Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 423

نماز کا بیان

عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کی کراہت کا بیان

11 hadiths in this chapter

2087

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2087

Sahih

(۲۰۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِیبٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِی مُزَاحِمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَ یَقُولُ: صَلَّیْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ الظُّہْرَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ فَوَجَدْنَاہُ یُصَلِّی الْعَصْرَ فَقُلْتُ: یَا عَمِّ ما ہَذِہِ الصَّلاَۃُ الَّتِی صَلَّیْتَ؟ قَالَ: الْعَصْرُ وَہَذِہِ صَلاَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الَّتِی کُنَّا نُصَلِّی مَعَہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِی مُزَاحِمٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٨٧) حضرت ابو امامہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کی ، پھر ہم (مسجد سے) نکلے اور حضرت انس بن مالک (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے آپ (رض) کو دیکھا کہ عصر کی نماز ادا کر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا : (چچا جان ! ) یہ کونسی نماز ہے، جو آپ اس وقت ادا کر رہے ہیں ؟ کہنے لگے : یہ عصر کی نماز ہے اور یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے۔

2088

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2088

Sahih

(۲۰۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّہُ دَخَلَ عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِی دَارِہِ بِالْبَصْرَۃِ حِینَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّہْرِ - قَالَ وَدَارُہُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ قَالَ - فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَیْہِ قَالَ: أَصَلَّیْتُمُ الْعَصْرَ؟ قُلْنَا: إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَۃَ مِنَ الظُّہْرِ۔ قَالَ: فَصَلُّوا الْعَصْرَ۔ قَالَ: فَقُمْنَا فَصَلَّیْنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: تِلْکَ صَلاَۃُ الْمُنَافِقِ ، یَجْلِسُ یَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّی إِذَا کَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ قَامَ فَنَقَرَہَا أَرْبَعًا ، لاَ یَذْکُرُ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ فِیہَا إِلاَّ قَلِیلاً ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی الرَّبِیعِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۲۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٨٨) علاء بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ وہ ظہر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت انس بن مالک (رض) کے گھر تشریف لے گئے۔ آپ (رض) کا گھر مسجد کے قریب ہی تھا۔ جب ہم ان کے پاس حاضر ہوئے تو انھوں نے پوچھا : کیا تم نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے ؟ ہم نے کہا کہ ہم تو ابھی ظہر کی ادائیگی سے فارغ ہوئے ہیں۔ یہ سن کر آپ (رض) فرمانے لگے : چلو عصر کی نماز پڑھو۔ چنانچہ ہم کھڑے ہوئے اور عصر کی نماز ادا کی۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو انس بن مالک (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ منافق کی نماز ہے کہ وہ بیٹھا سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے تو وہ کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں (سجدے) لگاتا ہے اور اس میں بھی اللہ کا ذکر کم ہی کرتا ہے۔

2089

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2089

Sahih

(۲۰۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ بَعْدَ الظُّہْرِ ، فَقَامَ یُصَلِّی الْعَصْرَ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِہِ ذَکَرْنَا تَعْجِیلَ الصَّلاَۃِ أَوْ ذَکَرَہَا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((تِلْکَ صَلاَۃُ الْمُنَافِقِینَ تِلْکَ صَلاَۃُ الْمُنَافِقِینَ تِلْکَ صَلاَۃُ الْمُنَافِقِینَ ، یَجْلِسُ أَحَدُہُمْ حَتَّی إِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ فَکَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ أَوْ عَلَی قَرْنَیْ شَیْطَانٍ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا ، لاَ یَذْکُرُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہَا إِلاَّ قَلِیلاً ))۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۴۱۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٨٩) علاء بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ہم ظہر کے بعد انس بن مالک (رض) کے پاس پہنچے تو وہ عصر کی نماز ادا کر رہے تھے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے نماز جلدی ادا کرنے کا ذکر کیا یا انھوں نے خود ہی پوچھا۔ پھر فرمانے لگے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ منافقوں کی نماز ہے (تین بار فرمایا) ۔ ان میں سے کوئی بیٹھا (انتظار کرتا) رہتا ہے حتیٰ کہ جب سورج زرد ہوجاتا ہے اور وہ (سورج) شیطان کے دو سینگوں کے درمیان یا شیطان کے دو سینگوں پر ہوتا ہے تو یہ اٹھ کر چار ٹھونگیں مارتا ہے اور ان میں بھی اللہ کا ذکر بہت کم کرتا ہے۔

