَائَ أَہْلُہَا یَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَرْجِعَہَا إِلَیْہِمْ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّہُ فِی الْمُؤْمِنَاتِ مَا أَنْزَلَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۱۸۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٧٠) مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ دونوں نے مجھے بیان کیا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہیل بن عمرو کو حدیبیہ کے دن مقررہ مدت کا معاہدہ لکھایا، جس میں سہیل بن عمرو نے شرط رکھی کہ اگر ہمارا کوئی آدمی آپ کے پاس آئے گا تو آپ کو واپس کرنا ہوگا اور آپ ہمارے اور اس شخص کے درمیان سے ہٹ جائیں گے اور سہیل نے چاہا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف فیصلہ کریں لیکن مومنوں کو یہ معاہدہ گراں گزرا، انھوں نے شور کیا اور کلام کی۔ سہیل کہنے لگا کہ اس شرط پر ہی معاہدہ ہوگا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھوا دیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہیل کے بیٹے ابوجندل کو سہیل کی طرف واپس کردیا۔ اگر اس مدت میں کوئی بھی مسلمان مرد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتا تو آپ واپس کردیتے، پھر جب مومنہ عورتیں ہجرت کر کے آئیں۔ جس میں عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی ام کلثوم بھی تھی، یہ آزاد تھی تو اس کے گھر والوں نے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا، پھر اللہ نے ان مومن عورتوں کے بارے میں نازل کیا جو بھی نازل فرمایا۔

13977

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13977

Sahih

(۱۳۹۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ قَالَ قَالَ مَعْمَرٌ قَالَ الزُّہْرِیُّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَذَکَرَ قِصَّۃَ الْحُدَیْبِیَۃِ بِطُولِہَا قَالَ ثُمَّ جَائَ ہُ نِسْوَۃٌ مُؤْمِنَاتٌ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا جَائَ کُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ} حَتَّی بَلَغَ {وَلاَ تُمْسِکُوا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ} فَطَلَّقَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ امْرَأَتَیْنِ کَانَتَا لَہُ فِی الشِّرْکِ فَتَزَوَّجَ إِحْدَاہُمَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ وَالأُخْرَی صَفْوَانُ بْنُ أُمَیَّۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٧١) مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم دونوں نے حدیبیہ کا طویل قصہ ذکر کیا، پھر فرماتے ہیں کہ مومنہ عورتیں آئیں تو اللہ نے فرمایا : { یٰٓـاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا جَائَکُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ۔۔۔ وَلَا تُمْسِکُوْا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ } [الممتحنۃ ١٠] ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ۔ پھر جب مومنہ عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں اور کافرہ عورتوں سے نکاح مت کرو۔ “ تو حضرت عمر (رض) نے اس دن دو عورتوں کو طلاق دی، جو دور جاہلیت کی تھیں۔ ایک سے معاویہ بن ابی سفیان نے اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے شادی کرلی۔

13978

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13978

Sahih

(۱۳۹۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قَالَ عَطَاء ٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : کَانَتْ قُرَیْبَۃُ بِنْتُ أَبِی أُمَیَّۃَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَطَلَّقَہَا فَتَزَوَّجَہَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ وَکَانَتْ أُمُّ الْحَکَمِ بِنْتُ أَبِی سُفْیَانَ تَحْتَ عِیَاضِ بْنِ غَنْمٍ الْفِہْرِیِّ فَطَلَّقَہَا فَتَزَوَّجَہَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ الثَّقَفِیُّ۔ أَخْرَجَہُ ہَکَذَا فِی الصَّحِیحِ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۲۸۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٧٢) عطاء حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ قریبہ بنت ابی امیہ حضرت عمر (رض) کے نکاح میں تھی۔ انھوں نے طلاق دے دی تو پھر ان سے معاویہ بن ابی سفیان نے شادی کرلی اور ام الحکم بنت ابی سفیان یہ عباس بن غنم فہیری کے نکاح میں تھی، اس نے طلاق دی تو عبداللہ بن عثمان ثقفی نے شادی کرلی۔

