Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 30 · Chapter 2452

قرضوں اور مضاربت کا بیان

اگر مضارب صاحبِ مال کے لیے زیادتی میں مخالفت کرے یا کوئی شخص دوسرے کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں تجارت کرے

8 hadiths in this chapter

11618

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11618

Zaeef

(۱۱۶۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ شَبِیبِ بْنِ غَرْقَدَۃَ سَمِعَ قَوْمَہُ یُحَدِّثُونَ عَنْ عُرْوَۃَ الْبَارِقِیِّ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَعْطَاہُ دِینَارًا لِیَشْتَرِی لَہُ شَاۃً أُضْحِیَّۃً فَاشْتَرَی لَہُ شَاتَیْنِ فَبَاعَ إِحْدَاہُمَا بِدِینَارٍ وَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- بِشَاۃٍ وَدِینَارٍ فَدَعَا النَّبِیُّ -ﷺ- بِالْبَرَکَۃِ فِی بَیْعِہِ فَکَانَ لَوِ اشْتَرَی التُّرَابَ رَبِحَ فِیہِ۔ [بخاری ۳۶۴۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٦١٣) عروہ بارقی سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ایک دینار دیا تاکہ وہ قربانی کی بکری خرید کر لائے۔ اس نے ایک درہم سے دو بکریاں خریدیں۔ اب ان میں سے ایک بکری ایک دینار کی بیچ دی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک بکری اور ایک دینار لے کر آگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر اگر وہ مٹی بھی خریدتا تو اس میں بھی اسے نفع مل جاتا۔

11619

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11619

Zaeef

(۱۱۶۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ سَمِعَ شَبِیبَ بْنَ غَرْقَدَۃَ عَنْ عُرْوَۃَ الْبَارِقِیِّ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَوْ َسمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : الْخَیْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِی الْخَیْلِ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ۔ ہَذَانِ حَدِیثَانِ سَمِعَ أَحَدَہُمَا شَبِیبُ بْنُ غَرْقَدَۃَ مِنْ عُرْوَۃَ الْبَارِقِیِّ وَلَمْ یَسْمَعِ الآخَرَ وَإِنَّمَا سَمِعَ الْحَیَّ یُخْبِرُونَہُ عَنْ عُرْوَۃَ۔ [مسلم ۱۸۷۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٦١٤) عروہ بارقی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ بھلائی قیامت تک گھو ڑوں کی پیشانی کے ساتھ باندھ دی گئی ہے۔

11620

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11620

Sahih

(۱۱۶۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ یَعْنِی الْبُخَارِیَّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا شَبِیبُ بْنُ غَرْقَدَۃَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَیَّ یَتَحَدَّثُونَ عَنْ عُرْوَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَعْطَاہُ دِینَارًا لِیَشْتَرِی لَہُ بِہِ شَاۃً فَاشْتَرَی لَہُ بِہِ شَاتَیْنِ فَبَاعَ إِحْدَاہُمَا بِدِینَارٍ فَجَائَ ہُ بِدِینَارٍ وَشَاۃٍ فَدَعَا لَہُ بِالْبَرَکَۃِ فِی بَیْعِہِ وَکَانَ لَوِ اشْتَرَی التُّرَابَ لَرَبِحَ فِیہِ۔ قَالَ سُفْیَانُ کَانَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ جَائَ نَا بِہَذَا الْحَدِیثِ عَنْہُ قَالَ سَمِعَہُ شَبِیبٌ مِنْ عُرْوَۃَ فَأَتَیْتُہُ فَقَالَ شَبِیبٌ : إِنِّی لِمْ أَسْمَعْہُ مِنْ عُرْوَۃَ سَمِعْتُ الْحَیَّ یُخْبِرُونَہُ عَنْہُ وَلَکِنْ سَمِعْتُہُ یَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ : الْخَیْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِی الْخَیْلِ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ۔ قَالَ : وَقَدْ رَأَیْتُ فِی دَارِہِ سَبْعِینَ فَرَسًا قَالَ سُفْیَانُ : یَشْتَرِی لَہُ شَاۃً کَأَنَّہَا أُضْحِیَّۃٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٦١٥ ) حضرت عروہ سے منقول ہے ۔۔۔ حدیث نمبر ١١٦١٣ والا ترجمہ ہے۔

11621

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11621

Sahih

(۱۱۶۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ فِی حَدِیثِ عُرْوَۃَ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَعْطَاہُ دِینَارًا لِیَشْتَرِی لَہُ بِہِ أُضْحِیَّۃً قَالَ قَالَ سُفْیَانُ : کَانَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ سَمِعْنَاہُ یُحَدِّثْہُ فَیَقُولُ فِیہِ سَمِعْتُ شَبِیبًا یَقُولُ سَمِعْتُ عُرْوَۃَ فَلَمَّا سَأَلْتُ شَبِیبًا قَالَ إِنِّی لَمْ أَسْمَعْہُ مِنْ عُرْوَۃَ وَحَدَّثَنِیہِ الْحَیُّ عَنْ عُرْوَۃَ۔ [صحیح۔ الحمیدی ۸۶۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٦١٦) ابو بکرحمیدی عروہ والی حدیث میں فرماتے ہیں کہ بنی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ایک دینار دیا تاکہ وہ ایک بکری خرید لائے۔

