Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 510

نماز کا بیان

صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کا بیان

13 hadiths in this chapter

2528

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2528

Sahih

(۲۵۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ۔ قَالَ سُفْیَانُ: ثُمَّ قَدِمَتُ الْکُوفَۃَ فَلَقِیتُ یَزِیدَ ، فَسَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ بِہَذَا ، وَزَادَ فِیہِ: ثُمَّ لاَ یَعُودُ ، فَظَنَنْتُ أَنَّہُمْ لَقَّنُوہُ ، قَالَ سُفْیَانُ: ہَکَذَا سَمِعْتُ یَزِیدَ یُحَدِّثْہُ ثُمَّ سَمِعْتُہُ بَعْدُ یُحَدِّثُہُ ہَکَذَا وَیَزِیدُ فِیہِ: ثُمَّ لاَ یَعُودُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَذَہَبَ سُفْیَانُ إِلَی أَنْ یُغَلِّطَ یَزِیدَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ یَقُولُ کَأَنَّہُ لُقِّنَ ہَذَا الْحَرْفَ فَتَلَقَّنَہُ ، وَلَمْ یَکُنْ یَذْکُرْ سُفْیَانُ یَزِیدَ بِالْحِفْظِ۔ کَذَلِکَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الإِسْفَرَائِنِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَرْبَہَارِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ بِمَکَّۃَ ، فَذَکَرَ ہَذَا الْحَدِیثَ لَیْسَ فِیہِ: ثُمَّ لاَ یَعُودُ۔ قَالَ سُفْیَانُ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْکُوفَۃَ سَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ بِہِ فَیَقُولُ فِیہِ: ثُمَّ لاَ یَعُودُ ، فَظَنَنْتُ أَنَّہُمْ لَقَّنُوہُ۔ وَقَالَ لِی أَصْحَابُنَا إِنَّ حَفْظَہُ قَدْ تَغَیَّرَ أَوْ قَالُوا قَدْ سَائَ ۔ قَالَ الْحُمَیْدِیُّ قُلْنَا لِقَائِلِ ہَذَا یَعْنِی لِلْمُحْتَجِّ بِہَذَا: إِنَّمَا رَوَاہُ یَزِیدُ ، وَیَزِیدُ یَزِیدَ۔ [صحیح۔ الا قولہ ’’ثم لم یعد‘‘ (لایعود) اخرجہ الشافعی فی مسندہ ۸۵۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٥٢٨) (ا) سیدنا براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا جب آپ نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے۔ سفیان کہتے ہیں : پھر میں کوفہ آیا تو (اپنے استاد) یزید سے ملا۔ میں نے انھیں یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا اور انھوں نے اس میں یہ اضافہ بھی کیا کہ پھر دو بار یہ کام (رفع یدین) ساری نماز میں نہیں کیا۔ میں سمجھا کہ انھوں نے اس کی تلقین کی ہے۔ سفیان کہتے ہیں : میں نے یزید کو یہ حدیث پہلے اس طرح بیان کرتے سنا ، پھر دوبارہ انھوں نے اس میں ثم یعود کے الفاظ کا اضافہ کیا۔ (ب) امام شافعی اور سفیان اس طرف گئے ہیں کہ یزید کو اس حدیث میں غلطی پر سمجھیں۔ کیونکہ انھیں اس حرف کی تلقین کی گئی تھی یعنی سمجھایا گیا تھا۔ لیکن انھوں نے اسے سیکھ کر ذہن نشین کرلیا۔ (ج) اسی طرح ایک اور سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے۔ اس میں ثم لا یعود کے الفاظ نہیں ملتے۔ (د) سفیان کہتے ہیں : جب میں کوفہ آیا تو میں نے انھیں یہ حدیث بیان کرتے سنا تو اس میں وہ ثم لا یعود کہہ رہے تھے۔ میں نے جان لیا کہ انھوں نے ان کو سکھا دیا ہے۔ (ہ) اور مجھے میرے ساتھیوں (ہم مسلک لوگوں) نے کہا کہ یزید کا حافظہ خراب ہوگیا تھا یا انھوں نے ” قدساء “ کا لفظ بولا۔ (و) حمیدی کہتے ہیں : جو اس حدیث سے دلیل پکڑتا ہے ہم اس کو اتنا ہی کہیں گے کہ اس روایت کو یزید نے روایت کیا ہے اور یزید اضافہ کرتا رہتا ہے۔

