Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2120

کتاب الحج

محرم صرف اس کا فدیہ دے گا جس کا گوشت کھایا جاتا ہے اللہ نے حرم میں ان پر حرام قرار دیا ہے { وَ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا } الآیۃ [المائدۃ : ٩٦] ” اور حرام کیا گیا تم پر خشکی کا شکار جب تک تم احرام میں ہو۔ “ حالانکہ احرام سے پہلے

5 hadiths in this chapter

10063

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10063

Sahih

(۱۰۰۵۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو فِی کِتَابِ اخْتِلاَفِ مَالِکٍ والشَّافِعِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّہُ رَأَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُقَرِّدُ بَعِیرًا لَہُ فِی طِینٍ بِالسُّقْیَا۔ ہَکَذَا رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ وَغَیْرُہُ عَنْ مَالِکٍ فِی الْمُوَطَإِ زَادُوا فِیہِ : وَہُوَ مُحْرِمٌ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۷۹۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٥٩) ربیعہ بن عبداللہ نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا کہ وہ پانی کے گھاٹ پر اونٹ کی چیچڑیاں نکال رہے تھے اور موطا کی روایت میں انھوں نے زیادہ کیا ہے کہ وہ محرم تھے۔

10064

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10064

Sahih

(۱۰۰۶۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْہُدَیْرِ : أَنَّہُ رَأَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُقَرِّدُ بَعِیرًا لَہُ فِی الطِّینِ بِالسُّقْیَا وَہُوَ مُحْرِمٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٦٠) ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا کہ وہ گھاٹ کے پانی کیکیچڑ سے اونٹ کی چیچڑیاں نکال رہے تھے حالاں کہ وہ محرم تھے۔

10065

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10065

Sahih

(۱۰۰۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِالرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ لِعَکْرَمَۃَ : قُمْ فَقَرِّدْ ہَذَا الْبَعِیرَ فَقَالَ: إِنِّی مُحْرِمٌ فَقَالَ: قُمْ فَانْحَرْہُ فَنَحَرَہُ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ: کَمْ تُرَاکَ الآنَ قَتَلْتَ مِنْ قُرَادٍ وَمَنْ حَلَمَۃٍ وَمَنْ حَمْنَانَۃٍ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَالَ الأَصْمَعِیُّ : یُقَالَ لِلْقُرَادِ أَصْغَرَ مَا یَکُونُ لِلْوَاحِدِۃِ قُمْقَامَۃٌ فَإِذَا کَبِرَتْ فَہِیَ حَمْنَانَۃٌ فَإِذَا عَظُمَتْ فَہِیَ حَلَمَۃٌ۔ قَالَ وَالَّذِی یُرَادُ مِنْ ہَذَا أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَمْ یَرَ بِتَقْرِیدِ الْمُحْرِمِ الْبَعِیرَ بَأْسًا وَالتَّقْرِیدُ أَنْ یَنْزِعَ مِنْہُ الْقِرْدَانَ بِالطِّینِ أَوْ بِالْیَدِ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۸۴۰۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٦١) عکرمہ ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے عکرمہ سے کہا : کھڑے ہوجاؤ اور اس اونٹ کی چیچڑی نکالو۔ اس نے کہا : میں محرم ہوں۔ اس نے کہا : تم اس کو قتل کرو۔ اس نے قتل کردیا تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : اب آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ نے چیچڑی کو قتل کردیا۔ اسی طرح حلمہ اور حمنانہ بھی چیچڑی کی اقسام ہیں۔ ابو عبید فرماتے ہیں : اصمعی (رض) نے فرمایا کہ فرد، چھوٹی چیچڑی قمقامہ کہلاتی ہے جب بڑی ہوجائے تو حمنانہ اور جب زیادہ بڑی ہوجائے تو حلمۃ کہلاتی ہے، فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کا ارادہ یہ تھا کہ محرم آدمی اونٹ کی چیچڑی نکالے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اونٹ کی چیچڑی مٹی یا ہاتھ سے نکالی جاسکتی ہے۔

10066

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10066

Zaeef

(۱۰۰۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : لاَ یَفْدِی الْمُحْرِمُ مِنَ الصَّیْدِ إِلاَّ مَا یُؤْکَلُ لَحْمُہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الشافعی فی الام ۲/۳۲۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٦٢) ابن جریج حضرت عطاء سے نقل فرماتے ہیں کہ محرم آدمی اس شکار کا فدیہ دے گا جس کا گوشت کھایا جاتا ہو۔

10067

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10067

Sahih

(۱۰۰۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ قَالَ : جَلَسْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَجَلَسَ إِلَیْہِ رَجُلٌ لَمْ أَرَ رَجُلاً أَطْوَلَ شَعَرًا مِنْہُ فَقَالَ : أَحْرَمْتُ وَعَلَیَّ ہَذَا الشَّعَرُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : اشْتَمِلْ عَنْ مَا دُونَ الأُذُنَیْنِ مِنْہُ۔ قَالَ : قَبَّلْتُ امْرَأَۃً لَیْسَ بِامْرَأَتِی قَالَ : زَنَی فُوکَ ۔ قَالَ: رَأَیْتُ قَمْلَۃً فَطَرَحْتُہَا قَالَ : تِلْکَ الضَّالَّۃُ لاَ تُبْتَغَی۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۱۳۶۹۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٦٣) میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک لمبے بالوں والا آدمی تشریف فرما تھا، میں نے اس سے بڑے بال کسی کے نہ دیکھے تھے۔ اس نے کہا : میں نے احرام باندھا ہے اور یہ بال میرے اوپر ہیں۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : کانوں کے نیچے سے کاٹ دو۔ اس نے کہا : میں نے عورت کا بوسہ لیا ہے حالاں کہ وہ عورت میری نہ تھی۔ فرمایا : یہ تیرے منہ کا زنا ہے۔ اس نے کہا : میں نے جوئیں دیکھیں ان کو اتار پھینکا۔ فرمانے لگے : گم شدہ اشیاء کو تلاش نہ کیا جائے گا۔