Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2284

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

جب دو خریدو فروخت کرنے والے آپس میں اختلاف کریں

12 hadiths in this chapter

10808

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10808

Sahih

(۱۰۸۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : لَوْ یُعْطَی النَّاسُ بِدَعْوَاہُمْ لاَدَّعَی نَاسٌ دِمَائَ قَوْمٍ وَأَمْوَالَہُمْ وَلَکِنَّ الْیَمِینَ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَإِذَا تَبَایَعَ رَجُلاَنِ عَبْدًا فَقَالَ الْبَائِعُ بِعْتُکَہُ بِأَلْفٍ وَقَالَ الْمُبْتَاعُ بِخَمْسِمِائَۃٍ فَکُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مُدَّعٍ وَمُدَّعَی عَلَیْہِ الْبَائِعُ یَدَّعِی فَضْلَ الثَّمَنِ وَالْمُشْتَرِی یَدَّعِی السِّلْعَۃَ بِأَقَلَّ مِنَ الثَّمَنِ فَیَتَحَالَفَانِ وَیُبْدَأُ بِیَمِینِ الْبَائِعِ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۲۷۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٠٣) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر لوگوں کو دعوؤں کی بنیاد پر دیا جائے تو لوگ اپنی قوم کے خونوں اور مالوں کے دعوے کردیں، لیکن جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا، قسم اس کے ذمہ ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : جب دو آدمی ایک غلام کی بیع کریں تو فروخت کرنے والا کہتا ہے : میں نے ایک ہزار درہم میں فروخت کیا ہے اور خریدنے والا کہتا ہے۔ ٥٠٠ درہم میں، فروخت کرنے والا زیادہ قیمت کا دعوے دار ہے جبکہ خریدنے والا کم قیمت کا دعویٰ دار ہے۔ دونوں سے قسم لی جائے گی لیکن ابتدا میں فروخت کرنے والے سے کی جائے گی۔

10809

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10809

Sahih

(۱۰۸۰۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ وَالْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ عِصْمَۃَ قَالُوا حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ أَبِی الْعُمَیْسِ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَیْسِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : اشْتَرَی الأَشْعَثُ رَقِیقًا مِنْ رَقِیقِ الْخُمُسِ مِنْ عَبْدِ اللَّہِ بِعِشْرِینَ أَلْفًا فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللَّہِ إِلَیْہِ فِی ثَمَنِہِمْ فَقَالَ : إِنَّمَا أَخَذْتُہُمْ بِعَشَرَۃِ آلاَفٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : فَاخْتَرْ رَجُلاً یَکُونَ بَیْنِی وَبَیْنَکَ فَقَالَ الأَشْعَثُ : أَنْتَ بَیْنِی وَبَیْنَ نَفْسِکَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : إِذَا اخْتَلَفَ الْبَائِعَانِ وَلَیْسَ بَیْنَہُمَا بَیَّنَۃٌ فَہُوَ مَا یَقُولُ رَبُّ السِّلْعَۃِ أَوْ یَتَتَارَکَا ۔ رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ہَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مَوْصُولٌ وَقَدْ رُوِیَ مِنْ أَوْجُہٍ بِأَسَانِیدَ مَرَاسِیلَ إِذَا جُمِعَ بَیْنَہَا صَارَ الْحَدِیثُ بِذَلِکَ قَوِیًّا۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ۳۵۱۱۔ الحاکم ۲/ ۵۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٠٤) عبدالرحمن بن قیس بن محمد بن اشعث بن قیس اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ اشعث نے خمس کے غلاموں میں سے ایک غلام حضرت عبداللہ سے ٢٠ ہزار میں خریدا تو عبداللہ نے اس کی قیمت کی وصولی کے لیے آدمی بھیجا۔ اشعث کہنے لگے : میں نے ١٠ ہزار میں خریدا ہے تو عبداللہ کہنے لگے : میرے اور اپنے درمیان فیصلے کے لیے بندے کا انتخاب کر تو اشعث نے کہا کہ ہم آپس میں ہی فیصلہ کرلیتے ہیں تو عبداللہ کہنے لگے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ جب دو بیع کرنے والے آپس میں اختلاف کریں اور دونوں کے درمیان دلیل نہ ہو۔ تو سامان کے مالک کی بات معتبر ہے یا پھر دونوں چھوڑ دیں۔

10810

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10810

Sahih

(۱۰۸۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِی الْمُحَارِبِیُّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ وَیَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا اخْتَلَفَ الْبَائِعَانِ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِیَارِ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۱/ ۴۶۶۔ الترمذی ۱۲۷۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٠٥) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو بیع کرنے والے اختلاف کریں تو بات فروخت کرنے والے کی معتبر ہے اور خریدار کو اختیار ہے۔