2529

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2529

Zaeef

(۲۵۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَوْسَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ قَالَ سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ: لاَ یَصِحُّ عَنْہُ ہَذَا الْحَدِیثُ۔ قَالَ وَسَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یُضَعِّفُ یَزِیدَ بْنَ أَبِی زِیَادٍ۔ قَالَ أَبُو سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ: وَمِمَّا یُحَقِّقُ قَوْلَ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ أَنَّہُمْ لَقَّنُوہُ ہَذِہِ الْکَلِمَۃَ أَنَّ سُفْیَانَ الثَّوْرِیَّ وَزُہَیْرَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ وَہُشَیْمًا وَغَیْرَہُمْ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ لَمْ یَجِیئُوا بِہَا ، إِنَّمَا جَائَ بِہَا مَنْ سَمِعَ مِنْہُ بِآخِرَۃٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَالَّذِی یُؤَکِّدُ مَا ذَہَبَ إِلَیْہِ ہَؤُلاَئِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم نقلہ فی التخریج السابق]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٥٢٩) (ا) عثمان بن سعید دارمی (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل (رح) سے اس حدیث کے بارے دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ (ب) نیز فرمایا کہ میں نے یحییٰ بن معین کو سنا وہ یزید بن ابی زیادہ کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔ (ب) ابوسعید دارمی فرماتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ کے قول ” انہم لقنوہ ہذہ الکلمۃ “ کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ سفیان ثوری، زہیر بن معاویہ، ہشیم اور ان کے علاوہ دیگر اہل علم نے اس قول کو نہیں کیا۔ یہ قول صرف اسی نے کیا ہے جس نے ان کے بعد سنا۔ (ج) شیخ فرماتے ہیں : اہل علم کا موقف بھی اس کی تائید کرتا ہے۔

2530

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2530

Sahih

(۲۵۳۰) مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ بِمَکَّۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ۔ قَالَ سُفْیَانُ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْکُوفَۃَ سَمِعْتُہُ یَقُولُ: یَرْفَعُ یَدَیْہِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ ، ثُمَّ لاَ یَعُودُ۔ فَظَنَنْتُ أَنَّہُمْ لَقَّنُوہُ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ الدَّیْرَعَاقُولِیُّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ بَشَّارٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رَوَی ہَذَا الْحَدِیثَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أَخِیہِ عِیسَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْبَرَائِ قَالَ فِیہِ: ثُمَّ لاَ یَعُودُ۔ وَقِیلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْحَکَمِ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، وَقِیلَ عَنْہُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی۔ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی لاَ یُحْتَجُّ بِحَدِیثِہِ وَہُوَ أَسْوَأُ حَالاً عِنْدَ أَہْلِ الْمَعْرِفَۃِ بِالْحَدِیثِ مِنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ فَذَکَرَ فَصْلاً فِی تَضْعِیفِ حَدِیثِ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ثُمَّ قَالَ: وَلَمْ یَرْوِ ہَذَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی أَحَدٌ أَقْوَی مِنْ یَزِیدَ۔ [صحیح۔ الاقولہ ثم لم یعد وقد تقدم الکلام علیہ قریبا]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٥٣٠) (ا) براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز شروع فرماتے تو رفع یدین کرتے اور جب رکوع کا ارادہ کرتے تب بھی اور جب رکوع سے سر اٹھاتے بھی رفع یدین کرتے۔ سفیان کہتے ہیں : جب میں کوفہ آیا تو میں نے (یزید سے) یہی حدیث سنی تو انھوں نے فرمایا : جب نماز شروع کرتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے (رفع یدین کرتے تھے) ۔ پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے تو میں سمجھ گیا کہ اہل کوفہ نے ان کو سمجھایا ہے۔ (ب) شیخ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے اپنے بھائی عیسیٰ سے، انھوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور وہ براء بن عازب سے روایت کرتے ہیں۔ اس میں بھی یہی ہے کہ پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے۔

