Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2278

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

عیب سے بری الذمہ ہونے کا بیان

7 hadiths in this chapter

10787

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10787

Sahih

(۱۰۷۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنِی عَبَّادُ بْنُ لَیْثٍ صَاحِبُ الْکَرَابِیسِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ یَعْنِی أَبَا وَہْبٍ عَنِ الْعَدَّائِ بْنِ خَالِدِ بْنِ ہَوْذَۃَ قَالَ : أَلاَ أُقْرِئُکَ کِتَابًا کَتَبَہُ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْرَجَ کِتَابًا فَإِذَا فِیہِ : ہَذَا مَا اشْتَرَی الْعَدَّائُ بْنُ خَالِدِ بْنِ ہَوْذَۃَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّہِ اشْتَرَی مِنْہُ عَبْدًا أَوْ أَمَۃً عَبَّادٌ یَشُکُّ لاَ دَائَ لَہُ وَلاَ غَائِلَۃَ وَلاَ خِبْثَۃَ بَیْعُ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ ہَذَا الْحَدِیثُ یُعْرَفُ بِعَبَّادِ بْنِ اللَّیْثِ۔ وَقَدْ کَتَبْنَاہُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ غَیْرِ مُعْتَمَدٍ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ الترمذی ۱۲۱۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٨٢) عداء بن خالد بن ہوذہ فرماتے ہیں : کیا میں تمہیں خط پڑھ کر نہ سناؤں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے لکھا، اس نے خط نکالا اس میں تھا کہ عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو خریدا، غلام یا لونڈی ۔ عباد کو شک ہے کہ اس میں کوئی بیماری، دھوکا اور نقص نہیں ہے، یہ مسلمان کی بیع مسلمان کے ساتھ ہے۔

10788

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10788

Sahih

(۱۰۷۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فِہْرٍ الْمِصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ رَشِیقٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ سَعِیدٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا قَعْنَبُ بْنُ مُحَرَّرٍ حَدَّثَنَا الأَصْمَعِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ عَنْ أَبِی رَجَائٍ الْعُطَارِدِیِّ قَالَ قَالَ الْعَدَّائُ بْنُ خَالِدِ بْنِ ہَوْذَۃَ : أَلاَ أُقْرِئُکُمْ کِتَابًا کَتَبَہُ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْنَا : بَلَی فَإِذَا فِیہِ مَکْتُوبٌ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ہَذَا مَا اشْتَرَی الْعَدَّائُ بْنُ خَالِدِ بْنِ ہَوْذَۃَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّہِ اشْتَرَی مِنْہُ عَبْدًا أَوْ أَمَۃً شَکَّ عُثْمَانُ بِیَاعَۃُ أَوْ بَیْعُ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ لاَ دَائَ وَلاَ غَائِلَۃَ وَلاَ خِبْثَۃَ۔ [حسن۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۱۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٨٣) عداء بن خالد بن ہوذہ فرماتے ہیں کہ کیا میں تمہارے سامنے خط نہ پڑھوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے لکھا۔ ہم نے کہا : کیوں نہیں۔ اس میں تحریر تھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خریدا۔ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غلام یا لونڈی خریدی۔ عثمان کو شک ہے، یہ مسلمان کی بیع مسلمان کے ساتھ ہے، اس میں کوئی بیماری، دھوکا اور نقص نہیں ہے اور حرام و ممنوع بھی نہیں۔

10789

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10789

Zaeef

(۱۰۷۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبَغْدَادِیُّ الْہَرَوِیُّ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہ بْنِ عَامِرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّہُ کَانَ یَرَی الْبَرَائَ ۃَ مِنْ کُلِّ عَیْبٍ جَائِزًا۔ وَرَوَاہُ عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ عَنْ شَرِیکٍ وَقَالَ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَابْنِ عُمَرَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۲۱۰۹۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٨٤) عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت ہر عیب سے بری الذمہ ہوجانے کو جائز قرار دیتے تھے۔