11622

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11622

Sahih

(۱۱۶۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ الْعَلاَئِ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرِ الْعَتَکِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا الزُّبَیْرُ بْنُ الْخِرِّیتِ عَنْ أَبِی لَبِیدٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ الْبَارِقِیِّ قَالَ : أَعْطَانِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- دِینَارًا فَقَالَ : اشْتَرِ لَنَا بِہِ شَاۃً ۔ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَاشْتَرَیْتُ شَاتَیْنِ بِدِینَارٍ فَلَقِیَنِی رَجُلٌ فِی الطَّرِیقِ فَسَاوَمَنِی بِشَاۃٍ فَبِعْتُہَا بِدِینَارٍ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا دِینَارُکُمْ وَہَذِہِ شَاتُکُمْ قَالَ لنَّبِیُّ -ﷺ- : وَصَنَعْتَ کَیْفَ؟ ۔ قَالَ فَأَخْبَرَ فَقَالَ : اللَّہُمَّ بَارِکْ لَہُ فِی صَفْقَۃِ یَمِینِہِ ۔ قَالَ فَقَالَ : إِنِّی لأَقُومُ فِی الْکُنَاسَۃِ بِالْکُوفَۃِ فَمَا أَرْجِعُ إِلَی أَہْلِی حَتَّی أَرْبَحَ أَرْبَعِینَ أَلْفًا۔ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ وَہُوَ أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[صحیح۔ ترمذی ۱۲۵۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٦١٧) عروہ بن ابی جعد بارقی فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دینار دیا اور فرمایا : ہمارے لیے ایک بکری خرید لاؤ۔ فرماتے ہیں : میں گیا، میں نے ایک دینار سے دو بکریاں خرید لیں۔ مجھے ایک آدمی راستے میں ملا، اس نے مجھ سے ایک بکری کا سودا کیا۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ میں نے کہا : یہ آپ کا دینار اور یہ آپ کی بکری۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : یہ کیسے کیا ؟ آپ کو بتایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی : اے اللہ ! اس کے سودے میں برکت ڈال۔ عروہ فرماتے ہیں : میں کوفہ کے کوڑے کے ڈھیر پر کھڑا ہوجاتا اور جب تک چالیس ہزار نفع نہ کما لیتا اس وقت تک گھر نہ آتا تھا۔

11623

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11623

Zaeef

(۱۱۶۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ الْعَبْدِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی أَبُو حَصِینٍ عَنْ شَیْخٍ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ عَنْ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَعَثَ مَعَہُ بِدِینَارٍ لِیَشْتَرِی لَہُ أُضْحِیَّۃً فَاشْتَرَاہَا بِدِینَارٍ وَبَاعَہَا بِدِینَارَیْنِ فَرَجَعَ فَاشْتَرَی أُضْحِیَّۃً بِدِینَارٍ وَجَائَ بِدِینَارٍ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَتَصَدَّقَ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- وَدَعَا لَہُ أَنْ یُبَارَکْ لَہُ فِی تِجَارَتِہِ۔ وَحَدِیثُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَعَ ابْنَیْہِ قَدْ مَضَی فِی الْبَابِ الأَوَّلِ۔ [ضعیف۔ ابو داؤد ۳۳۸۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٦١٨) حضرت حکیم بن حزام سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے ایک دینار دے کر بھیجا تاکہ وہ ایک بکری خرید کر لائے۔ اس نے ایک دینار کی بکری خریدی اور دو دینار میں بیچ دی۔ پھر واپس پلٹا اور ایک دینار کی بکری خریدی اور ایک دینار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دے دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دینار صدقہ کردیا اور اس کے لیے تجارت میں برکت کی دعا کی۔

11624

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11624

Zaeef

(۱۱۶۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ رِیَاحِ بْنِ عَبِیدَۃَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ اسْتَبْضَعَ بُضَاعَۃً فَخَالَفَ فِیہَا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : ہُوَ ضَامِنٌ وَإِنْ رَبِحَ فَالرِّبْحُ لِصَاحِبِ الْمَالِ۔ [ضعیف۔ ابو داؤد ۳۳۸۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٦١٩) حضرت ابن عمر سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا اس آدمی کے بارے میں جس نے کسی کے سامان سے تجارت کی، اس نے مخالفت کی تو ابن عمر نے کہا : وہ اس کا ضامن ہے اور اگر نفع ملا ہے تو نفع مال والے کو ملے گا۔

