Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2007

کتاب الحج

عرفہ کی فضیلت کا بیان

4 hadiths in this chapter

9483

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9483

Sahih

(۹۴۷۸)حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الظُّفُرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحُسَیْنِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاتِی بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ أَبِی الْعُمَیْسِ عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ آیَۃٌ فِی کِتَابِکُمْ تَقْرَئُ ونَہَا لَوْ عَلَیْنَا مَعْشَرَ الْیَہُودِ نَزَلَتْ لاَتَّخَذْنَا ذَلِکَ الْیَوْمَ عِیدًا فَقَالَ : أَیُّ آیَۃٍ؟ قَالَ: {الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِینًا} فَقَالَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: قَدْ عَرَفْنَا ذَلِکَ الْیَوْمَ وَالْمَکَانَ الَّذِی أُنْزِلَتْ فِیہِ نَزَلَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ بِعَرَفَاتٍ یَوْمَ جُمُعَۃٍ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الصَّبَّاحِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ جَمِیعًا عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۵۔ مسلم ۳۰۱۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤٧٨) عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عمر (رض) سے کہا : اے امیر المومنین ! ایک آیت جسے آپ اپنی کتاب میں پڑھتے ہو اگر ہم یہودیوں پر اترتی تو ہم اس دن عید مناتے ۔ آپ نے پوچھا : وہ کون سی آیت ہے ؟ اس نے کہا :” آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کرلیا ہے، تو عمر (رض) نے فرمایا : ہم اس دن کو جانتے ہیں اور اس جگہ کو بھی جہاں یہ آیت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی، یہ آیت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر میدان عرفات میں جمعہ کے دن نازل ہوئی۔

9484

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9484

Sahih

(۹۴۷۹)وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ قَالَ قَالَ یَہُودِیٌّ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَمَا لَوْ عَلَیْنَا مَعْشَرَ الْیَہُودِ نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ: {الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِینًا}۔ نَعْلَمُ الْیَوْمَ الَّذِی نَزَلَتْ فِیہِ لاَتَّخَذْنَا ذَلِکَ الْیَوْمَ عِیدًا۔ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : قَدْ عَلِمْتُ الْمَوْضِعَ الَّذِی نَزَلَتْ فِیہِ وَالْیَوْمَ وَالسَّاعَۃَ نَزَلَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ وَنَحْنُ بِعَرَفَۃَ عَشِیَّۃَ جُمُعَۃٍ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِدْرِیسَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤٧٩) طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے عمر بن خطاب (رض) سے کہا : اگر کاش یہ آیت { الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ ۔۔۔ الخ } ہم یہودیوں پر اترتی تو ہم اس دن کو عید مناتے تو عمر (رض) نے فرمایا : مجھے اس جگہ دن اور وقت کا علم ہے، جب یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی جب کہ ہم عرفہ میں تھے اور جمعہ کی رات تھی۔

9485

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9485

Sahih

(۹۴۸۰)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ مَخْرَمَۃَ بْنِ بُکَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ یُونُسَ بْنَ یُوسُفَ یُحَدِّثُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ المُسَیَّبِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : ((مَا مِنْ یَوْمٍ أَکْثَرَ أَنْ یُعْتِقَ اللَّہُ فِیہِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ یَوْمِ عَرَفَۃَ وَإِنَّہُ لَیَدْنُو ثُمَّ یُبَاہِی المَلاَئِکَۃَ فَیَقُولُ : مَا أَرَادَ ہَؤُلاَئِ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۴۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤٨٠) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوم عرفہ سے زیادہ اور کسی دن اللہ تعالیٰ بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں کرتا۔ وہ قریب ہوتا ہے اور فرشتوں پر فخر کرتا ہے اور کہتا ہے : یہ لوگ کس لیے آئے ہیں ؟

9486

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9486

Zaeef

(۹۴۸۱)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاہِرِ بْنُ السَّرِیِّ حَدَّثَنِی ابْنٌ لِکِنَانَۃَ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ دَعَا عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ لأُمَّتِہِ بِالْمَغْفِرَۃِ وَالرَّحْمَۃِ فَأَکْثَرَ الدُّعَائَ فَأَوْحَی اللَّہُ تَعَالَی إِلَیْہِ : إِنِّی قَدْ فَعَلْتُ إِلاَّ ظُلْمَ بَعْضِہِمْ بَعْضًا وَأَمَّا ذُنُوبَہُمْ فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ فَقَدْ غَفَرْتُہَا فَقَالَ : یَا رَبِّ إِنَّکَ قَادِرٌ عَلَی أَنْ تُثِیبَ ہَذَا الْمَظْلُومَ خَیْرًا مِنْ مَظْلَمَتِہِ وَتَغْفِرَ لِہَذَا الظَّالِمِ ۔ فَلَمْ یُجِبْہُ تِلْکَ الْعَشِیَّۃَ فَلَمَّا کَانَ غَدَاۃَ الْمُزْدَلِفَۃِ أَعَادَ الدُّعَائَ فَأَجَابَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنِّی قَدْ غَفَرْتُ لَہُمْ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ لَہُ بَعْضُ أَصْحَابِہِ : یَا رَسُولَ اللَّہِ تَبَسَّمْتَ فِی سَاعَۃٍ لَمْ تَکُنْ تَبَسَّمُ فِیہَا قَالَ : تَبَسَّمْتُ مِنْ عَدُوِّ اللَّہِ إِبْلِیسَ إِنَّہُ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللَّہَ قَدِ اسْتَجَابَ لِی فِی أُمَّتِی أَہْوَی یَدْعُو بِالْوَیْلِ وَالثُّبُورِ وَیَحْثُو التُّرَابَ عَلَی رَأْسِہِ۔ [ضعیف۔ ابن ماجہ ۳۰۱۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤٨١) عباس بن مرداس فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ کی رات اپنی امت کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی تو خوب دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وحی کی کہ میں نے یہ کام کردیا ہے کہ میرے اور ان کے درمیان جو گناہ ہیں وہ معاف کیے ، لیکن ان کا ظلم معاف نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! تو اس بات پر قادر ہے کہ اس مظلوم کو اس کے ظلم سے بہتر ثواب دے دے اور اس ظالم کو معاف کر دے تو یہ دعا اس رات قبول نہ ہوئی۔ جب مزدلفہ کی صبح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا پھر دہرائی تو اللہ تعالیٰ نے قبول فرماتے ہوئے کہا : میں نے ان کو معاف کردیا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے وقت میں مسکرائے ہیں کہ اس وقت پہلے نہیں مسکرائے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ کے دشمن ابلیس پر مسکرا رہا ہوں کہ جب اس کو پتہ چلا کہ میری امت کے بارے میں میری دعا قبول ہوگئی ہے تو وہ ہلاکت و بربادی کی بدعا کرنے لگا اور اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا۔