10790

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10790

Sahih

(۱۰۷۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلاَبِیُّ قَالَ قَالَ أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدِیثُ شَرِیکٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ : الْبَرَائَ ۃُ مِنْ کُلِّ عَیْبٍ بَرَائَ ۃٌ لَیْسَ یَثْبُتُ تَفَرَّدَ بِہِ شَرِیکٌ وَکَانَ فِی کِتَابِہِ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٨٥) حضرت عاصم بن عبیداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت ہر عیب سے بری الذمہ ہوجانے کو جائز خیال کرتے تھے۔

10791

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10791

Zaeef

(۱۰۷۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْجَرَّاحِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَاسُوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ السُّکَّرِیُّ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ زَمْعَۃَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ قَالَ : سُئِلَ عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ حَدِیثِ شَرِیکٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِی الْبَیْعِ بِالْبَرَائَ ۃِ فَقَالَ : أَجَابَ شَرِیکٌ عَلَی غَیْرِ مَا کَانَ فِی کِتَابِہِ وَلَمْ نَجِدْ لِہَذَا الْحَدِیثِ أَصْلاً۔ قَالَ الشَّیْخُ أَصَحُّ مَا رُوِیَ فِی ہَذَا الْبَابِ مَا

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٨٦) خالی۔

10792

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10792

Sahih

(۱۰۷۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہ بْنَ عُمَرَ بَاعَ غُلاَمًا لَہُ بِثَمَانِمِائَۃِ دِرْہَمٍ وَبَاعَہُ بِالْبَرَائَ ۃِ فَقَالَ الَّذِی ابْتَاعَہُ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : بِالْغُلاَمِ دَاء ٌ لَمْ تُسَمِّہِ فَاخْتَصَمَا إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَالَ الرَّجُلُ : بَاعَنِی عَبْدًا وَبِہِ دَاء ٌ لَمْ یُسَمِّہِ لِی۔ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ : بِعْتُہُ بِالْبَرَائَ ۃِ فَقَضَی عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بِالْیَمِینِ أَنْ یَحْلِفَ لَہُ لَقَدْ بَاعَہُ الْغُلاَمَ وَمَا بِہِ دَاء ٌ یَعْلَمُہُ فَأَبَی عَبْدُ اللَّہِ أَنْ یَحْلِفَ لَہُ وَارْتَجَعَ الْعَبْدَ فَبَاعَہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِکَ بِأَلْفٍ وَخَمْسِمِائَۃِ دِرْہَمٍ۔ قَالَ مَالِکٌ: الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَیْہِ عِنْدَنَا فِیمَنْ بَاعَ عَبْدًا أَوْ وَلِیدَۃً أَوْ حَیَوَانًا بِالْبَرَائَ ۃِ فَقَدْ بَرِئَ مِنْ کُلِّ عَیْبٍ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ عَلِمَ فِی ذَلِکَ عَیْبًا فَکَتَمَہُ فَإِنْ کَانَ عَلِمَ عَیْبًا فَکَتَمَہُ لَمْ تَنْفَعْہُ تَبْرِئَتُہُ وَکَانَ مَا بَاعَ مَرْدُودًا عَلَیْہِ۔ وَرُوِّینَا عَنِ الشَّافِعِیِّ أَنَّہُ قَالَ فِی الرَّجُلِ یَبِیعُ الْعَبْدَ أَوْ شَیْئًا مِنَ الْحَیَوَانِ بِالْبَرَائَ ۃِ مِنَ الْعُیُوبِ فَالَّذِی نَذْہَبُ إِلَیْہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ قَضَائُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہ عَنْہُ أَنَّہُ بَرِئَ مِنْ کُلِّ عَیْبٍ لَمْ یَعْلَمْہُ وَلَمْ یَبْرَأَ مِنْ عَیْبٍ عَلِمَہُ وَلَمْ یُسَمِّہِ الْبَائِعُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۲۷۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٨٧) سالم بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنا غلام ٨٠٠ درہموں میں فروخت کردیا اور اس کے ہر عیب سے برأت کا اظہار کر کے فروخت کیا۔ جس نے عبداللہ بن عمر (رض) سے غلام خریدا تھا، اس نے کہا : غلام کے اندر بیماری ہے، جس کا آپ نے نام نہیں لیا۔ دونوں اپنا جھگڑا لے کر حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس آئے، آدمی نے کہا کہ انھوں نے مجھے غلام فروخت کیا اس میں بیماری تھی، انھوں نے بتایا نہیں تو عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے صحیح سلامت فروخت کیا تھا، حضرت عثمان نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے ذمہ قسم ڈالی کہ وہ قسم اٹھائیں کہ جس وقت غلام فروخت کیا اس وقت اس میں کسی بیماری کے بارے میں انھیں معلوم نہ تھا تو عبداللہ بن عمر (رض) نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا، اس نے غلام واپس کردیا۔ بعد میں عبداللہ بن عمر (رض) نے وہ غلام ٥٠٠ درہم کا فروخت کیا۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں : ہمارے نزدیک متفق علیہ فیصلہ ہے کہ جس نے غلام یا لونڈی یا حیوان صحیح فروخت کیا تو وہ ہر عیب سے بری الذمہ ہے، الایہ کہ وہ کسی عیب کو جان بوجھ کر چھپائے۔ اگر کوئی عیب جان بوجھ کر چھپاتا ہے تو اس کی برأت اس کو کچھ فائدہ نہ دے گی اور جو اس نے فروخت کیا ہے واپس کردیا جائے گا۔ امام شافعی فرماتے ہیں : جو شخص کوئی غلام یا حیوان عیوب سے برأت کر کے فروخت کرتا ہے، یہ وہ شخص ہے کہ ہم اس کی طرف جائیں گے۔ حالانکہ حضرت عثمان بن عفان (رض) کا فیصلہ ہے کہ جس عیب کو وہ جانتا نہیں اس سے بری ہے۔ لیکن جس عیب کو جانتا ہے اس سے بری نہیں ہے، اور فروخت کرنے والے نے اس کا نام نہیں لیا۔

