Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 38 · Chapter 2579

وراثت کا بیان

عصبات کی ترتیب کا بیان

5 hadiths in this chapter

12376

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12376

Sahih

(۱۲۳۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ الْعَدْلُ وَأَبُو الْفَضْلِ : الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالاَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالاَ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : أَلْحِقُوا الْمَالَ بِالْفَرَائِضِ فَمَا أَبْقَتِ الْفَرَائِضُ فَلأَوْلَی رَجُلٍ ذَکَرٍ۔ وَفِی رِوَایَۃِ مُوسَی : أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَہْلِہَا فَمَا بَقِیَ فَہُوَ لأَوْلَی رَجُلٍ ذَکَرٍ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی بْنِ حَمَّادٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٣٧١) حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مال کو ان کے اہل تک پہنچا دو پس جو بچ جائے مذکر آدمی کو دے دو ۔ ایک روایت میں ہے فرائض کو ان کے اہل کی طرف ملا دو جو بچ جائے، پس وہ قریبی مذکر آدمی کے لیے ہے۔

12377

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12377

Zaeef

(۱۲۳۷۲) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الأَصْبَہَانِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ أَصْحَابِہِ فِی قَوْلِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ : إِذَا تَرَکَ الْمُتَوَفَّی ابْنًا فَالْمَالُ لَہُ فَإِنْ تَرَکَ ابْنَیْنِ فَالْمَالُ بَیْنَہُمَا فَإِنْ تَرَکَ ثَلاَثَۃَ بَنِینَ فَالْمَالُ بَیْنَہُمْ بِالسَّوِیَّۃِ فَإِنْ تَرَکَ بَنِینَ وَبَنَاتٍ فَالْمَالُ بَیْنَہُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ فَإِنْ لَمْ یَتْرُکْ وَلَدًا لِلصُّلْبِ وَتَرَکَ بَنِی ابْنٍ وَبَنَاتِ ابْنٍ نَسَبُہُمْ إِلَی الْمَیِّتِ وَاحِدٌ فَالْمَالُ بَیْنَہُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ وَہُمْ بِمَنْزِلَۃِ الْوَلَدِ إِذَا لَمْ یَکُنْ وَلَدٌ وَإِذَا تَرَکَ ابْنًا وَابْنَ ابْنٍ فَلَیْسَ لاِبْنِ الاِبْنِ شَیْئٌ وَکَذَلِکَ إِذَا تَرَکَ ابْنَ ابْنٍ وَأَسْفَلَ مِنْہُ ابْنُ ابْنٍ وَبَنَاتُ ابْنِ أَسْفَلَ فَلَیْسَ لِلَّذِی أَسْفَلَ مِنَ ابْنِ الاِبْنِ مَعَ الأَعْلَی شَیْئٌ کَمَا أَنَّہُ لَیْسَ لاِبْنِ الاِبْنِ مَعَ الاِبْنِ شَیْئٌ۔ قَالَ : وَإِنْ تَرَکَ أَبَاہُ وَلَمْ یَتِرَکْ أَحَدًا غَیْرَہُ فَلَہُ الْمَالُ وَإِنْ تَرَکَ أَبَاہُ وَتَرَکَ ابْنًا فَلِلأَبِ السُّدُسُ وَمَا بَقِیَ فَلِلاِبْنِ وَإِنْ تَرَکَ ابْنَ ابْنٍ وَلَمْ یَتْرُکِ ابْنًا فَابْنُ الاِبْنِ بِمَنْزِلَۃِ الاِبْنِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٣٧٢) حضرت مغیرہ اپنے اصحاب سے زید بن ثابت، علی بن ابی طالب اور ابن مسعود (رض) کے قول میں فرماتے ہیں : جب میت بیٹے کو چھوڑے تو مال اس کا ہے، اگر دو بیٹے چھوڑے تو دونوں کا ہے، اگر تین بیٹے ہوں تو مال تینوں میں برابر برابر ہوگا، اگر بیٹے اور بیٹیاں ہوں تو مال لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ کے تحت ہوگا۔ اگر صلبی اولاد نہ ہو اور پوتے پوتیاں ہوں اور ان کا نسب میت تک ایک ہی ہو تو مال ان کے درمیان فلِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ کے تحت ہوگا۔ جب اولاد نہ ہو تو وہ اولاد کی مانند ہیں اور جب بیٹا اور پوتا ہو تو پوتے کے لیے کچھ نہیں اور اسی طرح جب پوتا ہو اور اس سے نیچے بھی پوتے پوتیاں ہوں تو نچلے والوں کے لیے اعلیٰ کے ساتھ کوئی حصہ نہیں جس طرح بیٹے کی موجودگی میں پوتا حق دار نہیں ہے۔ اگر باپ چھوڑے اس کے علاوہ کوئی نہ ہو تو مال اس کا ہے اور اگر باپ اور بیٹا ہو تو باپ کے لیے سدس اور بیٹے کے لیے باقی مال ہے اور اگر پوتا ہو بیٹا نہ ہو تو پوتا بیٹے کی مانند ہے۔

