Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 29 · Chapter 2448

شفعہ کا بیان۔

ہمسائے کے لیے حق شفعہ کا بیان

9 hadiths in this chapter

11583

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11583

Zaeef

(۱۱۵۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْغَضَائِرِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیدِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِہِ ۔ قَالَ أَبُو قِلاَبَۃَ قَالَ الأَصْمَعِیُّ : الْعَرَبُ تَقُولُ السَّقَبُ اللَّزِیقُ۔ قَالَ الشَّیْخُ خَالَفَہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَیْسَرَۃَ بِإِسْنَادِہِ۔ [أحمد ۱۹۶۹۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٥٧٨) حضرت عمرو بن شرید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمسایہ اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہے۔ ابو قلابہ فرماتے ہیں : اصمعی نے بیان کیا : سقب کا مطلب چمٹا ہوا ہونا یعنی پڑوسی مراد ہے۔

11584

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11584

Zaeef

(۱۱۵۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیدِ عَنْ أَبِی رَافِعٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِہِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ [بخاری ۲۲۵۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٥٧٩) حضرت ابو رافع (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمسایہ اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہے۔

11585

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11585

Sahih

(۱۱۵۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ قَالَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَیْسَرَۃَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِیدِ یَقُولُ : وَضَعَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَۃَ یَدَہُ ہَذِہِ عَلَی مَنْکِبِی ہَذَا أَوْ ہَذَا فَانْطَلَقْتُ مَعَہُ حَتَّی أَتَیْنَا سَعْدًا فَجَلَسْنَا إِلَیْہِ فَجَائَ أَبُو رَافِعٍ فَقَالَ لِلْمِسْوَرِ : أَلاَ تَأْمُرُ ہَذَا أَنْ یَشْتَرِیَ مِنِّی بَیْتَیَّ اللَّذَیْنِ مِنْ دَارِہِ فَقَالَ لَہُ سَعْدٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَاللَّہِ لاَ أَزِیدُکَ عَلَی أَرْبَعِمِائَۃِ دِینَارٍ إِمَّا مُقَطَّعَۃً وَإِمَّا مُنَجَّمَۃً۔ فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : سُبْحَانَ اللَّہِ لَقَدْ مَنَعْتُہُمَا مِنْ خَمْسِمِائَۃٍ نَقْدًا فَلَوْلاَ أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِہِ مَا بِعْتُکَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ بِمَعْنَاہُ۔ وَفِی سِیَاقِ ہَذِہِ الْقَصَّۃِ دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الْخَبَرَ وَرَدَ فِی غَیْرِ الشُّفْعَۃِ وَإِنَّہُ إِنَّمَا أَرَادَ بِہِ أَنَّہُ أَحَقُّ بِأَنْ یُعْرَضَ عَلَیْہِ مِنْ غَیْرِہِ۔وَإِنْ أَرَادَ بِہِ الشُّفْعَۃَ فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَبُو رَافِعٍ فِیمَا رُوِیَ عَنْہُ مُتَطَوِّعٌ بِمَا صَنَعَ وَقَوْلُ النَّبِیِّ -ﷺ- : الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِہِ ۔ لاَ یَحْتَمِلُ إِلاَّ مَعْنَیَیْنِ لاَ ثَالِثَ لَہُمَا أَنْ یَکُونَ أَرَادَ أَنَّ الشُّفْعَۃَ لِکُلِّ جَارٍ أَوْ أَرَادَ بَعْضَ الْجِیرَانِ دُونَ بَعْضٍ وَقَدْ ثَبُتَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنْ لاَ شُفْعَۃَ فِیمَا قُسِمَ ۔ فَدَلَّ عَلَی أَنَّ الشُّفْعَۃَ لِلْجَارِ الَّذِی لَمْ یُقَاسِمْ دُونَ الْجَارِ الْمَقَاسِمِ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَعَلَی ہَذَا یُحْمَلُ مَا : [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٥٨٠) حضرت عمرو بن شرید فرماتے ہیں : مسوربن مخرمہ (رض) نے اپنا ہاتھ میرے کندے پر رکھا، میں اس کے ساتھ چلا یہاں تک کہ ہم سعد کے پاس آئے۔ ہم اس کے پاس بیٹھ گئے۔ ابو رافع آئے تو انھوں نے مسور سے کہا : کیا آپ اس کو نہیں کہتے کہ مجھ سے میرے دونوں گھرخرید لے اپنے گھر کے لیے۔ حضرت سعد نے کہا : اللہ کی قسم ! میں چار سو درہم سے زیادہ نہ دوں گا اور قسطوں پر دوں گا۔ ابو رافع نے کہا : سبحان اللہ ! میں نے نقد پانچ سو درہم میں نہیں دیا۔ اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہ سنا ہوتا کہ ہمسایہ اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہے تو میں تجھے کبھی فروخت نہ کرتا۔ اس واقعہ کی روشنی میں دلیل ہے کہ خبر شفعہ کے علاوہ میں وارد ہوئی ہے اور اس نے ارادہ کیا کہ زیادہ حق اس کے پڑوسی کا ہے کہ اسے پیش کیا جائے اور آپ کا فرمان کہ ہمسایہ اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہے، اس کے دو معنی ہیں، تیسرا کوئی معنی نہیں ہے کہ آپ کا ارادہ تھا کہ حق شفعہ ہمسایہ کے لیے ہے یا آپ کا ارادہ تھا کہ حق شفعہ بعض ہمسایوں کے لیے ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے کہ اس چیز میں شفعہ نہیں جو تقسیم کردی جائے۔ یہ دلالت کرتا ہے کہ شفعہ اس ہمسائے کے لیے ہے جو تقسیم نہ کرے اور جو تقسیم کر دے اس میں حقِ شفعہ نہیں۔

