Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 4 · Chapter 889

کتاب الصلوة

نوافل اور ماہ رمضان کے قیام (تراویح) سے متعلقہ ابواب کا مجموعہ دن، رات میں صرف پانچ نمازیں فرض ہیں اور وتر نفل ہے

14 hadiths in this chapter

4446

Sunan Al Kubra Bayhaqi #4446

Sahih

(۴۴۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ فِی الْمُحَرَّمِ سَنَۃَ سَبْعَ وَثَلاَثِینَ وَثَلاَثَمِائَۃٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِی سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ : أَنَّ أَعْرَابِیًّا جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ ﷺ ثَائِرَ الرَّأْسِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَخْبِرْنِی مَا افْتَرَضَ اللَّہُ عَلَیَّ مِنَ الصَّلاَۃِ۔فَقَالَ : ((الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ شَیْئًا))۔فَقَالَ : أَخْبِرْنِی مَاذَا فَرَضَ اللَّہُ عَلَیَّ مِنَ الصِّیَامِ۔قَالَ : صِیَامُ رَمَضَانَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ شَیْئًا ۔فَقَالَ : أَخْبِرْنِی مَا فَرَضَ اللَّہُ عَلَیَّ مِنَ الزَّکَاۃِ۔ قَالَ : فَأَخْبَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ بِشَرَائِعِ الإِسْلاَمِ فَقَالَ : وَالَّذِی أَکْرَمَکَ لاَ أَتَطَوَّعُ شَیْئًا ، وَلاَ أَنْتَقِصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّہُ عَلَیَّ شَیْئًا۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((أَفْلَحَ وَأَبِیہِ إِنْ صَدَقَ ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَاللَّہِ إِنْ صَدَقَ))۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحَیْنِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ جَعْفَرٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : أَوْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَأَبِیہِ إِنْ صَدَقَ ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤٤٤٦) طلحہ بن عبیداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ بکھرے ہوئے بالوں والا ایک دیہاتی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! مجھے بتائیے اللہ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کیں ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانچ نمازیں مگر یہ کہ تو کچھ نفل پڑھے۔ پھر کہنے لگا : اللہ نے میرے اوپر کتنے روزے فرض کیے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمضان کے روزے مگر یہ کہ آپ کچھ نفلی روزے رکھیں۔ پھر وہ کہنے لگا : مجھے بتائیے کہ اللہ نے مجھ پر کتنی زکوۃ فرض کی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اسلام کے طریقوں کی خبر دی۔ اس نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت دی ہے۔ نہ تو میں اس سے زیادہ کروں گا اور نہ کمی کروں گا جو اللہ نے مجھ پر فرض کیا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ شخص کامیاب ہوگیا اگر اس نے سچ کہا۔ اللہ کی قسم ! وہ جنت میں داخل ہوگا اگر اس نے سچ کہا۔ (ب) اسماعیل بن جعفر (رض) نے یہ لفظ ذکر کیے ہیں کہ وہ شخص جنت میں داخل ہوگا اگر اس نے سچ کہا۔

4447

Sunan Al Kubra Bayhaqi #4447

Sahih

(۴۴۴۷) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ الْجَہْضَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ : ((الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ ، وَالْجُمُعَۃُ إِلَی الْجُمُعَۃِ کَفَّارَاتٌ لِمَا بَیْنَہُنَّ))۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِیٍّ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۳۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤٤٤٧) ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ پانچ نمازیں ایک جمعے سے دوسرے جمعے تک کے گناہوں کا کفارہ ہیں ” یعنی ان کے دوران ہونے والے گناہوں کا کفارہ۔ “