12378

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12378

Zaeef

(۱۲۳۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَلاَّلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ مَعَانِیَ ہَذِہِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَہَا عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَمَّا التَّفْسِیرُ فَتَفْسِیرُ أَبِی الزِّنَادُ عَلَی مَعَانِی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : الأَخُ لِلأُمِّ وَالأَبِ أَوْلَی بِالْمِیَراثِ مِنَ الأَخِ لِلأَبِ ، وَالأَخُ لِلأَبِ أَوْلَی بِالْمِیرِاثِ مِنَ ابْنِ الأَخِ لِلأَبِ وَالأُمِّ ، وَابْنُ الأَخِ لِلأُمِّ وَالأَبِ أَوْلَی مِنَ ابْنِ الأَخِ لِلأَبِ ، وَابْنُ الأَخِ لِلأَبِ أَوْلَی مِنَ ابْنِ ابْنِ الأَخِ لِلأَبِ وَالأُمِّ ، وَابْنُ الأَخِ لِلأَبِ أَوْلَی مِنَ الْعَمِّ أَخِ الأَبِ لِلأُمِّ وَالأَبِ ، وَالْعَمُّ أَخُ الأَبِ لِلأُمِّ وَالأَبِ أَوْلَی مِنَ الْعَمِّ أَخِی الأَبِ لِلأَبِ ، وَالْعَمُّ أَخُ الأَبِ لِلأَبِ أَوْلَی مِنَ ابْنِ الْعَمِّ أَخِ الأَبِ لِلأَبِ وَالأُمِّ ، وَابْنُ الْعَمِّ لِلأَبِ أَوْلَی مِنْ عَمِّ الأَبِ أَخِ أَبِی الأَبِ لِلأُمِّ وَالأَبِ ، وَکُلُّ شَیْئٍ تَسْأَلُ عَنْہُ مِنْ مِیرَاثِ الْعَصَبَۃِ فَإِنَّہُ عَلَی نَحْوِ ہَذَا فَمَا سُئِلْتَ عَنْہُ مِنْ ذَلِکَ فَانْسُبِ الْمُتَوَفَّی وَانْسُبْ مَنْ یُنَازَعُ فِی الْوِلاَیَۃِ مِنْ عَصَبَتِہِ فَإِنْ وَجَدْتَ أَحَدًا مِنْہُمْ یَلْقَی الْمُتَوَفَّی إِلَی أَبٍ لاَ یَلْقَاہُ مَنْ سِوَاہُ مِنْہُمْ إِلاَّ إِلَی أَبٍ فَوْقَ ذَلِکَ فَاجْعَلِ الْمِیرَاثَ الَّذِی یَلْقَاہُ إِلَی الأَبِ الأَدْنَی دُونَ الآخَرِینَ وَإِذَا وَجَدْتَہُمْ کُلَّہُمْ یَلْقَوْنَہُ إِلَی أَبٍ وَاحِدٍ یَجْمَعُہُمْ فَانْظُرْ أَقْعَدَہُمْ فِی النَّسَبِ فَإِنْ کَانَ ابْنَ ابْنٍ فَقَطْ فَاجْعَلِ الْمِیرَاثَ لَہُ دُونَ الأَطْرَفِ فَإِنْ کَانَ الأَطْرَفُ ابْنَ أُمٍّ وَأَبٍ فَإِنْ وَجَدْتَہُمْ مُسْتَوِیَیْنِ یَتَسَایُونَ فِی عَدَدِ الآبَائِ إِلَی عَدَدٍ وَاحِدٍ حَتَّی یَلْقَوْا نَسَبَ الْمُتَوَفَّی وَکَانُوا کُلُّہُمْ بَنِی أَبٍ أَوْ بَنِی أَبٍ وَأُمٍّ فَاجْعَلِ الْمِیرَاثَ بَیْنَہُمْ بِالسَّوَائِ وَإِنْ کَانَ وَالِدُ بَعْضِہِمْ أَخَا وَالِدِ ذَلِکَ الْمُتَوَفَّی لأَبِیہِ وَأُمِّہِ وَکَانَ وَالِدُ مَنْ سِوَاہُ إِنَّمَا ہُوَ أَخُو وَالِدِ ذَلِکَ الْمُتَوَفَّی لأَبِیہِ قَطْ فَإِنَّ الْمِیرَاثَ لِبَنِی الأَبِ وَالأُمِّ دُونَ بَنِی الأَبِ ، وَالْجَدُّ أَبُ الأَبِ أَوْلَی مِنَ ابْنِ الأَخِ لِلأُمِّ وَالأَبِ وَأَوْلَی مِنَ الْعَمِّ أَخِ الأَبِ لِلأُمِّ وَالأَبِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٣٧٣) حضرت خارجہ بن زید اپنے سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : حقیقی بھائی وراثت میں علاتی بھائی سے زیادہ حق دار ہے، اور علاتی بھائی وراثت میں حقیقی بھتیجے سے زیادہ حق دار ہے اور حقیقی بھتیجا علاتی بھتیجے سے زیادہ حق دار ہے اور علاتی بھتیجا حقیقی بھتیجے کے بیٹے سے زیادہ حق دار ہے اور علاتی بھتیجا حقیقی چچا سے زیادہ حق دار ہے اور حقیقی چچا علاتی چچا سے زیادہ حق دار ہے اور علاتی چچا حقیقی چچا کے بیٹے سے زیادہ حق دار ہے اور علاتی چچا کا بیٹا زیادہ حق دار ہے باپ کے حقیقی چچا سے اور عصبہ کی وراثت میں یہی طریقہ ہوگا، پس جو بھی سوال کیا جائے اسے فوت شدہ کی طرف منسوب کرو اور جو تنازع کرتا ہے اسے بھی منسوب کرو۔ اگر آپ کسی کو ان میں سے میت کی طرف باپ کی جانب سے پاؤ اور اس کے علاوہ کو باپ کی طرف زیادہ قریب پاؤ تو وراثت اسے دے دو جو باپ کی طرف قریب سے ملتا ہے، دوسرے کے علاوہ۔ اگر آپ ان کو پائیں کہ وہ سب ایک باپ کی طرف ملتے ہیں تو دیکھو ان میں سے نسب میں زیادہ قریبی کون ہے۔ اگر صرف بیٹے کا بیٹا ہو تو دوسروں کے علاوہ اس لیے میراث بنادو ۔ اگر اطراف میں ماں اور باپ کا بیٹا ہو اور آپ ان دونوں کو برابر پاتے ہیں آباد کی تعداد میں وہ مناسبت رکھتے ہیں ایک کی طرف یہاں تک کہ اس کا نسب فوت شدہ تک پہنچ جائے، وہ سب باپ کی اولاد یا ماں، باپ کی اولاد ہوں تو ان کے درمیان وراثت برابر ہوگی۔ اگر ان میں سے بعض کا والد فوت شدہ والد کا بھائی ہو باپ اور ماں کی طرف سے اور اس کے علاوہ ایک اور والد متوفی کا بھائی ہو صرف باپ کی جانب سے تو وراثت حقیقی بھائی کی اولاد کے لیے ہوگی اور دادا زیادہ حق دار ہے۔ حقیقی بھائی کی اولاد سے اور زیادہ حق دار ہے حقیقی چچا سے۔

