Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 35 · Chapter 2509

راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث

مسجد اور پانی کے گھاٹ بنانے کا بیان

8 hadiths in this chapter

11936

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11936

Sahih

(۱۱۹۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِیَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو ہَمَّامٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرٍو أَنَّ بُکَیْرًا حَدَّثَہُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ عُبَیْدَ اللَّہِ الْخَوْلاَنِیَّ یَذْکُرُ أَنَّہُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِیہِ حِینَ بَنَی مَسْجِدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِنَّکُمْ قَدْ أَکْثَرْتُمْ وَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ بَنَی لِلَّہِ مَسْجِدًا ۔ قَالَ بُکَیْرٌ أَحْسِبُہُ قَالَ : یَبْتَغِی بِہِ وَجْہَ اللَّہِ بَنَی اللَّہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٣١) عبیداللہ خولانی نے ذکر کیا کہ انھوں نے عثمان بن عفان (رض) سے لوگوں کی باتوں کے وقت سناجب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد بنا رہے تھے کہ تم زیادہ ہو۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی ۔ بکیر راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ عثمان (رض) نے کہا : اللہ کی رضا کی خاطر اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائیں گے۔

11937

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11937

Sahih

(۱۱۹۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ قَالَ : لَمَّا أَرَادَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یَبْنِیَ الْمَسْجِدَ کَرِہَ النَّاسُ ذَلِکَ وَأَرَادُوا أَنْ یَدَعَہُ فَقَالَ عُثْمَانُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ بَنَی مَسْجِدًا لِلَّہِ بَنَی اللَّہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٣٢) محمود بن لبید سے منقول ہے کہ جب عثمان (رض) نے مسجد بنانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اسے ناپسند کیا اور انھوں نے ارادہ کیا کہ عثمان کو اکیلا چھوڑ دیں۔ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اللہ کا گھر مسجد بنائے گا تو اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائیں گے۔

11938

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11938

Zaeef

(۱۱۹۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِیمٍ الْمَرْوَزِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنِی أَبِی عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَیْثُ حُوصِرَ أَشْرَفَ عَلَیْہِمْ فَقَالَ : أَنْشُدُکُمُ اللَّہَ وَلاَ أَنْشُدُ إِلاَّ أَصْحَابَ النَّبِیِّ -ﷺ- تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَنْ حَفَرَ بِئْرَ رُومَۃَ فَلَہُ الْجَنَّۃُ ۔ فَحَفَرْتُہَا أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّہُ قَالَ : مَنْ جَہَّزَ جَیْشَ الْعُسْرَۃِ فَلَہُ الْجَنَّۃُ ۔ فَجَہَّزْتُہُمْ فَصَدَّقُوہُ بِمَا قَالَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ۔ [بخاری ۲۷۷۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٣٣) ابوعبدالرحمن فرماتے ہیں : جب حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ کیا گیا تو حضرت چھت پر چڑھ کر گئے اور کہا : میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں اور صرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو قسم دیتا ہوں۔ تم جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بئر رومہ خریدے گا، اس کے لیے جنت ہے۔ پس میں نے خریدا۔ کیا تم جانتے نہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : جو جیش العرہ (تنگی والا لشکر جنگ تبوک) کو تیار کرے گا اس کے لیے جنت ہے۔ پس میں نے اس کو تیار کیا۔ انھوں نے آپ کی تصدیق کی۔