10811

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10811

Sahih

(۱۰۸۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ : أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ وَالأَشْعَثَ بْنَ قَیْسٍ تَبَایَعَا بِبَیْعٍ فَاخْتَلَفَا فِی الثَّمَنِ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : اجْعَلْ بَیْنِی وَبَیْنَکَ مَنْ أَحْبَبْتَ فَقَالَ لَہُ الأَشْعَثُ : فَإِنَّکَ بَیْنِی وَبَیْنَ نَفْسِکَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : إِذًا أَقْضِی بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- سَمِعْتُہُ یَقُولُ : إِذَا اخْتَلَفَ الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِیَارِ۔ عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ لَمْ یُدْرِکْ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ وَہُوَ شَاہِدٌ لِمَا تَقَدَّمَ۔ وَقَدْ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ فِی رِوَایَۃِ الزَّعْفَرَانِیِّ وَالْمُزَنِیِّ عَنْہُ ثُمَّ قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی الشَّافِعِیَّ ہَذَا حَدِیثٌ مُنْقَطِعٌ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا یَصِلُہُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَقَدْ جَائَ مِنْ غَیْرِ وَجْہٍ۔ [حسن لغیرہ۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٠٦) عون بن عبداللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود اور اشعث بن قیس نے آپس میں بیع کی۔ دونوں کا قیمت میں اختلاف ہوگیا تو عبداللہ بن مسعود (رض) فرمانے لگے : میرے اور اپنے درمیان جس کو چاہو فیصل مقرر کرلو تو اشعث کہنے لگے : آپ ہی میرے اور اپنے درمیان فیصل ہیں تو عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : میں وہ فیصلہ کروں گا جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، جب فروخت کرنے والا اور خریدنے والا دونوں کا اختلاف ہوجائے تو معتبر بات فروخت کرنے والے کی ہے اور خریدار کو اختیار ہے۔

10812

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10812

Sahih

(۱۰۸۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی أَبِی قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَنَّ إِسْمَاعِیلَ بْنَ أُمَیَّۃَ أَخْبَرَہُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ أَنَّہُ قَالَ : حَضَرْتُ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَتَاہُ رَجُلاَنِ تَبَایَعَا سِلْعَۃً فَقَالَ ہَذَا أَخَذْتُ بِکَذَا وَکَذَا وَقَالَ ہَذَا بِعْتُ بِکَذَا وَکَذَا۔ فَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ : أُتِیَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ بِمِثْلِ ہَذَا فَقَالَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أُتِیَ فِی مِثْلِ ہَذَا فَأَمَرَ الْبَائِعَ أَنْ یُسْتَحْلَفَ ثُمَّ لِیُخَیَّرُ الْمُبْتَاعُ فَإِنْ شَائَ أَخَذَ وَإِنْ شَائَ تَرَکَ۔ زَادَ فِیہِ غَیْرُہُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ قَالَ أَحْمَدُ أُخْبِرْتُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ یُوسُفَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ أَحْمَدُ وَقَالَ حَجَّاجٌ الأَعْوَرُ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُبَیْدَۃَ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۱/ ۴۶۶۔ النسائی ۴۶۴۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٠٧) عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں : ہم میں ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کے پاس حاضر تھا۔ ان کے پاس دو آدمی آئے جو سامان کے بارے جھگڑا کر رہے تھے۔ ایک نے کہا : میں نے اتنے اتنے کا لیا ہے۔ دوسرے نے کہا : میں نے اتنے کا فروخت کیا ہے۔ ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود کے پاس اس طرح کے معاملات آتے رہتے ہیں تو عبداللہ بن مسعود کہنے لگے : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر تھا۔ اس طرح کا معاملہ آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فروخت کرنے والے سے قسم کا مطالبہ کیا ۔ پھر خریدار کو اختیار دے دیا کہ لے لے یا واپس کر دے۔

10813

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10813

Zaeef

(۱۰۸۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی فَذَکَرَہُ۔قَالَ الشَّیْخُ:

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٠٨) خالی۔

10814

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10814

Sahih

(۱۰۸۰۹) وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ بَعْضِ بَنِی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : إِذَا اخْتَلَفَ الْمُتَبَایِعَانِ وَلَیْسَ بَیْنَہُمَا شَاہِدٌ اسْتُحْلِفَ الْبَائِعُ ثُمَّ کَانَ الْمُبْتَاعُ بِالْخِیَارِ إِنْ شَائَ أَخَذَ وَإِنْ شَائَ تَرَکَ ۔ أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ حُمَیْدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ فَذَکَرَہُ۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٠٩) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو بیع کرنے والے اختلاف کریں اور دونوں کے درمیان گواہ بھی کوئی نہ ہو تو فروخت کرنے والے سے قسم کا مطالبہ کیا جائے گا۔ پھر خریدار کو اختیار ہوگا۔ اگر چاہے تو لے لے یا واپس کر دے۔

