Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 11 · Chapter 1606

زکوۃ کا بیان

معادن رکاز میں شامل ہیں اور ان میں خمس ہے

4 hadiths in this chapter

7642

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7642

Zaeef

(۷۶۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الصَّقْرِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الرِّکَازُ : الذَّہَبُ الَّذِی یَنْبُتُ فِی الأَرْضِ))۔ [منکر۔ أخرجہ ابو یعلیٰ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٦٣٩) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رکاز یہ وہ سونا ہوتا ہے جو زمین سے نکلتا ہے۔

7643

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7643

Zaeef

(۷۶۴۰) وَرَوَاہُ أَبُو یُوسُفَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((فِی الرِّکَازِ الْخُمُسُ))۔ قِیلَ : وَمَا الرِّکَازُ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : ((الذَّہَبُ وَالْفِضَّۃُ الَّذِی خَلَقَہُ اللَّہُ فِی الأَرْضِ یَوْمَ خُلِقَتْ))۔ حَدَّثَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ مِیکَالٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَقِیہُ بِفَارِسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِیدِ الْکِنْدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو یُوسُفَ فَذَکَرَہُ۔ (ج) تَفَرَّدَ بِہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیُّ وَہُوَ ضَعِیفٌ جِدًّا جَرَحَہُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَیَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَجَمَاعَۃٌ مِنْ أَئِمَّۃِ الْحَدِیثِ۔ وَقَالَ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّافِعِیِّ البَغْدَادِیِّ عَنْہُ قَدْ رَوَی أَبُو سَلَمَۃَ وَسَعِیدٌ وَابْنُ سِیرِینَ وَمُحَمَّدُ بْنُ زِیَادٍ وَغَیْرُہُمْ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ حَدِیثَہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((فِی الرِّکَازِ الْخُمُسُ))۔ لَمْ یَذْکُرْ أَحَدٌ مِنْہُمْ شَیْئًا مِنَ الَّذِی ذَکَرَ الْمَقْبُرِیُّ فِی حَدِیثِہِ وَالَّذِی رَوَی ذَلِکَ شَیْخٌ ضَعِیفٌ إِنَّمَا رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیُّ وَعَبْدُ اللَّہِ قَدِ اتَّقَی النَّاسُ حَدِیثَہُ فَلاَ یُجْعَلُ خَبْرُ رَجُلٍ قَدِ اتَّقَی النَّاسُ حَدِیثَہُ حُجَّۃً۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٦٤٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رکاز میں خمس ہے۔ کہا گیا کہ رکاز کیا ہے ؟ اے اللہ کے رسول ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ چاندی سونا جسے زمین میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، جب زمین پیدا کی گئی تھی ۔ [منکر تقدم قبلہ۔

