Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 38 · Chapter 2565

وراثت کا بیان

پوتوں کی میراث کا بیان

4 hadiths in this chapter

12318

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12318

Zaeef

(۱۲۳۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الْخَلاَّلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدِ عَنْ أَبِیہِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ مَعَانِیَ ہَذِہِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَہَا عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَمَّا التَّفْسِیرُ فَتَفْسِیرُ أَبِی الزِّنَادِ عَلَی مَعَانِی زَیْدٍ قَالَ : وَمِیرَاثُ الْوَلَدِ أَنَّہُ إِذَا تُوُفِّیَ رَجُلٌ أَوِ امْرَأَۃٌ فَتَرَکَ ابْنَۃً وَاحِدَۃً فَلَہَا النِّصْفُ فَإِنْ کَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَمَا فَوْقَ ذَلِکَ مِنَ الإِنَاثِ کَانَ لَہُنَّ الثُّلُثَانِ فَإِنْ کَانَ مَعَہُنَّ ذَکَرٌ فَإِنَّہُ لاَ فَرِیضَۃَ لأَحَدٍ مِنْہُمْ وَیُبْدَأُ بِأَحَدٍ إِنْ شَرِکَہُمْ بِفَرِیضَۃٍ فَیُعْطَی فَرِیضَتَہُ فَمَا بَقِیَ بَعْدَ ذَلِکَ فَہُوَ بَیْنَہُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ قَالَ وَمَنْزِلَۃُ وَلَدِ الأَبْنَائِ إِذَا لَمْ یَکُنْ دُونَہُمْ وَلَدٌ کَمَنْزِلَۃِ الْوَلَدِ سَوَائٌ ذَکَرُہُمْ کَذَکَرِہِمْ وَأُنْثَاہُمْ کَأُنْثَاہُمْ یَرِثُونَ کَمَا یَرِثُونَ وَیَحْجُبُونَ کَمَا یَحْجُبُونَ فَإِنِ اجْتَمَعَ الْوَلَدُ وَوَلَدُ الاِبْنِ فَکَانَ فِی الْوَلَدِ ذَکَرٌ فَإِنَّہُ لاَ مِیرَاثَ مَعَہُ لأَحَدٍ مِنْ وَلَدِ الاِبْنِ وَإِنْ لَمْ یَکُنِ الْوَلَدُ ذَکَرًا وَکَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَأَکْثَرَ مِنَ الْبَنَاتِ فَإِنَّہُ لاَ مِیرَاثَ لِبَنَاتِ الاِبْنِ مَعَہُنَّ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ مَعَ بَنَاتِ الاِبْنِ ذَکَرٌ ہُوَ مِنَ الْمُتَوَفَّی بِمَنْزِلَتِہِنَّ أَوْ ہُوَ أَطْرَفُ مِنْہُنَّ فَیَرُدُّ عَلَی مَنْ بِمَنْزِلَتِہِ وَمَنْ فَوْقَہُ مِنْ بَنَاتِ الأَبْنَائِ فَضْلاً إِنْ فَضَلَ فَیَقْسِمُونَہُ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ فَإِنْ لَمْ یَفْضُلْ شَیْئٌ فَلاَ شَیْئَ لَہُمْ وَإِنْ لَمْ یَکُنِ الْوَلَدُ إِلاَّ ابْنَۃً وَاحِدَۃً فَتَرَکَ ابْنَۃَ ابْنٍ فَأَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ مِنْ بَنَاتِ الاِبْنِ بِمَنْزِلَۃٍ وَاحِدَۃٍ فَلَہُنَّ السُّدُسُ تَتِمَّۃَ الثُّلُثَیْنِ فَإِنْ کَانَ مَعَ بَنَاتِ الاِبْنِ ذَکَرٌ ہُوَ بِمَنْزِلَتِہِنَّ فَلاَ سُدُسَ لَہُنَّ وَلاَ فَرِیضَۃَ وَلَکِنْ إِنْ فَضَلَ فَضْلٌ بَعْدَ فَرِیضَۃِ أَہْلِ الْفَرَائِضِ کَانَ ذَلِکَ الْفَضْلُ لِذَلِکَ الذَّکَرِ وَلِمَنْ بِمَنْزِلَتِہِ مِنَ الإِنَاثِ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ وَلَیْسَ لِمَنْ ہُوَ أَطْرَفُ مِنْہُنَّ شَیْئٌ وَإِنْ لَمْ یَفْضُلْ شَیْئٌ فَلاَ شَیْئَ لَہُنَّ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٣١٣) حضرت خارجہ بن زید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ اولاد کی وراثت جب آدمی فوت ہو یا کوئی عورت فوت ہو اور وہ ایک بیٹی چھوڑے تو اس کے لیے نصف ہے۔ اگر دو یا اس سے زیادہ ہوں تو ان کے لیے دو تہائی ہے۔ اگر ان کے ساتھ مذکر بھی ہو اور اس وقت تک ان میں سے کسی کو حصہ نہ دیا جائے گا، جب تک کسی شریک کا حصہ نہ دے دیں۔ اس کے بعد جو باقی ہوگا اس میں مذکر کے لیے دو مونثوں کے برابر حصہ ہوگا۔ راوی نے کہا : بیٹیوں کی اولاد کا مقام جب ان کے علاوہ کوئی نہ ہو تو وہ بیٹیوں کی طرح ہیں، یعنی پوتے پوتیاں بیٹے اور بیٹوں کی مثل ہیں۔ وہ (پوتے) اسی طرح وارث بنیں گے جس طرح (بیٹے) وارث تھے اور پوتے اسی طرح روک دیے جائیں گے جس طرح بیٹے روکے گئے تھے۔ اگر بیٹا اور پوتا جمع ہوجائیں تو مذکر بیٹے کے ساتھ پوتوں میں سے کوئی بھی شریک نہ ہوگا۔ اگر مذکر اولاد نہ ہو اور دو بیٹیاں ہوں یا اس سے زائد ہوں تو پوتیوں کے لیے ان کے وراثت نہ ہوگی مگر یہ کہ پوتیوں کے ساتھ کوئی مذکر ہو، وہ فوت شدہ پوتیوں کے درجہ میں ہو یا ان سے اوپر نیچے۔ پس وہ لوٹ جائے گا یا وہ کسی اور درجہ میں ہوں تو (بقیہ) ان پر لوٹے گا، جو اس کے درجہ میں ہیں یا اس سے اوپر (کے) درجہ میں پوتیاں ہیں تو زائد (ان کے لیے) اگر زائد ہے ہو تو وہ اس (مال) کو مذکر دو مونث ایک کے لحاظ سے تقسیم کریں گے۔ اگر (کوئی) زائد مال نہیں تو ان کے لیے کچھ نہیں ‘ اگر اولاد صرف ایک بیٹی ہے اور ایک پوتی یا زائد پوتیاں اسی درجہ میں ہیں تو دو تہائی پورے کرنے کے لیے ان کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ اگر پوتیوں کے ساتھ پوتے ہیں تو وہ ان کے درجہ میں ہیں تو ان کے لیے نہ چھٹا حصہ نہ فرض (حصہ) لیکن اہل فرائض کو دینے کے بعد زائد بچ جائے تو مذکر کو دو حصے مونث کو ایک حصہ جو اس کے درجہ میں ہوں، اس لحاظ سے تقسیم ہوگی جو اس درجہ میں نہیں ہیں، ان کے لیے کچھ نہیں۔ اگر مال زائد نہ بچے تو ان کے لیے کوئی حصہ نہیں۔

