Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 605

نماز کا بیان

سلام پھیرتے وقت نماز سے باہر ہونے کی نیت کا بیان آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان ہے : تَحْلِیلُہَا التَّسْلِیمُ ” نماز سے باہر ہونا سلام کے ذریعے ہے، اسی طرح آپ (علیہ السلام) کا فرمان ہے إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ ” اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے “۔ نمازی حاضرین اور کراماً کاتب

4 hadiths in this chapter

2993

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2993

Sahih

(۲۹۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ ابْنِ الْقِبْطِیَّۃِ قَالَ حَدَّثَنِی جَابِرُ بْنُ سَمُرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کُنَّا إِذَا صَلَّیْنَا خَلْفَ النَّبِیِّ -ﷺ- قُلْنَا بِأَیْدِینَا السَّلاَمُ عَلَیْکُمُ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا بَالُ ہَؤُلاَئِ الَّذِینِ یَرْمُونَ بَأَیْدِیہِمْ کَأَنَّہَا أَذْنَابُ الْخَیْلِ الشُّمُسِ؟ أَمَا یَکْفِی أَحَدَکُمْ أَنْ یَضَعَ یَدَہُ عَلَی فَخِذِہِ ، ثُمَّ یُسَلِّمَ عَلَی أَخِیہِ عَنْ یَمِینِہِ وَشِمَالِہِ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مِسْعَرِ بْنِ کِدَامٍ۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٩٩٣) حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے تو اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہتے :” السَّلاَمُ عَلَیْکُمُ ، السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ “۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان لوگوں کو کیا ہوا ہے جو اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہیں جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہوں۔ کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ آدمی اپنے ہاتھ کو اپنی ران پر رکھے اور اس کے بعد اپنی داہنی اور بائیں طرف والے بھائی کو سلام کرے۔

2994

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2994

Zaeef

(۲۹۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاہِرِ: مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ بَشِیرٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ نَرُدَّ عَلَی الإِمَامِ وَأَنْ نَتَحَابَّ، وَأَنْ یُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَی بَعْضٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۱۰۰۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٩٩٤) سمرہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں امام کے سلام کا جواب دینے، آپس میں محبت کرنے اور ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم دیا۔

2995

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2995

Zaeef

(۲۹۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ وَعُمَرُ بْنُ شَبَّۃَ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ الأَسْفَاطِیُّ قَالُوا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو بِشْرٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ نُسَلِّمَ عَلَی أَئِمَّتِنَا ، وَأَنْ یُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَی بَعْضٍ۔ [ضعیف۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٩٩٥) سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اپنے امام کو سلام کہنے اور ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم فرمایا۔

2996

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2996

Zaeef

(۲۹۹۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ حَدَّثَنِی خُبَیْبُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِیہِ سُلَیْمَانَ بْنِ سَمُرَۃَ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَمَّا بَعْدُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا کَانَ فِی وَسَطِ الصَّلاَۃِ أَوْ حِینَ انْقِضَائِہَا: ((فَابْدَئُ وا قَبْلَ التَّسْلِیمِ فَقُولُوا التَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ وَالصَّلَوَاتُ وَالْمُلْکُ لِلَّہِ ، ثُمَّ سَلِّمُوا عَلَی الْیَمِینِ ، ثُمَّ سَلِّمُوا عَلَی قَارِئِکُمْ وَعَلَی أَنْفُسِکُمْ))۔ وَفِی ہَذَا دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الْمُرَادَ بِالرَّدِّ عَلَی الإِمَامِ أَنْ یَنْوِیَ فِی تَسْلِیمِہِ عَنِ الصَّلاَۃِ الرَّدَّ عَلَیْہِ لاَ أَنَّہُ یُفْرِدُہُ۔ وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ: السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ عَنْ یَمِینِہِ ، ثُمَّ یَرُدُّ عَلَی الإِمَامِ ، فَإِنْ سَلَّمَ عَلَیْہِ أَحَدٌ عَنْ یَسَارِہِ رَدَّ عَلَیْہِ۔ وَرُوِّینَا عَنِ الزُّہْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ: الرَّدُّ عَلَی الإِمَامِ سَلاَمَہُ سُنَّۃٌ۔ وَکَانَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیُّ یَقُولُ: إِذَا سَلَّمْتَ عَنْ یَمِینِکَ أَجْزَأَکَ مِنَ الرَّدِّ عَلَیْہِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٩٩٦) (ا) سمرہ بن جندب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا کہ جب تم درمیانِ نماز میں ہو یا اس کے اختتام کے قریب تو سلام سے قبل ابتدا کرو ، یعنی یہ کلمات پڑھو : ” التحیات الطیبات۔۔۔ ” تمام قولی، مالی اور فعلی عبادات اور تمام بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔ “ پھر اپنے دائیں طرف سلام کہو اور اپنے امام پر اور اپنے آپ پر بھی سلام کہو۔ (ب) اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ امام کو سلام کا جواب دینے سے مراد یہ ہے کہ آدمی نماز سے سلام پھیرتے وقت امام کو سلام کا جواب دینے کی نیت بھی کرلے۔ اس کے لیے الگ سلام کرنا ضروری نہیں۔ (ج) ہمیں سیدنا ابن عمر (رض) کے واسطے سے روایت بیان کی گئی کہ وہ اپنی دائیں جانب السلام علیکم کہتے، اس کے بعد امام کو سلام کا جواب دیتے، اگر کوئی ان کی بائیں جانب سے انھیں سلام کرتا تو وہ اس کو بھی سلام کا جواب دیتے۔ (د) زہری فرماتے ہیں کہ امام کو سلام کا جواب دینا سنت ہے۔ (ہ) یحییٰ بن سعید فرمایا کرتے تھے کہ جب تو اپنی دائیں طرف سلام پھیرے تو تجھے امام کے سلام کے جواب میں کافی ہوجائے گا۔