Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 18 · Chapter 2371

رہن کا بیان

رہن کی ضمانت ہوتی ہے

15 hadiths in this chapter

11227

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11227

Zaeef

(۱۱۲۲۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ حِسَابٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : لاَ یَغْلَقُ الرَّہْنُ ۔ قُلْتُ لَہُ : أَرَأَیْتَکَ قَوْلَکَ لاَ یَغْلَقُ الرَّہْنُ أَہُوَ الرَّجُلُ یَقُولُ إِنْ لَمْ آتِکَ بِمَالِکَ فَہَذَا الرَّہْنُ لَکَ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ وَبَلَغَنِی عَنْہُ بَعْدُ أَنَّہُ قَالَ : إِنْ ہَلَکَ لَمْ یَذْہَبْ حَقُّ ہَذَا إِنَّمَا ہَلَکَ مِنْ رَبِّ الرَّہْنِ لَہُ غُنْمُہُ وَعَلَیْہِ غُرْمُہُ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٢٢) حضرت سعید بن مسیب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گروی رکھی گئی چیز روکی نہ جائے ۔ حضرت سعید بن مسیب (رض) کہتے ہیں : میں نے کہا : مجھے بتایئے ! کیا آپ کے فرمان کا یہ مطلب ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اگر میں تجھے تیرا مال واپس نہ کروں تو یہ چیز تیری ہوگی ؟ آپ نے جواب دیا : ہاں ۔ انھوں نے کہا : پھر مجھے معلوم پڑا کہ انھوں نے یہ کہا ہے : اگر وہ چیز ہلاک ہوجائے تو اس کا یہ حق ختم نہیں ہوگا یہ تو رہن رکھنے والے کا نقصان ہوگا کیونکہ نفع بھی اس کا ہوتا ہے اور نقصان بھی اس کا ہوتا ہے۔

11228

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11228

Zaeef

(۱۱۲۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ الْحَنَفِیُّ بِہَرَاۃَ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِدْرِیسَ بْنِ خُرِّمٍ الأَنْصَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی الشَّوَارِبِ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التُّسْتَرِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالَ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الرَّہْنُ بِمَا فِیہِ ۔ قَالَ أَبُو حَازِمٍ تَفَرَّدَ بِہِ حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْکِرْمَانِیُّ قَالَ الشَّیْخُ وَہُوَ مُنْقَطِعٌ بَیْنَ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٢٣) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہن اس چیز کے بدلے میں ہوتی ہے جس کے لیے وہ رکھی جائے، یعنی اگر وہ چیز گروی لینے والے کے پاس تباہ ہوجائے تو یہ اس کے مال کے بدلے میں ہوجائے گی۔

11229

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11229

Sahih

(۱۱۲۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا السَّاجِیُّ قَالَ سَمِعْتُ إِسْمَاعِیلَ بْنَ أَبِی عَبَّادٍ الذَّارِعَ یَقُولُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : الرَّہْنُ بِمَا فِیہِ ۔ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ وَأَبُو عَبَّادٍ اسْمُہُ أُمَیَّۃُ بَصْرِیٌّ قَالَہُ زَکَرِیَّا السَّاجِیُّ۔ قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ قِیلَ إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُمَیَّۃَ الذَّارَعُ وَقِیلَ عَنْہُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوعًا۔ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیُّ : إِسْمَاعِیلُ ہَذَا یَضَعُ الْحَدِیثَ وَہَذَا لاَ یَصِحُّ أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ عَنْہُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ۔وَالأَصْلُ فِی ہَذَا الْبَابِ حَدِیثٌ مُرْسَلٌ وَفِیہِ مِنَ الْوَہَنِ مَا فِیہِ

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٢٤) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہن اسی چیز کے بدلے میں ہے جس کے لیے وہ رکھی جائے۔ شیخ فرماتے ہیں : کہا گیا ہے کہ اسماعیل بن امیہ ذراع تھا۔ اسی طرح ایک اور روایت اس سے نقل کی گئی ہے اس سند سے عن سعید بن راشدبن حمید عن انس۔ یہ مرفوع روایت ہے۔ ابو الحسن دار قطنی فرماتے ہیں کہ اسماعیل حدیثیں وضع کرتا تھا اور یہ حدیث درست نہیں ہے۔