12319

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12319

Sahih

(۱۲۳۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا َزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ فِی ابْنَتَیْنِ وَبَنَاتِ ابْنٍ وَبَنِی ابْنٍ وَأُخْتَیْنِ لأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَۃٍ وَأَخَوَاتٍ لأَبٍ : أَنَّہَا أَشْرَکَتْ بَیْنَ بَنَاتِ الاِبْنِ وَبَنِی الاِبْنِ وَبَیْنَ الإِخْوَۃِ وَالأَخَوَاتِ لِلأَبِ فِیمَا بَقِیَ یَعْنِی { لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ } قَالَ : وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ لاَ یُشْرِکُ بَیْنَہُمْ یَعْنِی یَجْعَلُ مَا بَقِیَ لِلذُّکُوَرِ دُونَ الإِنَاثِ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٣١٤) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ دو بیٹیوں، پوتیوں، پوتے، دو بہنیں حقیقی اور بھائیوں اور علاتی بہنوں کے بارے میں سیدہ عائشہ (رض) نے شریک کیا پوتیوں اور پوتے کو بھائیوں اور بہنوں (علاتی) کو جو باقی بچا اس میں { لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ } کے تحت اور عبداللہ ان کو شریک نہ کرتے تھے، یعنی باقی ماندہ مال صرف مذکر کے لیے رکھتے تھے نہ کہ عورتوں کے لیے۔

