Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2035

کتاب الحج

جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک تلبیہ کہنا پھر بند کردینا

6 hadiths in this chapter

9607

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9607

Sahih

(۹۶۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ لَمْ یَزَلْ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی الْجَمْرَۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ۔ وَفِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ أَتَی الْجَمْرَۃَ الَّتِی عِنْدَ الشَّجَرَۃِ فَرَمَاہَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ مِنْہَا ، وَکَذَلِکَ فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ : یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۰۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٠٢) فضل (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ کو رمی کی۔ جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس تھا، پس آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔ اسی طرح ابن مسعود (رض) سے ثابت روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔

9608

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9608

Sahih

(۹۶۰۳)وَأَخْبَرَنَا الإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرِ بْنُ خُزَیْمَۃَ أَخْبَرَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِیقٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : رَمَقْتُ النَّبِیَّ -ﷺ فَلَمْ یَزَلْ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ بِأَوَّلِ حَصَاۃٍ۔ [صحیح لغیرہ۔ ابن خزیمہ ۲۸۸۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٠٣) عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھتا رہا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔

9609

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9609

Sahih

(۹۶۰۴)وَأَخْبَرَنَا الإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَفَضْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمْ یَزَلْ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ ثُمَّ قَطَعَ التَّلْبِیَۃَ مَعَ آخِرِ حَصَاۃٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ : تَکْبِیرُہُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ کَالدِّلاَلَۃِ عَلَی قَطْعِہِ التَّلْبِیَۃَ بِأَوَّلِ حَصَاۃٍ کَمَا رُوِّینَا فِی حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَقَوْلُہُ : یُلَبِّی حَتَّی رَمَی الْجَمْرَۃَ أَرَادَ بِہِ حَتَّی أَخَذَ فِی رَمْیِ الْجَمْرَۃِ وَأَمَّا مَا فِی رِوَایَۃِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ مِنَ الزِّیَادَۃِ فَإِنَّہَا غَرِیبَۃٌ أَوْرَدَہَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ وَاخْتَارَہَا وَلَیْسَتْ فِی الرِّوَایَاتِ الْمَشْہُورَۃِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ فَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ نسائی ۳۰۷۹۔ بزار: ۲۱۴۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٠٤) فضل فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عرفات سے لوٹا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ عقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ کہتے رہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے۔ پھر آخری کنکری کے ساتھ تلبیہ ختم کیا۔ (ب) شیخ (رض) فرماتے ہیں : ان کا ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا پہلی کنکری کے ساتھ تلبیہ کے ختم کرنے پر دلالت کرتا ہے، جیسا کہ ہم نے عبداللہ بن مسعود (رض) کی حدیث میں روایت کیا ہے اور ان کا قول : یلبی۔۔۔ کہ وہ تلبیہ کہتے حتیٰ کہ رمی جمار کرلیتے، اس سے ان کی مراد یہ ہے ” حتی اخذ فی رمی الجمرۃ “ اور باقی فضل بن عباس والی روایت میں جو اضافہ ہے وہ غریب ہے۔ شیخ صاحب (رض) فرماتے ہیں : ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا تلبیہ قطع کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ پہلی کنکری پر ہی جیسا کہ حدیث سے واضح ہوتا ہے لیکن جو دوسری روایت کے آخر میں جو الفاظ زائد ہیں یہ تو انوکھے ہی ہیں۔

9610

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9610

Sahih

(۹۶۰۵)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرَۃَ : بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ الْقَاضِی بِمِصْرَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَخْبَرَۃَ قَالَ : غَدَوْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَۃَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ رَجُلاً آدَمَ لَہُ ضَفِیرَتَانِ عَلَیْہِ مَسْحَۃُ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ وَکَانَ یُلَبِّی فَاجْتَمَعَ عَلَیْہِ غَوْغَائٌ مِنْ غَوْغَائِ النَّاسِ فَقَالُوا : یَا أَعْرَابِیُّ إِنَّ ہَذَا لَیْسَ بِیَوْمِ تَلْبِیَۃٍ إِنَّمَا ہُوَ التَّکْبِیرُ قَالَ فَعِنْدَ ذَلِکَ الْتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ : جَہِلَ النَّاسُ أَمْ نَسُوا وَالَّذِی بَعَثَ مُحَمَّدًا -ﷺ بِالْحَقِّ لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَۃَ فَمَا تَرَکَ التَّلْبِیَۃَ حَتَّی رَمَی الْجَمْرَۃَ إِلاَّ أَنْ یَخْلِطَہَا بِتَکْبِیرٍ أَوْ تَہْلِیلٍ۔ وَقَدْ رُوِّینَا مَعْنَی ہَذَا مُخْتَصَرًا فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ۔ [حسن۔ ابن خزیمہ ۲۸۰۶۔ حاکم ۱/ ۶۳۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٠٥) عبداللہ بن سخبرہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود (رض) کے ساتھ منیٰ سے عرفہ تک گیا اور عبداللہ گندم گوں رنگ کے آدمی تھے، ان کی دو مینڈھیاں تھیں، ان پر اہل بادیہ والی چادر تھی اور وہ تلبیہ کہہ رہے تھے کہ لوگوں کا ایک جمگٹھا آپ کے پاس جمع ہوا تو انھوں نے کہا : اے اعرابی ! یہ تلبیہ کا دن نہیں ہے ، بلکہ یہ تو تکبیرات کا دن ہے تو اس وقت انھوں نے میری طرف جھانکا اور فرمایا : لوگ یا تو جاہل ہیں یا بھول گئے ہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ منیٰ سے عرفہ کی طرف نکلا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ منقطع نہ فرمایا ، درمیان میں تکبیر و تہلیل بھی کہہ لیتے تھے۔

9611

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9611

Sahih

(۹۶۰۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : أَفَضْتُ مَعَ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ فَمَا أَزَالُ أَسْمَعُہُ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ فَلَمَّا قَذَفَہَا أَمْسَکَ فَقُلْتُ : مَا ہَذَا؟ فَقَالَ : رَأَیْتُ أَبِی عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ وَأَخْبَرَنِی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَانَ یَفْعَلُ ذَلِکَ۔ [حسن۔ احمد ۱/ ۱۱۴۔ ابو یعلی ۳۲۱۔ ابن ابی شیبہ ۱۳۹۸۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٠٦) عکرمہ کہتے ہیں : میں حسین بن علی (رض) کے ساتھ لوٹا تو میں انھیں تلبیہ کہتے ہوئے ہی سنتا رہا حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کی رمی کی۔ جب اس کی طرف پتھر پھینکا تو خاموش ہوگئے تو میں نے کہا : یہ کیا ہے ؟ انھوں نے بتایا کہ میں نے اپنے والد علی (رض) کو جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ کہتے ہوئے دیکھا ہے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسا ہی کرتے تھے۔

9612

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9612

Sahih

(۹۶۰۷)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَحْمُودٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ دَاوُدَ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ الْمَکِّیِّ عَنْ عَطَائٍ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَبَّی حَتَّی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ۔ وَقَدْ رُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ قَدْ مَضَی ذِکْرُ ذَلِکَ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٠٧) عطاء کہتے ہیں کہ علی (رض) جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ ہم صحابہ کی ایک بڑی جماعت سے نقل کرچکے ہیں اور اس کا ذکر گزر چکا ہے۔