Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2891

نکاح کا بیان

منہ بولے بیٹے کی منسوخیت اور اس کی طلاق یافتہ بیوی سے نکاح کرنا جائز ہے منہ بولا بیٹا ہو یا بیٹی وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں

3 hadiths in this chapter

13920

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13920

Sahih

(۱۳۹۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَنَّ مُعَلَّی بْنَ أَسَدٍ حَدَّثَہُمْ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ الْمُخْتَارِ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ حَدَّثَنِی سَالِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَا کُنَّا نَدْعُوہُ إِلاَّ زَیْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّی نَزَلَ الْقُرْآنُ { ادْعُوہُمْ لآبَائِہِمْ ہُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّہِ } رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُعَلَّی بْنِ أَسَدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ مُوسَی۔ [صحیح۔ بخاری ۴۷۳۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩١٤) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ زید بن حارثہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ہم انھیں زید بن محمد کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ قرآن نازل ہوگیا : { اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِھِمْ ھُوَ اَق ْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ } [الاحزاب ٥] ” ان کو ان کے باپوں کے نام سے پکارو، یہ زیادہ انصاف کی بات ہے۔ “

13921

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13921

Sahih

(۱۳۹۱۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ عَبْدِالْوَہَّابِ الْحَجَبِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {وَتُخْفِی فِی نَفْسِکَ مَا اللَّہُ مُبْدِیہِ} فِی شَأْنِ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَکَانَ جَائَ ہُ زَیْدٌ یَشْکُو وَہَمَّ بِطَلاَقِہَا جَائَ یَسْتَأْمِرُ النَّبِیَّ -ﷺ- فِی ذَلِکَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- {أَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللَّہَ وَتُخْفِی فِی نَفْسِکَ مَا اللَّہُ مُبْدِیہِ} الآیَۃَ قَالَ {فَلَمَّا قَضَی زَیْدٌ مِنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنَاکَہَا لِکَیْلاَ یَکُونَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ حَرَجٌ فِی أَزْوَاجِ أَدْعِیَائِہِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا} أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩١٥) سیدنا ثابت (رض) سیدنا انس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ آیت نازل ہوئی { وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیْہِ } [الاحزاب ٣٧] ” اور آپ اپنے دل میں چھپائے بیٹھے تھے اللہ اس کو ظاہر کرنے والا ہے۔ “ یہ زینب بنت جحش کے متعلق تھی کہ حضرت زید ان کی شکایت کر رہے تھے اور ان کا طلاق کا ارادہ تھا وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے بارے مشورہ طلب کر رہے تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : { اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیْہِ } [الاحزاب ٣٧]” آپ اپنی بیوی کو روکے رکھیں اور اللہ سے ڈریں اور آپ اپنے دل میں چھپا رہے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا “{ فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا لِکَیْ لَا یَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِھِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْھُنَّ وَطَرًا ۔ } [الاحزاب ٣٧]” جب زید نے اپنی ضروری پوری کرلی تو ہم نے ان سے آپ کا نکاح کردیا تاکہ مومنوں پر کوئی حرج نہ رہے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں۔ جب وہ اپنی حاجت ان سے پوری کرلیں۔ “

13922

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13922

Sahih

(۱۳۹۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عُرْوَۃَ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَطَبَ عَائِشَۃَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : أَمَّا أَنَا أَخُوکَ فَقَالَ : إِنَّکَ أَخِی فِی دِینِ اللَّہِ وَکِتَابِہِ وَہِیَ لِی حَلاَلٌ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنِ اللَّیْثِ ہَکَذَا مُرْسَلاً۔ [صحیح۔ بخاری ۵۰۸۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩١٦) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو حضرت عائشہ (رض) کے متعلق پیغام نکاح دیا تو حضرت ابوبکر (رض) فرمانے لگے : اے اللہ کے رسول ! ہم تو بھائی ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ میرے دینی اور کتابی بھائی ہیں اور یہ میرے لیے حلال ہے۔