Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 1953

کتاب الحج

مکہ میں داخل ہوتے ہی جلدی طواف کرنا اور حجِ افراد یا قران کرنے والے کے حلال نہ ہونے کا بیان

3 hadiths in this chapter

9249

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9249

Sahih

(۹۲۴۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ وَسَأَلَہُ أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ سُرَیْجٍ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سَعِیدٍ الأَیْلِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ یَتِیمُ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ قَالَ لَہُ : سَلْ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ عَنْ رَجُلٍ یُہِلُّ بِالْحَجِّ فَإِذَا طَافَ بِالْبَیْتِ أَیَحِلُّ أَمْ لاَ۔ فَإِنْ قَالَ لَکَ لاَ یَحِلُّ فَقَلْ لَہُ : إِنَّ رَجُلاً یَقُولُ ذَلِکَ قَالَ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ : لاَ یَحِلُّ مَنْ أَہَلَّ بِالْحَجِّ إِلاَّ بِالْحَجِّ۔ قُلْتُ : فَإِنَّ رَجُلاً کَانَ یَقُولُ ذَلِکَ۔ قَالَ : بِئْسَمَا قَالَ یَعْنِی فَتَصَدَّانِی الرَّجُلُ فَسَأَلَنِی فَحَدَّثْتُہُ فَقَالَ فَقُلْ لَہُ : فَإِنَّ رَجُلاً یُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَدْ فَعَلَ ذَلِکَ وَمَا شَأْنُ أَسْمَائَ وَالزُّبَیْرِ فَعَلاَ ذَلِکَ قَالَ : فَجِئْتُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : مَنْ ہَذَا فَقُلْتُ : لاَ أَدْرِی قَالَ : فَمَا بَالُہُ لاَ یَأْتِینِی یَسْأَلَنِی أَظُنُّہُ عِرَاقِیًّا۔ قُلْتُ : لاَ أَدْرِی قَالَ : فَإِنَّہُ قَدْ کَذَبَ قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَأَخْبَرَتْنِی عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّ أَوَّلَ شَیْئٍ بَدَأَ بِہِ حِینَ قَدِمَ مَکَّۃَ أَنَّہُ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَیْتِ ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَانَ أَوَّلَ شَیْء بَدَأ بِہِ الطَّوَافُ بِالْبَیْتِ ثُمَّ لَمْ یَکُنْ غَیْرُہُ ثُمَّ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَرَأَیْتُہُ أَوَّلُ شَیْئٍ بَدَأَ بِہِ الطَّوَافُ بِالْبَیْتِ ثُمَّ لَمْ یَکُنْ غَیْرُہُ ثُمَّ مُعَاوِیَۃُ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِی الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فَکَانَ أَوَّلَ شَیْئٍ بَدَأَ بِہِ الطَّوَافُ بِالْبَیْتِ ثُمَّ لَمْ یَکُنْ غَیْرُہُ ثُمَّ رَأَیْتُ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارَ یَفْعَلُونَ ذَلِکَ ثُمَّ لَمْ یَکُنْ غَیْرُہُ ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَیْتُ فَعَلَ ذَلِکَ ابْنُ عُمَرَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُضْہَا بِعُمْرَۃٍ وَہَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَہُمْ أَفَلاَ یَسْأَلُونَہُ وَلاَ أَحَدٌ مِمَّنْ مَضَی مَا کَانُوا یَبْدَئُ ونَ بِشَیْئٍ حِینَ یَضَعُونَ أَقْدَامَہُمْ أَوَّلَ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَیْتِ ثُمَّ لاَ یَحِلُّونَ وَقَدْ رَأَیْتُ أُمِّی وَخَالَتِی حِینَ تَقْدَمَانِ لاَ تَبْدَئَ انِ بِشَیْئٍ أَوَّلَ مِنَ الْبَیْتِ تَطُوفَانِ بِہِ ثُمَّ لاَ تَحِلاَّنِ وَقَدْ أَخْبَرَتَنِی أُمِّی أَنَّہَا أَقْبَلْتْ ہِیَ وَأُخْتُہَا وَالزُّبَیْرُ وَفُلاَنٌ وَفُلاَنٌ بِعُمْرَۃٍ قَطُّ فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّکْنَ حَلُّوا وَقَدْ کَذَبَ فِیمَا ذَکَرَ مِنْ ذَلِکَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ بِطُولِہِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ الأَیْلِیِّ ہَکَذَا وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَصْبُغَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ مُخْتَصَرًا دُونَ قِصَّۃِ الرَّجُلِ وَعَنْ أَحْمَدَ بْنِ عِیسَی عَنِ ابْنِ وَہْبٍ بِطُولِہِ وَقَالَ بَدَلَ قَوْلِہِ لَمْ یَکُنْ غَیْرُہُ ثُمَّ لَمْ تَکُنْ عَمْرَۃٌ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٢٤٤) محمد بن عبدالرحمن بن اسود فرماتے ہیں کہ ایک عراقی آدمی نے اس کو کہا کہ عروہ بن زبیر سے اس شخص کے بارے میں پوچھے جو حج کا تلبیہ کہتا ہے کہ جب وہ بیت اللہ کا طواف کرے گا تو حلال ہوجائے گا یا نہیں ؟ اگر وہ کہیں کہ نہیں تو انھیں کہنا کہ ایک آدمی یہ کہتا ہے کہ وہ حلال ہوجائے گا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا : جس نے حج کا تلبیہ کہا ہے وہ حج مکمل کیے بغیر حلال نہیں ہوگا، میں نے کہا : ایک آدمی ایسا کہتا ہے تو انھوں نے کہا کہ اس نے بہت برا کہا ہے، وہ آدمی مجھے ملا اور اس نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اس کو ساری بات بتائی تو اس نے کہا : انھیں کہنا ایک آدمی کہتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے کیا ہے اور اسماء اور زبیر کا کیا معاملہ ہے کہ انھوں نے ایسا کیا ہے ؟ کہتے ہیں کہ میں آیا اور یہ بات انھیں کہی تو انھوں نے پوچھا کہ یہ کس نے کہا ہے ؟ میں نے کہا : علم نہیں وہ کون ہے۔ کہنے لگے : اس کو کیا ہے کہ وہ میرے پاس آکر مجھ سے کیوں نہیں پوچھتا ، لگتا ہے کہ وہ عراقی ہے۔ میں نے کہا : مجھے علم نہیں انھوں نے کہا کہ اس نے جھوٹ بولا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کیا اور مجھے عائشہ (رض) نے بتایا کہ مکہ میں آنے کے بعد سب سے پہلا کام آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ کیا کہ وضو کر کے بیت اللہ کا طواف کیا ، پھر ابوبکر (رض) نے حج کیا تو سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف ہی کیا ۔ پھر عمر (رض) نے ایسے ہی کیا ، پھر عثمان (رض) نے حج کیا تو انھوں نے بھی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا ۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں ، پھر معاویہ اور عبداللہ بن عمر (رض) نے ۔ پھر میں نے اپنے والد زبیر بن العوام کے ساتھ حج کیا تو انھوں نے بھی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا اس کے ساتھ اور کچھ نہ تھا، پھر میں نے مہاجرین اور انصار کو دیکھا وہ بھی ایسے ہی کرتے تھے۔ پھر اس کے بعد کچھ نہیں تھا، پھر آخر میں میں نے اس طرح کرتے ابن عمر (رض) کو دیکھا، پھر انھوں نے اس کو عمرہ کے ساتھ نہیں توڑا اور یہ ابن عمر (رض) ان کے پاس ہیں، ان سے کیوں نہیں پوچھتے ؟ اور جو لوگ گزر گئے ہیں وہ سب جیسے ہیں اپنے قدم رکھتے تو بیت اللہ کا طواف کرتے اور حلال نہ ہوتے اور میں نے اپنی والدہ اور خالہ کو دیکھا ہے کہ جب وہ آتیں تو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے کچھ نہ کرتیں ، پھر حلال نہ ہوتیں اور مجھے میری والدہ نے خبر دی کہ وہ اور میری خالہ اور زبیر اور فلاں اور فلاں عمرہ کے ساتھ کبھی نہیں آئے تو جب وہ رکن کو چھوتے تو حلال ہوجاتے اور جو اس نے کہا ہے وہ جھوٹ ہے۔