13979

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13979

Sahih

(۱۳۹۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {وَلاَ تُمْسِکُوا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ} قَالَ : أُمِرَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ -ﷺ- بِطَلاَقِ نِسَائٍ کُنَّ کَوَافِرَ بِمَکَّۃَ قَعَدْنَ مَعَ الْکُفَّارِ بِمَکَّۃَ۔ (ش) قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَالَ اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ {وَلاَ تَنْکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ وَلأَمَۃٌ مُؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِنْ مُشْرِکَۃٍ} قِیلَ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ إِنَّہَا أُنْزَلَتْ فِی جَمَاعَۃِ مُشْرِکِی الْعَرَبِ الَّذِینَ ہُمْ أَہْلُ أَوْثَانٍ فَحَرُمَ نِکَاحُ نِسَائِہِمْ کَمَا یَحْرُمُ أَنْ یَنْکِحَ رِجَالُہُمُ الْمُؤْمِنَاتِ فَإِنْ کَانَ ہَذَا ہَکَذَا فَہَذِہِ الآیَۃُ ثَابِتَۃٌ لَیْسَ فِیہَا مَنْسُوخٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٧٣) مجاہد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : { وَلَا تُمْسِکُوْا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ } [الممتحنۃ ١٠] ” اور کافرہ عورتوں سے نکاح مت کرو۔ “ کہتے ہیں کہ صحابہ (رض) کو حکم دیا گیا کہ وہ کافرہ عورتوں کو جو مکہ میں رہ گئی ہیں ان کو طلاق دے دو ۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ کا فرمان : { وَ لَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ وَ لَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ } [البقرۃ ٢٢١] ” اور مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو۔ یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور مومنہ لونڈی آزاد مشرکہ عورت سے بہتر ہے۔ “ فرماتے ہیں : یہ آیت مکہ کے مشرکین جو بتوں کے پجاری تھے ان کے بارے میں نازل ہوئی، ان کی عورتوں سے نکاح حرام ہے جیسے ان کے مرد مومنہ عورتوں سے نکاح نہیں کرسکتے، اگر یہ اس طرح ہی ہے تو پھر یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔

13980

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13980

Zaeef

(۱۳۹۷۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {وَلاَ تَنْکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ} یَعْنِی نِسَائَ أَہْلِ مَکَّۃَ الْمُشْرِکَاتِ ثُمَّ أُحِلَّ لَہُمْ نِسَائُ أَہْلِ الْکِتَابِ۔ [ضعیف جداً]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٧٤) مجاہد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : { وَلَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ } [البقرۃ ٢٢١] ” اور مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں۔ “ یعنی اہل مکہ کی مشرکہ عورتوں سے۔ پھر اہل کتاب کی عورتیں حلال کردی گئی۔

13981

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13981

Sahih

(۱۳۹۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ حَمَّادٍ قَالَ سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ عَنْ قَوْلِہِ تَعَالَی (وَلاَ تَنْکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ) قالَ أَہْلُ الأَوْثَانِ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَبِمَعْنَاہُ ذَکَرَہُ السُّدِّیُّ وَمُقَاتِلُ بْنُ سُلَیْمَانَ فِی التَّفْسِیرِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ قِیلَ ہَذِہِ الآیَۃُ فِی جَمِیعِ الْمُشْرِکِینِ ثُمَّ نَزَلَتِ الرُّخْصَۃُ بَعْدَہَا فِی إِحْلاَلِ نِکَاحِ حَرَائِرِ أَہْلِ الْکِتَابِ خَاصَّۃً کَمَا جَائَ تْ فِی إِحْلاَلِ ذَبَائِحِ أَہْلِ الْکِتَابِ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی {أُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ حِلٌّ لَکُمْ وَطَعَامُکُمْ حِلٌّ لَہُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ إِذَا آتَیْتُمُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ} ۔[حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٧٥) حماد کہتے ہیں : میں نے سعید بن جبیر سے اللہ کے اس قول : { وَ لَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ } [البقرۃ ٢٢١] کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا : بتوں کے پجاری۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت تمام مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔ پھر اہل کتاب کی آزاد عورتوں کے بارے میں خاص اجازت دی گئی۔ جیسے اہل کتاب کے ذبیحہ کو حلال قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کا فرمان : { اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ وَطَعَامُکُمْ حِلٌّ لَّہُمْ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ اِذَآ اٰتَیْتُمُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ } [المائدۃ ٥] ” تمہارے لیے پاکباز چیزیں حلال کی گئی اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال قرار دیا گیا اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور پاک دامنہ مومنہ عورتیں ان لوگوں سے جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے جب تم ان کو ان کے حق مہر دے دو ۔ “