2090

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2090

Sahih

(۲۰۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی طَاہِرٍ الدَّقَاقُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ أَیُّوبَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ أَبِی عَبْدِاللَّہِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ قَالَ: کُنَّا مَعَ بُرَیْدَۃَ فِی غَزْوَۃٍ فِی یَوْمٍ ذِی غَیْمٍ فَقَالَ: بَکِّرُوا بِصَلاَۃِ الْعَصْرِ، فَإِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ: ((مَنْ تَرَکَ صَلاَۃَ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُہُ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ وَخَالَفَہُ الأَوْزَاعِیُّ فِی إِسْنَادِہِ وَمَتْنِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۶۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٩٠) ابو ملیح سے روایت ہے کہ ہم حضرت بریدہ (رض) کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے ۔ اس دن آسمان پر بادل چھائے تھے۔ انھوں نے فرمایا : عصر کی نماز جلدی ادا کرو، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے عصر کی نماز چھوڑی اس کا عمل ضائع ہوگیا۔

2091

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2091

Hasan

(۲۰۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحُسَیْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْہَانَ الْغَزَّالُ وَأَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ وَغَیْرُہُمَا بِبَغْدَادَ قَالُوا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ السَّبِیعِیُّ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَاجِرِ عَنْ بُرَیْدَۃَ الأَسْلَمِیِّ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی بَعْضِ غَزَوَاتِہِ فَقَالَ: ((بَکِّرُوا بِالصَّلاَۃِ فِی الْیَوْمِ الْغَیْمِ ، فَإِنَّہُ مَنْ تَرَکَ صَلاَۃَ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُہُ))۔ [شاذ۔ اخرجہ احمد ۵/۳۶۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٩١) بریدہ اسلمی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غزوے میں شریک تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بادلوں والے دن عصر کی نماز جلدی ادا کرو؛ کیونکہ (موسم کی خرابی سے وقت گزرنے کا پتہ نہ چلے گا اور) جس نے عصر کی نماز ترک کردی اس کے عمل ضائع ہوگئے۔

2092

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2092

Sahih

(۲۰۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((الَّذِی تَفُوتُہُ صَلاَۃُ الْعَصْرِ کَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٩٢) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوگئی وہ ایسا ہے گویا اس کا مال و اولاد چھن گیا ہو۔

2093

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2093

Sahih

(۲۰۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ مُنِیبٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- فِی: الَّذِی تَفُوتُہُ صَلاَۃُ الْعَصْرِ ((کَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ))۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٩٣) سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کے بارے میں فرمایا، جس کی عصر کی نماز رہ جائے کہ (وہ ایسا ہے) گویا اس کے گھر والے اور مال ومتاع کو لوٹ لیا گیا ہو۔

2094

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2094

Sahih

(۲۰۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِیدٍ الدَّارِمِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ الْمَدِینِیِّ یَقُولُ فِی حَدِیثِ سُفْیَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((مَنْ فَاتَہُ الْعَصْرُ فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ))۔ قَالَ عَلِیٌّ قُلْتُ لِسُفْیَانَ: فَإِنَّ ابْنَ أَبِی ذِئْبٍ یُسْنِدُہُ عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ سَمِعَ النَّبِیَّ -ﷺ-۔ فَقَالَ: سَمِعْتُہُ مِنْہُ وَوَعَاہُ قَلْبِی وَحَفِظْتُہُ کَمَا أَنَّکَ ہَا ہُنَا عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ سُفْیَانَ وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ کَذَلِکَ۔ (ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مَعْمَرٌ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٩٤) عثمان بن سعید دارمی فرماتے ہیں کہ میں نے علی بن مدینی کو اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا جو سفیان زہری سے ، وہ سالم سے اور سالم اپنے والد سے اور وہ رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ جس کی عصر کی نماز فوت ہوجائے وہ ایسا ہے گویا اس کے گھر والے اور مال ومتاع کو لوٹ لیا گیا ہو۔ (ب) علی کہتے ہیں : میں نے سفیان سے کہا کہ ابن ابی ذئب اس حدیث کی سند نوفل بن معاویہ سے بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا۔ پھر کہتے ہیں کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، میرے دل نے اسے سمجھا اور میں نے یاد کیا، جس طرح آپ یہاں سالم عن ابیہ والی روایت بیان کرتے ہیں۔

