Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2218

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

بیع میں تین دن سے زائد کی شرط رکھنا جائز نہیں

7 hadiths in this chapter

10461

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10461

Sahih

(۱۰۴۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ وَأَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْفَامِیُّ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَأَبُو صَادِقٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنِ ابْتَاعَ مُصَرَّاۃً فَہُوَ بِالْخِیَارِ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فَإِنْ رَدَّہَا رَدَّہَا وَمَعَہَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ قُرَّۃَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٥٦) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو بیع کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک دونوں الگ الگ نہ ہوں یا اختیاری بیع ہو۔ نافع کہتے ہیں کہ ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے کہہ دے کہ تجھے اختیار ہے۔ [صحیح۔ مسلم ١٥٣١)

10462

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10462

Sahih

(۱۰۴۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّیرَازِیُّ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مَالِکٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَجَّاجٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ کُلُّہُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ : ذَکَرَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ یُخْدَعُ فِی الْبُیُوعِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ بَایَعْتُ فَقُلْ لاَ خِلاَبَۃَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَفِی مَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَرُوِیَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِزِیَادَۃِ أَلْفَاظٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۲۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٥٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے مصراۃ (وہ جانور جس کا دودھ روکا گیا ہو) کو خریداتو اس کو تین دن کا اختیار ہے۔ اگر واپس کرنا چاہے تو کر دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور کا بھی دے دے۔

10463

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10463

Sahih

(۱۰۴۵۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : کَانَ حَبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ رَجُلاً ضَعِیفًا وَکَانَ قَدْ سُفِعَ فِی رَأْسِہِ مَأْمُوْمَۃً فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لَہُ الْخِیَارَ فِیمَا اشْتَرَی ثَلاَثًا وَکَانَ قَدْ ثَقُلَ لِسَانُہُ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : بِعْ وَقُلْ لاَ خِلاَبَۃَ ۔ فَکُنْتُ أَسْمَعُہُ یَقُولُ : لاَ خِذَابَۃَ لاَ خِذَابَۃَ وَکَانَ یَشْتَرِی الشَّیْئَ فَیَجِیئُ بِہِ أَہْلَہُ فَیَقُولُونَ ہَذَا غَالٍ فَیَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَیَّرَنِی فِی بَیْعِی۔ [حسن۔ اخرجہ الحاکم ۲/۲۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٥٨) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حبان بن منقد ایک کمزور آدمی تھا، اس کے سر پر گہرے زخم کا نشان تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو تین دن کا اختیار ہے جو چیز بھی خریدے۔ اس کی زبان بھی درست نہ تھی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فروخت کرو اور کہہ دو : دھوکا نہیں ہے۔ میں اس سے سنتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ لاَ خِذَابَۃَ لاَ خِذَابَۃَ وہ چیز خرید کر اپنے گھر لاتے تو ان کے گھر والے کہتے : یہ مہنگی ہے، وہ کہتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری بیع میں مجھے اختیار دیا ہے۔