13982

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13982

Sahih

(۱۳۹۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {وَلاَ تَنْکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ} ثُمَّ اسْتَثْنَی نِسَائَ أَہْلِ الْکِتَابِ فَقَالَ {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابِ مِنْ قَبْلِکُمْ} حِلٌّ لَکُمْ {إِذَا آتَیْتُمُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ} یَعْنِی مُہُورَہُنَّ {مُحْصَنَاتٍ غَیْرَ مُسَافِحَاتٍ} یَقُولُ عَفَائِفَ غَیْرَ زَوَانِی۔ [صحیح لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٧٦) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اللہ کے اس فرمان : { وَ لَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ } [البقرۃ ٢٢١] ” اور مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک وہ ایمان لائیں۔ “ پھر اہل کتاب کی عورتوں کا استثناء کردیا گیا۔ فرمایا : وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ } [المائدۃ ٥] ” اور تم سے پہلے اہل کتاب کی پاک دامن عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں۔ “ { اِذَآ اٰتَیْتُمُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ } یعنی ان کے حق مہر دو : { مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ } ” پاک دامنہ ہوں زانی نہیں۔ “

13983

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13983

Sahih

(۱۳۹۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْقَاضِی أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ کَامِلٍ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِیَّۃَ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنِی عَمِّی حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُہُ {وَلاَ تَنْکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ} نُسِخَتْ وَأُحِلَّ مِنَ الْمُشْرِکَاتِ نِسَائُ أَہْلِ الْکِتَابِ۔ [صحیح لغیرہ۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٧٧) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اللہ کے اس قول : { وَ لَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ } کے بارے میں فرماتے ہیں : یہ منسوخ کی گئی اور اہل کتاب کی مشرک عورتیں جائز قرار دی گئی۔

13984

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13984

Sahih

(۱۳۹۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِی الزَّاہْرَیَّۃِ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ قَالَ : حَجَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَتْ لِی : یَا جُبَیْرُ ہَلْ تَقْرَأُ الْمَائِدَۃَ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ فَقَالَتْ : أَمَا إِنَّہَا آخِرُ سُورَۃٍ نَزَلَتْ فَمَا وَجَدْتُمْ فِیہَا مِنْ حَلاَلٍ فَاسْتَحِلُّوہُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِیہَا مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوہُ۔ [صحیح] ق

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٧٨) ابوالزاہریہ حضرت جبیر بن نفیر سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے جھگڑا کیا۔ پھر میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس آیا تو فرمانے لگی : اے جبیر ! کیا سورة مائدہ پڑھتے ہو ؟ میں نے کہا : ہاں، فرماتی ہیں : یہ آخری سورة ہے جو نازل ہوئی۔ جو اس میں حلال پاؤ اس کو حلال جانو اور جو اس میں حرام پاؤ اس کو حرام جانو۔