2095

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2095

Zaeef

(۲۰۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الدِّیلِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ فَاتَتْہُ الصَّلاَۃُ فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ))۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ فَقُلْتُ: یَا أَبَا بَکْرٍ أَتَدْرِی أَیَّۃُ صَلاَۃٍ ہِیَ؟ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: إِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ فَاتَتْہُ صَلاَۃُ الْعَصْرِ فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ))۔ وَرَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ وَقَالَ فِی آخِرِہِ قَالَ الزُّہْرِیُّ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِسَالِمٍ فَقَالَ حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((مَنْ تَرَکَ صَلاَۃَ الْعَصْرِ))۔ وَقَدْ رَوَی صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُطِیعِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ مِثْلَ حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَعْنِی عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْفِتَنِ إِلاَّ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ یَزِیدُ فِیہِ: ((وَمِنَ الصَّلاَۃِ صَلاَۃٌ مَنْ فَاتَتْہُ فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ))۔ وَہُوَ مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ وَالْحَدِیثُ مَحْفُوظٌ عَنْہُمَا جَمِیعًا۔ وَرَوَاہُ عِرَاکُ بْنُ مَالِکٍ عَنْہُمَا مَعًا نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ إِمَّا بَلاَغًا أَوْ سَمَاعًا۔ [اخرجہ احمدہ ۵/۴۲۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٩٥) (ا) نوفل بن معاویہ دیلمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس آدمی کی نماز فوت ہوجائے وہ ایسا ہے گویا اس کا گھر بار لٹ گیا ہو۔ ابن شہاب کہتے ہیں : میں نے کہا : اے ابوبکر ! کیا آپ جانتے ہیں وہ کون سی نماز ہے ؟ تو ابن شہاب کہنے لگے کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس آدمی کی عصر کی نماز فوت ہوجائے گویا اس کا گھر بار (مال و اولاد) لوٹ لیا گیا ہو۔ (ب) زہری کہتے ہیں : میں نے یہ سالم سے ذکر کیا تو انھوں نے کہا : میرے باپ نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے عصر کی نماز چھوڑی۔۔۔ (ج) حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث اسی طرح ہے ، یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فتنوں کے بارے میں روایت ہے مگر ابوبکر نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ایک نماز ایسی ہے جو اس کو فوت کر دے وہ ایسا ہے گویا اس کا گھر بار لٹ گیا ہو۔

2096

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2096

Sahih

(۲۰۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَتَبَ إِلَی أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ: أَنْ صَلِّ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ قَدْرَ مَا یَسِیرُ الرَّاکِبُ ثَلاَثَۃَ فَرَاسِخَ ، وَأَنْ صَلِّ الْعَتَمَۃَ مَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ ثُلُثِ اللَّیْلِ ، فَإِنْ أَخَّرْتَ فَإِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ وَلاَ تَکُنْ مِنَ الْغَافِلِینَ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ إِلَی عُمَّالِہِ: إِنَّ أَہَمَّ أَمْرِکُمْ عِنْدِی الصَّلاَۃُ ، مَنْ حَفِظَہَا أَوْ حَافَظَ عَلَیْہَا حَفِظَ دِینَہُ ، وَمَنْ ضَیَّعَہَا فَہُوَ لِمَا سِوَاہَا أَضْیَعُ ، ثُمَّ کَتَبَ: أَنْ صَلُّوا الظُّہْرَ إِذَا کَانَ الْفَیْئُ ذِرَاعًا إِلَی أَنْ یَکُونَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ قَدْرَ مَا یَسِیرُ الرَّاکِبُ فَرْسَخَیْنِ أَوْ ثَلاَثَۃً وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، وَالْعِشَائَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ ، فَمَنْ نَامَ فَلاَ نَامَتْ عَیْنُہُ ، فَمَنْ نَامَ فَلاَ نَامَتْ عَیْنُہُ فَمَنْ نَامَ فَلاَ نَامَتْ عَیْنُہُ ، وَالصُّبْحَ وَالنُّجُومُ بَادِیَۃٌ مُشْتَبِکَۃٌ ، فَمَنْ نَامَ فَلاَ نَامَتْ عَیْنُہُ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ مالک ۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٩٦) ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی طرف خط لکھا کہ ” عصر کی نماز ایسے وقت میں پڑھو جب سورج سفید اور روشن ہو اور پیدل چلنے والا تین فرسخ کا سفر طے کرلے اور عشا کی نماز تہائی رات کو پڑھو۔ اگر موخر کرو تو آدھی رات تک موخر کرلینا لیکن غافلوں میں سے نہ ہونا۔ راوی فرماتے ہیں کہ ہمیں مالک نے عبداللہ بن عمر (رض) کے آزاد کردہ غلام نافع کے واسطے سے حدیث بیان کی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ تمہارے معاملات اور امور میں سے سب سے اہم فریضہ میرے نزدیک نماز ہے۔ جس نے اس پر محافظت کی تو اس نے اپنا دین بچا لیا اور جس نے اس کو ضائع کیا تو وہ اس کے علاوہ دوسرے امور کو زیادہ ضائع کرنے والا ہے۔ پھر لکھا کہ ظہر کی نماز کو اس وقت ادا کرو جب سایہ ایک بازو سے ایک مثل تک ہو اور عصر کا وقت اس وقت ہے جب سورج بالکل سفید چمک رہا ہو (غروب آفتاب میں اتنا فاصلہ ہو کہ آدمی دو یا تین فرسخ طے کرلے) اور مغرب کا وقت جب سورج غروب ہو اور عشا کا وقت سفیدی غائب ہونے سے تہائی رات تک ہے، (یعنی ان اوقات میں نمازوں کو ادا کرلیا کرو) اور جو سو جائے تو اس کی آنکھ نہ سوئے۔ تین بار فرمایا اور صبح کی نماز ایسے وقت میں ادا کرو کہ ستارے ابھی ظاہر ہوں اور جو سو جائے اس آنکھ نہ سونے پائے۔

