Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2821

نکاح کا بیان

غلام اور بچے کا اجازت طلب کرنا تین اوقات میں اور جو بالغ ہو اس کا اجازت طلب کرنا تمام اوقات میں

7 hadiths in this chapter

13559

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13559

Zaeef

(۱۳۵۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ تَعَالَی { لِیَسْتَأْذِنْکُمُ الَّذِینَ مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ وَالَّذِینَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ مِنْ قَبْلِ صَلاَۃِ الْفَجْرِ وَحِینَ تَضَعُونَ ثِیَابَکُمْ مِنَ الظَّہِیرَۃِ وَمِنْ بَعْدِ صَلاَۃِ الْعِشَائِ ثَلاَثُ عَوْرَاتٍ لَکُمْ } قَالَ : إِذَا خَلاَ الرَّجُلُ بِأَہْلِہِ بَعْدَ صَلاَۃِ الْعِشَائِ لاَ یَدْخُلُ عَلَیْہِ خَادِمٌ وَلاَ صَبِیٌّ إِلاَّ بِإِذْنٍ حَتَّی یُصَلِّیَ الْغَدَاۃَ وَإِذَا خَلاَ بِأَہْلِہِ عِنْدَ الظُّہْرِ فَمِثْلُ ذَلِکَ ثُمَّ رُخِّصَ لَہُمْ فِیمَا بَیْنَ ذَلِکَ بِغَیْرِ إِذْنٍ وَہُوَ قَوْلُہُ تَعَالَی { لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلاَ عَلَیْہِمْ جُنَاحٌ بَعْدَہُنَّ } فَأَمَّا مَنْ بَلَغَ الْحُلُمَ فَإِنَّہُ لاَ یَدْخُلُ عَلَی الرَّجُلِ وَأَہْلِہِ إِلاَّ بِإِذْنٍ عَلَی حَالٍ وَہُوَ قَوْلُہُ { وَإِذَا بَلَغَ الأَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَأْذِنُوا کَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ }۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٥٥٣) ابن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے ارشاد : { لِیَسْتَاْذِنْکُمْ الَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوْا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔۔۔} [النور ] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کے ساتھ علیحدگی اختیار کرے، عشاء کی نماز کے بعد تو کوئی خادم کوئی بچہ بغیر اجازت کے داخل نہ ہو، یہاں تک کہ صبح کی نماز ہوجائے اور جب وہ علیحدہ ہو اپنی بیوی کے ساتھ ظہر کے وقت تو پھر بھی ایسے ہی ہے، پھر رخصت دے دی گئی اس کے درمیانی وقت میں بغیر اجازت کے اللہ کے اس فرمان کے تحت : { لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلاَ عَلَیْہِمْ جُنَاحٌ بَعْدَہُنَّ } [النور ] جو بالغ ہے وہ آدمی اور اس کی بیوی پر ان اوقات میں داخل نہ ہو بغیر اجازت کے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے : { وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا } [النور ]

13560

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13560

Zaeef

(۱۳۵۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : فِی حَجْرِی أُخْتَانِ أَمُونُہُمَا وَأُنْفِقُ عَلَیْہِمَا فَأَسْتَأْذِنُ عَلَیْہِمَا قَالَ : نَعَمْ فَرَادَدْتُہُ قُلْتُ : إِنَّ ذَا یَشُقُّ عَلَیَّ قَالَ إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لِیَسْتَأْذِنْکُمُ الَّذِینَ مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ وَالَّذِینَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ مِنْ قَبْلِ صَلاَۃِ الْفَجْرِ وَحِینَ تَضَعُونَ ثِیَابَکُمْ مِنَ الظَّہِیرَۃِ وَمِنْ بَعْدِ صَلاَۃِ الْعِشَائِ ثَلاَثُ عَوْرَاتٍ لَکُمْ } إِلَی آخِرِ الآیَۃِ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمْ یُؤْمَرْ ہَؤُلاَئِ بِالإِذْنِ إِلاَّ فِی ہَذِہِ الْعَوْرَاتِ الثَّلاَثِ قَالَ { وَإِذَا بَلَغَ الأَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَأْذِنُوا کَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ }۔ [الادب المفرد ۱۰۶۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٥٥٤) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے کہا : میری پرورش میں میری دو بہنیں ہیں اور میں ان پر خرچ کرتا ہوں تو کیا میں بھی ان سے اجازت لوں ؟ (یعنی گھر داخل ہوتے وقت) انھوں نے ہاں میں جواب دیا، میں نے ان سے کہا : یہ تو میرے لیے مشقت کا باعث ہے، انھوں نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْکُمْ۔۔۔} [النور ٥٩] ابن عباس (رض) نے کہا کہ ان تینوں اوقات میں اجازت طلب کرنے کا حکم ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی : { وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ۔۔۔ } [النور ٥٩]