13985

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13985

Zaeef

(۱۳۹۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ حُیَیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمَعَافِرِیُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ آخِرَ سُورَۃٍ نَزَلَتْ سُورَۃُ الْمَائِدَۃِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَأَیُّہُمَا کَانَ فَقَدْ أُبِیحَ فِیہِ نِکَاحُ حَرَائِرِ أَہْلِ الْکِتَابِ قَالَ وَأَحَبُّ إِلَیَّ لَوْ لَمْ یَنْکِحْہُنَّ مُسْلِمٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٧٩) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ سب سے آخری سورة مائدہ نازل ہوئی۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اہل کتاب کی آزاد عورتوں سے نکاح جائز رکھا گیا ہے اور مجھے زیادہ محبوب ہے کہ مسلمان ان سے نکاح نہ کریں۔

13986

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13986

Zaeef

(۱۳۹۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یُسْأَلُ عَنْ نِکَاحِ الْمُسْلِمِ الْیَہُودِیَّۃَ وَالنَّصْرَانِیَّۃَ فَقَالَ : تَزَوَّجْنَاہُنَّ زَمَانَ الْفَتْحِ بِالْکُوفَۃِ مَعَ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ وَنَحْنُ لاَ نَکَادُ نَجِدُ الْمُسْلِمَاتِ کَثِیرًا فَلَمَّا رَجَعْنَا طَلَّقْنَاہُنَّ وَقَالَ : لاَ یَرِثْنَ مُسْلِمًا وَلاَ یَرِثُہُنَّ وَنِسَاؤُہُمْ لَنَا حِلٌّ وَنِسَاؤُنَا عَلَیْہِمْ حَرَامٌ۔ [اخرجہ الشافعی، فی الام ۴/۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٨٠) ابوزبیر کہتے ہیں کہ اس نے سنا جب حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے سوال کیا گیا کہ مسلم کا نکاح یہودیہ یا عیسائی عورت سے کرنے کا کیا حکم فرماتے ہیں کہ ہم نے سعد بن ابی وقاص کے ساتھ فتح کے وقت کوفہ میں ان سے شادی کی اور ہم ان کے قریب نہ جاتے تھے۔ ہم مسلمان عورتیں بہت نہ پاتے تھے اور جب ہم واپس پلٹے تو ہم نے ان کو طلاقیں دے دیں۔ فرماتے ہیں : یہ عورتیں مسلمان کی وارث نہ ہوں گی اور نہ مسلمان ان کے وارث ہوں گے اور ان کی عورتیں ہمارے لیے حلال ہیں جبکہ ہماری عورتیں ان کے لیے حرام ہیں۔

13987

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13987

Sahih

(۱۳۹۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : بَکْرُ بْنُ سَہْلِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْقُرَشِیُّ الدِّمْیَاطِیُّ بِدِمْیَاطَ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ یَحْیَی ہُوَ التُّجِیبِیُّ عَنْ نَافِعِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ عُمَرَ مَوْلَی غُفْرَۃَ أَنَّہُ حَدَّثَہُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ السَّائِبِ مِنْ بَنِی الْمُطَّلِبِ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَکَحَ ابْنَۃَ الْفَرَافِصَۃِ الْکَلْبِیَۃَ وَہِیَ نَصْرَانِیَّۃٌ عَلَی نِسَائِہِ ثُمَّ أَسْلَمَتْ عَلَی یَدَیْہِ۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٨١) عبداللہ بن سائب بنو المطلب کے بیٹوں سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے فرافصہ کلبیہ کی بیٹی سے شادی کی، یہ عیسائی تھی۔ پھر وہ ان کے ہاتھ پر مسلمان ہوگئی۔