12379

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12379

Sahih

(۱۲۳۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ وَکَانَ قَاضِیًا فَأَتَاہُ قَوْمٌ یَخْتَصِمُونَ فِی مِیرَاثِ امْرَأَۃٍ یُقَالُ لَہَا فُکَیْہَۃُ بِنْتُ سِمْعَانَ فَجَعَلَ ہَذَا یَقُولُ : أَنَا فُلاَنُ بْنُ فُلاَنِ بْنِ سِمْعَانَ وَیَقُولُ ہَذَا : أَنَا فُلاَنُ بْنُ فُلاَنِ بْنِ سِمْعَانَ فَلَمْ یَفْہَمْ فَقَامَ رَجُلٌ فَکَتَبَ قِصَّتَہُمْ فِی صَحِیفَۃٍ ثُمَّ جَائَ بِہَا إِلَیْہِ فَقَرَأَہَا فَقَالَ : نَعَمْ قَدْ فَہِمْتُ حَدَّثَنِی الضَّحَّاکُ بْنُ قَیْسٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَضَی فِی أَہْلِ طَاعُونِ عَمْوَاسٍ أَنَّہُمْ إِذَا کَانُوا مِنْ قِبَلِ الأَبِ سَوَائً فَبَنُو الأُمِّ أَحَقُّ بِالْمَالِ فَإِنْ کَانَ أَحَدُہُمْ أَقْرَبَہُمْ بِأَبٍ فَہُوَ أَحَقُّ بِالْمَالِ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٣٧٤) محمد بن سیرین فرماتے ہیں : میں عبداللہ (رض) بن عتبہ کے پاس تھا اور وہ قاضی تھے۔ ان کے پاس لوگ آئے، وہ ایک عورت کی وراثت کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے، اس کا نام فکیہہ بنت سمعان تھا، ایک کہنے لگا : میں فلاں بن فلاں بن سمعان ہوں اور دوسرا کہنے لگا : میں فلاں بن فلاں بن سمعان ہوں۔ ابن عتبہ نہ سمجھ سکے، ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے ان کا قصہ ایک کاغذ پر لکھا پھر وہ ابن عتبہ کے پاس لایا، انھوں نے کہا : میں سمجھ گیا ہوں، حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بیان کیا کہ اہل طاعون عمواس کے بارے میں کہ جب وہ باپ کی جانب سے برابر ہوں تو ماں کی اولاد مال کی زیادہ حق دار ہے، اگر ان میں سے کوئی ایک باپ کے زیادہ قریب ہو تو وہ مال کا زیادہ حق دار ہے۔

12380

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12380

Zaeef

(۱۲۳۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْم حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ أَخْبَرَنَا قَبِیصَۃُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : قَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالدَّیْنِ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ وَأَنْتُم تَقْرَئُ ونَ {مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوصَی بِہَا أَوْ دَیْنٍ} وَإِنَّ أَعْیَانَ بَنِی الأُمِّ یَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِی الْعَلاَّتِ ، الإِخْوَۃُ وَالأَخَوَاتُ لِلأَبِ وَالأُمِّ دُونَ الإِخْوَۃِ وَالأَخَوَاتِ لِلأَبِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٣٧٥) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرض کا فیصلہ وصیت سے پہلے کیا اور تم پڑھتے ہو : { مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوصَی بِہَا أَوْ دَیْنٍ } اور ماں کی اولاد وارث ہوگی، علاتی اولاد کے علاوہ اور حقیقی بہن بھائی کے علاوہ اور علاتی بہن کے علاوہ (وارث ہوگی) ۔