Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2237

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

سونے، چاندی کو ان کی جنس سے زیادہ وزن میں فروخت کرنا جائز نہیں ہے سابقہ احادیث کی روشنی میں

3 hadiths in this chapter

10552

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10552

Sahih

(۱۰۵۴۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ أَبِی نُعْمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَی ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۸۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٤٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سونا سونے کے بدلے برابر وزن ایک جیسا اور چاندی چاندی کے عوض برابر وزن جس نے زیادہ کیا یا زیادتی کا مطالبہ کیا، اس نے سود وصول کیا۔

10553

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10553

Sahih

(۱۰۵۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبَدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ الْمَکِّیِّ عَنْ مُجَاہِدٍ أَنَّہُ قَالَ : کُنْتُ أَطُوفُ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَجَائَ ہُ صَائِغٌ فَقَالَ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّی أَصُوغُ الذَّہَبَ ثُمَّ أَبِیعُ الشَّیْئَ مِنْ ذَلِکَ بِأَکْثَرَ مِنْ وَزْنِہِ فَأَسْتَفْضِلُ فِی ذَلِکَ قَدْرَ عَمَلِ یَدِی فِیہِ فَنَہَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ ذَلِکَ فَجَعَلَ الصَّائِغُ یُرَدِّدُ عَلَیْہِ الْمَسْأَلَۃَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یَنْہَاہُ حَتَّی انْتَہَی إِلَی بَابِ الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَی دَابَّتِہِ یُرِیدُ أَنْ یَرْکَبَہَا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ : الدِّینَارُ بِالدِّینَارِ وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ لاَ فَضْلَ بَیْنَہُمَا ہَذَا عَہْدُ نَبِیِّنَا -ﷺ- إِلَیْنَا وَعَہْدُنَا إِلَیْکُمْ۔ وَقَدْ مَضَی حَدِیثُ مُعَاوِیَۃَ حَیْثُ بَاعَ سِقَایَۃً مِنْ ذَہَبٍ أَوْ وَرِقٍ بِأَکْثَرَ مِنْ وَزْنِہَا فَنَہَاہُ أَبُو الدَّرْدَائِ وَمَا رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی النَّہْیِ عَنْ ذَلِکَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۳۰۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٤٨) مجاہد فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر (رض) کے ساتھ گھوم رہا تھا، ایک سنار آیا ، اس نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! میں سونے کے زیور بناتا ہوں ۔ پھر میں کچھ فروخت کرتا ہوں، اس کے وزن سے زائد پر تو میں اس میں اپنی مزدوری لے لیتا ہوں، عبداللہ بن عمر (رض) نے اس کو منع فرما دیا۔ سنار بار بار اپنا مسئلہ دہرا رہا تھا اور عبداللہ بن عمر (رض) اس کو منع کر رہے تھے۔ یہاں تک وہ مسجد کے دروازے یا اپنی سواری کے پاس آئے۔ پھر عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : دینار دینار کے بدلے، درہم درہم کے بدلے ہو، ان میں تفاضل نہیں ہے۔ یہ تو ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہماری طرف عہد تھا اور ہمارا عہد تمہاری طرف یہی ہے۔ (ب) معاویہ کی حدیث گزر چکی جب انھوں نے پانی پینے کا برتن سونے یا چاندی کا زیادہ وزن میں فروخت کیا تو ابودرداء نے منع کردیا تھا اور حضرت عمر بن خطاب (رض) سے بھی اس کی نہی منقول ہے۔

10554

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10554

Zaeef

(۱۰۵۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ ہُوَ ابْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ ہُوَ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ دِینَارٍ أَبِی فَاطِمَۃَ عَنْ أَبِی رَافِعٍ قَالَ : کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَجْلِسُ عِنْدِی فَیُعَلِّمُنِی الآیَۃَ فَأَنْسَاہَا فَأُنَادِیہِ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَدْ نَسِیتُہَا فَیَرْجِعُ فَیُعَلِّمُنِیہَا قَالَ فَقُلْتُ لَہُ : إِنِّی أَصُوغُ الذَّہَبَ فَأَبِیعُہُ بِوَزْنِہِ وَآخُذُ لِعُمَالَۃِ یَدِی أَجْرًا قَالَ : لاَ تَبِعِ الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ إِلاَّ وَزْنًا بِوَزْنٍ وَالْفِضَّۃَ بِالْفِضَّۃِ إِلاَّ وَزْنًا بِوَزْنٍ وَلاَ تَأْخُذْ فَضْلاً۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٤٩) ابورافع فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) میرے پاس بیٹھتے ، وہ مجھے آیت سیکھاتے۔ وہ مجھے بھول گئی، میں ان کو آواز دیتا : اے امیرالمومنین ! میں بھول گیا ہوں۔ وہ واپس آئے اور مجھے وہ آیت سکھائی۔ میں نے ان سے کہا کہ میں سونے کے زیورات بناتا ہوں میں اس کے وزن کے ساتھ فروخت کردیتا ہوں۔ کیا میں اپنی مزدوری لے لیا کروں ؟ انھوں نے کہا کہ سونا سونے کے بدلے، برابر وزن میں فروخت کرو اور چاندی چاندی کے بدلے برابر وزن میں۔ زائد وصول نہ کرنا۔