4448

Sunan Al Kubra Bayhaqi #4448

Sahih

(۴۴۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبِرْنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِی سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ سَمِعَ طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ یَقُولُ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ ﷺ مِنْ أَہْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِیَّ صَوْتِہِ وَلاَ نَفْقَہُ مَا یَقُولُ حَتَّی دَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ فَإِذَا ہُوَ یَسْأَلُ عَنِ الإِسْلاَمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ))۔فَقَالَ : ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُنَّ؟ قَالَ : ((لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ ، وَصِیَامُ شَہْرِ رَمَضَانَ))۔فَقَالَ : ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُ؟ قَالَ : ((لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ))۔وَذَکَرَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ الزَّکَاۃَ فَقَالَ ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہَا قَالَ: ((لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ)) فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَہُوَ یَقُولُ : وَاللَّہِ لاَ أَزِیدُ عَلَی ہَذَا وَلاَ أَنْقُصُ مِنْہُ۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ قُتَیْبَۃَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۴۴۴۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤٤٤٨) طلحہ بن عبیداللہ فرماتے ہیں کہ اہل نجد کا ایک شخص بکھرے ہوئے بالوں والا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنتے تھے اور ہم سمجھتے نہیں تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوا اور وہ اسلام کے بارے میں سوال کررہا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس نے کہا : کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی فرض ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں مگر یہ کہ تو نفل پڑھے اور رمضان کے روزے فرض ہیں۔ اس نے کہا : کیا ان روزوں کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی فرض ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں مگر یہ کہ تو نفلی روزے رکھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے زکوۃ کا ذکر کیا۔ اس نے کہا : کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر فرض ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں مگر یہ کہ تو نفلی صدقہ کرے۔ اس شخص نے پیٹھ پھیری اور وہ کہہ رہا تھا۔ اللہ کی قسم ! نہ میں اس میں زیادتی کروں گا اور نہ ہی کمی کروں گا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اس نے سچ کہا تو کامیاب ہوگیا۔

4449

Sunan Al Kubra Bayhaqi #4449

Sahih

(۴۴۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ : ((الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ ، وَالْجُمُعَۃُ إِلَی الْجُمُعَۃِ کَفَّارَاتٌ لِمَا بَیْنَہُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْکَبَائِرُ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۴۴۴۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤٤٤٩) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانچ نمازیں۔ ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہیں جب تک وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب نہیں ہوتا (یعنی کبیرہ گناہ اس کو ڈھانپ نہیں لیتے) ۔

4450

Sunan Al Kubra Bayhaqi #4450

Zaeef

(۴۴۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدِ بْنِ قَیْسٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ یُدْعَی الْمُخْدَجِیَّ سَمِعَ رَجُلاً بِالشَّامِ یُدْعَی أَبَا مُحَمَّدٍ یَقُولُ : إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ۔قَالَ الْمُخْدَجِیُّ : فَرُحْتُ إِلَی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، فَاعْتَرَضْتُ لَہُ وَہُوَ رَائِحٌ إِلَی الْمَسْجِدِ ، فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِی قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، فَقَالَ عُبَادَۃُ : کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یَقُولُ : ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ کَتَبَہُنَّ اللَّہُ عَلَی الْعِبَادِ ، فَمَنْ جَائَ بِہِنَّ لَمْ یُضَیِّعْ مِنْہُنَّ شَیْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّہِنَّ ، کَانَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ أَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ ، وَمَنْ لَمْ یَأْتِ بِہِنَّ فَلَیْسَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ، إِنْ شَائَ عَذَّبَہُ ، وَإِنْ شَائَ أَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ))۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ۳۱۶۶-۲۲۲۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤٤٥٠) محمد بن یحییٰ بن حبان ابن محیریز سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو کنانہ کا ایک شخص جس کو مخدجی کہا جاتا تھا، اس نے شام میں ایک شخص سے سنا جس کو ابو محمد کہا جاتا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ وتر واجب ہے۔ مخرجی کہتے ہیں : میں عبادہ بن صامت (رض) کے پاس گیا اور میں نے ان کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا، وہ مسجد کی طرف جا رہے تھے تو میں نے ان کو وہ بات بتائی جو ابومحمد نے کہی تھی۔ عبادہ (رض) فرمانے لگے : ابومحمد نے غلطی کی۔ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کیں ہیں۔ جس نے یہ پانچ نمازیں پڑھیں اور ان کو ہلکا سمجھتے ہوئے ضائع نہ کیا تو اللہ کا اس بندے سے وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ جو بندہ ان پانچ نمازوں کی طرف نہ آیا تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہے اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو اس کو جنت میں داخل کر دے۔