9250

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9250

Sahih

(۹۲۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عَطَائٌ قَالَ وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَقُولُ : لاَ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ حَاجٌّ وَلاَ غَیْرُ حَاجٍّ إِلاَّ حَلَّ۔ فَقُلْتُ لِعَطَائٍ مِنْ أَیْنَ یَقُولُ ذَلِکَ؟ قَالَ : مِنْ قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ (ثُمَّ مَحِلُّہَا إِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیقِ) قُلْتُ : فَإِنَّ ذَلِکَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ قَالَ : فَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَقُولُ : مِنْ بَعْدِ الْمُعَرَّفِ وَقَبْلِہِ وَکَانَ یَأْخُذُ ذَلِکَ مِنْ أَمْرِ النَّبِیِّ -ﷺ أَصْحَابَہُ حِینَ أَمَرَہُمْ أَنْ یَحِلُّوا فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ رُوِّینَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ ثُمَّ عَنْ أَبِی ذَرٍّ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ فَسْخَہُمُ الْحَجَّ بِالْعُمْرَۃِ کَانَ خَاصًّا لِلرَّکْبِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ وَأَنَّ غَیْرَہُمْ إِذَا حَجُّوا أَوْ قَرَنُوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافَ الْقُدُومِ لَمْ یَحِلُّوا حَتَّی یَکُونَ یَوْمُ النَّحْرِ فَیَحِلُّونَ بِمَا جُعِلَ بِہِ التَّحَلُّلُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۴۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٢٤٥) ابن جریج فرماتے ہیں کہ مجھے عطاء نے بتایا کہ ابن عباس (رض) فرماتے تھے : حاجی اور غیر حاجی جو بھی بیت اللہ کا طواف کرے گا، حلال ہوجائے گا تو میں نے عطاء سے کہا کہ وہ یہ بات کیسے کہتے تھے ؟ کہنے لگے کہ اللہ کے اس فرمان کی روشنی میں پھر اس کا حلال ہونا ہے پرانے گھر کی طرف ، میں نے کہا : یہ تو عرفہ کے بعد کی بات ہے، کہنے لگے کہ ابن عباس (رض) کہتے تھے : عرفہ سے پہلے بھی اور بعد بھی اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے صحابہ کو حلال ہونے کا حکم دینے سے دلیل پکڑتے تھے۔ شیخ فرماتے ہیں : ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، پھر ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان کا حج کو عمرہ کے ساتھ فسخ کرنا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوار صحابہ کے لیے خاص تھا، ان کے علاوہ دوسروں نے حج کیا یا حجِ قران کیا، پھر طواف قدوم کیا، پھر وہ یوم نحر سے پہلے حلال نہیں ہوئے۔ پھر وہ ان کاموں کے ساتھ حلال ہوئے جن سے محرم حلال ہوجاتا ہے۔

9251

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9251

Sahih

(۹۲۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّائُ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ حَدِیثًا وَاللَّفْظُ لَہُمَا قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ أَبُو زُبَیْدٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ وَبَرَۃَ قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : أَیَصْلُحُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَیْتِ قَبْلَ أَنْ آتِیَ الْمَوْقِفَ فَقَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ لاَ تَطُفْ بِالْبَیْتِ حَتَّی تَأْتِیَ الْمَوْقِفَ۔ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَطَافَ بِالْبَیْتِ قَبْلَ أَنْ یَأْتِیَ الْمَوْقِفَ فَبِقَوْلِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ أَحَقُّ أَنْ تَأْخُذَ أَوْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ کُنْتَ صَادِقًا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۳۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٢٤٦) وبرہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر (رض) کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : کیا عرفات میں آنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف کرسکتا ہوں ؟ تو انھوں نے کہا : ہاں، تو وہ کہنے لگا کہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ تو بیت اللہ کا طواف نہ کر حتیٰ کہ موقف میں آ، تو ابن عمر (رض) نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کیا تو موقف میں آنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا تو کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان عمل پیرا ہونے کا زیادہ حق قدار ہے یا ابن عباس (رض) کا ، اگر تو سچا ہے۔