2531

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2531

Zaeef

(۲۵۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الأَحْمَسِیُّ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَاصِمٍ یَعْنِی ابْنَ کُلَیْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ: لأُصَلِّیَنَّ بِکُمْ صَلاَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فَصَلَّی فَلَمْ یَرْفَعْ یَدَیْہِ إِلاَّ مَرَّۃً وَاحِدَۃً۔ [ضعیف۔ اخرجہ الترمذی ۲۵۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٥٣١) حضرت علقمہ (رض) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : میں ضرور تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح نماز پڑھاؤں گا۔ پھر انھوں نے نماز پڑھائی تو اس میں صرف ایک مرتبہ (شروع میں) رفع یدین کیا۔

2532

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2532

Sahih

(۲۵۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الصَّلاَۃَ ، فَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدْیَہِ ، فَلَمَّا رَکَعَ طَبَّقَ یَدْیَہِ بَیْنَ رُکْبَتَیْہِ۔ قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِکَ سَعْدًا فَقَالَ: صَدَقَ أَخِی، قَدْ کُنَّا نَفْعَلُ ہَذَا ، ثُمَّ أُمِرْنَا بِہَذَا یَعْنِی الإِمْسَاکَ عَلَی الرُّکْبَتَیْنِ۔ قَالَ الشَّیْخُ: فَإِنْ کَانَ الْحَدِیثُ عَلَی مَا رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ فَقَدْ یَکُونُ عَادَ لِرَفْعِہِمَا فَلَمْ یَحْکِہِ ، وَإِنْ کَانَ عَلَی مَا رَوَاہُ الثَّوْرِیُّ فَفِی حَدِیثِ ابْنِ إِدْرِیسَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ فِی صَدْرِ الإِسْلاَمِ ، کَمَا کَانَ التَّطْبِیقُ فِی صَدْرِ الإِسْلاَمِ ، ثُمَّ سُنَّتْ بَعْدَہُ السُّنَنُ ، وَشُرِّعَتْ بَعْدَہُ الشَّرَائِعُ حَفِظَہَا مَنْ حَفِظَہَا وَأَدَّاہَا فَوَجَبَ الْمَصِیرُ إِلَیْہَا ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن خزیمہ ۵۹۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٥٣٢) (ا) علقمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ (بن مسعود (رض) ) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز سکھائی۔ آپ نے تکبیر کہی اور رفع یدین کیا۔ پھر جب رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر اپنے گھٹنوں کے درمیان میں لٹکا دیا۔ علقمہ کہتے ہیں : جب یہ بات سعد کے پاس پہنچی تو انھوں نے فرمایا : میرے بھائی نے سچ کہا، پہلے ہم بھی اسی طرح کرتے تھے ۔ پھر ہمیں ہاتھ گھٹنوں کے اوپر رکھنے کا حکم دیا گیا (یعنی ان کو اوپر سے مضبوطی سے پکڑنے کا) ۔ شیخ فرماتے ہیں کہ اگر حدیث اس طرح ہو جس طرح عبداللہ بن ادریس نے روایت کی ہے تو اس میں رفع یدین دوبارہ کرنے کو بیان نہیں کیا گیا اور اگر اس طرح ہو جیسے ثوری نے روایت کیا ہے تو ابن ادر یس کی حدیث سے معلوم ہے کہ یہ کام اسلام کے ابتدائی دور میں تھا جیسا کہ ہاتھ گھٹنوں کے درمیان لٹکانا اسلام کے ابتدائی دور میں تھا۔ پھر اس کے بعد طریقے بدلتے رہے اور شریعت ارتقا کے منازل طے کرتی رہی (یعنی بتدریج احکام میں تبدیلی آتی رہی) ۔ جس نے ان کو یاد کرنا تھا یاد کرلیا اور ان کو آگے پہنچایا اب ان پر عمل کرنا ضروری ہوگیا۔

