Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 601

نماز کا بیان

سلام کے ساتھ نماز سے فارغ ہونے کا بیان

11 hadiths in this chapter

2960

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2960

Sahih

(۲۹۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ وَیَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ ابْنِ الْقِبْطِیَّۃِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: کُنَّا إِذَا صَلَّیْنَا خَلْفَ النَّبِیِّ -ﷺ- قُلْنَا یَعْنِی الإِشَارَۃَ بِإِصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ السَّلاَمُ عَلَیْکُمُ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ فَقَالَ لَنَا یَعْنِی النَّبِیَّ -ﷺ- : ((مَا بَالُ أَقْوَامٍ یَرْمُونَ بَأَیْدِیہِمْ فِی الصَّلاَۃِ کَأَنَّہَا أَذْنَابُ الْخَیْلِ الشُّمُسِ؟ أَلاَ یَکْفِی أَحَدَہُمْ أَوْ أَحَدَکُمْ أَنْ یَضَعَ یَدَہُ عَلَی فَخِذِہِ ، ثُمَّ یُسَلِّمُ عَلَی أَخِیہِ مِنْ عَنْ یَمِینِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ))۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۴۳۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٩٦٠) جابر بن سمرۃ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم انگشت شہادت کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے کہتے : ” السَّلاَمُ عَلَیْکُمُ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ “۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ نماز میں اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے ہیں جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہوں ؟ کیا تم کو یا فرمایا : ان کو یہ کافی نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ کو اپنی رانوں پر رکھے، پھر اپنی دائیں طرف اور بائیں طرف والے بھائی کو سلام کرے۔

2961

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2961

Sahih

(۲۹۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا وَوَکِیعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ ابْنِ الْقِبْطِیَّۃِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: کُنَّا إِذَا صَلَّیْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَسَلَّمَ أَحَدُنَا أَشَارَ بِیَدِہِ مِنْ عَنْ یَمِینِہِ وَمِنْ عَنْ شِمَالِہِ ، فَلَمَّا صَلَّی قَالَ: ((مَا بَالُ أَحَدِکُمْ یَرْمِی بِیَدِہِ کَأَنَّہَا أَذْنَابُ خَیْلٍ شُمُسٍ؟ إِنَّمَا یَکْفِی أَوَلاَ یَکْفِی أَحَدَکُمْ أَنْ یَقُولَ ہَکَذَا۔ وَأَشَارَ بِإِصْبَعِہِ: وَیُسَلِّمُ عَلَی أَخِیہِ مِنْ عَنْ یَمِینِہِ وَمِنْ عَنْ شِمَالِہِ))۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ وَکِیعٍ ، وَعَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ بِمَعْنَی ہَذَا الْحَدِیثِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: أَمَا یَکْفِی۔ لَمْ یَشُکَّ فِیہِ وَجَعَلَ اللَّفْظَ لاِبْنِ أَبِی زَائِدَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٩٦١) سیدنا جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ جب ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے تو ہم میں سے کوئی اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے دائیں اور بائیں طرف والوں کو سلام کہتا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : تمہیں کیا ہوا کہ تم ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہو جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہوں، تمہارے لیے صرف اتنا کافی ہے یا (آپ نے فرمایا) کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ اس طرح کرے، پھر آپ نے ہاتھوں کو رانوں پر رکھا اپنی انگشت مبارکہ سے اشارہ کیا اور فرمایا : پھر اپنے دائیں اور بائیں طرف والے بھائی کو سلام کرے۔