13988

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13988

Sahih

(۱۳۹۸۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عَمْرٍو مَوْلَی الْمُطَّلِبِ عَنْ أَبِی الْحُوَیْرِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَزَوَّجَ بِنْتَ الْفَرَافِصَۃِ وَہِیَ نَصْرَانِیَّۃٌ مَلَکَ عُقْدَۃَ نِکَاحِہَا وَہِیَ نَصْرَانِیَّۃٌ حَتَّی حَنِفَتْ حِینَ قَدِمَتْ عَلَیْہِ۔ قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِی أَیْضًا : أَنَّ طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ نَکَحَ امْرَأَۃً مِنْ کَلْبٍ نَصْرَانِیَّۃً حَتَّی حَنِفَتْ حِینَ قَدِمَتِ عَلَیْہِ۔قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ شَیْخٌ مِنْ بَنِی الأَشْہَلِ : أَنَّ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ نَکَحَ یَہُودِیَّۃً۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٨٢) محمد بن جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے فرافصہ کی عیسائی بیٹی سے شادی کی، جب وہ ان کے پاس آئی تو مسلمان ہوگئی۔ (ب) عبداللہ بن عبدالرحمن بنو اشہل کے شیخ تھے، فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ بن یمان نے یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔

13989

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13989

Sahih

(۱۳۹۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّکَّرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا الْغِلاَبِیُّ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ ہُبَیْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : تَزَوَّجَ طَلْحَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَہُودِیَّۃً۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٨٣) ہبیرہ حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ نے یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔

13990

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13990

Sahih

(۱۳۹۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الْہَمْدَانِیِّ عَنْ ہُبَیْرَۃَ بْنِ یَرِیمَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : تَزَوَّجَ طَلْحَۃُ یَہُودِیَّۃً۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ بَہْرَامَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ یَقُولُ : تَزَوَّجَ حُذَیْفَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَہُودِیَّۃً فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یُفَارِقَہَا قَالَ : إِنِّی أَخْشَی أَنْ تَدَعُوا الْمُسْلِمَاتِ وَتَنْکِحُوا الْمُومِسَاتِ۔ وَہَذَا مِنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی طَرِیقِ التَّنْزِیہِ وَالْکَرَاہِیَۃِ فَفِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی أَنَّ حُذَیْفَۃَ کَتَبَ إِلَیْہِ أَحَرَامٌ ہِیَ؟ قَالَ : لاَ وَلَکِنِّی أَخَافُ أَنْ تَعَاطَوُا الْمُومِسَاتِ مِنْہُنَّ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٨٤) ہبیرہ بن یریم حضرت علی سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ نے یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔ (ب) ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ نے یہودیہ سے نکاح کیا تو حضرت عمر (رض) نے ان کو خط لکھا کہ اس کو جدا کر دے۔ فرمانے لگے مجھے ڈر ہے کہ تم مسلمان عورتوں کو چھوڑ کر زانیہ عورتوں سے نکاح کرو۔ یہ حضرت عمر (رض) کی جانب سے تھا کراہت کی بنا پر۔ ایک دوسری روایت ہے کہ حضرت حذیفہ نے لکھا : کیا یہ حرام ہے ؟ فرمانے لگے کہ مجھے خوف ہے کہ تم زانیہ عورتوں سے نکاح کرو۔

13991

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13991

Sahih

(۱۳۹۸۵) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ قَالَ سَمِعْتُ زَیْدَ بْنَ وَہْبٍ قَالَ : کَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَنَّ الْمُسْلِمَ یَنْکِحُ النَّصْرَانِیَّۃَ وَلاَ یَنْکِحُ النَّصْرَانِیُّ الْمُسْلِمَۃَ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٨٥) زید بن وہب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے خط لکھا کہ مسلمان عیسائی عورت سے شادی کرسکتا ہے جبکہ عیسائی مرد مسلمان عورت سے شادی نہیں کرسکتا۔