2533

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2533

Sahih

(۲۵۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْجَرَّاحِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَاسَوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ السُّکَّرِیُّ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ زَمْعَۃَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْمُبَارَکِ یَقُولُ: لَمْ یَثْبُتْ عِنْدِی حَدِیثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَفَعَ یَدْیَہِ أَوَّلَ مُرَّۃٍ ، ثُمَّ لَمْ یَرْجِعْ۔ وَقَدْ ثَبَتَ عِنْدِی حَدِیثُ رَفْعِ الْیَدَیْنِ ذَکَرَہُ عُبَیْدُ اللَّہِ وَمَالِکٌ وَمَعْمَرٌ وَابْنُ أَبِی حَفْصَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ قَالَ: وَأُرَاہُ وَاسِعًا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ یَرْفَعُ یَدْیَہِ فِی الصَّلاَۃِ لِکَثْرَۃِ الأَحَادِیثِ وَجَوْدَۃِ الأَسَانِیدَ۔ [صحیح۔ انظر ۲۵۳۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٥٣٣) سفیان بن عبدالملک فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے نزدیک عبداللہ بن مسعود کی حدیث کہ ” نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف پہلی مرتبہ رفع یدین کیا پھر دوبارہ نہیں کیا “ ثابت نہیں ہے اور میرے پاس تو رفع یدین کی حدیث ثابت ہے جس کو عبید اللہ، مالک، معمر اور ابن ابی حفصۃ نے زہری سے، انھوں نے سالم کے واسطے سے ابن عمر سے اور ابن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں اور میں اس میں وسعت سمجھتا ہوں۔ پھر عبداللہ بن مبارک (رح) کہنے لگے کہ احادیث کی کثرت اور ان کی اسانید کے جید ہونے کی وجہ سے میرا یہی خیال ہے۔ گویا میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز میں رفع یدین کرتے دیکھ رہا ہوں۔

2534

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2534

Zaeef

(۲۵۳۴) قَالَ الشَّیْخُ: وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ فَلَمْ یَرْفَعُوا أَیْدِیَہُمْ إِلاَّ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاَۃِ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَخْلَدٍ الضَّرِیرُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِی إِسْرَائِیلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ فَذَکَرَہُ۔ (ج) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالَ قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ: تَفَرَّدَ بِہِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ - وَکَانَ ضَعِیفًا - عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، وَغَیْرُ حَمَّادٍ یَرْوِیہِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ مُرْسَلاً عَنْ عَبْدِ اللَّہِ مِنْ فِعْلِہِ غَیْرَ مَرْفُوعٍ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ الصَّوَابُ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَکَذَلِکَ رَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مُرْسَلاً مَوْقُوفًا۔ وَرَوَی أَبُوبَکْرٍ النَّہْشَلِیُّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی التَّکْبِیرَۃِ الأُولَی مِنَ الصَّلاَۃِ ، ثُمَّ لاَ یَرْفَعُ فِی شَیْئٍ مِنْہَا۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن الجوزی فی الموضوعات ۲/۲۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٥٣٤) (ا) حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر صدیق اور عمر فاروق (رض) کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ ان سب نے صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کیا تھا۔ (ب) حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ وہ نماز میں صرف تکبیر اولیٰ کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ پھر دوبارہ اس طرح کا کوئی کام نہ کرتے تھے (یعنی بعد میں رفع یدین نہیں کرتے تھے) ۔