7644

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7644

Sahih

(۷۶۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَجُلاً مِنْ مُزَیْنَۃَ أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ تَرَی فِی حَرِیسَۃِ الْجَبَلِ؟ قَالَ : ((ہِیَ وَمِثْلُہَا وَالنَّکَالُ لَیْسَ فِی شَیْئٍ مِنَ الْمَاشِیَۃِ قَطْعٌ إِلاَّ فِیمَا آوَاہُ الْمُرَاحُ وَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِیہِ قَطْعُ الْیَدِ ، وَمَا لَمْ یَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِیہِ غَرَامَۃُ مِثْلَیْہِ وَجَلَدَاتُ نَکَالٍ))۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَکَیْفَ تَرَی فِی الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ؟ قَالَ : ((ہُوَ وَمِثْلُہُ مَعَہُ وَالنَّکَالُ وَلَیْسَ فِی شَیْئٍ مِنَ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَطْعٌ إِلاَّ مَا آوَاہُ الْجَرِینُ فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِینِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِیہِ الْقَطْعُ ، وَمَا لَمْ یَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِیہِ غَرَامَۃُ مِثْلَیْہِ وَجَلَدَاتُ نَکَالٍ))۔ قَالَ فَکَیْفَ تَرَی فِیمَا یُؤْخَذُ فِی الطَّرِیقِ الْمِیتَائِ أَوِ الْقَرْیَۃِ الْمَسْکُونَۃِ؟ قَالَ : ((عَرِّفْہُ سَنَۃً فَإِنْ جَائَ بَاغِیہِ فَادْفَعْہُ إِلَیْہِ وَإِلاَّ فَشَأْنَکَ بِہِ، فَإِنْ جَائَ طَالِبُہُ یَوْمًا مِنَ الدَّہْرِ فَأَدِّہِ إِلَیْہِ فَمَا کَانَ فِی الطَّرِیقِ غَیْرِ الْمِیتَائِ وَفِی الْقَرْیَۃِ غَیْرِ الْمَسْکُونِۃِ فَفِیہِ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمُسُ))۔ قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ فَکَیْفَ تَرَی فِی ضَالَّۃِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: ((طَعَامٌ مَأْکُولٌ لَکَ أَوْ لأَخِیکَ أَوْ لِلذِّئْبِ احْبِسْ عَلَی أَخِیکَ ضَالَّتَہُ))۔ قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ فَکَیْفَ تَرَی فِی ضَالَّۃِ الإِبِلِ؟ فَقَالَ: ((مَا لَکَ وَلَہَا مَعَہَا سِقَاؤُہَا وَحِذَاؤُہَا وَلاَ یُخَافُ عَلَیْہَا الذِّئْبُ تَأْکُلُ الْکَلأَ وَتَرِدُ الْمَائَ دَعْہَا حَتَّی یَأْتِیَ طَالِبُہَا))۔ مَنْ قَالَ بِالأَوَّلِ أَجَابَ عَنْ ہَذَا بأَنَّ ہَذَا الْخَبَرَ وَرَدَ فِیمَا یُوجَدُ مِنْ أَمْوَالِ الْجَاہِلِیَّۃِ ظَاہِرًا فَوْقَ الأَرْضِ فِی الطَّرِیقِ غَیْرِالْمِیتَائِ وَفِی الْقَرْیَۃِ غَیْرِ الْمَسْکُونِۃِ فَیَکُونُ فِیہِ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمُسُ وَلَیْسَ ذَلِکَ مِنَ الْمَعْدِنِ بِسَبِیلٍ۔ وَذَکَرَ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَۃِ الزَّعْفَرَانِیِّ عَنْہُ اعْتِلاَلَہُمْ بِالْحَدِیثِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ قَالَ : ہُوَ عِنْدَ أَہْلِ الْحَدِیثِ ضَعِیفٌ وَذَکَرَ اعْتِلاَلَہُمْ بِحَدِیثِ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ہَذَا ، ثُمَّ قَالَ : إِنْ کَانَ حَدِیثُ عَمْرٍو یَکُونُ حُجَّۃً فَالَّذِی رَوَی حُجَّۃٌ عَلَیْہِ فِی غَیْرِ حُکَمٍ ، وَإِنْ کَانَ حَدِیثُ عَمْرٍو غَیْرَ حُجَّۃٍ فَالْحُجَّۃُ بِغَیْرِ حُجَّۃٍ جَہْلٌ ، ثُمَّ ذَکَرَ مُخَالَفَتَہُمُ الْحَدِیثَ فِی الْغَرَامَۃِ وَفِی التَّمْرِ الرُّطَبِ إِذَا آوَاہُ الْجَرِینُ وَفِی اللُّقَطَۃِ ، ثُمَّ قَالَ : فَخَالَفَ حَدِیثَ عَمْرٍو الَّذِی رَوَاہُ فِی أَحْکَامٍ غَیْرِ وَاحِدَۃٍ فِیہِ وَاحْتَجَّ مِنْہُ بِشَیْئٍ وَاحِدٍ إِنَّمَا ہُوَ تَوَہُّمٌ فِی الْحَدِیثِ فَإِنْ کَانَ حُجَّۃً فِی شَیْئٍ فَلْیَقُلْ بِہِ فِیمَا تَرَکَہُ فِیہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ : قَوْلُہُ إِنَّمَا ہُوَ تَوَہُّمٌ فِی الْحَدِیثِ إِشَارَۃٌ إِلَی مَا ذَکَرْنَا مِنْ أَنَّہُ لَیْسَ بِوَارِدٍ فِی الْمَعْدِنِ إِنَّمَا ہُوَ فِی مَا ہُوَ فِی مَعْنَی الرِّکَازِ مِنْ أَمْوَالِ الْجَاہِلِیَّۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن۔ نسائی]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٦٤١) عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ مدینہ کا ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہاڑوں کی کان کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : یہ اور اس جیسے مدفون خزانوں میں کچھ نہیں، مگر ماشیہ میں ایک حصہ ہے اور جسے چوروں نے چرا لیا ہو اور آپ نے اس کی قیمت ایک اونٹنی کے برابر ہو تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا جب اس کی قیمت اونٹنی کے برابر نہ ہو تو اسے چٹی ہوگی اس سے دوگنا اور عبرتناک کوڑے ہیں۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لٹکنے والے پھلوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی مثل اس کے ساتھ ہے (اتنی مقدار بھی لی جائے گی اور کوڑے بھی) لٹکتے پھلوں میں ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے مگر جس سے دو مٹکے بھر جائیں اور جو مٹکوں سے حاصل ہو وہ اونٹنی کی قیمت کو پہنچ جائے تو پھر اس میں قطع ید ہے اور جب تک اونٹنی کی قیمت کو نہ پہنچنے، اس میں دوگنا چٹی ہے اور عبرتناک کوڑے ہیں۔ پھر اس نے کہا : آپ کیا فرماتے ہیں اس چیز کے بارے میں جو آباد رستے سے ملے یا آباد بستی سے ملے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک سال اس کا اعلان کر، اگر اسے تلاش کرنے والا آجائے تو اسے لوٹا دے وگرنہ تیری مرضی اگر اس کا طالب سال میں کسی دن آگیا تو اسے لوٹا دے اور جو بات بےآباد رستے کی ہے اور بےآباد گھر کی ہے تو وہ اور رکاز ، ان میں خمس ہے۔ پھر اس نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ گمشدہ بکری کے بارے میں کیا فرماتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ کھانے کا گوشت ہے جو تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یا پھر وہ بھیڑیے کے لیے ہے، اسے اپنے بھائی کے لیے باندھ رکھ۔ یہ اس کی گمشدہ چیز ہے۔ پھر اس نے کہا : اللہ کے رسول اونٹ کے بارے میں آپ کا فرمان کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : تجھے اس سے کوئی سروکار نہیں، اس کے ساتھ اس کا پانی اور جوتا ہے۔ اس پر بھیڑیے کا خوف نہیں، وہ گھاس کھائے گا اور پانی پروارد ہوگا، سو اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کا طالب (مالک) آجائے۔ جس نے پہلی بات کہی ، اس نے اس کا جواب دیا ہے کہ یہ خبر اس بارے میں وارد ہوئی ہے جو جاہلیت کے دور کا مالک پایا جائے۔ زمین کے اوپر ایسے راستے میں جو ختم نہیں ہوا یا ایسی بستی میں جس میں سکونت نہ ہو تو وہ زکوۃ ہے اور اس میں خمس ہے۔ یہ معدن (کان) نہیں ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ اہل حدیث کے نزدیک ضعیف ہے ، اس ضمن میں انھوں نے ہشام کی حدیث بیان کی ہے اور شیخ نے کہا ہے کہ حدیث میں ان کا وہم اسی کی طرف اشارہ ہے کہ جو ہم نے بیان کیا ہے یہ کان کے بارے میں وارد نہیں ہوا، یہ اس کے بارے میں ہے جو رکاز کے حکم میں ہے۔

7645

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7645

Zaeef

(۷۶۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غَیْلاَنَ عَنْ مَکْحُولٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَعَلَ الْمَعْدِنَ بِمَنْزِلَۃِ الرِّکَازِ فِیہِ الْخُمُسُ۔ وَہَذَا مُنْقَطِعٌ مَکْحُولٌ لَمْ یُدْرِکْ زَمَانَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [ضعیف۔ لانقطاع]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٦٤٢) حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ عمربن خطاب (رض) نے معادن کو رکاز کے برابر کیا اور فرمایا : اس میں بھی خمس ہے۔