11939

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11939

Sahih

(۱۱۹۳۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالَ : لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأُحِیطَ بِدَارِہِ أَشْرَفَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ : أَنْشُدُکُمْ بِاللَّہِ ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ عَلَی جَبَلِ حِرَائَ فَقَالَ : اسْکُنْ حِرَائَ فَما عَلَیْکَ إِلاَّ نَبِیٌّ أَوْ صِدِّیقٌ أَوْ شَہِیدٌ ۔ قَالُوا : اللَّہُمَّ نَعَمْ قَالَ : أَنْشُدُکُمْ بِاللَّہِ ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فِی غَزْوَۃِ الْعُسْرَۃِ : مَنْ یُنْفِقُ نَفَقَۃً مُتَقَبَّلَۃً ۔ وَالنَّاسُ یَوْمَئِذٍ مُعْسِرُونَ مَجْہُودُونَ فَجَہَّزْتُ ثُلُثَ ذَلِکَ الْجَیْشِ مِنْ مَالِی قَالُوا : اللَّہُمَّ نَعَمْ ثُمَّ قَالَ : أَنْشُدُکُمْ بِاللَّہِ ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنْ رُومَۃَ لَمْ یَکُنْ یَشْرَبُ مِنْہَا أَحَدٌ إِلاَّ بِثَمَنٍ فَابْتَعْتُہَا بِمَالِی فَجَعَلْتُہَا لِلْغَنِیِّ وَالْفَقِیرِ وَابْنِ السَّبِیلِ قَالُوا اللَّہُمَّ نَعَمْ فِی أَشْیَائَ عَدَّدَہَا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٣٤) حضرت ابوعبدالرحمن سلمی فرماتے ہیں : جب حضرت عثمان بن عفان (رض) کا محاصرہ کیا گیا اور ان کے گھر گھیر لیا گیا تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حراء پہاڑ پر تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : حرا، ٹھہر جا تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید ہے، انھوں نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر کہا : میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگِ تبوک میں کہا : کون خرچ کرے گا اور یہ خرچ قبول کیا جائے گا اور لوگ اس دن تنگی میں تھے، میں نے اپنے مال سے لشکر کا ایک تہائی خرچ برداشت کیا۔ انھوں نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر کہا : میں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جس دن پانی خرید کر پیا جاتا تھا تو میں نے بئر رومہ خرید کر سب کے لیے غنی، فقراء اور مسافر کے لیے وقف کردیا۔ انھوں نے ہاں میں جواب دیا، کتنی چیزیں گنوائیں۔

11940

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11940

Zaeef

(۱۱۹۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ حَدَّثَنَا حُصَیْنٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ فِی قِصَّۃٍ ذَکَرَہَا قَالَ : جَائَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : أَہَا ہُنَا عَلِیٌّ قَالُوا : نَعَمْ قَالَ : أَہَا ہُنَا طَلْحَۃُ قَالُوا : نَعَمْ قَالَ : أَہَا ہُنَا الزُّبَیْرُ قَالُوا : نَعَمْ قَالَ : أَہَا ہُنَا سَعْدٌ قَالُوا : نَعَمْ قَالَ : نَشَدْتُکُمْ بِاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَنْ یَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِی فُلاَنٍ غَفَرَ اللَّہُ لَہُ ۔ فَابْتَعْتُہُ قَالَ أَحْسِبُ أَنَّہُ قَالَ : بِعِشْرِینَ أَوْ بِخَمْسَۃٍ وَعِشْرِینَ أَلْفًا فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : قَدِ ابْتَعْتُہُ قَالَ : اجْعَلْہُ فِی مَسْجِدِنَا وَأَجْرُہُ لَکَ ۔قَالُوا : نَعَمْ قَالَ : نَشَدْتُکُمْ بِاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَنْ یَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَۃَ غَفَرَ اللَّہُ لَہُ ۔ فَابْتَعْتُہَا بِکَذَا وَکَذَا فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : إِنِّی ابْتَعْتُ بِئْرَ رُومَۃَ قَالَ : اجْعَلْہَا سِقَایَۃً لِلْمُسْلِمِینَ وَأَجْرُہَا لَکَ ۔ قَالُوا : نَعَمْ قَالَ : نَشَدْتُکُمْ بِاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَظَرَ فِی وُجُوہِ الْقَوْمِ یَوْمَ جَیْشِ الْعُسْرَۃِ فَقَالَ : مَنْ یُجَہِّزُ ہَؤُلاَئِ غَفَرَ اللَّہُ لَہُ ۔ فَجَہَّزْتُہُمْ حَتَّی مَا یَفْقِدُونَ خِطَامًا وَلاَ عِقَالاً قَالُوا : نَعَمْ قَالَ : اللَّہُمَّ اشْہَدِ اللَّہُمَّ اشْہَدِ اللَّہُمَّ اشْہَدِ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ [ضعیف۔ احمد ۵۱۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٣٥) حضرت احنف بن قیس نے قصہ بیان کیا کہ عثمان (رض) آئے تو پوچھا : کیا یہاں علی ہیں ؟ انھوں نے کہا : ہاں، پھر طلحہ کا پوچھا : انھوں نے کہا : ہاں پھر پوچھا : زبیر یہاں ہیں ؟ انھوں نے کہا : ہاں ۔ پھر پوچھا : سعد یہاں ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں پھر کہا : میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : جو بئر رومہ خریدے گا اللہ اسے معاف فرمائیں گے، میں نے اس کو خریدا۔ پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے کہا : میں نے بئر رومہ خریدا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دو اور اس کا اجر تجھے ملے گا، انھوں نے ہاں میں جواب دیا، پھر کہا : میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تم جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ تبوک والے لشکر کے چہروں کی طرف دیکھا اور کہا : جو اس لشکر کو تیار کرے گا اللہ اسے معاف فرمائے گا۔ میں نے ان کو تیار کیا، یہاں تک کہ وہ کوئی لگام بھی کم نہ پاتے تھے، انھوں نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر عثمان نے کہا : اے اللہ ! تو گواہ رہنا، تین دفعہ یہ الفاظ کہے۔

11941

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11941

Sahih

(۱۱۹۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الْجُرَیْرِیِّ عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ حَزْنِ الْقُشَیْرِیِّ قَالَ : شَہِدْتُ الدَّارَ وَأَشْرَفَ عَلَیْہِمْ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : أَنْشُدُکُمُ اللَّہَ وَالإِسْلاَمَ ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدِمَ الْمَدِینَۃَوَ لَیْسَ فِیہَا مَائٌ یُسْتَعْذَبُ غَیْرَ بِئْرِ رُومَۃَ فَقَالَ : مَنْ یَشْتَرِی بِئْرَ رُومَۃَ فَیَکُونُ دَلْوُہُ فِیہَا مَعَ دِلاَئِ الْمُسْلِمِینَ بِخَیْرٍ لَہُ مِنْہَا فِی الْجَنَّۃِ ۔ فَاشْتَرَیْتُہَا مِنْ صُلْبِ مَالِی َأَنْتُمُ الْیَوْمَ تَمْنَعُونَنِی أَنْ أَشْرَبَ مِنْہَا حَتَّی أَشْرَبَ مِنْ مَائِ الْبَحْرِ قَالُوا اللَّہُمَّ : نَعَمْ قَالَ : أَنْشُدُکُمُ اللَّہَ وَالإِسْلاَمَ ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ کَانَ ضَاقَ بِأَہْلِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ یَشْتَرِی بُقْعَۃَ آلِ فُلاَنٍ بِخَیْرٍ لَہُ مِنْہَا فِی الْجَنَّۃِ ۔ فَاشْتَرَیْتُہَا مِنْ مَالِی أَوْ قَالَ مِنْ صُلْبِ مَالِی فَزِدْتُہَا فِی الْمَسْجِدِ فَأَنْتُمُ الْیَوْمَ تَمْنَعُونَنِی أَنْ أُصَلِّیَ فِیہَا قَالُوا : اللَّہُمَّ نَعَمْ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی تَجْہِیزِ جَیْشِ الْعُسْرَۃِ وَقِصَّۃِ ثَبِیرٍ۔ [حسن لغیرہ۔ الترمذی ۳۷۰۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٣٦) ثمامہ بن حزن قشیری فرماتے ہیں : میں گھر میں گیا اور حضرت عثمان (رض) لوگوں کی طرف متوجہ تھے، کہا : میں تم کو اسلام اور اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آئے تو بئر رومہ کے علاوہ کہیں بھی میٹھا پانی نہ تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : جو بئر رومہ خریدے گا اور اس کا ڈول بظاہر مسلمانوں کے ڈول کے ساتھ ہوگا، لیکن جنت میں اس کے لیے بہتر ہوگا۔ میں نے اس کو اپنے ذاتی مال سے خریدا۔ آج تم مجھے اس کا پانی پینے سے روکتے ہو ! یہاں تک کہ میں سمندر کا پانی پیتا ہوں، انھوں نے ہاں میں جواب دیا، پھر کہا : میں تم کو اللہ اور اسلام کی قسم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ مسجد تنگ تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : جو آلِ فلاں کا گھر خریدے گا، اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر ہوگا۔ پس میں نے اپنے مال سے اس کو خریدا اور میں نے مسجد میں اضافہ کیا۔ لیکن آج تم مجھے اسی مسجد میں نماز پڑھنے سے روکتے ہو۔ انھوں نے ہاں میں جواب دیا۔

