Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2310

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

جو بغیر کسی شرط کے بہتر مال واپس کرتا ہے

6 hadiths in this chapter

10944

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10944

Sahih

(۱۰۹۳۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنَا سَلَمَۃُ بْنُ کُہَیْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَجُلاً تَقَاضَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَغْلَظَ لَہُ فَہَمَّ أَصْحَابُہُ بِہِ فَقَالَ : دَعُوہُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً اشْتَرُوا لَہُ بَعِیرًا فَأَعْطُوہُ ۔ قَالُوا : إِنَّا نَجِدُ لَہُ سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّہِ قَالَ : اشْتَرُوہُ فَأَعْطُوہُ إِیَّاہُ فَإِنَّ خَیْرَکُمْ أَحْسَنُکُمْ قَضَائً ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری فی غیر موضع، مسلم ۱۶۰۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٩٣٩) ابو سلمہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سختی سے قرض کا مطالبہ کیا، صحابہ پر شیطان ہوگئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حق والے کو بات کا بھی حق ہے، اس کو اونٹ خرید کر دو ۔ انھوں نے کہا : ہم اس کے اونٹ سے بہتر عمر کا پاتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو وہی خرید کر دو ، تم میں سے بہتر وہ ہے جو ادائیگی کے اعتبار سے اچھا ہے۔

10945

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10945

Zaeef

(۱۰۹۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْبُوشَنْجِیُّ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّائُ : مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ حَمْزَۃَ الزَّیَّاتِ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : أَتَی رَجُلٌ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَسْأَلُہُ فَاسْتَسْلَفَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- شَطْرَ وَسْقٍ فَأَعْطَاہُ إِیَّاہُ فَجَائَ الرَّجُلُ یَتَقَاضَاہُ فَأَعْطَاہُ وَسْقًا وَقَالَ : نِصْفٌ لَکَ قَضَائً وَنِصْفٌ لَکَ نَائِلٌ مِنْ عِنْدِی۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٩٤٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نصف وسق قرض کا مطالبہ کیا، اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا ، ایک آدمی نے قرض کا تقاضا کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ایک وسق دیا اور فرمایا : نصف تو قرض کی ادائیگی ہے اور نصف میری جانب سے ہے۔

10946

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10946

Sahih

(۱۰۹۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ ہَانِئٍ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ السُّلَمِیِّ قَالَ : بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بَکْرًا فَجِئْتُ أَتَقَاضَاہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ اقْضِنِی ثَمَنَ بَکْرِی قَالَ: نَعَمْ لاَ أَقْضِیکَہَا إِلاَّ بُخْتِیَّۃً ثُمَّ قَضَانِی فَأَحْسَنَ قَضَائِی ثُمَّ جَائَ أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ اقْضِنِی بَکْرِی فَقَضَاہُ بَعِیرًا مُسِنًّا فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا أَفْضَلُ مِنْ بَکْرِی فَقَالَ : ہُوَ لَکَ إِنَّ خَیْرَ الْقَوْمِ خَیْرُہُمْ قَضَائً ۔ [حسن۔ اخرجہ الحاکم ۲/ ۳۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٩٤١) عرباض بن ساریہ سلمی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اونٹ فروخت کیا، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر قرض کا تقاضا کیا، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے اونٹ کی قیمت دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں بختی اونٹ عطا کروں گا۔ پھر آپ نے مجھے میرا قرض احسن طریقے سے ادا کیا، پھر ایک دیہاتی آیا، اس نے کہا : میرا اونٹ دو ۔ آپ نے دو دانت والا اونٹ عطا کیا تو دیہاتی کہنے لگا : یہ میرے اونٹ سے بہتر ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہترین لوگ وہ ہیں جو ادائیگی کے اعتبار سے اچھے ہیں۔

10947

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10947

Sahih

(۱۰۹۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْبَاغَنْدِیُّ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی وَثَابِتٌ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ الزَّاہِدَ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی قَالُوا حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ کِدَامٍ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الْمَسْجِدِ الضَّحَی فَقَالَ لِی : قُمْ فَصَلِّ ۔ وَکَانَ لِی عَلَیْہِ دَیْنٌ فَقَضَانِی وَزَادَنِی رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ خَلاَّدِ بْنِ یَحْیَی وَثَابِتٍ الزَّاہِدِ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۲۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٩٤٢) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں چاشت کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : کھڑے ہوجاؤ۔ نماز پڑھو اور میرا قرض آپ کے ذمہ تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ادا بھی کیا اور زیادہ بھی دیا۔

