Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 23 · Chapter 2408

ضمانتوں کا بیان

ضمانت حق کو نقل نہیں کرتی بلکہ محل حق میں زیادتی کرتی ہے پس مال کا مالک دونوں میں سے کسی سے بھی مال لے سکتا ہے

2 hadiths in this chapter

11406

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11406

Zaeef

(۱۱۴۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ قَالَ قَالَ جَابِرٌ : تُوُفِّیَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاہُ وَکَفَّنَّاہُ ثُمَّ أَتَیْنَا بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- لَیُصَلِّیَ عَلَیْہِ فَتَخَطَّی خُطًی ثُمَّ قَالَ : عَلَیْہِ دَیْنٌ؟ ۔ قُلْنَا: نَعَمْ دِینَارَانِ قَالَ فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَہُمَا أَبُو قَتَادَۃَ فَأَتَیْنَاہُ فَقَالَ أَبُو قَتَادَۃَ الدِّینَارَانِ عَلَیَّ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : حَقُّ الْغَرِیمِ وَبَرِئَ مِنْہُمَا الْمَیِّتُ ۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ فَصَلَّی عَلَیْہِ فَقَالَ بَعْدَ ذَلِکَ بِیَوْمٍ : مَا فَعَلَ الدِّینَارَانِ ۔ فَقَالَ : إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ فَعَادَ عَلَیْہِ کَالْغَدِ فَقَالَ : قَدْ قَضَیْتُہُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الآنَ بَرَّدْتَ عَلَیْہِ جِلْدَہُ ۔ فَأَخْبَرَ -ﷺ- فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ أَنَّہُ بِالْقَضَائِ بَرَدَ عَلَیْہِ جِلْدُہُ وَقَوْلُہُ : حَقُّ الْغَرِیمِ وَبَرِئَ مِنْہُمَا الْمَیِّتُ ۔ إِنْ کَانَ حَفِظَہُ ابْنُ عَقِیلٍ فَإِنَّمَا عَنَی بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ لِلْغَرِیمِ مُطَالَبَتُکَ بِہِمَا وَحْدَکَ إِنْ شَائَ کَمَا لَوْ کَانَ لَہُ عَلَیْکَ حَقٌّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ وَالْمَیِّتُ مِنْہُ بَرِیئٌ کَانَ لَہُ مُطَالَبَتُکَ بِہِ وَحْدَکَ إِنْ شَائَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٤٠١) (الف) عبداللہ بن محمد بن عقیل فرماتے ہیں کہ جابر (رض) نے فرمایا : ایک آدمی فوت ہوگیا، ہم نے اسے غسل دیا اور کفن دیا۔ پھر ہم اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئے تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ قدم چلے اور پوچھا : کیا اس پر قرض ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں دو دینار ہیں۔ آپ واپس پھرگئے۔ ابو قتادہ نے دو دینار اپنے ذمہ لے لیے۔ پھر ہم آپ کے پاس آئے۔ ابو قتادہ نے کہا : دونوں دینار میرے ذمہ ہیں۔ آپ نے فرمایا : قرض کی ذمہ داری حق ہے اور میت ان دیناروں سے بری ہے۔ اس نے کہا : ہاں، پھر آپ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ پھر ایک دن اس کے بعد ارشاد فرمایا : کیا کیا ان دو دیناروں کا ؟ آپ نے فرمایا : وہ فوت ہوگیا ہے کل اور وہ آئندہ کل اس پر لوٹ آئیں گے۔ قتادہ نے کہا : میں نے وہ دونوں ادا کردیے تھے، آپ نے فرمایا : تو نے اس کے چمڑے کو اس پر ٹھنڈا کردیا ہے۔ (ب) ایک روایت میں ہے کہ قضاکیساتھ اس کی جلد اس پر ٹھنڈی ہوگئی۔

