Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 14 · Chapter 1672

روزوں کا بیان

روزے کی حالت میں کھانا پینا اور صحبت کرنا سونے اور عشاء پڑھنے کے بعد حرام تھا۔ پھر اسے فجر تک جائز کردیا گیا اور پہلا حکم منسوخ ہوگیا

3 hadiths in this chapter

7903

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7903

Sahih

(۷۹۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمْشَاذَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِالرَّحِیمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ دَنُوقَا (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَوْہَرِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُوسَی الشَّطَوِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ -ﷺ- إِذَا کَانَ صَائِمًا فَحَضَرَ الإِفْطَارُ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ یُفْطِرَ لَمْ یَأْکُلْ لَیْلَتَہُ ، وَلاَ یَوْمَہُ حَتَّی یُمْسِیَ ، وَإِنَّ قَیْسَ بْنَ صِرْمَۃَ کَانَ صَائِمًا فَلَمَّا حَضَرَ الإِفْطَارُ أَتَی امْرَأَتَہُ قَالَ : ہَلْ عِنْدَکِ طَعَامٌ؟ قَالَتْ : لاَ وَلَکِنْ أَنْطَلِقُ فَأَطْلُبُ - وَکَانَ یَوْمَہُ یَعْمَلُ فِیہِ بِأَرْضِہِ - فَغَلَبَتْہُ عَیْنَاہُ فَجَائَ تِ امْرَأَتُہُ فَلَمَّا رَأَتْہُ قَالَتْ : خَیْبَۃً لَکَ۔ فَأَصْبَحَ فَلَمْ یَنْتَصِفِ النَّہَارُ حَتَّی غُشِیَ عَلَیْہِ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {أُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إِلَی نِسَائِکُمْ ہُنَّ لِبَاسٌ لَکُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَہُنَّ} فَفَرِحُوا بِہَا فَرَحًا شَدِیدًا {وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ} لَفْظُ حَدِیثِ الْحَسَنِ بْنِ حَمْشَاذَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِیلَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٩٠٠) حضرت براء (رض) فرماتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے کوئی شخص روزے کی حالت میں ہوتا اس کے پاس کھانا لایا جاتا تو وہ کھانا کھانے سے پہلے ہی سو چکا ہوتا۔ پھر وہ اس رات اور دن میں اگلی شام تک نہ کھا سکتا۔ ایسے ہی قیس بن عمر (رض) تھے وہ روزے سے تھے، افطار کے وقت اپنی بیوی کے پاس آئے اور کہنے لگے : کیا تیرے پاس کھانا ہے ؟ وہ کہنے لگی کہ میں ابھی لا دیتی ہوں اور وہ دن بھر زمین میں کام کرتے رہے، سو نیند غالب آگئی ۔ جب ان کی بیوی نے آکر دیکھا تو کہا : تیرے لیے نقصان تو نے اسی حالت میں صبح کی۔ جب نصف النہار کا وقت ہوا تو وہ بیہوش ہوگئے تو اس (بیوی) نے یہ بات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتائی، تب یہ آیت { أُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إِلَی نِسَائِکُمْ ہُنَّ لِبَاسٌ لَکُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَہُنَّ } نازل ہوئی تو لوگ اس سے بہت زیادہ خوش ہوئے اور یہ بھی { وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ }۔

