Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 11 · Chapter 1611

زکوۃ کا بیان

دورِ جاہلیت کے قبرستان سے ملنے والی مدفون چیز کا حکم

3 hadiths in this chapter

7655

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7655

Zaeef

(۷۶۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ ابْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ یُحَدِّثُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ بُجَیْرِ بْنِ أَبِی بُجَیْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ حِینَ خَرَجْنَا مَعَہُ إِلَی الطَّائِفِ فَمَرَرْنَا بِقَبْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ہَذَا قَبْرُ أَبِی فُلاَنٍ وَکَانَ بِہَذَا الْحَرَمِ یَدْفَعُ بِہِ عَنْہُ فَلَمَّا خَرجَ أَصَابَتُہُ النِّقْمَۃُ الَّتِی أَصَابَتْ قَوْمَہُ بِہَذَا الْمَکَانِ فَدُفِنَ فِیہِ وَآیَۃُ ذَلِکَ أَنَّہُ دُفِنَ مَعَہُ غُصْنٌ مِنْ ذَہَبٍ إِنْ أَنْتُمْ نَبَشْتُمْ عَنْہُ وَجَدْتُمُوہُ مَعَہُ ۔ فَابْتَدَرَہُ النَّاسُ فَاسْتَخْرَجُوا مِنْہُ الْغُصْنَ))۔ رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ یَحْیَی بْنِ مَعِینٍ عَنْ وَہْبِ بْنِ جَرِیرٍ وَقَالَ : قَبْرُ أَبِی رِغَالٍ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٦٥٢) عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ، جب ہم طائف سے نکلے تو ہمارا گزر ایک قبر سے ہوا تو آپ نے فرمایا : یہ قبر فلاں کی ہے اور یہ اس حرم سے اس کے ذریعے سے بچاؤ حاصل کرتا تھا۔ جب وہاں سے نکلا تو اسے آفت نے آلیا اسی جگہ پر جو آفت اس کی قوم پر آئی تھی تو اسے اس میں دفن کردیا گیا اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی سونے کی چھڑی اس کے ساتھ دفن ہے۔ اگر تم اس کی قبر کو کھو لو تو اسے اس کے ساتھ پاؤ گے تو لوگوں نے اس کی طرف جلدی کی اور وہاں سے وہ چھڑی نکال لی اور یہ قبر ابو رغال کی تھی۔

7656

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7656

Zaeef

(۷۶۵۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو یَعْقُوبَ : إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَیْمُونٍ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا الرِّیَاحِیُّ یَعْنِی عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ بُجَیْرِ بْنِ أَبِی بُجَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُمْ کَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی سَفَرٍ أَوْ مَسِیرٍ فَمَرُّوا بِقَبْرٍ فَقَالَ : ((ہَذَا قَبْرُ أَبِی رِغَالٍ کَانَ مِنْ قَوْمِ ثَمُودَ فَلَمَّا أَہْلَکَ اللَّہُ قَوْمَہُ بِمَا أَہْلَکَہُمْ بِہِ مَنَعَہُ لِمَکَانِہِ مِنَ الْحَرَمِ فَخَرَجَ حَتَّی إِذَا بَلَغَ ہَذَا الْمَکَانَ أَوِ الْمَوْضِعَ مَاتَ وَدُفِنَ مَعَہُ غُصْنٌ مِنْ ذَہَبٍ))۔ فَابْتَدَرْنَاہُ فَأَخْرَجْنَاہُ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٦٥٣) عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، وہ ایک قبر کے پاس سے گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ابو رغال کی قبر ہے، جو قوم ثمود میں سے تھا۔ جب اللہ نے اس کی قوم کو ہلاک کیا جس وجہ سے بھی ہلاک کیا تو وہ حرم میں ہونے کی وجہ سے بچ رہا، سو وہ وہاں سے نکلا جب اس جگہ پہنچا تو وہ فوت ہوگیا اور اسے دفن کردیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی چھڑی کو بھی۔ پھر ہم نے جلدی جلدی کی اور اسے وہاں سے نکال لیا۔

7657

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7657

Zaeef

(۷۶۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَرِیرِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُمْ أَصَابُوا قَبْرًا بِالْمَدَائِنِ فَوَجَدُوا فِیہِ رَجُلاً عَلَیْہِ ثِیَابٌ مَنْسُوجَۃٌ بِالذَّہَبِ وَوَجَدُوا مَعَہُ مَالاً فَأَتَوْا بِہِ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَتَبَ فِیہِ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَیْہِ : أَنْ أَعْطِہِمْ وَلاَ تَنْزِعْہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَہَذَا إِنْ وَجَدُوہَا فِی مَوَاتٍ مَلَکُوْہَا وَفِیہَا الْخُمُسُ وَکَأَنَّہَا لَمْ تَبْلُغْ نِصَابًا أَوْ فُوِّضَ ذَلِکَ إِلَیْہِمْ لِیُخَرِجُوہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٦٥٤) جریر بن رباح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے مدائن میں ایک قبریائی، اس میں ایک آدمی کو پایا جس پر ایسا لباس تھا جو سونے سے بنا ہوا تھا اور اس کے ساتھ اور مال بھی پایا ۔ وہ عمار بن یاسر (رض) کے پاس آئے تو انھوں نے عمر (رض) کی طرف خط لکھا ، پھر عمر (رض) نے انھیں لکھ بھیجا کہ وہ انھیں دے دیں ان سے نہ چھینیں۔ شیخ فرماتے ہیں : اگر وہ قبرستان مردہ سے ملے تو وہی اس کے مالک ہیں اور اس میں خمس ہے گویا کہ وہ نصاب کو نہیں پہنچایا پھر یہ انھیں کو سونپ دیا جائے تاکہ وہ اسے نکال لیں۔