10815

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10815

Sahih

(۱۰۸۱۰) وَرَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ عَنِ ابْنِ لِعَبْدِاللَّہِ بْنِ مَسْعُود عَنْ أَبِیہِ بِنَحْوِہِ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ فَذَکَرَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : الْبَیِّعَانُ وَلَیْسَ بَیْنَہُمَا بَیِّنَۃٌ۔وَرَوَاہُ غَیْرُہُ عَنْ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أُمَیَّۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُبَیْدَۃَ۔ [حسن لغیرہ۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨١٠) سعید بن مسلمہ ذکر کرتے ہیں کہ دو بیع کرنے والوں کے درمیان جب دلیل موجود نہ ہو۔

10816

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10816

Zaeef

(۱۰۸۱۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْفَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ الأَنْطَاکِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ فَذَکَرَہُ وَہَذَا الْحَدِیثُ أَیْضًا مُرْسَلٌ۔ {ج} أَبُو عُبَیْدَۃَ لَمْ یُدْرِکْ أَبَاہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨١١) ایضاً

10817

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10817

Sahih

(۱۰۸۱۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ الصَّیْدَلاَنِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَیْسٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ یَعْنِی الْمَسْعُودِیَّ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ : بَاعَ الأَشْعَثُ بْنُ قَیْسٍ رَقِیقًا مِنَ الْخُمُسِ بِعِشْرِینَ أَلْفًا فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ فِی أَثْمَانِہِمْ یَتَقَاضَاہُ فَقَالَ : إِنَّمَا بِعْتَنِی بِعَشَرَۃِ آلاَفٍ فَإِمَّا أَنْ یَکُونَ نَسِیَ الأَشْعَثُ أَوِ اسْتَغْلَی الْبَیْعَ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ : إِنَّمَا بِعْتُکَ بِعِشْرِینَ أَلْفًا قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : اجْعَلْ بَیْنِی وَبَیْنَکَ رَجُلاً فَقَالَ : أَمَا إِنِّی سَأَخْتَارُ أَنْتَ بَیْنِی وَبَیْنَ نَفْسِکَ فَقَالَ : أَمَا إِنِّی سَأَقْضِی بَیْنِی وَبَیْنَکَ بِقَضَائٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہ -ﷺ- یَقُولُ : إِذَا اخْتَلَفَ الْبَیِّعَانِ وَلَیْسَ بَیْنَہُمَا بَیِّنَۃٌ فَہُوَ مَا یَقُولُ رَبُّ السِّلْعَۃِ أَوْ یَتَتَارَکَانِ ۔ فَقَالَ الأَشْعَثُ : فَإِنِّی أُتَارِکُکَ الْبَیْعَ فَتَارَکَہُ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مَعْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخَو الْقَاسِمِ وَأَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَہُوَ وَقَدْ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۱/۴۶۶۔ الطیالسی ۳۹۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨١٢) قاسم عبداللہ بن مسعود (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ اشعث نے خمس کے غلاموں میں سے ایک غلام ٢٠ ہزار کا خرید لیا۔ تو عبداللہ نے قیمت کے تقاضا کے لیے آدمی بھیجا۔ اشعث کہنے لگے : آپ نے مجھے ١٠ ہزار کا فروخت کیا ہے یا تو اشعث بھول گئے یا انھوں نے زیادہ قیمت کی بیع کی تو عبداللہ نے کہا : میں نے ٢٠ ہزار کا ہی فروخت کیا ہے تو عبداللہ نے کہا : میرے اور اپنے درمیان کوئی آدمی مقرر کرلو۔ اشعث نے کہا : میں آپ کا انتخاب کرتا ہوں فیصلہ کے لیے۔ تو کہنے لگے : میں تیرے اور اپنے درمیان وہ فیصلہ کروں گا جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن رکھا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو بیع کرنے والے اختلاف کریں اور دونوں کے درمیان دلیل نہ ہو تو معتبر بات سامان کے مالک کی ہے یا پھر دونوں بیع کو چھوڑ دیں تو اشعث نے کہا : میں بیع کو چھوڑتا ہوں تو انھوں نے بھی چھوڑ دی۔