12320

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12320

Sahih

(۱۲۳۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ : قَدِمَ مَسْرُوقٌ مِنَ الْمَدِینَۃِ وَہُوَ یُشْرِکُ بَیْنَہُمْ فَقَالَ لَہُ عَلْقَمَۃُ : أَکَانَ أَحَدٌ أَثْبَتَ عِنْدَکَ مِنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : لاَ وَلَکِنِّی قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَرَأَیْتُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَأَہْلَ الْمَدِینَۃِ یُشْرِکُونَ بَیْنَہُمْ فِی رَجُلٍ تَرَکَ أَخَوَاتٍ لأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَۃً وَأَخَوَاتٍ لأَبٍ وَتَرَکَ بَنَاتٍ وَبَنَاتِ ابْنٍ وَبَنِی ابْنٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٣١٥) علقمہ فرماتے ہیں : مسروق مدینہ سے آئے اور وہ ان کو شریک کرتے تھے، علقمہ نے انھیں کہا : کیا آپ کے پاس کوئی ایسا ہے جو اسے عبداللہ سے ثابت کرے۔ مسروق نے کہا : نہیں لیکن میں مدینہ میں گیا میں نے زید بن ثابت (رض) اور مدینہ والوں کو دیکھا، وہ ایسے آدمی میں شریک کرتے تھے جس نے حقیقی بہنیں، بھائی، علاتی بہنیں، بیٹیاں، پوتیاں اور پوتے چھوڑے ہوں۔

12321

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12321

Zaeef

(۱۲۳۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ أَصْحَابِہِ وَعَنْ أَصْحَابِ إِبْرَاہِیمَ وَالشَّعْبِیِّ َعَنْ إِبْرَاہِیمَ وَالشَّعْبِیِّ : ہَذَا مَا اخْتَلَفَ فِیہِ عَلِیٌّ وَعَبْدُ اللَّہِ وَزَیْدٌ ابْنَتَانِ وَابْنُ ابْنٍ وَابْنَۃُ ابْنٍ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ لِلاِبْنَتَیْنِ الثُّلُثَانِ وَمَا بَقِیَ لاِبْنِ الاِبْنِ وَابْنَۃِ الاِبْنِ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ وَفِی قَوْلِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ : لِلاِبْنَتَیْنِ الثُّلُثَانِ وَمَا بَقِیَ لِلذَّکَرِ دُونَ الأُنْثَی لأَنَّہُ لَمْ یَکُنْ یَزِیدُ الْبَنَاتِ عَلَی الثُّلُثَیْنِ۔ ابْنَۃٌ وَابْنَۃُ ابْنٍ وَابْنُ ابْنٍ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ : لِلاِبْنَۃِ النِّصْفُ وَمَا بَقِیَ فَلاِبْنِ الاِبْنِ وَلِبَنَاتِ الاِبْنِ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ وَفِی قَوْلِ عَبْدِ اللَّہِ لِلاِبْنَۃِ النِّصْفُ وَلِبَنَاتِ الاِبْنِ تَکْمِلَۃَ الثُّلُثَیْنِ وَمَا بَقِیَ فَلاِبْنِ الاِبْنِ۔[ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٣١٦) شعبی کہتے ہیں : جس چیز میں علی، عبداللہ اور زید (رض) نے اختلاف کیا، وہ یہ ہے : دو بیٹیاں، پوتا، پوتی اور ایک قول کے مطابق علی اور زید (رض) نے دو بیٹیوں کے لیے دو تہائی اور جو باقی بچا وہ پوتے اور پوتی میں { لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ } کے تحت تقسیم کیا اور عبداللہ بن مسعود (رض) کے قول کے مطابق دو بیٹیوں کے لیے دو تہائی اور باقی مذکر کے لیے ہوگا نہ کہ مونث کے لیے؛ کیونکہ وہ بیٹیوں کے لیے دو تہائی سے زیادہ کے قائل نہ تھے۔ بیٹی، پوتی، بھانجا اور پوتی اور پوتا علی اور زید کے قول کے مطابق بیٹی کے لیے نصف اور جو باقی ہوگا وہ پوتے اور پوتیوں کے درمیان { لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ } کے تحت ہوگا اور ابن مسعود کے قول کے مطابق بیٹی کے لیے نصف اور پوتیوں کے لیے دو تہائی مکمل کرنے والا اور جو باقی بچے وہ پوتے کے لیے ہے۔