10948

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10948

Sahih

(۱۰۹۴۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَالِمٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : مَرَرْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَمَعِی بَعِیرٌ مُعْتَلٌّ وَأَنَا أَسُوقُہُ فِی آخِرِ الْقَوْمِ فَقَالَ : مَا شَأْنُ بَعِیرِکَ ہَذَا ۔ قَالَ قُلْتُ : مُعْتَلٌّ أَوْ ظَالِعٌ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَأَخَذَ بِذَنَبِہِ فَضَرَبَہُ ثُمَّ قَالَ : ارْکَبْ ۔ فَلَقَدْ رَأَیْتُنِی فِی أَوَّلِہِ وَإِنِّی لأَحْبِسُہُ فَلَّمَا دَنَوْنَا أَرَدْتُ أَنْ أَتَعَجَّلَ إِلَی أَہْلِی فَقَالَ : لاَ تَأْتِ أَہْلَکَ طُرُوقًا ۔ قَالَ ثُمَّ قَالَ : مَا تَزَوَّجْتَ ۔ قَالَ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : بَکْرٌ أَمْ ثَیِّبٌ ۔ قُلْتُ : ثَیِّبٌ قَالَ : فَہَلاَّ بِکْرًا تُلاَعِبُہَا وَتُلاَعِبُکَ ۔ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ عَبْدَ اللَّہِ تَرَکَ جَوَارِی فَکَرِہْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَیْہِنَّ مِثْلَہُنَّ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَۃً قَدْ عَقَلَتْ فَمَا قَالَ لِی أَسَأْتَ وَلاَ أَحْسَنْتَ ثُمَّ قَالَ لِی : بِعْنِی بَعِیرَکَ ہَذَا ۔ قَالَ قُلْتُ : ہُوَ لَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : بِعْنِیہِ ۔ قُلْتُ : ہُوَ لَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَلَمَّا أَکْثَرَ عَلَیَّ قُلْتُ فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَیَّ وَقِیَّۃُ ذَہَبٍ فَہُوَ لَکَ بِہَا قَالَ : نَعَمْ تَبَلَّغْ عَلَیْہِ إِلَی أَہْلِکَ ۔ وَأَرْسَلَ إِلَی بِلاَلٍ فَقَالَ: أَعْطِہِ وَقِیَّۃَ ذَہَبٍ وَزِدْہُ۔ فَأَعْطَانِی وَقِیَّۃً وَزَادَنِی قِیرَاطًا فَقُلْتُ: لاَ یُفَارِقْنِی ہَذَا الْقِیرَاطُ شَیْئٌ زَادَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَجَعَلْتُہُ فِی کِیسٍ فَلَمْ یَزَلْ عِنْدِی حَتَّی أَخَذَہُ أَہْلُ الشَّامِ یَوْمَ الْحَرَّۃِ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ الْبُخَارِیُّ بِالإِشَارَۃِ إِلَیْہِ وَمُسْلِمٌ بِالرِّوَایَۃِ۔[صحیح۔ مسلم ۷۱۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٩٤٣) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا اور میرے پاس تھکا ہوا اونٹ بھی تھا اور لوگوں کے آخر میں چل رہا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے اونٹ کی کیا حالت ہے ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ تھکا ہوا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی دم کو پکڑ کر مارا، پھر فرمایا : سوار ہوجاؤ۔ پھر میں سب سے اگلے لوگوں میں چل رہا تھا، پھر میں نے اس کو نہیں روکا۔ جب ہم قریب ہوئے تو اپنے گھر جانے کی جلدی کی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے گھر رات کو داخل نہ ہونا، پھر آپ نے پوچھا : کیا تو نے شادی کی ہے ؟ میں نے کہا : ہاں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : بیوہ یا کنواری سے۔ میں نے کہا : بیوہ سے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کنواری سے کرتے وہ تجھ سے کھیلتی، مزاق کرتی اور آپ اس سے کھیلتے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے والد عبداللہ نے بچیاں چھوڑی ہیں، میں ان جیسی ان کے پاس نہیں لانا چاہتا تھا، میں نے سمجھدار عورت سے شادی کا ارادہ کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یہ نہ فرمایا کہ تو نے اچھا یا برا کیا ہے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اپنا اونٹ فروخت کر دو ، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ آپ کا ہے، آپ نے فرمایا : مجھے فروخت کر دو ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ آپ کا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے فروخت کر دو ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ آپ کا ہے، جب آپ نے بار بار کہا تو میں نے کہا کہ فلاں کا ایک اوقیہ سونا میرے ذمہ ہے اس کے عوض خرید لو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس پر اپنے گھر تک چلو۔ آپ نے بلال کو حکم دیا کہ اس کو ایک اوقیہ سونا دو اور زیادہ بھی دینا۔ حضرت بلال (رض) نے مجھے ایک اوقیہ اور ایک قیراط سونا دیا، میں نے کہا : یہ قیراط جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے زیادہ دیا ہے مجھ سے جدا نہ ہوگا، میں نے جیب میں ڈال لیا، وہ ہمیشہ میرے پاس رہا، یہاں تک کہ وہ شامیوں نے حرہ کے دن لے لیا۔

10949

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10949

Sahih

(۱۰۹۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ مُجَاہِدٍ أَنَّہُ قَالَ : اسْتَسْلَفَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ مِنْ رَجُلٍ دَرَاہِمَ ثُمَّ قَضَاہُ دَرَاہِمَ خَیْرًا مِنْہَا فَقَالَ الرَّجُلُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ہَذِہِ خَیْرٌ مِنْ دَرَاہِمِی الَّتِی أَسْلَفْتُکَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ : قَدْ عَلِمْتُ ذَلِکَ وَلَکِنَّ نَفْسِی بِذَلِکَ طَیِّبَۃٌ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۳۶۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٩٤٤) مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے کسی سے چند درہم قرض لیا، پھر اس سے بہتر واپس کردیا، اس آدمی نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! یہ درہم میرے درہموں سے زیادہ اچھے ہیں تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں جانتا تھا لیکن میں نے اپنی خوشی سے ادا کیے ہیں۔