2962

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2962

Sahih

(۲۹۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَرْفَعُہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ الطُّہُورُ ، وَإِحْرَامُہَا التَّکْبِیرُ وَإِحْلاَلُہَا التَّسْلِیمُ))۔ وَرُوِّینَا ذَلِکَ فِی حَدِیثِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ وَغَیْرِہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ وَفِی ذَلِکَ دِلاَلَۃٌ عَلَی ضَعْفِ مَا۔ [صحیح لغیرہ۔ وقد تقدم برقم ۲۲۶۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٩٦٢) (ا) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز کی چابی وضو ہے اور اس کو حرام کرنے والی چیز تکبیر ہے اور اس کو حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے۔ (ب) اس بارے میں سیدنا ابو سعید خدری (رض) سے منقول روایت گزر چکی ہے۔

2963

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2963

Zaeef

(۲۹۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنِ نُجَیْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: إِذَا جَلَسَ مِقْدَارَ التَّشَہُّدِ ثُمَّ أَحْدَثَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلاَتُہُ۔ عَاصِمُ بْنُ ضَمْرَۃَ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔ وَأَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لاَ یُخَالِفُ مَا رَوَاہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَإِنْ صَحَّ ذَلِکَ عَنْہُ فَہُوَ مَحْجُوجٌ بِمَا رَوَاہُ ہُوَ وَغَیْرُہُ عَنْ سَیِّدِنَا الْمُصْطَفَی -ﷺ- الَّذِی لاَ حُجَّۃَ فِی قَوْلِ أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِہِ مَعَہُ۔ [ضعیف۔ ابن ابی شبیۃ ۸۴۶۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٩٦٣) (ا) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب آدمی تشہد کی مقدار نماز میں بیٹھ جائے، پھر (اس کے بعد) بےوضو ہوجائے تو اس کی نماز مکمل ہوگئی۔ (ب) امیرالمومنین سیدنا علی بن ابی طالب (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کی مخالفت کبھی نہیں کرتے، اگرچہ یہ روایت صحیح ہو پھر بھی دلیل وہ روایت ہے جو انھوں نے یا ان کے علاوہ کسی اور نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے، جس کے مقابلے میں کسی امتی کا قول حجت نہیں ہوسکتا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ہی ضعیف ہے۔

2964

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2964

Sahih

(۲۹۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ التَّکْبِیرُ ، وَانْقِضَاؤُہَا التَّسْلِیمُ إِذَا سَلَّمَ الإِمَامُ فَقُمْ إِنْ شِئْتَ۔ وَہَذَا الأَثَرُ الصَّحِیحُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ یَدُلُّ عَلَی صِحَّۃِ مَا نَقُولُہُ فِیمَا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٩٦٤) (ا) ابواحوص سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : نماز کی کنجی تکبیر ہے اور اس کا ختم کرنا سلام پھیرنا ہے۔ جب امام سلام پھیر لے تو اگر تو چاہے تو کھڑا ہوجا۔ (ب) عبداللہ بن مسعود (رض) سے منقول یہ صحیح اثر ہمارے قول کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔

2965

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2965

Sahih

(۲۹۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَلِیُّ بْنُ حَمَوَیْہِ بِبُخَارَی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَۃُ بِیَدِی وَحَدَّثَنِی أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِیَدِہِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَخَذَ بِیَدِ عَبْدِ اللَّہِ ، فَعَلَّمَہُ التَّشَہُّدَ فِی الصَّلاَۃِ وَقَالَ: ((قُلِ التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عَبَّادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ))۔ قَالَ أَبُو خَیْثَمَۃَ: وَزَادَنِی فِی ہَذَا الْحَدِیثِ بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنِ الْحَسَنِ: أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔ قَالَ أَبُو خَیْثَمَۃَ: بَلَغَ حِفْظِی عَنِ الْحَسَنِ فِی بَقِیَّۃِ ہَذَا الْحَدِیثِ: إِذَا فَعَلْتَ ہَذَا أَوْ قَضَیْتَ ہَذَا فَقَدْ قَضَیْتَ صَلاَتَکَ ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ۔ ہَذَا حَدِیثٌ قَدْ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ أَبِی خَیْثَمَۃَ: زُہَیْرِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ وَأَدْرَجُوا آخِرَ الْحَدِیثِ فِی أَوَّلِہِ ، وَقَدْ أَشَارَ یَحْیَی بْنُ یَحْیَی إِلَی ذَہَابِ بَعْضِ الْحَدِیثِ عَنْ زُہَیْرٍ فِی حِفْظِہِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ۔ وَرَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ عَنْ زُہَیْرٍ وَزَعَمَ أَنَّ بَعْضَ الْحَدِیثِ انْمَحَی مِنْ کِتَابِہِ أَوْ خُرِّقَ۔ وَرَوَاہُ شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ عَنْ زُہَیْرٍ ، وَفَصَلَ آخِرَ الْحَدِیثِ مِنْ أَوَّلِہِ ، وَجَعَلَہُ مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَکَأَنَّہُ أَخَذَہُ عَنْہُ قَبْلَ ذَہَابِہِ مِنْ حِفْظِہِ ، أَوْ مِنْ کِتَابِہِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٩٦٥) (ا) قاسم بن مخیمرۃ سے روایت ہے کہ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حدیث بیان کی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) نے ان کا ہاتھ پکڑا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ کا ہاتھ پکڑا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں نماز میں (پڑھا جانے والا) تشہد سکھایا اور فرمایا : کہو ” التحیات۔۔۔ تمام قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی ! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ (ب) ابوخیثمہ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث میں میرے بعض ساتھیوں نے حسن کے واسطہ سے یہ اضافہ کیا ہے۔ ” اشہد ان لا الہ۔۔۔“ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (ج) ابوخیثمہ کہتے ہیں کہ میری یادداشت میں حسن کے واسطہ سے اس حدیث کے بقیہ حصہ کے بارے میں یہ بات بھی پہنچی ہے : ” جب تم یہ کرلو یا اس کو مکمل کرلو تو تحقیق تمہاری نماز مکمل ہوگئی۔ اب اگر تو کھڑے ہونا چاہے تو کھڑا ہوجا اور اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جا۔ “ (د) اس حدیث کو احمد بن یونس نے زہیر سے روایت کیا ہے اور یہ خیال کیا ہے کہ اس حدیث کا کچھ حصہ ان کی کتاب سے مٹ گیا تھا یا بوسیدہ ہوگیا تھا۔

2966

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2966

Sahih

(۲۹۶۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ: زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَی حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی إِلَی قَوْلِہِ الصَّالِحِینَ ثُمَّ قَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: فَإِذَا قُلْتَ ذَلِکَ فَقَدْ قَضَیْتَ مَا عَلَیْکَ مِنَ الصَّلاَۃِ ، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ۔ قَالَ عَلِیٌّ رَحِمَہُ اللَّہُ: شَبَابَۃُ ثِقَۃٌ ، وَقَدْ فَصَلَ آخِرَ الْحَدِیثِ جَعَلَہُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَہُوَ أَصَحُّ مِنْ رِوَایَۃِ مَنْ أَدْرَجَ آخِرَہُ فِی کَلاَمِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَقَدْ تَابَعَہُ غَسَّانُ بْنُ الرَّبِیعِ وَغَیْرُہُ فَرَوَاہُ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ کَذَلِکَ آخِرَ الْحَدِیثِ مِنْ کَلاَمِ ابْنِ مَسْعُودٍ لَمْ یَرْفَعْہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ-۔ أَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ قَالَ: وَہِمَ زُہَیْرٌ فِی رِوَایَتِہِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، وَأَدْرَجَ فِی کَلاَمِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَا لَیْسَ مِنْ کَلاَمِہِ وَہُوَ قَوْلُہُ: إِذَا فَعَلْتَ ہَذَا فَقَدْ قَضَیْتَ صَلاَتَکَ۔ وَہَذَا إِنَّمَا ہُوَ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ۔ کَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی اللذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٩٦٦) (ا) حسن بن حر نے بھی یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث کے ہم معنی روایت نقل کی ہے، یہ آپ کے قول الصالحین تک اسی طرح ہے پھر فرمایا : اشہد ان لا الہ۔۔۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ (ب) عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : جب تو یہ پڑھ لے تو جو نماز تجھ پر فرض تھی وہ تو مکمل کرچکا۔ (اب تیری مرضی) اگر تو کھڑا ہونا چاہے تو کھڑا ہوجا اور اگر تو بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جا۔