11230

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11230

Zaeef

(۱۱۲۲۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنْا ابْنُ مُبَارَکٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائَ یُحَدِّثُ : أَنَّ رَجُلاً رَہَنَ فَرَسًا فَنَفَقَ فِی یَدِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِلْمُرْتَہَنِ : ذَہَبَ حَقُّہُ ۔وَقَدْ کَفَانَا الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ بَیَانَ وَہَنِ ہَذَا الْحَدِیثِ وَذَلِکَ فِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتَہُ عَنْہُ أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ حَدَّثَہُمْ قَالَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : زَعَمَ الْحَسَنُ کَذَا ثُمَّ حَکَی ہَذَا الْقَوْلَ۔ قَالَ إِبْرَاہِیمُ : کَانَ عَطَاء ٌ یَتَعَجَّبُ مِمَّا رَوَی الْحَسَنُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَأَخْبَرَنِیہِ غَیْرُ وَاحِدٍ عَنْ مُصْعَبٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ الْحَسَنِ وَأَخْبَرَنِی مَنْ أَثِقُ بِہِ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ رَوَاہُ عَنْ مُصْعَبٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَسَکَتَ عَنِ الْحَسَنِ فَقُلْتُ لَہُ أَصْحَابُ مُصْعَبٍ یَرْوُونَہُ عَنْ عَطَائٍ عَنِ الْحَسَنِ فَقَالَ : نَعَمْ کَذَلِکَ حَدَّثَنَا وَلَکِنْ عَطَاء ٌ مُرْسَلاً أَنْفَقُ مِنَ الْحَسَنِ مُرْسَلاً۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَمِمَّا یَدُلُّکَ عَلَی وَہَنِ ہَذَا عِنْدَ عَطَائٍ إِنْ کَانَ رَوَاہُ أَنَّ عَطَائً یُفْتِی بِخِلاَفِہِ وَیَقُولُ فِیہِ بِخِلاَفِ ہَذَا کُلِّہُ یَقُولُ فِیمَا ظَہَرَ ہَلاَکُہُ أَمَانَۃٌ وَفِیمَا خَفِیَ ہَلاَکُہُ یَتَرَادَّانِ الْفَضْلَ وَہَذَا أَثْبَتُ الرِّوَایَۃ عَنْہُ وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ یَتَرَادَّانِ مُطْلَقَۃً وَمَا شَکَکْنَا فِیہِ فَلاَ نَشُکُّ أَنَّ عَطَائً إِنْ شَائَ اللَّہُ لاَ یَرْوِی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُثْبِتًا عِنْدَہُ وَیَقُولُ بِخِلاَفِہِ مَعَ إِنِّی لَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا یَرْوِی ہَذَا عَنْ عَطَائٍ یَرْفَعُہُ إِلاَّ مُصْعَبًا وَالَّذِی رَوَی عَنْ عَطَائً رَفَعَہُ مُوَافِقٌ قَوْلَ شُرَیْحٍ : إَنَّ الرَّہْنَ بِمَا فِیہِ وَقَدْ یَکُونُ الْفَرَسُ أَکْثَرَ مِمَّا فِیہِ مِنَ الْحَقِّ وَمِثْلَہُ وَأَقَلَّ فَلَمْ یُرْوَ أَنَّہُ سَأَلَہُ عَنْ قِیمَۃِ الْفَرَسِ۔قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ ذَلِکَ عَنْ غَیْرِہِ عَنْ عَطَائٍ یَرْفَعُہُ الرَّہْنُ بِمَا فِیہِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٢٥) حضرت مصعب بن ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی نے گھوڑا گروی رکھا تو وہ مرگیا ۔ آپ نے اس شخص کو جس کے پاس گھوڑا گروی تھا ۔ کہا : اب تیرا حق ختم ہوگیا ہے۔ امام شافعی نے اس حدیث کی کمزوریاں بیان کی ہیں۔ عطاء سے روایت ہے کہ حسن نے اس طرح دعویٰ کیا، پھر یہ قول بیان کیا کہ ابراہیم کہتے ہیں کہ جو حسن نے روایت کیا ہے عطاء اس سے تعجب کرتے ہیں۔ امام شافعی ثقہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی اہل علم میں سے مصعب عن عطاء عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روایت کرتے ہیں اور حسن کے بارے میں سکوت کیا گیا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ اصحاب مصعب عطاء اور حسن سے روایت کرتے ہیں ؟ تو انھوں نے کہا : جی ہاں اسی طرح اس نے ہمیں بیان کیا، لیکن وہ عطاء سے مرسل ہے میں حسن سے مرسل بیان کرتا ہوں۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ کمزوری عطاء کی وجہ سے ہے۔ اگر وہ اس کو روایت کرے تو اس کے خلاف روایت کرتا ہے اور اس کے متعلق کہتا ہے کہ اس ساری روایت میں اختلاف ہے، جس میں اس کی امانت ختم ہوجائے گئی اور جو اس میں مخفی ہے اس فضیلت پر وہ دونوں معتبر ہیں اور زیادہصحیح روایت ہے ان کے ہاں۔