2535

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2535

Sahih

(۲۵۳۵) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَنْزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّہْشَلِیُّ فَذَکَرَہُ۔ قَالَ عُثْمَانُ الدَّارِمِیُّ: فَہَذَا قَدْ رُوِیَ مِنْ ہَذَا الطَّرِیقِ الْوَاہِی عَنْ عَلِیٍّ۔ وَقَدْ رَوَی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ہُرْمُزَ الأَعْرَجُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیٍّ: أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ -ﷺ- یَرْفَعُہُمَا عِنْدَ الرُّکُوعِ وَبَعْدَ مَا یَرْفَعُ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ۔ فَلَیْسَ الظَّنُّ بِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ یَخْتَارُ فِعْلَہُ عَلَی فِعْلِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ وَلَکِنْ لَیْسَ أَبُو بَکْرٍ النَّہْشَلِیُّ مِمَّنْ یُحْتَجُّ بِرِوَایَتِہِ أَوْ تَثْبُتُ بِہِ سُنَّۃٌ لَمْ یَأْتِ بِہَا غَیْرُہُ۔ قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ: وَلاَ یَثْبُتُ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ یَعْنِی مَا رَوَوْہُ عَنْہُمَا مِنْ أَنَّہُمَا کَانَا لاَ یَرْفَعَانِ أَیْدِیَہُمَا فِی شَیْئٍ مِنَ الصَّلاَۃِ إِلاَّ فِی تَکْبِیرَۃِ الاِفْتِتَاحِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَإِنَّمَا رَوَاہُ عَاصِمُ بْنُ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیٍّ۔ فَأَخَذَ بِہِ وَتَرَکَ مَا رَوَی عَاصِمٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- رَفَعَ یَدَیْہِ کَمَا رَوَی ابْنُ عُمَرَ ، وَلَوْ کَانَ ہَذَا ثَابِتًا عَنْ عَلِیٍّ وَعَبْدِ اللَّہِ کَانَ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ رَآہُمَا مَرَّۃً أَغْفَلاَ فِیہِ رَفْعَ الْیَدَیْنِ ، وَلَوْ قَالَ قَائِلٌ ذَہَبَ عَنْہُمَا حِفْظُ ذَلِکَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَحَفِظَہُ ابْنُ عُمَرَ لَکَانَتْ لَہُ الْحُجَّۃُ۔ [صحیح۔ رجالہ کلہم ثقات]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٥٣٥) (ا) ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت منقول ہے۔ (ب) ایک اور سند سے سیدنا علی (رض) سے منقول ہے کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ حضرت علی کے بارے اس طرح گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمل پر اپنے عمل کو ترجیح دیں۔ زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی (رح) اپنے قول قدیم میں فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) اور ابن مسعود (رض) کی روایات ثابت نہیں کہ وہ دونوں صرف نماز کی ابتدا میں رفع یدین کرتے تھے اس کے علاوہ نہیں کرتے تھے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صرف عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ انھوں نے اس روایت کو لے لیا لیکن جو روایت عاصم نے اپنے باپ سے اور انھوں نے وائل بن حجر (رض) سے روایت لی ہے اسے چھوڑ دیا ، یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رفع یدین کیا جیسا کہ ابن عمر (رض) نے روایت کیا ہے اور اگر یہ روایت علی اور عبداللہ بن مسعود (رض) سے ثابت بھی ہوجائے تو اس میں یہ اشتباہ بھی ہوسکتا ہے کہ انھوں نے ایک ہی بار دیکھا ہو اور رفع یدین کی طرف توجہ نہ دی ہو۔ اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ ان سے یہ یادداشت چلی گئی اور ابن عمر (رض) نے اس کو یاد رکھا ہو تو اس کے لیے حجت بن سکتی ہے۔