2967

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2967

Sahih

(۲۹۶۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَزِیزٍ حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِیعِ الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ نَحْوَ رِوَایَۃِ شَبَابَۃَ وَیَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَقَالَ فِی آخِرِہِ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ: إِذَا فَرَغْتَ مِنْ ہَذَا فَقَدْ قَضَیْتَ صَلاَتَکَ ، فَإِنْ شِئْتَ فَاقْعُدْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَقُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٩٦٧) (ا) حسن بن حر سے انہی یحییٰ بن یحییٰ اور شبابہ کی حدیث کی مثل روایت ایک دوسری سند سے منقول ہے۔

2968

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2968

Sahih

(۲۹۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَۃَ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّی حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ قَیْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: عَلَّمَنِی النَّبِیُّ -ﷺ- التَّشَہُّدَ ، فَذَکَرَہُ إِلَی عَبْدِہِ وَرَسُولِہِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ: فَإِذَا فَرَغْتَ مِنْ صَلاَتِکَ فَإِنْ شِئْتَ فَاثْبُتْ وَإِنْ شِئْتَ فَانْصَرِفْ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَہَذِہِ اللَّفْظَۃُ فَإِذَا فَرَغْتَ مِنْ صَلاَتِکَ إِنْ کَانَتْ مَحْفُوظَۃً أَشْبَہُ بِمَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِی انْقِضَائِ الصَّلاَۃِ بِالتَّسْلِیمِ ، وَبِمَا سَنَرْوِیہِ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی التَّسْلِیمِ وَکَأَنَّہُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرَادَ خِلاَفَ مَنْ زَعَمَ أَنَّہُ لاَ یَجُوزُ لِلْمَأْمُومِ أَنْ یَنْصَرِفَ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الصَّلاَۃِ قَبْلَ انْصِرَافِ الإِمَامِ ، وَإِنْ کَانَتِ اللَّفْظَۃُ الأُولَی ثَابِتَۃً عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَمَعْلُومٌ أَنَّ تَعْلِیمَ النَّبِیِّ -ﷺ- عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ تَشَہُّدَ الصَّلاَۃِ کَانَ فِی ابْتِدَائِ مَا شُرِعَ التَّشَہُّدُ ، ثُمَّ کَانَ بَعْدَہُ شَرْعُ الصَّلاَۃِ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بِدَلِیلِ قَوْلِہِمْ: قَدْ عَرِفْنَا السَّلاَمَ عَلَیْکَ ، فَکَیْفَ الصَّلاَۃُ عَلَیْکَ؟ ثُمَّ شُرِعَ التَّسْلِیمُ مِنَ الصَّلاَۃِ مَعَہُ أَوْ بَعْدَہُ فَصَارَ الأَمْرُ إِلَیْہِ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَالَّذِی یُؤَکِّدُ ہَذَا مَا۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٩٦٨) (ا) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تشہد سکھائی۔۔۔ پھر انھوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ (ب) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جب تم اپنی نماز سے فارغ ہوجاؤ تو چاہو تو وہیں بیٹھے رہو اور چاہو تو سلام پھیر لو۔ (ج) شیخ (رض) فرماتے ہیں : یہ جملہ ” فاذا فرغت من صلاتک “ ہمیں اگر محفوظ ہو تو یہ اس روایت کے زیادہ مشابہ ہے جو نماز کو سلام کے ساتھ مکمل کرنے کے بارے میں عبداللہ بن مسعود (رض) سے پہنچی ہے اور اس کے بھی مشابہ ہے جس کو ہم عنقریب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سلام کے بارے میں روایت کریں گے، گویا کہ آپ (رض) کی مراد اس کے خلاف ہے جو نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام کے پھرنے سے پہلے مقتدی کے پھرنے کو جائز نہیں سمجھتا۔ اگر پہلے والے الفاظ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہوں تب بھی یہ سمجھا جائے گا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عبداللہ بن مسعود (رض) کو تشہد سکھانا تشہد کے مشروع ہونے کے ابتدائی وقت میں تھا۔ بعد میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود کا حکم ہوا۔ اس کی دلیل صحابہ کا یہ قول ہے : ” قد عرضنا السلام “ یعنی سلام کا طریقہ ہمیں معلوم ہوگیا اب یہ بتائیں کہ ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں ؟ پھر اس کے بعد نماز سے سلام پھیرنا مشروع ہوا۔ اسلام کی مشروعیت اس کے ساتھ ہوئی یا کچھ عرصہ بعد ہوئی۔ واللہ اعلم اور جو بھی اس کی تاکید کرے وہ بھی اس میں شامل ہے۔