11625

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11625

Zaeef

(۱۱۶۲۰) وَہُوَ فِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتَہُ عَنْہُ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِیعِ عَنِ الشَّافِعِیِّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ الثَّقَفِیُّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ رِیَاحِ بْنِ عَبِیدَۃَ قَالَ : بَعَثَ رَجُلٌ مَعَ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ بِعَشَرَۃِ دَنَانِیرَ إِلَی رَجُلٍ بِالْمَدِینَۃِ فَابْتَاعَ بِہَا الْمَبْعُوثُ مَعَہُ بَعِیرًا ثُمَّ بَاعَہُ بِأَحَدَ عَشَرَ دِینَارًا فَسَأَلَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ : الأَحَدَ عَشَرَ لِصَاحِبِ الْمَالِ وَلَوْ حَدَثَ بِالْبَعِیرِ حَدَثٌ کُنْتَ لَہُ ضَامِنًا۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَابْنُ عُمَرَ یَرَی عَلَی الْمُشْتَرِی بِالْبِضَاعَۃِ لِغَیْرِہِ الضَّمَانَ وَیَرَی الرِّبْحَ لِصَاحِبِ الْبِضَاعَۃِ وَلاَ یَجْعَلُ الرِّبْحَ لِمَنْ ضَمِنَ۔ قَالَ الرَّبِیعُ آخِرُ قَوْلِ الشَّافِعِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ إِذَا تَعَدَّی فَاشْتَرَی شَیْئًا بِالْمَالِ بِعَیْنِہِ فَرَبِحَ فِیہِ فَالشِّرَائُ بَاطِلٌ وَإِنِ اشْتَرَی بِمَالٍ لاَ بِعَیْنِہِ ثُمَّ نَفَدَ الْمَالَ فَالشِّرَائُ لَہُ وَالرِّبْحُ لَہُ وَالنُّقْصَانُ عَلَیْہِ وَہُوَ ضَامِنٌ لِلْمَالِ وَکَذَلِکَ نَقَلَہُ الْمُزَنِیُّ ثُمَّ قَالَ وَاحْتَجَّ بِأَنَّ حَدِیثَ الْبَارِقِیِّ لَیْسَ بِثَابِتٍ عِنْدَہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَذَلِکَ لِمَا فِی إِسْنَادِہِ مِنَ الإِرْسَالِ وَہُوَ أَنَّ شَبِیبَ بْنَ غَرْقَدَۃَ لَمْ یَسْمَعْہُ مِنْ عُرْوَۃَ الْبَارِقِیِّ إِنَّمَا سَمِعَہُ مِنَ الْحَیِّ یُخْبِرُونَہُ عَنْہُ وَحَدِیثُ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ أَیْضًا عَنْ شَیْخٍ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ عَنْہُ وَأَوَّلَ الْمُزَنِیُّ حَدِیثَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَعَ ابْنَیْہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بِأَنَّہُ سَأَلَہُمَا لِبِرِّہِ الْوَاجِبِ عَلَیْہِمَا أَنْ یَجْعَلاَہُ کُلَّہُ لِلْمُسْلِمِینَ فَلَمْ یُجِیبَاہُ فَلَمَّا طَلَبَ النِّصْفَ أَجَابَاہُ عَنْ طِیبِ أَنْفُسِہِمَا۔[ضعیف الام ۴/۳۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠ ١١٦) حضرت رباح بن عبیدہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے بصرہ والوں میں سے کسی آدمی کو دس دینار دے کر مدینہ میں ایک آدمی کی طرف بھیجا۔ اس نے اس سے اونٹ خریدا۔ پھر اس کو گیارہ دینار کے بدلے بیچ دیا۔ عبداللہ بن عمر (رض) سے اس نے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : گیارہ درہم مال والے کے ہیں اور اگر اونٹ کو کچھ ہوجاتا تو اس کا تو ضامن تھا۔ امام شافعی فرماتے ہیں : ابنِ عمر سامان خریدنے والے کو ضامن خیال کرتے تھے اور نفع اصل مالک کے لییسمجھتے تھے اور نفع سامان خریدنے والے کے لیے جائز نہ سمجھتے تھے۔ ربیع کہتے ہیں : امام شافعی (رح) کا آخری قول یہ ہے کہ جب وہ حد سے بڑھے اور مال کے ساتھ کوئی چیز خرید لے نقد اس سے نفع بھی حاصل کرلے تو وہ خرید باطل ہے اور اگر کوئی ایسی چیز خرید لے جو عین (نقد ) نہ ہو۔ پھر مال گم ہوجائے تو خریدنا ، نفع ، نقصان سب کا ذمہ دار وہی ہے اور وہی مال کا ضامن ہے۔ شیخ فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) کا اپنے بیٹوں سے سوال کرنا اس لیے تھا کہ وہ نفع کو سب مسلمانوں کے لیے عام رکھیں۔ پس انھوں نے قبول نہ کیا، جب نصف طلب کیا تو انھوں نے خوشی سے قبول کرلیا۔