11942

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11942

Zaeef

(۱۱۹۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَرَّاحِ الْغَزِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ شُعَیْبِ بْنِ رُزَیْقٍ وَغَیْرِہِ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : لَمَّا أَرَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یَزِیدَ فِی مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَعَتْ زِیَادَتُہُ عَلَی دَارِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَرَادَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یُدْخِلَہَا فِی مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَیُعَوِّضَہُ مِنْہَا فَأَبَی وَقَالَ قَطِیعَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَاخْتَلَفَا فَجَعَلاَ بَیْنَہُمَا أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَأَتَیَاہُ فِی مَنْزِلِہِ وَکَانَ یُسَمَّی سَیِّدُ الْمُسْلِمِینَ فَأَمَرَ لَہُمَا بِوِسَادَۃٍ فَأُلْقِیَتْ لَہُمَا فَجَلَسَا عَلَیْہَا بَیْنَ یَدَیْہِ فَذَکَرَ عُمَرُ مَا أَرَادَ وَذَکَرَ الْعَبَّاسُ قَطِیعَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ أُبَیٌّ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَ عَبْدَہُ وَنَبِیَّہُ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلاَمَ أَنْ یَبْنِیَ لَہُ بَیْتًا قَالَ : أَیْ رَبِّ وَأَیْنَ ہَذَا الْبَیْتُ قَالَ : حَیْثُ تَرَی الْمَلَکَ شَاہِرًا سَیْفَہُ فَرَآہُ عَلَی الصَّخْرَۃِ وَإِذَا مَا ہُنَاکَ یَوْمَئِذٍ أَنْدَرٌ لِغُلاَمٍ مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ فَأَتَاہُ دَاودُ فَقَالَ : إِنِّی قَدْ أُمِرْتُ أَنَّ أَبْنِیَ ہَذَا الْمَکَانَ بَیْتًا لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ لَہُ الْفَتَی : آللَّہُ أَمَرَکَ أَنْ تَأْخُذَہَا مِنِّی بِغَیْرِ رِضَایَ قَالَ : لاَ فَأَوْحَی اللَّہُ إِلَی دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلاَمَ إِنِّی قَدْ جَعَلْتُ فِی یَدِکَ خَزَائِنَ الأَرْضِ فَأَرْضِہِ فَأَتَاہُ دَاوُدَ فَقَالَ : إِنِّی قَدْ أُمِرْتُ بِرِضَاکَ فَلَکَ بِہَا قِنْطَارٌ مِنْ ذَہَبٍ قَالَ : قَدْ قَبِلْتُ یَا دَاوُدُ ہِیَ خَیْرٌ أَمِ الْقِنْطَارُ؟ قَالَ : بَلْ ہِیَ خَیْرٌ قَالَ فَأَرْضِنِی قَالَ : فَلَکَ بِہَا ثَلاَثُ قَنَاطِیرَ قَالَ : فَلَمْ یَزَلْ یُشَدِّدْ عَلَی دَاوُدَ حَتَّی رَضِیَ مِنْہُ بِتِسْعِ قَنَاطِیرَ قَالَ الْعَبَّاسُ : اللَّہُمَّ لاَ آخُذُ لَہَا ثَوَابًا وَقَدْ تَصَدَّقَتُ بِہَا عَلَی جَمَاعَۃِ الْمُسْلِمِینَ فَقَبِلَہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْہُ فَأَدْخَلَہَا فِی مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ [ضعیف۔ ابن عساکر ۲۶/ ۳۶۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٣٧) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جب عمر بن خطاب (رض) نے ارادہ کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں جگہ کا اضافہ کریں تو زیادتی حضرت عباس (رض) کے گھر تک پہنچ گئی، حضرت عمر (رض) نے ارادہ کیا کہ اس کو مسجد میں داخل کریں اور ان کو معاوضہ دے دیں، حضرت عباس (رض) نے انکار کردیا اور کہا : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عطا کردہ زمین ہے۔ دونوں میں اختلاف ہوگیا، انھوں نے ابی بن کعب (رض) کو اپنے درمیان فیصلہ کرنے والا مان لیا۔ وہ دونوں ان کے گھر میں آئے اور ان کا نام سید المسلمین تھا۔ ابی نے ان دونوں کے لیے چادر بچھانے کا حکم دیا۔ وہ دونوں اُبی کے سامنے بیٹھ گئے۔ عمر (رض) نے جو ارادہ کیا تھا وہ ذکر کیا اور عباس (رض) نے بھی ذکر کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دیا ہوا قطعہ ہے، اُبی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی کو حکم دیا کہ اس کا گھر بنائے۔ داؤد نے کہا : اے میرے رب ! کہاں گھر بناؤں ؟ کہا : جہاں تو کسی بادشاہ کی تلوار دیکھے۔ داؤد نے ایک چٹان پر دیکھی اور اس وقت وہاں بنی اسرائیل کے ایک غلام کی انوکھی چیز تھی۔ داؤد اس کے پاس آئے اور کہا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اس جگہ پر اللہ کا گھر بناؤں۔ نوجوان نے کہا : کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ میری رضا کے بغیر ہی گھر بناؤ ؟ داؤد (علیہ السلام) نے کہا : نہیں بلکہ داؤد کی طرف وحی کی ہے کہ میں نے تیرے ہاتھ میں زمین کے خزانے دیے ہیں، پس تو اس کو راضی کر۔ وہ داؤد کے پاس آیا اور کہا : اے داؤد ! میں نے قبول کرلیے۔ کیا میرے لیے وہ بہتر ہے یا خزانے ؟ داؤد نے کہا : وہ بہتر ہے، اس نے کہا : پس آپ مجھے راضی کردیں، داؤد نے کہا : تیرے لیے تین قنطار ہیں۔ وہ مسلسل داؤد پر شدت کرتا رہا یہاں تک کہ وہ نو قنطار پر راضی ہوا۔ حضرت عباس (رض) نے کہا : اے اللہ ! میں اس کا کوئی نفع نہ لوں گا اور میں نے وہ مسلمانوں کی جماعت پر صدقہ کردیا، عمر (رض) نے اسے قبول کیا اور اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں داخل کردیا۔