11231

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11231

Zaeef

(۱۱۲۲۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ سَہْلٍ الرَّمْلِیُّ أَخْبَرَنَا الْوَلِیدُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ : أَنَّ رَجُلاً رَہَنَ فَرَسًا فَنَفَقَ الْفَرَسُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : الرَّہْنُ بِمَا فِیہِ ۔ وَرَوَاہُ أَیْضًا بِہَذَا اللَّفْظِ دُونَ الْقِصَّۃِ زَمْعَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ مُرْسَلاً۔ وَزَمْعَۃُ غَیْرُ قَوِیٍّ وَذَکَرَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْذَہُ فِی ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ بِمُرْسَلِ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ دُونَ غَیْرِہِ لأَنَّ مَرَاسِیلَہُ أَصَحُّ مِنْ مَرَاسِیلِ غَیْرِہِ وَلأَنَّہُ قَدْ رُوِیَ مَوْصُولاً وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٢٦) حضرت عطاء فرماتے ہیں : ایک آدمی نے گھوڑا گروی رکھاتو وہ ہلاک ہوگیا۔ آپ نے فرمایا : رہن اسی چیز کے بدلے میں ہوتی ہے جس میں وہ ہو۔ اس حدیث کو انھی الفاظ کے ساتھ زمعہ بن صالح ابن طاؤس سے اور وہ اپنے والد سے مرسل بیان کرتے ہیں؛ لیکن قصہ مختلف ہے اور زمعہ غیر قوی ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں : اس مسئلہ میں سعید بن مصعب کی مرسل مقبول ہے کیونکہ ان کی مرسل دوسروں کی مرسل سے قوی ہوتی ہے اور اس لیے بھی کہ یہ روایت موصولاًبھی روایت کی گئی ہے۔

11232

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11232

Sahih

(۱۱۲۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَمِّی أَبَا عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ یَقُولُ : مُرْسَلاَتُ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ صِحَاحٌ لاَ نَرَی أَصَحَّ مِنْ مُرْسَلاَتِہِ وَأَمَّا الْحَسَنُ وَعَطَاء ٌ فَلَیْسَ ہِیَ بِذَاکَ ہِیَ أَضْعَفُ الْمُرْسَلاَتِ لأَنَّہُمَا کَانَا یَأْخُذَانِ عَنْ کُلٍّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٢٧) حنبل بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے اپنے چچا ابو عبداللہ احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا : حضرت سعید بن مسیب کی مرسل روایات صحیح کے درجے میں ہیں۔ ہمارے خیال میں ان کی مرسل سے کسی اور کی مرسل صحیح نہیں ہے اور رہی حسن اور عطاء کی مرسل تو یہ سب سے ضعیف ہیں؛ کیونکہ وہ تمام لوگوں سے لے لیتے ہیں۔ واللہ اعلم

11233

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11233

Zaeef

(۱۱۲۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدَیَسَابُوْرِیُّ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سَہْلٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ أَبِی الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا مَطَرٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فِی الرَّجُلِ یَرْتَہِنُ الرَّہْنَ فَیَضِیعُ قَالَ : إِنْ کَانَ أَقَلَّ مِمَّا فِیہِ رَدٌّ عَلَیْہِ تَمَامَ حَقِّہِ وَإِنْ کَانَ أَکْثَرَ فَہُوَ أَمِینٌ۔ ہَذَا لَیْسَ بِمَشْہُورٍ عَنْ عُمَرَ۔وَاخْتَلَفَتِ الرِّوَایَاتُ فِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ فَرُوِیَ عَنْہُ

