Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 591

نماز کا بیان

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواجِ مطہرات (رض) نماز میں دعائے رحمت کرنے میں آپ کے اہل بیت میں شامل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول { یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ } [الاحزاب : ٣٢] ” اے نبی کی بیویو ! ت

6 hadiths in this chapter

2861

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2861

Zaeef

(۲۸۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ السُّلَمِیُّ مِنْ أَصْلِہِ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ شَرِیکِ بْنِ أَبِی نَمِرٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: فِی بَیْتِی أُنْزِلَتْ {إِنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی فَاطِمَۃَ وَعَلِیٍّ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ فَقَالَ: ((ہَؤُلاَئِ أَہْلُ بَیْتِی)) وَفِی حَدِیثِ الْقَاضِی وَالسُّلَمِیُّ: ((ہَؤُلاَئِ أَہْلِی))۔ قَالَتْ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمَا أَنَا مِنْ أَہْلِ الْبَیْتِ؟ قَالَ: ((بَلَی إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی))۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: ہَذَا حَدِیثٌ صَحِیحٌ سَنَدُہُ ، ثِقَاتٌ رُوَاتُہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رُوِیَ فِی شَوَاہِدِہِ ثُمَّ فِی مُعَارَضَتِہِ أَحَادِیثٌ لاَ یَثْبُتُ مِثْلُہَا ، وَفِی کِتَابِ اللَّہِ الْبَیَانُ لِمَا قَصَدْنَا ثُمَّ فِی إِطْلاَقِ النَّبِیِّ -ﷺ- الآلَ وَمُرَادُہُ مِنْ ذَلِکَ أَزْوَاجُہُ أَوْ ہُنَّ دَاخِلاَتٌ فِیہِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٦١) (ا) سیدہ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ یہ آیت میرے گھر میں نازل ہوئی ، یعنی { اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا } [الاحزاب : ٣٣] ” اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت ! تم سے نجاست کو دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک کر دے۔ “ سیدہ ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ، علی، حسن اور حسین (رض) کو بلایا اور فرمایا : یہ میرے اہل بیت ہیں۔ (ب) قاضی اور سلمی کی حدیث میں ہے : ” ہولآء اہلی “ یہ میرے گھر والے ہیں۔ ام المومنین ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں تو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں اہل بیت میں شامل نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں تم بھی شامل ہو۔ (ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے شواہد اور معارض بھی ہیں ان کی مثل ثابت نہیں۔ اللہ کی کتاب میں وضاحت موجود ہے جس کا ہم نے قصد کیا ہے، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آل کو مطلق ذکر کرنے اور اس سے اپنی بیویاں مراد لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی آل میں داخل ہیں۔

2862

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2862

Sahih

(۲۸۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَفَّانَ یَعْنِی الْحَسَنَ بْنَ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اللَّہُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الأَشَجِّ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عُمَارَۃَ۔ وَرُوِّینَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ: إِنَّمَا یَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِی ہَذَا الْمَالِ ، لَیْسَ لَہُمْ أَنْ یَزِیدُوا عَلَی الْمَأْکَلِ۔ وَإِنَّمَا أَرَادَ مَنْ فِی نَفَقَتِہِ ، وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ -ﷺ- مِنْ طَعَامٍ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ حَتَّی قُبِضَ۔ وَرُوِّینَا عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ -ﷺ- مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلاَثَ لَیَالٍ تِبَاعًا حَتَّی قُبِضَ۔ وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ: إِنْ کُنَّا آلُ مُحَمَّدٍ -ﷺ- لَنَمْکُثُ شَہْرًا مَا نَسْتَوْقِدُ بِنَارٍ ، إِنَّمَا ہُوَ التَّمْرُ وَالْمَائُ۔ وَأَشَارَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحُلَیْمِیُّ إِلَی أَنَّ اسْمَ أَہْلَ الْبَیْتِ لِلأَزْوَاجِ تَحْقِیقٌ ، وَاسْمَ الآلِ لَہُنَّ تَشْبِیہٌ بِالنَّسَبِ وَخُصُوصًا أَزْوَاجُ النَّبِیِّ لأَنَّ اتِّصَالَہُنَّ بِہِ غَیْرُ مُرْتَفِعٍ ، وَہُنَّ مُحَرَّمَاتٌ عَلَی غَیْرِہِ فِی حَیَاتِہِ وَبَعْدَ وَفَاتِہِ ، فَالسَّبَبُ الَّذِی لَہُنَّ بِہِ قَائِمٌ مَقَامَ النَّسَبِ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَفِی نَصِّ النَّبِیِّ -ﷺ- عَلَی الأَمْرِ بِالصَّلاَۃِ عَلَی أَزْوَاجِہِ یُغْنِیہِ عَنْ غَیْرِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۴۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٦٢) (ا) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! آل محمد کے رزق کو عمدہ خوراک بنا دے۔ (ب) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آل محمد صرف اس مال میں سے کھاتے ہیں۔ ان کے لیے اس کھانے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس سے مراد نفقہ تھا۔ (ج) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی بھی تین دن مسلسل پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا حتیٰ کہ آپ اس دنیا سے چلے گئے۔ (د) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سے مدینہ آئے ، انھوں نے کبھی بھی تین دن گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی حتیٰ کہ آپ اس دار فانی سے کوچ فرما گئے۔ (ہ) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں تھے ۔ مہینوں ہمارے گھروں میں چولہا نہیں جلتا تھا ہمارا کھانا کھجور اور پانی ہوتا تھا۔ (ن) ابوعبداللہ حلیمی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اہل بیت کا لفظ بیویوں کے لیے ثابت ہے اور آل کا لفظ ان کے لیے بولنا نسبت کے ساتھ تشبیہ کے طور پر ہے اور خصوصاً نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کے لیے کیونکہ ان کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہونا کوئی بعید نہیں ہے اور وہ (ازواج مطہرات) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات اور آپ کی وفات کے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں ۔ اس وجہ سے ان کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نسبت قائم ہے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنی ازواج پر صلوۃ کے حکم کی صراحت کرنا آپ کے علاوہ سے غنی کردیتا ہے۔