10793

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10793

Sahih

(۱۰۷۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُوالنُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ وَہِشَامٍ وَیَحْیَی بْنِ عَتِیقٍ عَنْ حُمَیْدٍ : أَنَّ شُرَیْحًا کَانَ لاَ یُبَرِّئُ مِنَ الدَّائِ حَتَّی یُرِیَہُ إِیَّاہُ قَالَ یَحْیَی یَقُولُ : بَرِئْتُ مِنْ کَذَا وَکَذَا وَإِنْ دَخَلَ دَاء ٌ بَیْنَ ظَہْرَانَیْ ذَلِکَ لَمْ یَبْرَأْ حَتَّی یُرِیَہُ ذَلِکَ الْعَیْبَ۔ وَرُوِّینَا عَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ فِی الرَّجُلِ یَبِیعُ السِّلْعَۃَ وَیَبْرَأُ مِنَ الدَّائِ قَالَ : ہُوَ بَرِیء ٌ مِمَّا سَمَّی۔ وَعَنْ شُرَیْحٍ الْقَاضِی : لاَ یَبْرَأُ حَتَّی یَضَعَ یَدَہُ عَلَی الدَّائِ وَعَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ مِثْلَہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٨٨) حضرت حمید فرماتے ہیں کہ قاضی شریح بھی کسی بیماری کے عیب سے بری الذمہ قرار نہ دیتے تھے۔ یہاں تک وہ دکھا دی جائے۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ میں فلاں فلاں سے بری الذمہ قرار دے دیتا ہوں۔ اگرچہ بیماری اس کے درمیانی وقفہ میں شروع ہوئی، وہ اس سے بری الذمہ نہ ہوں گے یہاں تک کو اس کو یہ عیب دکھا دیا جائے۔ (ب) ابراہیم نخعی اس آدمی کے بارے میں کہتے ہیں جو اپنا سامان فروخت کرتا ہے وہ بیماری کے عیب سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیتا ہے، کہتے ہیں : جس کا اس نے نام لیاوہ اس سے بری ہے۔ (ج) قاضی شریح کہتے ہیں کہ وہ بری الذمہ نہ ہوگا جب تک اپنا ہاتھ بیماری والی جگہ پر نہ رکھ دے۔ عطاء بن ابی رباح بھی اسی کے مثل کہتے ہیں۔