2969

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2969

Zaeef

(۲۹۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ مِنْ أَصْلِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَیْبَانَ الْبَغْدَادِیُّ بِہَرَاۃَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ أَخْبَرَنَا عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ إِذَا قَضَی التَّشَہُّدَ فِی الصَّلاَۃِ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ بِوَجْہِہِ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ التَّسْلِیمُ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ عَنْ عَطَائٍ قَالَ: وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ التَّسْلِیمُ ، وَہَذَا وَإِنْ کَانَ مُرْسَلاً فَہُوَ مُوَافِقٌ لِلأَحَادِیثِ الْمَوْصُولَۃِ الْمُسْنَدَۃِ فِی التَّسْلِیمِ۔ ضعیف مرسل۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٩٦٩) (ا) عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سلام کا حکم نازل ہونے سے پہلے جب نماز میں تشہد مکمل کرلیتے تو لوگوں کی طرف چہرہ انور کو پھیر لیتے تھے۔ (ب) ایک اور روایت میں بھی عطا سے منقول ہے۔ اس میں ہے : ” وذالک قبل ان ینزل التسلیم “ یعنی یہ سلام پھیرنے کا حکم نازل ہونے سے پہلے تھا۔ (ج) یہ روایت اگرچہ مرسل ہے مگر سلام کے بارے موصول، مسند روایات کے موافق ہے۔

2970

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2970

Zaeef

(۲۹۷۰) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادِ بْنِ أَنْعُمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ وَبَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((إِذَا قَضَی الإِمَامُ الصَّلاَۃَ وَقَعَدَ فَأَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ یَتَکَلَّمَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلاَتُہُ ، وَمَنْ کَانَ خَلْفَہُ مِمَّنْ أَتَمَّ الصَّلاَۃَ))۔ فَإِنَّہُ لاَ یَصِحُّ۔ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ یَنْفَرِدُ بِہِ وَہُوَ مُخْتَلَفٌ عَلَیْہِ فِی لَفْظِہِ۔ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ کَانَ یَحْیَی الْقَطَّانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ لاَ یُحَدِّثَانِ عَنْہُ لِضَعْفِہِ ، وَجَرَّحَہُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَیَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَغَیْرُہُمَا مِنَ الْحُفَّاظِ ثُمَّ الْجَوَابُ عَنْہُ کَالْجَوَابِ عَمَّا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف۔ قال ابو حاتم حدیث منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٩٧٠) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب امام نماز مکمل کر کے بیٹھا ہوا ہو، پھر بات کرنے سے پہلے بےوضو ہوجائے تو اس کی نماز مکمل ہوگئی اور اس کے مقتدیوں میں سے جس نے نماز مکمل کرلی تھی، ان کی نماز بھی مکمل ہوگئی۔