2097

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2097

Zaeef

(۲۰۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ لاَحِقٍ قَالَ حَدَّثَتْنِی تَمِیمَۃُ بِنْتُ سَلَمَۃَ: أَنَّہَا أَتَتْ عَائِشَۃَ فِی نِسْوَۃٍ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ فَقُلْنَا: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ نَسْأَلُکِ عَنْ مَوَاقِیتِ الصَّلَوَاتِ۔ قَالَتِ: اجْلِسْنَ فَجَلَسْنَا ، فَلَمَّا کَانَتِ السَّاعَۃُ الَّتِی تَدْعُونَہَا نِصْفَ النَّہَارِ قَامَتْ ، فَصَلَّتْ بِنَا وَہِیَ قَائِمَۃٌ وَسَطَنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَتْ قُلْتُ لَہَا: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّا نَدْعُو ہَذِہِ فِی بِلاَدِنَا نِصْفَ النَّہَارِ۔ قَالَتْ: ہَذِہِ صَلاَتُنَا آلَ مُحَمَّدٍ -ﷺ- ثُمَّ جَلَسْنَا ، فَلَمَّا کَانَتِ السَّاعَۃُ الَّتِی تَدْعُونَہَا بَیْنَ الصَّلاَتَیْنِ صَلَّتْ بِنَا الْعَصْرَ ، فَقُلْنَا لَہَا: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّا نَدْعُو ہَذِہِ فِی بِلاَدِنَا بَیْنَ الصَّلاَتَیْنِ۔ قَالَتْ: ہَذِہِ صَلاَتُنَا آلَ مُحَمَّدٍ -ﷺ- إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لاَ نُصَلِّی الصَّفْرَائَ ۔ قَالَتْ: ثُمَّ جَلَسْنَا ، فَلَوْ کَانَ غَیْرُ عَائِشَۃَ لَظَنَنَّا أَنَّہَا قَدْ صَلَّتِ الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنَ تَجِبَ ، وَلَکِنْ قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ عَائِشَۃَ لاَ تُصَلِّی إِلاَّ عِنْدَ الْوَقْتِ حِینَ وَجَبَتْ ، وَجَہَرَتْ بِالْقِرَائَ ۃِ فِی الْمَغْرِبِ ، وَاسْتَأْذَنَ عَلَیْہَا نِسْوَۃٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ فَقَالَتْ: لاَ تَأْذَنِی لَہُنَّ صَوَاحِبَ الْحَمَّامَاتِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٩٧) زیاد بن لاحق سے روایت ہے کہ مجھے تمیمہ بنت سلمہ نے بتلایا کہ وہ اہل کوفہ کی عورتوں کے ہمراہ سیدہ عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ ہم نے عرض کیا : اے ام المومنین ! ہم آپ سے اوقات نماز کے بارے پوچھنا چاہتی ہیں۔ آپ نے فرمایا : بیٹھ جاؤ۔ ہم بیٹھ گئیں۔ جب دوپہر کا وقت ہوا تو سیدہ عائشہ (رض) کھڑی ہوئیں۔ انھوں نے ہمیں نماز پڑھائی۔ وہ ہماری صف کے درمیان کھڑی ہوئیں۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئیں تو میں نے عرض کیا : اے ام المومنین ! ہمارے ہاں اس وقت کو دوپہر کہتے ہیں تو انھوں نے فرمایا کہ یہ ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز ہے۔ پھر ہم بیٹھ گئیں، پھر جب سہ پہر کا وقت ہوا تو انھوں نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی۔ ہم نے کہا : اے ام المومنین ! ہمارے شہروں میں اس وقت کو سہ پہر کہتے ہیں۔ وہ فرمانے لگیں : یہ ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز ہے اور ہم سورج زرد ہونے کے بعد نماز نہیں پڑھتے۔ ہم پھر بیٹھ گئیں۔ اگر عائشہ (رض) کے علاوہ کوئی اور ہوتیں تو شاید ہم یقین کرلیتیں کہ وہ مغرب کی نماز غروب آفتاب سے پہلے ہی پڑھا دیں گی۔ لیکن ہمیں معلوم ہوگیا کہ حضرت عائشہ (رض) نے اسی وقت نماز پڑھی جب وقت ہوا ( غروب آفتاب کے بعد) اور مغرب میں قرا ئت بھی جہری کی۔ ان سے اہل شام کی کچھ عورتوں نے (اندر آنے کی) اجازت طلب کی تو عائشہ (رض) نے فرمایا : ان کبوتروں والیوں کو اجازت نہ دینا۔