4451

Sunan Al Kubra Bayhaqi #4451

Sahih

(۴۴۵۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ ثُمَّ مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ لَقِیَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، فَسَأَلَہُ عَنِ الْوِتْرَ فَقَالَ : إِنَّہُ وَاجِبٌ۔ قَالَ الْکِنَانِیُّ فَلَقِیتُ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، فَذَکَرْتُ لَہُ ذَلِکَ فَقَالَ : کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یَقُولُ : ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ فَرَضَہُنَّ اللَّہُ عَلَی الْعِبَادِ ، مَنْ أَتَی بِہِنَّ لَمْ یُضَیِّعْ شَیْئًا مِنْہُنَّ کَانَ لَہُ عَہْدٌ عَلَی اللَّہِ أَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ ، وَمَنْ لَمْ یَأْتِ بِہِنَّ فَلَیْسَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ ، إِنْ شَائَ عَذَّبَہُ ، وَإِنْ شَائَ رَحِمَہُ))۔ [صحیح۔ تقدم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤٤٥١) محمد بن یحییٰ بن حبان ابن محیریز سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو کنانہ کا ایک شخص بنو مدلج انصار کے ایک شخص سے ملا اسے ابومحمد کہا جاتا تھا۔ اس نے اس سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو ابومحمد نے کہا : واجب ہے۔ کنانی کہتا ہے کہ میں عبادہ بن صامت (رض) سے ملا تو میں نے اس بات کا تذکرہ ان سے کیا تو انھوں نے فرمایا : ابو محمد نے غلطی کی ہے، کیونکہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جو بندہ ان پانچ نمازوں کو پڑھتا ہے ان میں سے کسی کو ضائع نہیں کرتا تو اللہ کا اس بندے کے لیے وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو بندہ ان پانچ نمازوں کو نہیں پڑھتا تو اللہ کا اس کے لیے کوئی وعدہ نہیں۔ اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو اسے جنت میں داخل کر دے۔

4452

Sunan Al Kubra Bayhaqi #4452

Sahih

(۴۴۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حُمْرَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَکَمِ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی : جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی عَمْرَۃَ النَّجَّارِیِّ : أَنَّہُ سَأَلَ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ : أَمْرٌ حَسَنٌ جَمِیلٌ ، عَمِلَ بِہِ النَّبِیُّ ﷺ وَالْمُسْلِمُونُ مِنْ بَعْدِہِ وَلَیْسَ بِوَاجِبٍ۔ [صحیح۔ ابن خذیمہ ۱۰۶۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤٤٥٢) عبدالرحمن بن عمرو بخاری نے عبادہ بن صامت (رض) سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگے : بڑا اچھا کام ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے بعد مسلمانوں نے اس پر عمل کیا، لیکن یہ واجب نہیں ہے۔

4453

Sunan Al Kubra Bayhaqi #4453

Sahih

(۴۴۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ قَالَ قُرِئَ عَلَی یَحْیَی بْنِ جَعْفَرٍ وَأَنَا أَسْمَعُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا زُہَیْرٌ جَمِیعًا عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِنَّ ہَذَا الْوِتْرُ لَیْسَ بِحَتْمٍ ، وَلَکِنَّہُ سُنَّۃٌ حَسَنَۃٌ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ إِنَّ اللَّہَ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ۔ لَفْظُ حَدِیثِ زُہَیْرٍ وَفِی رِوَایَۃِ الثَّوْرِیِّ : الْوِتْرُ لَیْسَ بِحَتْمٍ وَلَکِنَّہُ سُنَّۃٌ سَنَّہَا رَسُولُ اللَّہِ ﷺ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤٤٥٣) عاصم بن حمزہ، حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وتر لازم نہیں ہے، لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اچھی سنت ہے، کیونکہ اللہ رب العزت وتر ہیں اور وتر کو پسند کرتے ہیں۔ (ب) زہیر اور ثوری کی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ وتر لازم نہیں، بلکہ سنت ہیں۔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے سنت قرار دیا ہے۔

4454

Sunan Al Kubra Bayhaqi #4454

Sahih

(۴۴۵۴) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : الْوِتْرُ لَیْسَ بِحَتْمٍ کَالصَّلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ ، وَلَکِنَّہُ سُنَّۃٌ سَنَّہَا رَسُولُ اللَّہِ ﷺ فَقَالَ : ((أَوْتِرُوا یَا أَہْلَ الْقُرْآنِ ، فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ))۔ [حسن۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤٤٥٤) عاصم بن ضمرہ، حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وتر لازم نہیں جیسے فرض نماز ہے بلکہ سنت ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو سنت قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں : اے اہل قرآن ! تم وتر پڑھا کرو، بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔

4455

Sunan Al Kubra Bayhaqi #4455

Zaeef

(۴۴۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جَنَاحٍ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ وَہُو عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ : ((إِنَّ اللَّہَ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ ، فَأَوْتِرُوا یَا أَہْلَ الْقُرْآنِ))۔ زَادَ أَبُو دَاوُدَ فِی رِوَایَتِہِ فَقَالَ أَعْرَابِیٌّ : مَا تَقُولُ؟ قَالَ : لَیْسَ لَکَ وَلاَ لأَصْحَابِکَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤٤٥٥) عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ اے اہل قرآن ! تم بھی وتر پڑھا کرو۔ (ب) ابوداؤد نے ایک روایت میں یہ زیادتی کی ہے کہ دیہاتی نے کہا : آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ آپ کے لیے اور نہ آپ کے ساتھیوں کے لیے۔