7904

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7904

Sahih

(۷۹۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شَبُّوَیْہِ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ النَّحْوِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قِبَلِکُمْ} وَکَانَ النَّاسُ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ -ﷺ- إِذَا صَلَّوُا الْعَتَمَۃَ حَرُمَ عَلَیْہِمُ الطَّعَامُ ، وَالشَّرَابُ ، وَالنِّسَائُ ، وَصَامُوا إِلَی الْقَابِلَۃِ ، فَاخْتَانَ رَجُلٌ نَفْسَہُ فَجَامَعَ امْرَأَتَہُ وَقَدْ صَلَّی الْعِشَائَ ، وَلَمْ یُفْطِرْ فَأَرَادَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یَجْعَلَ ذَلِکَ یُسْرًا لِمَنْ بَقِیَ ، وَرُخْصَۃً وَمَنْفَعَۃً ، فَقَالَ {عَلِمَ اللَّہُ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ} الآیَۃَ۔ وَکَانَ ہَذَا مِمَّا نَفَعَ اللَّہُ بِہِ النَّاسَ أَرْخَصَ لَہُمْ وَیَسَّرَ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٩٠١) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ آیت : { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قِبَلِکُمْ } نازل ہوئی تو لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں روزہ رکھتے۔ جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو کھانا پینا اور عورت دوسرے روزے تک حرام ہوجاتی اور دوسرا روزہ شروع ہوجاتا ، پھر ایک آدمی نے نفس سے خیانت کی اور بیوی سے جماع کرلیا اور وہ عشا کی نماز پڑھ چکا تھا اور اس نے روزہ بھی نہ چھوڑاتو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ باقیوں کے لیے آسانی کردیں اور ان کے لیے رخصت اور فائدہ ہو تو فرمایا : { عَلِمَ اللَّہُ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ } سو یہ لوگوں کے لیے اللہ نے منفعت بنادی اور انھیں رخصت دے کر آسانی کردی۔

7905

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7905

Sahih

(۷۹۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنُ أَبِی لَیْلَی فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ أَمَرَہُمْ بِصِیامِ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ ، ثُمَّ أُنْزِلَ رَمَضَانُ وَکَانُوا قَوْمًا لَمْ یَتَعَوَّدُوا الصِّیَامَ ، وَکَانَ الصِّیَامُ عَلَیْہِمْ شَدِیدًا فَکَانَ مَنْ لَمْ یَصُمْ أَطْعَمَ سِتِّینَ مِسْکِینًا۔ فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} فَکَانَتِ الرُّخْصَۃُ لِلْمَرِیضِ وَالْمُسَافِرِ وَأُمِرُوا بِالصِّیَامِ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا وَکَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَفْطَرَ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ یَأْکُلَ لَمْ یَأْکُلْ حَتَّی یُصْبِحَ۔ فَجَائَ عُمَرُ فَأَرَادَ امْرَأَتَہُ فَقَالَتْ : إِنِّی قَدْ نِمْتُ فَظَنَّ أَنَّہَا تَعْتَلُّ فَأَتَاہَا۔ فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَأَرَادَ طَعَامًا فَقَالُوا حَتَّی نُسَخِّنَ لَکَ شَیْئًا فَنَامَ ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا نَزَلَتْ عَلَیْہِ ہَذِہِ الآیَۃُ فِیہَا {أُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إِلَی نِسَائِکُمْ} [صحیح۔ معنیٰ قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٩٠٢) عمرو بن مرۃ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ابی لیلیٰ سیسنا انھوں نے اس حدیث کو بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے بتایا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینے تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں تین روزے رکھنے کو کہا، پھر رمضان المبارک کا حکم نازل ہوگیا تو لوگ روزے کی تیاری نہیں کرتے تھے، اس لیے روزے ان کے لیے مشکل ہوگئے۔ پھر جو کوئی روزہ نہ رکھ سکتا تو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دیتا ۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی : { فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ } پھر وہ رخصت صرف مریض اور مسافر کے لیے رہ گئی اور بقیہ کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا۔ یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ بسا اوقات یہ ہوتا کہ آدمی روزہ افطار کرتا اور کھانے سے پہلے سو جاتا اور وہ آئندہ صبح تک نہ کھاتا، ایسے ہی عمر (رض) آئے تو انھوں نے اپنی بیوی کا قصہ بیان کیا تو اس نے کہا : میں تو سوچکی ہوں۔ انھوں نے سمجھا کہ بہانہ کررہی ہے تو وہ صحبت کر بیٹھے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی :{ أُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إِلَی نِسَائِکُمْ }