10464

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10464

Sahih

(۱۰۴۵۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الشَّیْخِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ وَکَانَتْ بِلِسَانِہِ لَوْثَۃٌ یَشْکُو إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّہُ لاَ یَزَالُ یُغْبَنُ فِی الْبَیْعِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا بَایَعْتَ فَقَلْ لاَ خِلاَبَۃَ ثُمَّ أَنْتَ بِالْخِیَارِ فِی کُلِّ سِلْعَۃٍ ابْتَعْتَہَا ثَلاَثَ لَیَالٍ فَإِنْ رَضِیتَ فَأَمْسِکْ وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْ ۔ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَلَکَأَنِّی الآنَ أَسْمَعُہُ إِذَا ابْتَاعَ یَقُولُ : لاَ خِلاَبَۃَ یَلُوثُ لِسَانُہُ۔ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ فَحَدَّثْتُ بِہَذَا الْحَدِیثِ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ قَالَ : کَانَ جَدِّی مُنْقِذُ بْنُ عَمْرٍو وَکَانَ رَجُلاً قَدْ أُصِیبَ فِی رَأْسِہِ آمَّۃً فَکَسَرَتْ لِسَانَہُ وَنَقَّصَتْ عَقَلَہُ وَکَانَ یُغْبَنُ فِی الْبُیُوعِ وَکَانَ لاَ یَدَعُ التِّجَارَۃَ فَشَکَا ذَلِکَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : إِذَا أَنْتَ بِعْتَ فَقَلْ لاَ خِلاَبَۃَ ثُمَّ أَنْتَ فِی کُلِّ بَیْعٍ تَبْتَاعُہُ بِالْخِیَارِ ثَلاَثَ لَیَالٍ إِنْ رَضِیتَ فَأَمْسِکْ وَإِنْ سَخِطْتَ فَرُدَّ ۔ فَبَقِیَ حَتَّی أَدْرَکَ زَمَانَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ ابْنُ مِائَۃٍ وَثَلاَثِینَ سَنَۃٍ وَکَثُرَ النَّاسُ فِی زَمَانِ عُثْمَانَ فَکَانَ إِذَا اشْتَرَی شَیْئًا فَرَجَعَ بِہِ فَقَالُوا لَہُ : لَمْ تَشْتَرِی أَنْتَ فَیَقُولُ : قَدْ جَعَلَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِیمَا ابْتَعْتُ بِالْخِیَارِ ثَلاَثًا فَیَقُولُونَ ارْدُدْہُ فَإِنَّکَ قَدْ غُبِنْتُ أَوْ قَالَ غُشِشْتَ فَیَرْجِعُ إِلَی بَیْعِہِ فَیَقُولُ : خُذْ سِلْعَتَکَ وَرُدَّ دَرَاہِمِی فَیَقُولُ : لاَ أَفْعَلُ قَدْ رَضِیتَ فَذَہَبْتَ بِہِ حَتَّی یَمُرَّ بِہِ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَیَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ جَعَلَہُ بِالْخِیَارِ فِیمَا یَبْتَاعُ ثَلاَثًا فَیَرُدُّ عَلَیْہِ دَرَاہِمَہُ وَیَأْخُذُ سِلْعَتَہُ۔ [حسن۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٥٩) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ایک انصاری مرد سے سنا، اس کی زبان میں رکاوٹ تھی ۔ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیع میں دھوکا ہوجانے کی شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بیع کرو تو کہہ دیا کرو : دھوکا نہیں۔ پھر جو بھی سامان تو خریدے تو اس میں تجھے تین دن کا اختیار ہے۔ اگر تو پسند کرے تو رکھ لے اگر ناپسند کرے تو واپس کر دے۔ عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : اب میں اس سے سنتا ہوں، جب بھی وہ کوئی سامان خریدتا ہے تو کہہ دیتا ہے دھوکا نہیں ۔ اس کی زبان میں لکنت تھی۔ (ب) محمد بن اسحاق کہتے ہیں : میں نے یہ حدیث محمد بن یحییٰ بن حبان سے بیان کی تو انھوں نے کہا : میرے دادا منقذ بن عمرو تھے ۔ ان کو سر کا زخم آیا تھا، ان کی زبان ٹوٹ گئی۔ زبان میں لکنت ہوگئی۔ عقل کم ہوگئی۔ ان کو بیوع میں دھوکا ہوجاتا لیکن وہ تجارت نہ چھوڑتے تھے۔ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو سامان فروخت کرے تو کہہ دے : دھوکا نہیں پھر تو ہر بیع میں کہہ دے کہ تجھے تین راتوں تک اختیار ہے اگر تو پسند کرے تو رکھ لے اگر ناپسند ہو تو واپس کر دو ۔ یہ حضرت عثمان (رض) کے دور تک زندہ رہے، ان کی عمر ١٣٠ سال تھی۔ حضرت عثمان کے دور میں ایسے لوگوں کی کثرت ہوگئی۔ میں جب ان سے کچھ خریدتا تو واپس کردیتا۔ وہ کہتے کہ آپ نہ خریدا کریں، منقذ بن عمرو کہتے کہ جو میں خریدوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تین دن کا اختیار دیا ہے، لوگ کہتے : واپس کر دو ۔ آپ کو بیع میں دھوکا دیا گیا ہے تو وہ سامان واپس کردیتے اور کہتے کہ اپنا سامان لے لو، میرے درہم واپس کر دو ۔ وہ کہتا : لے جاؤ ۔ آپ نے پسند کیا تھا، جب کوئی دوسرا صحابی پاس سے گزرتا تو وہ کہہ دیتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو تین دن کا اختیار دے رکھا ہے جو وہ سامان خریدیں۔ پھر وہ اس کے درہم واپس کردیتا اور اپنا سامان لے لیتا۔

10465

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10465

Zaeef

(۱۰۴۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جَمِیلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ نَحْوَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٦٠) خالی

10466

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10466

Zaeef

(۱۰۴۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ یَعْنِی ابْنَ یَزِیدَ الرَّاسِبِیَّ النِّیلِیَّ حَدَّثَنَا أَبُو مَیْسَرَۃَ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَیْسَرَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَۃَ الْفَرْوِیُّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْخِیَارُ ثَلاَثَۃُ أَیَّامٍ ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَہَذَا مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ إِسْحَاقَ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٦١) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اختیار تین دن تک ہے۔

10467

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10467

Sahih

(۱۰۴۶۲) أَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِجَازَۃً قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ لَہِیعَۃَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ زَنْجُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا ابْنُ لَہَیْعَۃَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ وَاسِعٍ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَزِیدَ بْنِ رُکَانَۃَ : أَنَّہُ کَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْبُیُوعِ فَقَالَ : مَا أَجِدُ لَکُمْ شَیْئًا أَوْسَعَ مِمَّا جَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِحَبَّانَ بْنِ مُنْقِذٍ إِنَّہُ کَانَ ضَرِیرُ الْبَصَرِ فَجَعَلَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عُہْدَۃَ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ إِنْ رَضِیَ أَخَذَ وَإِنْ سَخَطَ تَرَکَ۔ وَرَوَاہُ عُبَیْدُ بْنُ أَبِی قُرَّۃَ عَنِ ابْنِ لَہِیْعَۃَ عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ عُمَرَ مُخْتَصَرًا وَلَمْ یَقُلْ ضَرِیرَ الْبَصَرِ وَالْحَدِیثُ یَنْفَرِدُ بِہِ ابْنُ لَہِیعَۃَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن۔ اخرجہ الدارقطنی ۳/۵۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٦٢) طلحہ بن یزید بن رکانہ نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے بیوع کے بارے میں بات کی تو حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : میں تمہارے لیے اس سے زیادہ وسعت نہیں پاتا جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حبان بن منقذ کو دی تھی۔ کیونکہ ان کی نظر کمزور تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین دن ان کے لیے مقرر کیے، اگر سامان کو پسند کریں تو رکھ لیں وگرنہ واپس کردیں۔ (ب) حبان بن واسع اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں جو حضرت عمر سے مختصر روایت کرتے ہیں انھوں نے ” ضَرِیرَ الْبَصَرِ “ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