2536

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2536

Zaeef

(۲۵۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ حَصِینٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَی إِبْرَاہِیمَ فَحَدَّثَہُ عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ قَالَ: صَلَّیْنَا فِی مَسْجِدِ الْحَضْرَمِیِّینَ فَحَدَّثَنِی عَلْقَمَۃُ بْنُ وَائِلٍ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّہُ رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَفَعَ یَدَیْہِ حِینَ یَفْتَتِحُ الصَّلاَۃَ ، وَإِذَا رَکَعَ۔ فَقَالَ إِبْرَاہِیمُ: مَا أَرَی أَبَاہُ رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِلاَّ ذَاکَ الْیَوْمَ الْوَاحِدَ ، فَحَفِظَ ذَلِکَ ، وَعَبْدُ اللَّہِ لَمْ یَحْفَظْ ذَلِکَ مِنْہُ۔ ثُمَّ قَالَ إِبْرَاہِیمُ: إِنَّمَا رَفْعُ الْیَدَیْنِ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاَۃِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ جَرِیرٌ۔ قَالَ أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ: ہَذِہِ عِلَّۃٌ لاَ تَسْوِی سَمَاعَہَا ، لأَنَّ رَفْعَ الْیَدَیْنِ قَدْ صَحَّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- ثُمَّ عَنِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِینَ ثُمَّ عَنِ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ ، وَلَیْسَ فِی نِسْیَانِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَفْعَ الْیَدَیْنِ مَا یُوجِبُ أَنَّ ہَؤُلاَئَ الصَّحَابَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ لَمْ یَرَوْا النَّبِیَّ -ﷺ- رَفَعَ یَدَیْہِ ، قَدْ نَسِیَ ابْنُ مَسْعُودٍ مِنَ الْقُرْآنِ مَا لَمْ یَخْتَلِفِ الْمُسْلِمُونَ فِیہِ بَعْدُ ، وَہِیَ الْمُعَوِّذَتَانِ ، وَنَسِیَ مَا اتَّفَقَ الْعُلَمَائُ کُلُّہُمْ عَلَی نَسْخِہِ وَتَرْکِہِ مِنَ التَّطْبِیقِ ، وَنَسِیَ کَیْفِیَّۃِ قِیَامِ اثْنَیْنِ خَلْفَ الإِمَامَ ، وَنَسِیَ مَا لَمْ یَخْتَلِفِ الْعُلَمَائُ فِیہِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- صَلَّی الصُّبْحَ یَوْمَ النَّحْرِ فِی وَقْتِہَا ، وَنَسِیَ کَیْفِیَّۃَ جَمْعِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِعَرَفَۃَ ، وَنَسِیَ مَا لَمْ یَخْتَلِفِ الْعُلَمَائُ فِیہِ مِنْ وَضْعِ الْمِرْفَقِ وَالسَّاعِدِ عَلَی الأَرْضِ فِی السُّجُودِ ، وَنَسِیَ کَیْفَ کَانَ یَقْرَأُ النَّبِیُّ -ﷺ- {وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالأُنْثَی} [اللیل: ۳] وَإِذَا جَازَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ أَنْ یَنْسَی مِثْلَ ہَذَا فِی الصَّلاَۃِ خَاصَّۃً کَیْفَ لاَ یَجُوزُ مِثْلُہُ فِی رَفْعِ الْیَدَیْنِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الدار قطنی ۱/ ۲۹۱/ ۱۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٥٣٦) (ا) حصین بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ہم ابراہیم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عمرو بن مرۃ نے انھیں بیان کیا کہ ہم نے مسجدخضر میں نماز پڑھی تو علقمہ بن وائل نے مجھے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھایا (یعنی رفع یدین) کیا اور جب رکوع کیا تب بھی رفع یدین کیا۔ ابراہیم نے کہا : میں نہیں سمجھتا (خیال کرتا) کہ علقمہ کے والد (وائل) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس دن کے علاوہ کسی اور دن دیکھا ہو ، پس انھوں نے وہی یاد کرلیا اور عبداللہ (رض) نے ان سے اس کو یاد نہیں کیا ، پھر ابراہیم نے کہہ دیا کہ رفع یدین تو صرف نماز شروع کرنے کے وقت ہے۔ (ب) ابوبکر بن اسحق فقیہ فرماتے ہیں کہ یہ ایسی علت ہے جو اپنے سماع کو نہیں پہنچ سکتی؛ کیونکہ رفع یدین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے۔ اس کے بعد خلفائے راشدین سے، پھر صحابہ اور تابعین سے بھی ثابت ہے اور عبداللہ بن مسعود (رض) کے نسیان میں صرف رفع یدین ہی نہیں ہے کہ جس کو دوسرے صحابہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کرتے دیکھا، بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی باتیں ابن مسعود (رض) بھول گئے تھے۔ جیسا کہ آپ (رض) قرآن سے وہ چیز بھول گئے جس میں مسلمانوں نے کبھی اختلاف نہیں کیا اور وہ معوذتین ہیں۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اس میں نسیان کا شکار ہوئے جس کے منسوخ اور متروک ہونے پر تمام علما کا اتفاق ہے یعنی تطبیق کرنے سے اور امام کے پیچھے دو آدمیوں کے کھڑے ہونے کی کیفیت میں نیز اس مسئلہ میں بھی انھیں نسیان ہوا، جس کے بارے میں علما میں کوئی اختلاف نہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عید الاضحی کے روز صبح کی نماز اپنے وقت پر ہی پڑھی۔ اسی طرح آپ (رض) عرفہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جمع ہونے کی کیفیت میں بھی نسیان کا شکار ہوئے۔ آپ اس اتفافی مسئلہ کو بھی بھول گئے کہ نماز میں سجدے کی حالت میں کہنیوں اور بازوؤں کو زمین سے جدا رکھتے ہیں اور یہ بھی بھول گئے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس طرح { وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالأُنْثَی } [اللیل : ٣] پڑھتے تھے اور جب سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) ، درست ہے کہ وہ نماز میں اس طرح بھولے ہیں تو ممکن ہے رفع یدین بھی بھول گئے ہوں۔

