Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2136

کتاب الحج

قربانی کے متعلق ابواب اونٹ، گائے اور بکری کی قربانی کا بیان

4 hadiths in this chapter

10153

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10153

Sahih

(۱۰۱۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَویُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاہِدًا یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مِنَ الأَزْوَاجِ الثَّمَانِیَۃِ یَعْنِی الْہَدْیَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠١٤٩) مجاہد، ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ قربانی کے جانور ٨ قسم کے ہیں۔

10154

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10154

Zaeef

(۱۰۱۵۰) قَالَ وَحَدَّثَ سَعِیدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مِنَ الأَزْوَاجِ الثَّمَانِیَۃِ مِنَ الإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالضَّأْنِ وَالْمَعْزِ عَلَی قَدْرِ الْمَیْسَرَۃِ مَا عَظُمَتْ فَہُوَ أَفْضَلُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠١٥٠) عطاء بن ابی رباح، ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ٨ قسم کے جانور (نر و مادہ) قربانی کے اونٹ، گائے، بکری، بھیڑ استطاعت کے مطابق جتنا بڑا ہو، اتنا ہی افضل ہے۔

10155

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10155

Zaeef

(۱۰۱۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ : أَنَّ رَجُلاً سَأَل عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ الْہَدْیِ مِمَّا ہُوَ فَقَالَ مِنَ الثَّمَانِیَۃِ أَزْوَاجِ فَکَأَنَّ الرَّجُلَ شَکَّ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَہَلْ سَمِعْتَ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَکُمْ بَہِیمَۃُ الأَنْعَامِ} قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَہَلْ سَمِعَتَہُ یَقُولُ { لِیَذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ عَلَی مَا رَزَقَہُمْ مِنْ بَہِیمَۃِ الأَنْعَامِ} وَقَالَ {وَمِنَ الأَنْعَامِ حَمُولَۃً وَفَرْشًا کُلُوا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللَّہُ} قَالَ فَسَمِعْتَ اللَّہَ یَقُولُ {مِنَ الضَّأْنِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الإِبِلِ اثْنَیْنِ} قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَہَلْ سَمِعْتَ اللَّہَ یَقُولُ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ} إِلَی قَوْلِہِ {ہَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَۃِ} فَقَالَ الرَّجُل : نَعَمْ قَالَ : فَقَتَلْتُ ظَبْیًا فَمَاذَا عَلَیَّ؟ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ {ہَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَۃِ} فَقَالَ عَلِیٌّ : قَدْ سَمَّی اللَّہُ ہَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَۃِ کَمَا تَسْمَعُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠١٥١) ابوجعفر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت علی (رض) سے قربانی کے متعلق سوال کیا کہ وہ کس سے ہو ؟ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : ٨ قسم کے جانوروں سے گویا کہ آدمی کو اس میں شک گزرا تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : کیا تم قرآن کی تلاوت کرتے ہو ؟ اس نے کہا : ہاں، فرمایا : کیا آپ نے اللہ کا یہ فرمان سن رکھا ہے : { یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ٥ اُحِلَّتْ لَکُمْ بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ } الایۃ (المائدۃ : ١) ” مسلمانوں اللہ کے حکموں کو پورا کرو، چار پائے چرنے والے جانور تمہارے لیے حلال ہیں۔ “ اس نے کہا : ہاں، فرمایا : کیا آپ نے اللہ کا یہ فرمان بھی سن رکھا ہے : { لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ } الایۃ (الحج : ٣٤) ” تاکہ اللہ کا نام ذکر کریں، جو ہم نے ان کو عطا کیا پائے ہو چار پایوں پر۔ “ اور اللہ کا یہ فرمان : { وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَۃً وَّ فَرْشًا کُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ } الآیۃ (الانعام : ١٤٢) ” اور چوپائے جانوروں میں سے اس نے بوجھ لادنے والے اور زمین کے ساتھ لگے ہوئے پیدا کیے، لوگو اللہ نے جو رزق دیا اسے تم کھاؤ۔ “ کیا آپ نے اللہ کا یہ فرمان بھی سن رکھا ہے۔ { مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِاثْنَیْنِ قُلْ ئٰٓ الذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْہِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ } الآیۃ (الانعام : ١٤٣) ”(چار جوڑے) دو بھیڑیں (نر اور مادہ) اور دو بکریاں (نر و مادہ) (اے پیغمبر) کہہ دے : کیا اللہ نے (ان بھیڑ بکری میں سے) دو نروں کو (یعنی مینڈھے اور بکرے کو) حرام کیا ہے، یا دونوں مادوں کو (بھیڑ اور بکری کو) یا ان دونوں مادوں کے پیٹ میں جو (بچہ) ہے، اگر تم سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ۔ اور گائے میں سے دو (نر و مادہ) اے پیغمبر ! کہہ دیں : کیا اللہ نے دونوں نروں کو یعنی اونٹ اور بیل کو حرام کیا ہے یا دونوں مادوں کو یعنی اونٹنی اور گائے کو) یا دونوں مادوں کے پیٹ میں جو (بچہ) ہے اس کو۔ “ اس نے کہا : ہاں حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ کیا اللہ کا یہ فرمان سن رکھا ہے۔ { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ} الآیۃ (المائدۃ : ٩٥) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تم احرام کی حالت میں شکار کو قتل نہ کرو۔ “ الی قولہ { ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ } (المائدۃ : ٩٥) آدمی نے کہا : ہاں۔ اس نے کہا : میں نے ہرن کو قتل کیا ہے، میرے اوپر کیا فدیہ ہے ؟ حضرت علی (رض) فرمانے لگے : ایک قربانی، حضرت علی (رض) فرمانے لگے : یہ قربانی کعبہ میں ہونی چاہیے، جیسے اللہ نے فرمایا۔

10156

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10156

Sahih

(۱۰۱۵۲) اسْتِدْلاَلاً بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الأَغَرُّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ کَانَ عَلَی کُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلاَئِکَۃٌ یَکْتُبُونَ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ فَإِذَا جَلَسَ الإِمَامُ طَوَوُا الصُّحُفَ وَجَائُ وا یَسْتَمِعُونَ الذِّکْرَ فَمَثَلُ الْمُہَجِّرِ کَالَّذِی یُہْدِی بَدَنَۃً ثُمَّ کَالَّذِی یُہْدِی بَقَرَۃً ثُمَّ کَالَّذِی یُہْدِی الْکَبْشَ ثُمَّ کَالَّذِی یُہْدِی الدَّجَاجَۃَ ثُمَّ کَالَّذِی یُہْدِی الْبَیْضَۃَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۸۸۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠١٥٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مساجد کے دروازوں پر فرشتے ہوتے ہیں، وہ پہلے آنے والوں کو درج کرتے ہیں، جب امام منبر پر تشریف رکھتا ہے تو وہ اپنے صحیفے بند کرلیتے ہیں اور ذکر کو سنتے ہیں، جلدی آنے والا ایسے ہے جیسے اونٹ کی قربانی دیتا ہے، اس کے بعد آنے والے کو گائے کی قربانی کا ثواب ملتا ہے، پھر اس کے بعد آنے والے کو مینڈھے کی قربانی کا ثواب۔ پھر اس کے بعد مرغی کے صدقہ کا ثواب پھر اس کے بعد آنے والے کو انڈہ صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے