Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2745

نکاح کا بیان

کسی کے لیے جائز نہیں کہ جب وہ جنگی لباس پہنے تو دشمن سے لڑے بغیر اتار دے

2 hadiths in this chapter

13287

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13287

Zaeef

(۱۳۲۸۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عُلاَثَۃَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ فَذَکَرَ قِصَّۃَ أُحُدٍ وَإِشَارَۃَ النَّبِیِّ -ﷺ- عَلَی الْمُسْلِمِینَ بِالْمُکْثِ فِی الْمَدِینَۃِ وَأَنَّ کَثِیرًا مِنَ النَّاسِ أَبَوْا إِلاَّ الْخُرُوجَ إِلَی الْعَدُوِّ قَالَ وَلَوْ تَنَاہَوْا إِلَی قَوْلِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَمْرِہِ کَانَ خَیْرًا لَہُمْ وَلَکِنْ غَلَبَ الْقَضَائُ وَالْقَدَرُ قَالَ وَعَامَّۃُ مَنْ أَشَارَ عَلَیْہِ بِالْخُرُوجِ رِجَالٌ لَمْ یَشْہَدُوا بَدْرًا وَقَدْ عَلِمُوا الَّذِی سَبَقَ لأَہْلِ بَدْرٍ مِنَ الْفَضِیلَۃِ فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْجُمُعَۃِ وَعَظَ النَّاسَ وَذَکَّرَہُمْ وَأَمَرَہُمْ بِالْجِدِّ وَالاِجْتِہَادِ ثُمَّ انْصَرَفَ مِنْ خُطْبَتِہِ وَصَلاَتِہِ فَدَعَا بِلأْمَتِہِ فَلَبِسَہَا ثُمَّ أَذَّنَ فِی النَّاسِ بِالْخُرُوجِ فَلَمَّا أَبْصَرَ ذَلِکَ رِجَالٌ مِنْ ذَوِی الرَّأْیِ قَالُوا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ نَمْکُثَ بِالْمَدِینَۃِ فَإِنْ دَخَلَ عَلَیْنَا الْعَدُوُّ قَاتَلْنَاہُمْ فِی الأَزِقَّۃِ وَہُوَ أَعْلَمُ بِاللَّہِ وَبِمَا یُرِیدُ وَیَأْتِیہِ الْوَحْیُ مِنَ السَّمَائِ ثُمَّ أَشْخَصْنَاہُ فَقَالُوا : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَنَمْکُثُ کَمَا أَمَرْتَنَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یَنْبَغِی لِنَبِیٍّ إِذَا أَخَذَ لأْمَۃَ الْحَرْبِ وَأَذَّنَ فِی النَّاسِ بِالْخُرُوجِ إِلَی الْعَدُوِّ أَنْ یَرْجِعَ حَتَّی یُقَاتِلَ وَقَدْ دَعَوْتُکُمْ إِلَی ہَذَا الْحَدِیثِ فَأَبَیْتُمْ إِلاَّ الْخُرُوجَ فَعَلَیْکُمْ بِتَقْوَی اللَّہِ وَالصَّبْرِ إِذَا لَقِیتُمُ الْعَدُوَّ وَانْظُرُوا مَا أَمَرْتُکُمْ بِہِ فَافْعَلُوہُ ۔ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَالْمُسْلِمُونَ مَعَہُ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ وَہَکَذَا رَوَاہُ مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔وَکَذَلِکَ ذَکَرَہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ شُیُوخِہِ مِنْ أَہْلِ الْمَغَازِی وَہُوَ عَامٌّ فِی أَہْلِ الْمَغَازِی وَإِنْ کَانَ مُنْقَطِعًا۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٢٨١) جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو لوگوں کو وعظ کیا اور ان کو محنت اور کوشش کرنے کا حکم دیا۔ پھر جب آپ اپنی نماز اور خطبے سے واپس پلٹے تو آپ نے ذرع منگوائی اور اس کو پہن لیا۔ پھر لوگوں میں اعلان کروایا کہ وہ جنگ کے لیے نکلیں۔ جب ان لوگوں نے دیکھا جن کے دلوں میں بیماری تھی، تو کہا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے کہ ہم مدینہ میں ٹھہریں۔ اگر مدینے میں دشمن داخل ہوگئے تو ہم ان کا مقابلہ کریں گے، حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا تھا جو وہ ارادہ رکھتے تھے۔ پھر آسمان سے وحی آئی۔ پھر ہم نے اسے روانگی کا وقت سمجھا۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! کیا ہم ٹھہرے رہیں، جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو حکم دیا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں ہے کہ جب وہ لڑائی کا سامان پکڑ لے اور لوگوں کو دشمن کی طرف نکلنے کا حکم دے تو وہ واپس آئے حتی کہ وہ قتل ہوجائے۔ میں تم کو اس کی طرف بلاتا ہوں اور تم نکلنے سے انکار کرتے ہو پھر فرمایا : تقویٰ اور صبر کو لازم پکڑو جب تم دشمن سے ملو تو دیکھو، میں تم کو کیا حکم دیتا ہوں، اس کام کو کر گزرو۔ پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی نکلے اور لوگ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے۔