2863

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2863

Sahih

(۲۸۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَیْمٍ الزُّرَقِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو حُمَیْدٍ السَّاعِدِیُّ أَنَّہُمْ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ نُصَلِّی عَلَیْکَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ((قُولُوا: اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاہِیمَ ، وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاہِیمَ ، إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیدٌ))۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۳۶۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٦٣) ابوحمید ساعدی (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہو ” اللہم صل علی۔۔۔“ ” اے اللہ ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رحمت بھیج اور آپ کی ازواج مطہرات پر اور آپ کی اولاد پر جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آل پر رحمت بھیجی اور برکت نازل فرما محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر، آپ کی ازواج پر اور آپ کی اولاد پر۔ جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آل پر برکت نازل فرمائی۔ بیشک تو تعریف والا بزرگی والا ہے۔ـــ

2864

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2864

Sahih

(۲۸۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٦٤) ایک دوسری سند سے اسی کی مثل حدیث منقول ہے۔

2865

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2865

Sahih

(۲۸۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ ہُوَ الشَّافِعِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَہُ بِنَحْوٍ مِنْ مَعْنَاہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ رَاہَوَیْہِ وَغَیْرِہِ عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَۃَ عَنِ ابْنِ نُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نَافِعٍ۔ [صحیح۔ وقد تقدم بنحوہ فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٦٥) مذکورہ حدیث کے معنی میں ایک روایت دوسری سند سے منقول ہے۔

2866

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2866

Zaeef

(۲۸۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ یَسَارٍ الْکِلاَبِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو مُطَرِّفٍ: عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ کَرِیزٍ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْہَاشِمِیُّ عَنِ الْمُجْمِرِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَکْتَالَ بِالْمِکْیَالِ الأَوْفَی إِذَا صَلَّی عَلَیْنَا أَہْلَ الْبَیْتِ فَلْیَقُلْ: اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ ، وَأَزْوَاجِہِ أَمُہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ وَذُرِّیَّتِہِ وَأَہْلِ بَیْتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ))۔ فَکَأَنَّہُ -ﷺ- أَفْرَدَ أَزْوَاجَہُ وَذُرِّیَّتَہُ بِالذِّکْرِ عَلَی وَجْہِ التَّأْکِیدِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی التَّعْمِیمِ لِیُدْخِلَ فِیہَا غَیْرَ الأَزْوَاجِ وَالذُّرِّیَّۃِ مِنْ أَہْلِ بَیْتِہِ -ﷺ- وَعَلَیْہِمْ أَجْمَعِینَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٦٦) (ا) سیدنا بوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ اسے اس کے اعمال کا پورا پورا وزن کر کے بدلہ دیا جائے تو وہ جب ہم اہل بیت پر درود بھیجے تو کہے :” اللہم صل علی محمد النبی۔۔۔ ” اے اللہ ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو نبی ہیں اور آپ کی ازواج پر جو امہات المومنین ہیں اور آپ کی اولاد اور آپ کے اہل بیت پر رحمت بھیج جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمت بھیجی۔ یقیناً تو تعریف والا بزرگی والا ہے۔ (ب) گویا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ازواج اور اپنی اولاد کو علی وجہ التاکید علیحدہ ذکر کیا ہے، پھر عام کا لفظ بولا ہے تاکہ اس میں ازواج اور اولاد کے علاوہ اہل بیت کو بھی داخل کردیں اور ان تمام پر رحمت ہو۔