11586

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11586

Zaeef

(۱۱۵۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَضَی بِالْجِوَارِ وَعَنْ سَمُرَۃَ أَنَّ نَبِیَاللَّہِ -ﷺ- قَالَ : جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بالدَّارِ مِنْ غَیْرِہِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٥٨١) حضرت حسن حضرت سمرہ بن جندب (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمسائے کے بارے میں فیصلہ کیا اور ایک روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمسائے کا گھر زیادہ حق دار ہے کسی دوسرے کے گھر سے۔

11587

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11587

Zaeef

(۱۱۵۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَۃِ أَخِیہِ یُنْتَظَرُ وَإِنْ کَانَ غَائِبًا إِذَا کَانَ طَرِیقُہُمَا وَاحِدًا ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٥٨٢) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سینقل فرماتے ہیں کہ ہمسایہ اپنے بھائی کے شفعہ کا زیادہ حق دار ہے۔ اگر وہ غائب ہو تو اس کا انتظار کیا جائے، جب دونوں کا راستہ ایک ہو۔

11588

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11588

Sahih

(۱۱۵۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ سَمِعْنَا بَعْضَ أَہْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ یَقُولُ: نَخَافُ أَنْ لاَ یَکُونَ ہَذَا الْحَدِیثُ مَحْفُوظًا قِیلَ لَہُ وَمِنْ أَیْنَ قُلْتَ قَالَ إِنَّمَا رَوَاہُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَقَدْ رَوَی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرٍ مُفَسَّرًا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : الشُّفْعَۃُ فِیمَا لَمْ یُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فَلاَ شُفْعَۃَ ۔ وَأَبُو سَلَمَۃَ مِنَ الْحُفَّاظِ وَرَوَی أَبُو الزُّبَیْرِ وَہُوَ مِنَ الْحُفَّاظِ عَنْ جَابِرٍ مَا یُوَافِقُ قَوْلَ أَبِی سَلَمَۃَ وَیُخَالِفُ مَا رَوَی عَبْدُ الْمَلَکِ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٥٨٣) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شفعہ اس چیز میں ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو۔ جب حدود واقع ہوجائیں تو حقِ شفعہ باقی نہیں رہتا۔

11589

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11589

Sahih

(۱۱۵۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ أَخْبَرَنَا السَّاجِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی صَفْوَانَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا أُمَیَّۃُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ قُلْتُ لِشُعْبَۃَ : تُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ الْعَرْزَمِیِّ وَتَدَعُ حَدِیثَ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ الْعَرْزَمِیِّ وَہُوَ حَسَنُ الْحَدِیثِ قَالَ : مِنْ حُسْنِہَا فَرَرْتُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٥٨٤) امیہ بن خالد نے شعبہ سے کہا کہ آپ محمد بن عبید اللہ سے حدیث بیان کرتے ہیں اور سلمان عبدالملک بن عرزمی کی حدیث چھوڑ دیتے ہو حالانکہ اس کی حدیث حسن ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں اس کے حسن کی وجہ سے چھوڑ تا ہوں۔

11590

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11590

Sahih

(۱۱۵۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا السَّاجِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَۃَ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ سَعِیدٍ الْقَطَّانَ یَقُولُ لَوْ رَوَی عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ حَدِیثًا آخَرَ مِثْلَ حَدِیثِ الشُّفْعَۃِ لَتَرَکْتُ حَدِیثَہُ۔ وَرَوَاہُ مُسَدَّدٌ عَنْ یَحْیَی الْقَطَّانِ عَنْ شُعْبَۃَ أَنَّہُ قَالَ ذَلِکَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٥٨٥) یحییٰ بن سعید قطان فرماتی تھے کہ اگر عبدالملک بن ابو سلمان حدیثِ شفعہ کی طرح دوسری حدیث بیان کریں تو میں اس کی حدیث کو چھوڑ دوں گا۔

11591

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11591

Sahih

(۱۱۵۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ وَحَدَّثَنَا بِحَدِیثِ الشُّفْعَۃِ حَدِیثِ عَبْدِ الْمَلَکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ہَذَا حَدِیثٌ مُنْکَرٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٥٨٦) عبداللہ بن احمد بن حنبل نے اپنے والد سے سنا، وہ حدیثِ عبدالملک عن عطاء عن جابر عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منکر فرماتے ہیں۔