2537

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2537

Sahih

(۲۵۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قُلْتُ لِلشَّافِعِیِّ: مَا مَعْنَی رَفْعِ الْیَدَیْنِ عِنْدَ الرُّکُوعِ؟ فَقَالَ: مِثْلُ مَعْنَی رَفْعِہِمَا عِنْدَ الاِفْتِتَاحِ ، تَعْظِیمًا لِلَّہِ وَسُنَّۃً مُتَّبَعَۃً یُرْجَی فِیہَا ثُوَابُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِثْلُ رَفْعِ الْیَدَیْنِ عَلَی الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَغَیْرِہِمَا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٥٣٧) ربیع بن سلمان فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی (رض) سے پوچھا کہ رکوع کے وقت رفع یدین کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا : ابتدائے نماز میں ان کو اٹھانے کا جو معنی ہے وہی اس سے مقصود ہے۔ (پھر فرمایا :) اس میں اللہ کی عظمت کا اظہار اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کی اتباع ہے اور اللہ کی طرف سے ثواب کی امید بھی ہے اور یہ صفا مروہ پر ہاتھ اٹھانے کی طرح ہے۔

2538

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2538

Zaeef

(۲۵۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِیمٍ الصَّائِغُ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو نَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْخَطَّابِ السُّلَمِیُّ وَکَانَ رَجُلاً صَالِحًا قَالَ أَخْبَرَنِی عَلِیُّ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ: صَلَّیْتُ فِی مَسْجِدِ الْکُوفَۃِ ، فَإِذَا أَبُو حَنِیفَۃَ قَائِمٌ یُصَلِّی ، وَابْنُ الْمُبَارَکِ إِلَی جَنْبِہِ یُصَلِّی ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّہِ یَرْفَعُ یَدَیْہِ کُلَّمَا رَکَعَ وَکُلَّمَا رَفَعَ ، وَأَبُو حَنِیفَۃَ لاَ یَرْفَعُ ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنَ الصَّلاَۃِ قَالَ أَبُو حَنِیفَۃَ لِعَبْدِ اللَّہِ: یَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ رَأَیْتُکَ تُکْثِرُ رَفْعَ الْیَدَیْنِ أَرَدْتَ أَنْ تَطِیرَ؟ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ: یَا أَبَا حَنِیفَۃَ قَدْ رَأَیْتُکَ تَرْفَعُ یَدَیْکَ حِینَ افْتَتَحْتَ الصَّلاَۃَ ، فَأَرَدْتَ أَنْ تَطِیرَ؟ فَسَکَتَ أَبُو حَنِیفَۃَ۔ قَالَ وَکِیعٌ: فَمَا رَأَیْتُ جَوَابًا أَحْضَرَ مِنْ جَوَابِ عَبْدِ اللَّہِ لأَبِی حَنِیفَۃَ۔ [ضعیف جدا]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٥٣٨) وکیع فرماتے ہیں کہ میں نے کوفہ کی مسجد میں نماز ادا کی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، لیکن رفع یدین نہیں کر رہے۔ جب کہ عبداللہ بن مبارک (رح) ان کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے۔ عبداللہ (رح) جب بھی رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے اور ابوحنیفہ (رح) نہیں کر رہے تھے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو امام ابوحنیفہ (رح) نے عبداللہ (رح) سے فرمایا : اے ابوعبدالرحمن ! میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو اتنا زیادہ رفع یدین کرتا ہے گویا اڑنے لگا ہے تو عبداللہ بن مبارک (رح) نے جواب دیا : اے ابوحنیفہ ! میں نے آپ کو دیکھا، آپ نے نماز کے شروع میں رفع یدین کیا، کیا آپ اس وقت اڑنا چاہتے تھے ؟ ابوحنیفہ (رح) یہ سن کر خاموش ہوگئے۔ وکیع (رح) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ (رح) کو ابوحنیفہ (رح) کے سامنے حاضر جوابی سے زیادہ کسی کی حاضر جوابی نہیں دیکھی۔