13561

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13561

Sahih

(۱۳۵۵۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ : آیَۃٌ لَمْ یُؤْمِنْ بِہَا أَکْثَرُ النَّاسِ آیَۃُ الإِذْنِ وَإِنِّی آمُرُ ہَذِہِ جَارِیَۃً لَہُ قَصِیرَۃً قَائِمَۃً عَلَی رَأْسِہِ أَنْ تَسْتَأْذِنَ عَلَیَّ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٥٥٥) سیدنا ابن عباس (رض) کہتے تھے کہ ایک ایسی آیت ہے جس پر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے (یعنی عمل نہیں کرتے) وہ اجازت والی آیت ہے، اگر کوئی عورت جس کا کوئی نگہبان ہے، میں اس کو اس بات کا حکم دوں گا کہ وہ میرے پاس اجازت مانگ کر آئے۔

13562

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13562

Sahih

(۱۳۵۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الوَرَّاقُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا لَیْثٌ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ سَمِعْتُ ہُذَیْلَ الأَعْمَی یَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ : عَلَیْکُمْ إِذْنٌ عَلَی أُمَّہَاتِکُمْ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٥٥٦) ہذیل اعمیٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود (رض) کو فرماتے ہوئے سنا : وہ اپنی ماؤں پر بھی اجازت کو لازم پکڑو۔

13563

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13563

Sahih

(۱۳۵۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَیْرٍ : أَنَّ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سُئِلَ أَیَسْتَأْذِنُ الرَّجُلُ عَلَی وَالِدَتِہِ؟ قَالَ : نَعَمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ رَأَیْتَ مِنْہَا مَا تَکْرَہُ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٥٥٧) حذیفہ (رض) سے سوال کیا گیا کہ آدمی اپنی والدہ پر بھی داخل ہونے سے پہلے اجازت لے ؟ تو انھوں نے کہا : جی ہاں۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو وہ ایسی چیز دیکھے گا جو وہ ناپسند کرتا ہے۔

13564

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13564

Zaeef

(۱۳۵۵۸) وَرُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ مُرْسَلٌ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- سَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ : أَسْتَأْذِنُ یَا رَسُولَ اللَّہِ عَلَی أُمِّی؟ فَقَالَ : نَعَمْ ۔ فَقَالَ : إِنِّی مَعَہَا فِی الْبَیْتِ فَقَالَ: اسْتَأْذِنْ عَلَیْہَا۔ فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّی خَادِمُہَا فَقَالَ: أَتُحِّبُّ أَنْ تَرَاہَا عُرْیَانَۃً۔ قَالَ: لاَ قَالَ: فَاسْتَأْذَنْ عَلَیْہَا ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٥٥٨) عطاء بن یسار (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ میں اپنی ماں سے بھی اجازت لوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! تو اس نے کہا کہ میں اس کے ساتھ رہتا ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ پھر بھی اجازت لے۔ آدمی نے کہا کہ میں اس کی خدمت کرتا ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا تو یہ پسند کرتا ہے کہ تو اس کو ننگی دیکھے تو اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر اجازت لو۔

13565

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13565

Sahih

(۱۳۵۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلَیْنِ سَأَلاَہُ عَنْ الاِسْتِئْذَانِ فِی الثَّلاَثِ عَوْرَاتٍ الَّتِی أَمَرَ اللَّہُ بِہَا فِی الْقُرْآنِ فَقَالَ لَہُمُ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ اللَّہَ سِتِّیرٌ یُحِبُّ السَّتْرَ کَانَ النَّاسُ لَیْسَ لَہُمْ سُتُورٌ عَلَی أَبْوَابِہِمْ وَلاَ حِجَالٌ فِی بُیُوتِہِمْ فَرُبَّمَا فَاجَأَ الرَّجُلَ خَادِمُہُ أَوْ وَلَدُہُ أَوْ یَتِیمُہُ فِی حِجْرِہِ وَہُوَ عَلَی أَہْلِہِ فَأَمَرَہُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یَسْتَأْذِنُوا فِی تِلْکَ الْعَوْرَاتِ الَّتِی سَمَّی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ جَائَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْدُ بِالسُّتُورِ وَبَسَطَ عَلَیْہِمْ فِی الرِّزْقِ فَاتَّخَذُوا السُّتُورَ وَاتَّخَذُوا الْحِجَالَ فَرَأَی النَّاسُ أَنَّ تِلْکَ قَدْ کَفَاہُمْ مِنْ الاِسْتِئْذَانِ الَّذِی أَمَرَ بِہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدِیثُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ وَعَطَائٍ یُضَعِّفُ ہَذِہِ الرِّوَایَۃَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٥٥٩) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے قرآن مجید میں تین اوقات میں اجازت کے بارے میں پوچھا تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ پردہ پوش ہے اور پردہ کو پسند کرتا ہے۔ لوگوں کے دروازوں پر پردے نہیں تھے اور نہ ہی پردے ان کے گھروں میں تھے تو کبھی کبھی اچانک آدمی کا غلام یا بچہ یا وہ یتیم بچہ جو اس کی پرورش میں ہوتا، اچانک سامنے آجاتا جبکہ وہ اپنی بیوی کے پاس ہوتا تو اللہ پاک نے حکم دیا کہ وہ ان اوقات میں اجازت لے کر آئیں۔ جن کا اللہ پاک نے ذکر کیا ہے پھر ان کو اللہ پاک نے پردے بھی عطا کیے اور ان کے رزق میں کشادگی ہوگئی۔ انھوں نے پردے بھی بنا لیے تو لوگوں نے سمجھا کہ یہی اجازت کے لیے کافی ہے جس کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے۔