11407

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11407

Sahih

(۱۱۴۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ حَدَّثَنَا القَعْنَبِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلاً لَزِمَ غَرِیمًا لَہُ بِعَشْرَۃِ دَنَانِیرَ فَقَالَ لَہُ : وَاللَّہِ مَا عِنْدِی قَضَائٌ أَقْضِیکَہُ الْیَوْمَ قَالَ : فَوَاللَّہِ لاَ أُفَارِقُکَ حَتَّی تُعْطِیَنِی أَوْ تَأْتِیَ بِحَمِیلٍ یَتَحَمَّلُ عَنْکَ قَالَ : وَاللَّہِ مَا عِنْدِی قَضَائٌ وَمَا أَجِدُ مَنْ یَتَحَمَّلُ عَنِّی فَجَرَّہُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ ہَذَا لَزِمَنِی وَاسْتَنْظَرْتُہُ شَہْرًا وَاحِدًا فَأَبَی حَتَّی أَقْضِیَہُ أَوْ آتِیَہُ بِحَمِیلٍ فَقُلْتُ : وَاللَّہِ مَا أَجِدُ حَمِیلاً وَلاَ عِنْدِی قَضَائٌ الْیَوْمَ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَلْ تَسْتَنْظِرْہُ إِلاَّ شَہْرًا وَاحِدًا ۔ قَالَ : لاَ قَالَ : فَأَنَا أَتَحَمَّلُ بِہَا عَنْکَ ۔ فَتَحَمَّلَ بِہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَذَہَبَ الرَّجُلُ فَأَتَاہُ بِقَدْرِ مَا وَعَدَہُ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مِنْ أَیْنَ جِئْتَ بِہَذَا الذَّہَبِ؟ ۔ قَالَ : مِنْ مَعْدِنٍ قَالَ: اذْہَبَ فَلاَ حَاجَۃَ لَنَا فِیہَا لَیْسَ فِیہَا خَیْرٌ ۔ قَالَ : فَقَضَاہَا عَنْہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ وَفِی ہَذَا کَالدِّلاَلَۃِ عَلَی أَنَّ الْحَقَّ بَقِیَ فِی ذِمَّتِہِ بَعْدَ التَّحَمُّلِ حَتَّی أَکَّدَ عَلَیْہِ مِقْدَارَ الاِسْتِنْظَارِ ثُمَّ إِنَّہُ -ﷺ- تَطَوَّعَ بِالْقَضَائِ عَنْہُ وَتَنَزَّہَ عَنِ التَّصَرُّفِ فِی مَالِ الْمَعْدِنِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِّینَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَۃٌ بِدَیْنِہِ حَتَّی یُقْضَی عَنْہُ ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٤٠٢) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک آدمی پر دس دینار قرض تھے۔ اس نے اسے پکڑ لیا۔ مقروض نے کہا : میرے پاس قرض ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ تجھے کسی اور دن دے دوں گا۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تجھے نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ تو مجھے قرض لوٹا دے یا اپنی طرف سے ضامن پیش کر دے۔ اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! نہ میرے پاس قرض دینے کی کوئی چیز ہے اور نہ میں کسی ضامن کو پاتا ہوں۔ پس وہ اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! اس نے مجھے وعدہ کیا تھا۔ میں ایک مہینے تک انتظار کرتا رہا۔ پھر اس نے انکار کردیا یہاں تک کہ میں قرض دوں گا یا پھر کوئی ضامن پیش کروں گا۔ پس میں نے کہا : اللہ کی قسم ! آج میرے پاس نہ کوئی ضامن ہے اور نہ قرض لوٹانے کی رقم۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا : کیا تو ایک مہینہ اور ٹھہر سکتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ نے کہا : میں تیری طرف سے ضامن ہوں۔ آدمی چلا گیا وعدے کے مطابق وہ آدمی واپس آیا۔ آپ نے پوچھا : یہ سونا کہاں سے لایا ہے ؟ اس نے کہا : کان سے۔ آپ نے کہا : چلا جا ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی میں کوئی خیر نہیں، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی طرف سے اس کا قرض دے دیا۔ یہ اس بات پر دلالت ہے کہ ضمانت کے بعد بھی حق اس کے ذمہ میں رہتا ہے یہاں تک کہ وہ وعدہ کرے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف سے قرض لوٹا دیا اور کان کے مال سے بچے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سی منقول ہے کہ مومن آدمی کی روح اس کے قرض کی وجہ سے لٹکی رہتی ہے حتیٰکہ ادا کردیا جائے۔