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٢٨) حضرت عبید بن عمر فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر (رض) نے فرمایا : جو شخص کوئی چیز گروی رکھے، پھر وہ اس کے پاس ضائع ہوجائے تو وہ جس چیز کے بدلے میں تھی اس سے کم قیمت کی ہو تو یہ اس کے تمام حق کا بدلہ ہوگا (گروی لینے والے کو مزید کوئی مطالبہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس نے گروی کو ضائع کیا تھا ) اور اگر اس کی قیمت اس سے زیادہ ہو تو وہ امین ہے۔ یہ بات حضرت عمر (رض) کے بارے میں مشہور نہیں ہے۔

11234

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11234

Zaeef

(۱۱۲۲۹) کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ شَبَّانَ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِی بْنُ قَانِعٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ خِلاَسٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا کَانَ فِی الرَّہْنِ فَضْلٌ فَإِنْ أَصَابَتْہُ جَائِحَۃٌ فَالرَّہْنُ بِمَا فِیہِ فَإِنْ لَمْ تُصِبْہُ جَائِحَۃٌ فَإِنَّہُ یُرِدُّ الْفَضْلُ۔ مَا رَوَی خِلاَسٌ عَنْ عَلِیٍّ أَخَذَہُ مِنْ صَحِیفَۃٍ قَالَہُ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَغَیْرُہُ مِنَ الْحُفَّاظِ وَرُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُطْلَقًا یَتَرَادَّانِ الْفَضْلَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٢٩) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اگر گروی رکھی گئی چیز قیمت میں زیادہ ہو اور وہ چیز تباہ ہوجائے تو یہ اس قرض کے بدلے میں ہوگئی اور اگر وہ تباہ نہ ہو تو زائد قیمت واپس کردی جائے گی۔ خلاس نے جو حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے وہ انھوں نے آپ کے صحیفے سے لیا تھا۔ یہ بات یحییٰ بن معین وغیرہ نے کہی ہے۔ حضرت علی سے روایت ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک زائد قیمت لوٹائے گا ۔

11235

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11235

Zaeef

(۱۱۲۳۰) أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِی بْنُ قَانِعٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ عَلِیٍّ فِی الرَّہْنِ إِذَا ہَلَکَ : یَتَرَادَّانِ الْفَضْلَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٣٠) حکم نے حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ رھن میں اگر شی مرہونہ ہلاک ہوجائے تو دونوں زیادتی کو واپس کریں گے۔

11236

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11236

Zaeef

(۱۱۲۳۱) قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِی حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ فِی الرَّہْنِ : یَتَرَادَّنِ الزِّیَادَۃَ وَالنُّقْصَانِ۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ الْحَکَمُ بْنُ عُتَیْبَۃَ لَمْ یُدْرِکْ عَلِیًّا۔وَقَدْ رُوِیَ عَنِ الْحَجَّاجِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ ضَعِیفٌ مَوْصُولاً

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٣١) حکم حضرت علی سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : دونوں زیادتی اور نقصان کو پورا کریں گے، یہ منقطع ہے کیونکہ حکم بن عتبہ نے حضرت علی کا زمانہ نہیں پایا موصولاًبھی یہ روایت آتی ہے لیکن سنداًضعیف ہے۔

11237

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11237

Zaeef

(۱۱۲۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : إِذَا کَانَ الرَّہْنُ أَفْضَلَ مِنَ الْقَرْضِ أَوْ کَانَ الْقَرْضُ أَفْضَلَ مِنَ الرَّہْنِ ثُمَّ ہَلَکَ یَتَرَادَّانِ الْفَضْلَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٣٢) حارث کہتے ہیں کہ سیدنا علی (رض) نے فرمایا : جب رہن قرض سے زیادہ قیمتی ہو یا قرض رہن سے زیادہ ہو، پھر رہن رکھی ہوئی چیز ہلاک ہوجائے تو دونوں زیادہ مال واپس کریں گے۔