10818

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10818

Sahih

(۱۰۸۱۳) کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَیْلِیُّ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : بَاعَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنَ الأَشْعَثِ رَقِیقًا مِنْ رَقِیقِ الإِمَارَۃِ فَاخْتَلَفَا فِی الثَّمَنِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : بِعْتُکَہُ بِعشْرِینَ أَلْفًا۔ وَقَالَ الأَشْعَثُ : اشْتَرَیْتُ مِنْکَ بِعَشْرَۃِ آلاَفٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُکَ بِحَدِیثٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ہَاتِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : إِذَا اخْتَلَفَ الْبَیِّعَانِ وَالْبَیْعُ قَائِمٌ بِعَیْنِہِ وَلَیْسَ بَیْنَہُمَا بَیِّنَۃٌ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ یَتَرَادَّانِ الْبَیْعَ ۔ قَالَ الأَشْعَثُ : أَرَی أَنْ یُرَدَّ الْبَیْعُ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی شَیْبَۃَ خَالَفَ ابْنُ أَبِی لَیْلَی الْجَمَاعَۃَ فِی رِوَایَۃِ ہَذَا الْحَدِیثِ فِی إِسْنَادِہِ حَیْثُ قَالَ عَنْ أَبِیہِ وَفِی مَتْنِہِ حَیْثُ زَادَ فِیہِ : وَالْبَیْعُ قَائِمٌ بِعَیْنِہِ ۔ وَرَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی وَقَالَ فِیہِ : وَالسِّلْعَۃُ کَمَا ہِیَ بِعَینِہَا۔ وَإِسْمَاعِیلُ إِذَا رَوَی عَنْ أَہْلِ الْحِجَازِ لَمْ یُحْتَجَّ بِہِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی وَإِنْ کَانَ فِی الْفِقْہِ کَبِیرًا فَہُوَ ضَعِیفٌ فِی الرِّوَایَۃِ لِسُوئِ حِفْظِہِ وَکَثْرَۃِ خَطَئِہِ فِی الأَسَانِیدِ وَالْمُتُونِ وَمُخَالَفَتِہِ الْحَفَّاظَ فِیہَا وَاللَّہُ یَغْفِرُ لَنَا وَلَہُ۔ وَقَدْ تَابَعَہُ فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ عَنِ الْقَاسِمِ : الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ۔ وَہُوَ مَتْرُوکٌ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔ [صحیح لغیرہ۔ ہذا الطریق عند ابی داود ۳۵۱۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨١٣) قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے اشعث بن قیس کو حکومت کے غلاموں میں سے کوئی غلام فروخت کیا، ان دونوں نے قیمت میں اختلاف کیا، حضرت عبداللہ کہتے ہیں : میں نے تجھے غلام ٢٠ ہزار میں فروخت کیا ہے اور اشعث نے کہا : میں نے ١٠ ہزار میں خریدا ہے، تو عبداللہ کہنے لگے : اگر چاہو تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث سناؤں جو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن رکھی ہے، اشعث کہتے ہیں : لاؤ۔ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو بیع کرنے والے اختلاف کرے اور بیع کی اصل موجود ہو اور ان کے درمیان دلیل نہ ہو تو فروخت کرنے والے کی بات معتبر ہے یا دونوں بیع کو ترک کردیں تو اشعث نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ بیع کو رد کردیا جائے۔ (ب) ابن ابی شیبہ کی حدیث کے لفظ ہیں کہ ابن ابی لیلیٰ نے اس حدیث کو بیان کرنے میں ایک جماعت کی مخالفت کی ہے، اس میں اضافہ ہے کہ بیع اپنی اصلی حالت میں قائم ہو۔ (ج) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں : اس میں ہے کہ سامان تجارت ویسے ہی موجود ہو، یعنی اپنی اصل حالت میں۔

10819

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10819

Zaeef

(۱۰۸۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفَقَہَائِ الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِمْ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ : إِذَا تَبَایَعَ الرَّجُلاَنِ بِالْبَیْعِ وَاخْتَلَفَا فِی الثَّمَنِ احْتَلَفَا جَمِیعًا فَأَیُّہُمَا نَکَلَ لَزِمَہُ الْقَضَائُ فَإِنْ حَلَفَا جَمِیعًا کَانَ الْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ وَخُیِّرَ الْمُبْتَاعُ إِنْ شَائَ أَخَذَ بِذَلِکَ الثَّمَنِ وَإِنْ شَائَ تَرَکَ۔ وَرُوِّینَا عَنْ شُرَیْحٍ أَنَّہُ قَالَ : فَإِنْ نَکَلاَ عَنِ الْیَمِینِ تَرَادَّا الْبَیْعَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨١٤) ابوالزناد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ اہل مدینہ کے فقہاء کہتے ہیں : جب دو آدمی بیع کریں اور قیمت میں اختلاف ہوجائے تو دونوں سے قسم طلب کی جائے گی۔ دونوں سے جو رک گیا فیصلہ اس کے خلاف ہوجائے گا۔ اگر دونوں نے قسم اٹھائی تو فروخت کرنے والے کی بات معتبر ہوگی اور خریدار کو اختیار دیا جائے گا اگر چاہے تو لے لے اس قیمت میں، وگرنہ واپس کر دے۔ (ب) اگر دونوں ہی قسم سے رک جائیں تو بیع کو ختم کردیا جائے گا۔