2539

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2539

Zaeef

(۲۵۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو سَعِیدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمَیْحٍ حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمَرْوَزِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدٍ الطَّبَرِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَکُونِیُّ قَالَ سَمِعْتُ سُفْیَانَ بْنَ عُیَیْنَۃَ یَقُولُ: اجْتَمَعَ الأَوْزَاعِیُّ وَالثَّوْرِیُّ بِمِنًی ، فَقَالَ الأَوْزَاعِیُّ لِلثَّوْرِیِّ: لِمَ لاَ تَرْفَعُ یَدَیْکَ فِی خَفَضِ الرُّکُوعِ وَرَفْعِہِ؟ فَقَالَ الثَّوْرِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ۔ فَقَالَ الأَوْزَاعِیُّ: أَرْوِی لَکَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَتُعَارِضُنِی بِیَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، وَیَزِیدُ رَجُلٌ ضَعِیفُ الْحَدِیثِ ، وَحَدِیثُہُ مُخَالِفٌ لِلسُّنَّۃِ۔ قَالَ: فَاحْمَارَّ وَجْہُ سُفْیَانَ الثَّوْرِیَّ ، فَقَالَ الأَوْزَاعِیُّ: کَأَنَّکَ کَرِہْتَ مَا قُلْتُ؟ قَالَ الثَّوْرِیُّ: نَعَمْ۔ قَالَ الأَوْزَاعِیُّ: قُمْ بِنَا إِلَی الْمَقَامِ نَلْتَعِنُ أَیُّنَا عَلَی الْحَقِّ۔ قَالَ: فَتَبَسَّمَ الثَّوْرِیُّ لَمَّا رَأَی الأَوْزَاعِیَّ قَدِ احْتَدَّ۔ [موضوع الشاذ۔ کوفی کذا بان]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٥٣٩) سلیمان بن داؤد شاذ کونی فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان بن عیینہ (رح) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ امام اوزاعی اور سفیان ثوری ; منیٰ میں اکٹھے ہوئے تو اوزاعی نے ثوری سے کہا : آپ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کیوں نہیں کرتے ؟ ثوری نے کہا کہ ہمیں یزید بن ابی زیاد نے حدیث بیان کی ہے تو امام اوزاعی نے فرمایا : میں تجھے زہری عن سالم عن ابیہ عن النبی سے روایت بیان کرتا ہوں اور تو میرے سامنے یزید بن ابی یزید کی حدیث بیان کرتا ہے، حالانکہ یزید ضعیف راوی ہے اور اس کی حدیث سنت کے مخالف ہے ؟ راوی فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری کا چہرہ سرخ ہوگیا تو اوزاعی نے کہا : لگتا ہے آپ کو میری بات بری لگی ہے ؟ تو ثوری نے کہا : جی ہاں ! اوزاعی نے کہا : ہمارے ساتھ اس جگہ کھڑے ہوجاؤ، ہم ایک دوسرے پر لعنت کریں کہ ہم میں سے کون حق پر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ثوری نے جب دیکھا کہ اوزاعی غصہ ہوگئے ہیں تو وہ مسکرانے لگے۔

2540

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2540

Zaeef

(۲۵۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَرْذَعِیُّ بِبُخَارَی أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ حَمْدَوَیْہَ الإِشْتَیْخِنِی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدٍ الطَّبَرِیُّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَی رِوَایَۃِ الْمَرْوَزِیِّ۔ [موضوع۔ الطبری کذاب]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٥٤٠) ایک دوسری سند سے اس کے ہم معنی روایت بھی موجود ہے۔