11943

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11943

Zaeef

(۱۱۹۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ کَامِلٍ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مِہْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَتْ لِلْعَبَّاسِ دَارٌ إِلَی جَنْبِ الْمَسْجِدِ فِی الْمَدِینَۃِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : بِعْنِیہَا أَوْ ہَبْہَا لِی حَتَّی أُدْخِلَہَا فِی الْمَسْجِدِ فَأَبَی فَقَالَ : اجْعَلْ بَیْنِی وَبَیْنَکَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَجَعَلاَ بَیْنَہُمَا أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَقَضَی لِلْعَبَّاسِ عَلَی عُمَرَ فَقَالَ عُمَرُ : مَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَجْرَأُ عَلَیَّ مِنْکَ فَقَالَ أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ أَوْ أَنْصَحُ لَکَ مِنِّی ثُمَّ قَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینِ أَمَا بَلَغَکَ حَدِیثُ دَاوُدَ أَنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَہُ بِبِنَائِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ فَأَدْخَلَ فِیہِ بَیْتَ امْرَأَۃٍ بِغَیْرِ إِذْنِہَا فَلَمَّا بَلَغَ حُجَزَ الرِّجَالِ مَنَعَہُ اللَّہُ بِنَائَ ہُ قَالَ دَاوُدُ : أَیْ رَبِّ إِنْ مَنَعْتَنِی بِنَائَ ہَ فَاجْعَلْہُ فِی خَلَفِی فَقَالَ الْعَبَّاسُ أَلَیْسَ قَدْ قَضَیْتَ لِی بِہَا وَصَارَتْ لِی قَالَ : بَلَی قَالَ : فَإِنِّی أُشْہِدُکَ أَنِّی قَدْ جَعَلْتُہَا لِلَّہِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٣٨) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عباس (رض) کا گھر مدینہ میں مسجد کی جانب تھا۔ عمر بن خطاب (رض) نے کہا : مجھے بیچ دو یا ہبہ کر دو ۔ تاکہ میں مسجد میں داخل کرلوں۔ انھوں نے انکار کردیا اور کہا : میرے اور اپنے درمیان اصحاب نبی میں سے کوئی فیصل بنا لو۔ انھوں نے ابی بن کعب (رض) کو فیصل مان لیا۔ آپ (رض) نے عباس (رض) کے حق میں فیصلہ کردیا۔ عمر (رض) نے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے میرے نزدیک آپ سے بڑھ کر عظمت والا کوئی نہیں ہے۔ اُبی نے کہا : میں آپ کا زیادہ خیر خواہ ہوں، پھر کہا : اے امیرالمومنین ! کیا آپ کو داؤد کی حدیث ملی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا گھر بیت المقدس بنانے کا حکم دیا تو داؤد نے ایک عورت کا گھر بغیر اجازت کے داخل کرلیا۔ جب لوگوں کا گروہ پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ نے گھر بنانے سے منع کردیا۔ داؤد نے کہا : اے میرے رب ! اگر مجھے روک دیا ہے تو میرے بعد کس کو گھر بنانے کا حکم دے دینا۔ حضرت عباس (رض) نے کہا : کیا آپ نے میرے حق میں فیصلہ نہیں کیا اور وہ میرا ہوگیا ؟ اُبی نے کہا : کیوں نہیں تو عباس نے کہا : میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے وہ گھر اللہ کے لیے وقف کردیا ہے۔