13288

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13288

Zaeef

(۱۳۲۸۲) وَقَدْ کَتَبْنَاہُ مَوْصُولاً بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَیْفَہُ ذُو الْفَقَارِ یَوْمَ بَدْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَہُوَ الَّذِی رَأَی فِیہِ الرُّؤْیَا یَوْمَ أُحُدٍ وَذَلِکَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا جَائَ ہُ الْمُشْرِکُونَ یَوْمَ أُحُدٍ کَانَ رَأْیُہُ أَنْ یُقِیمَ بِالْمَدِینَۃِ فَیُقَاتِلَہُمْ فِیہَا فَقَالَ لَہُ نَاسٌ لَمْ یَکُونُوا شَہِدُوا بَدْرًا : تَخْرُجُ بِنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ إِلَیْہِمْ نُقَاتِلُہُمْ بِأُحُدٍ وَرَجَوْا أَنْ یُصِیبُوا مِنَ الْفَضِیلَۃِ مَا أَصَابَ أَہْلُ بَدْرٍ فَمَا زَالُوا بِہِ حَتَّی لَبِسَ أَدَاتَہُ ثُمَّ نَدِمُوا وَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَقِمْ فَالرَّأْیُ رَأْیُکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: مَا یَنْبَغِی لِنَبِیٍّ أَنْ یَضَعَ أَدَاتَہُ بَعْدَ أَنْ لَبِسَہَا حَتَّی یَحْکُمَ اللَّہُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ عَدُوِّہُ ۔ قَالَ : وَکَانَ مِمَّا قَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَئِذٍ قَبْلَ أَنْ یَلْبَسَ الأَدَاۃَ : إِنِّی رَأَیْتُ أَنِّی فِی دِرْعٍ حَصِینَۃٍ فَأَوَّلْتُہَا الْمَدِینَۃَ وَأَنِّی مُرْدِفٌ کَبْشًا فَأَوَّلْتُہُ کَبْشَ الْکَتِیبَۃِ ، وَرَأَیْتُ أَنَّ سَیْفِی ذَا الْفَقَارِ فُلَّ فَأَوَّلْتُہُ فَلاًّ فِیکُمْ وَرَأَیْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ فَبَقَرٌ وَاللَّہُ خَیْرٌ فَبَقَرٌ وَاللَّہُ خَیْرٌ ۔ [بخاری ۳۸۶۰۔ مسلم ۲۳۲۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٢٨٢) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن ذوالفقار نامی تلوار کے ساتھ قتال کیا، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اس کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن خواب دیکھا، وہ یہ تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے احد والے دن جب مشرکین آئے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر ان سے لڑائی کی جائے تو جو لوگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم ان سے باہر نکل کر قتال کریں گے، انھیں امید تھی کہ وہ بدر والوں کی فضیلت حاصل کرلیں گے، انھوں نے اصرار کیا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگی لباس پہن لیا، پھر ان لوگوں کو ندامت ہوئی اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! فیصلہ درحقیقت وہی ہے جو آپ کا فیصلہ ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، کسی نبی کی شان نہیں کہ وہ جنگی لباس پہننے کے بعد اتار دے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے جنگی ہتھیار پہننے سے پہلے کہا : میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک مضبوط قلعے میں ہوں، میں اس کی تعبیر یہ لی ہے کہ مدینہ شہر ہے، پھر میں نے دیکھا کہ میں بڑے پتھر کے پیچھے ہوں تو میں نے اس کی تاویل یہ کی کہ ایک بڑی فوج کا دستہ ہے، میں نے اپنی تلوار ذوالفقار دیکھی کہ اس میں دندانے پڑگئے ہیں تو تم میں کوئی خرابی ہوگی، بعد میں گائے ذبح ہوتے دیکھی، گائے اللہ کی بھلائی ہے دوسری مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر یہی کہا۔