4456

Sunan Al Kubra Bayhaqi #4456

Zaeef

(۴۴۵۶) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَعْلَجٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا مِہْرَانُ یَعْنِی الرَّازِیَّ عَنْ أَبِی سِنَانٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((أَوْتِرُوا یَا أَہْلَ الْقُرْآنِ))۔قَالَ أَعْرَابِیٌّ : مَا یَقُولُ النَّبِیُّ ﷺ؟ فَقَالَ : ((لَسْتَ مِنْ أَہْلِہِ))۔ وَرَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ فَأَرْسَلَہُ۔ [ضعیف۔ تقدم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤٤٥٦) عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : اے اہل قرآن وتر پڑھو۔ ایک دیہاتی نے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا فرمایا ہے ؟ عبداللہ بن مسعود فرمانے لگے : تو ان میں سے نہیں ہے۔

4457

Sunan Al Kubra Bayhaqi #4457

Zaeef

(۴۴۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((أَوْتِرُوا یَا أَصْحَابَ الْقُرْآنِ ، إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ))۔فَقَالَ أَعْرَابِیٌّ : مَا یَقُولُ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ؟ قَالَ : ((لَیْسَ لَکَ وَلاَ لأَصْحَابِکَ))۔ ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ الثَّوْرِیِّ ، وَیُقَالُ لَمْ یَسْمَعْہُ الثَّوْرِیُّ مِنْ عَمْرٍو إِنَّمَا سَمِعَہُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَمْرٍو۔ وَرُوِیَ عَنْ عَبْدِ الْمَجِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی رَوَّادٍ عَنِ الثَّوْرِیِّ فَذَکَرَ فِیہِ عَبْدَ اللَّہِ ، وَلَیْسَ بِمَحْفُوظٍ وَالْحَدِیثُ مَعَ ذِکْرِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ فِیہِ مُنْقَطِعٌ۔(ج) لأَنَّ أَبَا عُبَیْدَۃَ لَمْ یُدْرِکْ أَبَاہُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤٤٥٧) ابو عبیدہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے قرآن والو ! تم وتر پڑھو۔ بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ دیہاتی کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا فرمایا ؟ تو ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ تیرے لیے اور تیرے ساتھیوں کے لیے کچھ نہیں فرمایا۔

4458

Sunan Al Kubra Bayhaqi #4458

Sahih

(۴۴۵۸) أَخْبَرَنَا الشَّیْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَیْحِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ : أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ وَلَیْسَ عَلَیْکَ ، وَضَحَّی رَسُولُ اللَّہِ ﷺ وَلَیْسَ عَلَیْکَ ، وَصَلَّی الضُّحَی وَلَیْسَ عَلَیْکَ ، وَصَلَّی قَبْلَ الظُّہْرِ وَلَیْسَ عَلَیْکَ ، وَقَالَ قَتَادَۃُ فَقُلْتُ : ہَذَا مَا یُعْرَفُ غَیْرَ الْوِتْرِ۔قَالَ : إِنَّمَا قَالَ : یَا أَہْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا ، فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤٤٥٨) قتادہ (رح) سے روایت ہے کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وتر پڑھا اور تجھ پر یہ فرض نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاشت کی نماز پڑھی اور تجھ پر یہ فرض نہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کی اور تجھ پر فرض نہیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر سے پہلے نماز پڑھی اور تجھ پر فرض نہیں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : یہ وہ چیزیں ہیں جن کو وتر کے علاوہ پہنچانا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اے اہل قرآن ! تم وتر پڑھو۔ اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔

4459

Sunan Al Kubra Bayhaqi #4459

Zaeef

(۴۴۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ وَأَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْہَاشِمِیُّ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْغَضَائِرِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ الْکَلْبِیُّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((ثَلاَثٌ ہُنَّ عَلَیَّ فَرَائِضٌ ، وَہُنَّ لَکُمْ تَطَوُّعٌ : النَّحْرُ وَالْوِتْرُ وَرَکْعَتَا الضُّحَی))۔أَبُو جَنَابٍ الْکَلْبِیُّ اسْمُہُ یَحْیَی بْنُ أَبِی حَیَّۃَ ضَعِیفٌ، وَکَانَ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ یُصَدِّقُہُ وَیَرْمِیہِ بِالتَّدْلِیسِ۔[ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤٤٥٩) عبداللہ بن عباس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ تین چیزیں میرے لیے فرض ہیں اور تمہارے لیے نفل : قربانی، وتر اور چاشت کی دو رکعتیں۔