11238

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11238

Zaeef

(۱۱۲۳۳) وَعَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : کَانَ یُقَالُ یَتَرَادَّانِ الْفَضْلَ بَیْنَہُمَا۔ الْحَارِثُ الأَعْوَرُ وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ وَمُعَمَّرُ بْنُ سُلَیْمَانَ غَیْرُ مُحْتَجٍّ بِہِمْ۔وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ ثَالِثٍ عَنْ عَلِیٍّ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٣٣) تیسری سند سیدنا علی سے روایت ہے۔

11239

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11239

Zaeef

(۱۱۲۳۴) أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبَّانَ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِی بْنُ قَانِعٍ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِیعَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا کَانَ الرَّہْنُ أَقُلَّ رُدَّ الْفَضْلُ وَإِنْ کَانَ أَکْثَرَ فَہُوَ بِمَا فِیہِ۔قَالَ الشَّافِعِیُّ الرِّوَایَۃُ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : بِأَنْ یَتَرَادَّانِ الْفَضْلَ أَصَحُّ عَنْہُ مِنْ رِوَایَۃِ عَبْدِ الأَعْلَی وَقَدْ رَأَیْنَا أَصْحَابَکُمْ یُضَعِّفُونَ رِوَایَۃَ عَبْدِ الأَعْلَی الَّتِی لاَ یُعَارِضُہَا مُعَارِضٌ تَضْعِیفًا شَدِیدًا فَکَیْفَ بِمَا عَارَضَہُ فِیہِ مَنْ ہُوَ أَقْرَبُ مِنَ الصِّحَّۃِ وَأَوْلَی بِہَا مِنْہُ۔ وَہَذَا الْکَلاَمُ فِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ رِوَایَتَہُ عَنْہُ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِیعِ عَنِ الشَّافِعِیِّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٣٤) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جب رہن قرض سے کم قیمت کا ہو تو ضائع ہونے پر باقی ادا کرنا ہوگا اور اگر رہن زیادہ قیمتی ہو تو یہ قرض کے بدلے میں چلا جائے گا۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ حضرت علی کی وہ روایت جس میں ہے کہ دونوں اضافی قیمت واپس کریں گے زیادہ صحیح ہے بہ نسبت اس حدیث کے اور ہم نے آپ کے ساتھیوں کو دیکھا ہے۔ وہ عبدالاعلیٰ کی مذکورہ حدیث کو شدید ضعیف قرار دیتے ہیں، جبکہ اس کے معارض کوئی حدیث نہیں۔ جب اس کے معارض حدیث بھی ہو اور اس سے معانی کے اعتبار بہتر ہو تو اس پر عمل کیوں نہیں کیا جائے گا۔

11240

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11240

Zaeef

(۱۱۲۳۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ ابْنُ ابْنَۃِ الْعَبَّاسِ بْنِ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الرُّخِّیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ قَالَ سَأَلْتُ یَحْیَی بْنَ سَعِیدٍ الْقَطَّانَ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی الثَّعْلَبِیِّ فَقَالَ : تَعْرِفُ وَتُنْکِرُ قَالَ یَحْیَی قُلْتُ لِسُفْیَانَ یَعْنِی الثَّوْرِیَّ فِی أَحَادِیثِ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ فَوَہَّنَہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٣٥) امام علی بن مدینی فرماتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے پوچھا : عبدالاعلی ثعلبی کیسا ہے ؟ تو انھوں نے کہا : آپ جانتے بھی ہیں اور انکار بھی کررہے ہیں۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں : میں نے سفیان ثوری سے عبدالاعلیٰ کی محمد بن حنیفہ سے روایات کے بارے پوچھا تو انھوں نے انھیں کمزور کہا ۔

11241

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11241

Zaeef

(۱۱۲۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی حَصِینٍ عَنْ شُرَیْحٍ قَالَ : ذَہَبَتِ الرُّہُونُ بِمَا فِیہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٣٦) قاضی شریح کہتے ہیں : جس چیز کے عوض گروی رکھی جائے، پھر گروی چیز ہلاک ہوجائے تو وہ اس قرض کے بدلے میں ہوجائے گی۔