13992

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13992

Sahih

(۱۳۹۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا -ﷺ- بِالْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ فَدِینُنَا خَیْرُ الأَدْیَانِ وَمِلَّتُنَا فَوْقَ الْمِلَلِ وَرِجَالُنَا فَوْقَ نِسَائِہِمْ وَلاَ یَکُونُ رِجَالُہُمْ فَوْقَ نِسَائِنَا قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ لَمْ یَرْوِہِ عَنْ سُفْیَانَ إِلاَّ النُّعْمَانُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَأَہْلُ الْکِتَابِ الَّذِینَ یَحِلُّ نِکَاحُ حَرَائِرِہِمْ أَہْلُ الْکِتَابَیْنِ الْمَشْہُورَیْنِ التَّوْرَاۃِ وَالإِنْجِیلِ وَہُمُ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ دُونَ الْمَجُوسِ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَہَذَا الأَثَرُ الْمَشْہُورُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- سُنُّوا بِہِمْ سُنََّۃَ أَہْلِ الْکِتَابِ فَحَمَلَہُ أَہْلُ الْعِلْمِ مَعَ الاِسْتِدَلاَلِ بِرِوَایَۃِ بِجَالَۃَ عَلَی الْجِزْیَۃِ فَہُمْ مُلْحَقُونَ بِہِمْ فِی حَقْنِ الدَّمِ بِالْجِزْیَۃِ دُونَ غَیْرِہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٨٦) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، تاکہ وہ تمام ادیان پر غالب آئے۔ ہمارا دین تمام ادیان سے بہتر اور ہماری ملت تمام ملتوں سے افضل ہے اور ہمارے مرد ان کی عورتوں پر فوقیت رکھتے ہیں اور ان کے مرد اس طرح نہیں ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اہل کتاب کی آزاد عورتیں حلال ہیں یعنی عیسائی اور یہودی، لیکن مجوس کی عورتیں جائز نہیں ہیں۔ شیخ (رح) فرماتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان (یعنی مجوس) کے ساتھ اہل کتاب والا طریقہ رکھو تو اہل علم نے بجالۃ کی روایت سے اس کو جزیہ پر محمول کیا ہے، وہ ان کو خون بہا میں جزیہ کے ساتھ ملا دیتے ہیں، اس کے علاوہ میں نہیں۔

13993

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13993

Sahih

(۱۳۹۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قَالَ عَطَاء ٌ : لَیْسَ نَصَارَی الْعَرَبِ بِأَہْلِ الْکِتَابِ إِنَّمَا أَہْلُ الْکِتَابِ بَنُو إِسْرَائِیلَ وَالَّذِینَ جَائَ تْہُمُ التَّوْرَاۃُ وَالإِنْجِیلُ فَأَمَّا مَنْ دَخَلَ فِیہِمْ مِنَ النَّاسِ فَلَیْسُوا مِنْہُمْ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ عُمَرَ وَعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی نَصَارَی الْعَرَبِ بِمَعْنَی ہَذَا : وَأَنَّہُ لاَ تُؤْکَلُ ذَبَائِحُہُمْ وَذَلِکَ یَرِدُ فِی مَوْضِعِہِ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٨٧) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ عرب کے نصاریٰ اہل کتاب نہیں ہیں، اہل کتاب تو بنو اسرائیل ہیں۔ جن کے پاس توراۃ و انجیل آئی۔ لیکن جو لوگ ان میں شامل ہوگئے وہ ان میں سے نہیں ہیں۔ شیخ (رح) فرماتے ہیں : حضرت عمر اور علی (رض) عرب کے نصاریٰ کو بھی اسی معنیٰ میں لیتے ہیں اور یہ کہ ان کا ذبیحہ نہ کھایا جائے گا۔

13994

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13994

Zaeef

(۱۳۹۸۸) وَأَمَّا الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الشَّوَارِبِ حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِیزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ فَیْرُوزَ عَنْ مَعْبَدٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ: رَأَیْتُ امْرَأَۃَ حُذَیْفَۃَ مَجُوسِیَّۃً فَہَذَا غَیْرُ ثَابِتٍ وَالْمَحْفُوظُ عَنْ حُذَیْفَۃَ أَنَّہُ نَکَحَ یَہُودِیَّۃً وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٨٨) معبد جہنی کہتے ہیں : میں نے حضرت حذیفہ کی بیوی مجوسی دیکھی۔ یہ ثابت نہیں ہے، لیکن یہ درست ہے کہ حضرت حذیفہ نے یہودیہ سے نکاح کیا تھا۔