Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 41 · Chapter 2702

مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان

ان کی ترتیب کا بیان

3 hadiths in this chapter

13114

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13114

Sahih

(۱۳۱۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ َخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی أُسَیْدٍ الأَنْصَارِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ: خَیْرُ دُورِ الأَنْصَارِ بَنُوالنَّجَّارِ ثُمَّ بَنُو عَبْدِالأَشْہَلِ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَبَنُو سَاعِدَۃَ وَفِی کُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَیْرٌ۔ قَالَ فَقِیلَ: فَضَّلَ عَلَیْنَا قَالَ فَقِیلَ: قَدْ فَضَّلَکُمْ عَلَی کَثِیرٍ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ أَبِی دَاوُدَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ وَقَالَ : ثُمَّ بَنُو سَاعِدَۃَ ۔ وَقَالَ فِیہِ فَقَالَ سَعْدٌ یَعْنِی ابْنَ عُبَادَۃَ مَا أَرَی النَّبِیَّ -ﷺ- إِلاَّ قَدْ فَضَّلَ عَلَیْنَا فَقِیلَ قَدْ فَضَّلَکُمْ عَلَی کَثِیرٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۵۱۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٠٩) ابواسید انصاری سے منقول ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انصار کے بہترین گھر بنو نجار کے ہیں، پھر بنو عبدالاشہل کے ہیں، پھر بنو حارث کے ہیں اور بنو ساعدہ کے ہیں اور انصار کے سب گھروں میں خیر ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا : ہم پر فضیلت دی ہے۔ کہا گیا : تم کو اکثر پر فضیلت ہے۔

13115

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13115

Sahih

(۱۳۱۱۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ َخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَہْلٍ عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی خُرُوجِہِ وَرُجُوعِہِ قَالَ حَتَّی أَشْرَفْنَا عَلَی الْمَدِینَۃِ فَقَالَ : ہَذِہِ طَابَۃُ وَہَذَا أُحُدٌ وَہُوَ جَبَلٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ ۔ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ خَیْرَ دُورِ الأَنْصَارِ دَارُ بَنِی النَّجَّارِ ثُمَّ دَارُ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ ثُمَّ دَارُ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ دَارُ بَنِی سَاعِدَۃَ وَفِی کُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَیْرٌ ۔ فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ فَقَالَ أَبُو أُسَیْدٍ : أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَیَّرَ دُورَ الأَنْصَارِ فَجَعَلَنَا آخِرَہَا دَارًا فَأَدْرَکَ سَعْدٌ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ خَیَّرْتَ دُورَ الأَنْصَارِ فَجَعَلْتَنَا آخِرَہَا فَقَالَ : أَوَلَیْسَ بِحَسْبِکُمْ أَنْ تَکُونُوا مِنَ الْخِیَارِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۹۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١١٠) ابوحمید سے منقول ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے۔ سب کچھ نکلنا اور لوٹنا بیان کیا، یہاں تک کہ ہم مدینہ آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ طابہ ہے اور یہ احد ہے ، یہپہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، پھر فرمایا : انصار کے بہترین گھر بنی نجار کے گھر میں، پھر بنی عبدالاشہل کے گھر میں، پھر بنی حارث کے گھر میں، پھر بنی ساعدہ کے گھر میں اور انصار کے سب گھروں میں خیر ہے۔ پس ہم سعد بن عبادہ کو ملے۔ ابواسید نے کہا : کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کے گھروں کو بہترین قرار دیا ہے، پس ہم نے اس کا گھر آخر پر رکھا، سعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے، کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ انصار کے گھروں کو بہترین قرار دیا ہے اور ہمیں آخر پر رکھا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : کیا تم حسب کے اعتبار سے بہتر نہیں ہو۔

13116

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13116

Sahih

(۱۳۱۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغَضَائِرِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الدِّقِیقِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی قَالَ سَمِعْتُ مَالِکَ بْنَ أَنَسٍ یَقُولُ : مَنْ سَبَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَلَیْسَ لَہُ فِی الْفَیْئِ حَقٌّ یَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ الَّذِینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّہِ وَرُضْوَانًا} الآیَۃَ ہَؤُلاَئِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الَّذِینَ ہَاجَرُوا مَعَہُ ثُمَّ قَالَ {وَالَّذِینَ تَبَوَّئُ وا الدَّارَ وَالإِیمَانَ} الآیَۃَ ہَؤُلاَئِ الأَنْصَارُ ثُمَّ قَالَ {وَالَّذِینَ جَائُ وا مِنْ بَعْدِہِمْ} قَالَ مَالِکٌ : فَاسْتَثْنَی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ {یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلإِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالإِیمَانِ} الآیَۃَ فَالْفَیْئُ لِہَؤُلاَئِ الثَّلاَثَۃِ فَمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَلَیْسَ ہُوَ مِنْ ہَؤُلاَئِ الثَّلاَثَۃِ وَلاَ حَقَّ لَہُ فِی الْفَیْئِ ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١١١) معن بن عیسیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے سنا، وہ کہتے تھے کہ جس نے اصحاب رسول کو گالی دی اس کا مال فئی میں کوئی حق نہیں ہے، اللہ فرماتے ہیں : { لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ الَّذِینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّہِ وَرُضْوَانًا } یہ آیت اصحاب رسول کے بارے میں ہے، جنہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہجرت کی، پھر کہا { وَالَّذِینَ جَائُ وا مِنْ بَعْدِہِمْ } مالک نے کہا : اللہ نے استثنا کیا ہے، کہا : { یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلإِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالإِیمَانِ } پس مال فئی ان تینوں کے لیے ہے، جس نے اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دی وہ تینوں میں سے نہیں ہے اور نہ اس کا فئی میں حق ہے۔