Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 10 · Chapter 1484

جنازوں کا بیان

اجر کی امید رکھتے ہوئے اہلِ میت سے تعزیت کرنا مستحب ہے

3 hadiths in this chapter

7088

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7088

Zaeef

(۷۰۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی قَیْسٌ أَبُو عُمَارَۃَ مَوْلَی سَوْدَۃَ بِنْتِ سَعْدٍ مَوْلاَۃِ بَنِی سَاعِدَۃَ مِنَ الأَنْصَارِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یَقُولُ : ((مَنْ عَادَ مَرِیضًا فَلاَ یَزَالُ فِی الرَّحْمَۃِ حَتَّی إِذَا قَعَدَ عِنْدَہُ اسْتَنْقَعَ فِیہَا ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنْ عِنْدِہِ فَلاَ یَزَالُ یَخُوضُ فِیہَا حَتَّی یَرْجِعَ مِنْ حَیْثُ خَرَجَ ، وَمَنْ عَزَّی أَخَاہُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِیبَۃٍ کَسَاہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ حُلَلَ الْکَرَامَۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ))۔ [ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٠٨٧) عبداللہ بن ابی بکر بن محمد اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : جس نے بیمار کی تیمار داری کی وہ جب تک اس کے پاس بیٹھتا ہے اللہ کی رحمت میں ہوتا ہے اور اس میں مستغرق ہوتا یہ اور جب اس کے پاس سے اٹھتا ہے تو وہ اس میں ڈبکیاں لے رہا ہوتا ہے یہاں تک وہ وہیں پلٹ آتا ہے جہاں سے گیا ہوتا ہے اور جس نے مصیبت میں اپنے مسلمان بھائی کی ہمدردی (تعزیت) کی اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت و تکریم کالباس پہنائیں گے۔

7089

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7089

Zaeef

(۷۰۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الظُّفُرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الآدَمِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ نَاصِحٍ النَّحْوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَۃَ عَنْ إِبَرْاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ عَزَّی مُصَابًا فَلَہُ مِثْلُ أَجْرِہِ))۔ تَفَرَّدَ بِہِ عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ وَہُوَ أَحَدُ مَا أُنْکِرَ عَلَیْہِ وَقَدْ رُوِیَ أَیْضًا عَنْ غَیْرِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[ضعیف۔ أخرجہ الترمذی]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٠٨٨) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے مصیبت زدہ کی تعزیت و ہمدردی کی اس کے لیے بھی اس کے برابر اجر ہوگا۔

7090

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7090

Sahih

(۷۰۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَیْسَرَۃَ أَبُو حَاتِمٍ وَکَانَ یَنْزِلُ مَکَّۃَ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ عَنْ أَبِیہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی قِصَّۃِ رَجُلٍ لَہُ بُنَیٌّ صَغِیرٌ یَأْتِیَانِ النَّبِیَّ -ﷺ- وَأَنَّ بُنَیَّہُ ہَلَکَ فَمَنَعَہُ الْحُزْنُ عَلَیْہِ أَنْ یَحْضُرَ الْحَلْقَۃَ فَلَقِیَہُ نَّبِیُّاللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلَہُ عَنِ بُنَیِّہِ فَأَخْبَرَہُ : أَنَّہُ ہَلَکَ قَالَ فَعَزَّاہُ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ : ((یَا فُلاَنُ أَیُّمَا کَانَ أَحَبَّ إِلَیْکَ أَنْ تُمَتَّعَ بِہِ عُمُرَکَ أَوْ لاَ تَأْتِیَ غَدًا بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ إِلاَّ وَجَدْتَہُ قَدْ سَبَقَکَ إِلَیْہِ فَفَتَحَہُ لَکَ))۔ قَالَ فَقَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ لاَ بَلْ یَسْبِقُنِی إِلَی أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ أَحَبُّ إِلَیَّ قَالَ : ((فَذَاکَ لَکَ))۔ قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ جَعَلَنِی اللَّہُ فِدَائَ کَ أَہَذَا لِہَذَا خَاصَّۃً أَوْ مَنْ ہَلَکَ لَہُ طِفْلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ کَانَ ذَلِکَ لَہُ قَالَ: ((بَلْ مَنْ ہَلَکَ لَہُ طِفْلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ کَانَ ذَلِکَ لَہُ))۔[صحیح۔ أخرجہ النسائی]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٠٨٩) معاویہ بن قرۃ اپنے والد سے وہ حدیث نقل فرماتے ہیں جس میں اس شخص کا واقعہ ہے جس کے دو بیٹے تھے، وہ دونوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور شہید ہوگئے ہیں اس غم نے مجلس میں آنے سے روک لیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے ملے اور اس کے بیٹوں کے بارے میں پوچھا تو اس نے آپ کو بتایا کہ وہ شہید ہوگئے ہیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تعزیت کی اور فرمایا : ” اے فلاں ! تجھے کیا محبوب ہے یا تو اس سے عمر بھر نفع حاصل کرتا رہے یا جب تو جنت کے دروازے پر پہنچے تو یہ تجھ سے پہلے وہاں کھڑا ہو اور اسے تیرے لیے کھول دے۔ تو اس نے کہا : اللہ کے رسول ! نہیں بلکہ وہ مجھ سے جنت کے دروازے کی طرف سبقت لے جائییہ مجھے زیادہ محبوب ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے وہی کچھ ہے۔ انصاریوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے کیا یہ نعمت اس بندے کے ساتھ خاص ہے یا پھر جس مسلمان کا بھی بچہ فوت ہوجائے اس کے لیے بھی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ جس مسلمان کا بچہ بھی شہید ہوا اس کے لیے یہ اجر ہوگا۔