Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 10 · Chapter 1474

جنازوں کا بیان

دفن کے بعد کی دعا

4 hadiths in this chapter

7065

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7065

Sahih

(۷۰۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَاللَّفْظُ لِتَمْتَامٍ قَالَ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ یُوسُفَ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ بَحِیرٍ عَنْ ہَانِئٍ مَوْلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: کَانَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا وَقَفَ عَلَی قَبْرٍ بَکَی حتَّی یَبَلَّ لِحْیَتَہُ قَالَ فَیُقَالُ لَہُ : تُذْکَرُ الْجَنَّۃُ وَالنَّارُ فَلاَ تَبْکِی وَتَبْکِی مِنْ ہَذَا قَالَ فَقَالَ : إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الآخِرَۃِ، فَمَنْ نَجَا مِنْہُ فَمَا بَعْدَہُ أَیْسَرُ مِنْہُ، وَمَنْ لَمْ یَنْجُ مِنْہُ فَمَا بَعْدَہُ أَشَدُّ مِنْہُ))۔ قَالَ وَقَالَ عُثْمَانُ : مَا رَأَیْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلاَّ وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْہُ قَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: وَکَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَیِّتِ قَالَ: ((اسْتَغْفِرُوا لِمَیِّتِکُمْ وَسَلُوا لَہُ التَّثْبِیتَ فَإِنَّہُ الآنَ یُسْأَلُ))۔ زَادَ فِیہِ غَیِرُہُ عَنْ ہِشَامٍ وَقَفَ عَلَیْہِ فَقَالَ : اسْتَغْفِرُوا ۔ وَأَسْنَدَ قَوْلَہُ مَا رَأَیْتُ مَنْظَرًا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [حسن۔ ترمذی]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٠٦٤) عثمان بن عفان (رض) کے غلام ہانی (رض) فرماتے ہیں کہ جب عثمان (رض) قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ ڈاڑھی مبارک تر ہوجاتی کہا گیا کہ آپ کے پاس جنت اور دوزخ کا تذکرہ ہوتا ہے آپ نہیں روتے مگر قبر کے تذکرے سے کیوں روتے ہو ؟ تو وہ فرماتے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ قبرآخرت کی پہلی منزل ہے جو اس سے نجات پا گیا بعد والی منازل اس کے لیے آسان ہوجائیں گی اور جو کوئی اس سے نجات حاصل نہ کرسکا تو اس کے بعد کی منازل بہت مشکل ہوں گی اور فرماتے : میں نے قبر جیسا بھیانک منظر کبھی نہیں دیکھا اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دفنِ میت سے فارغ ہوتے تو کہتے : اپنی میت کی بخشش طلب کرو اور ثابت قدمی کی دعا کرو یقیناً اس وقت اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس میں ہشام کے علاوہ دیگر نے اضافہ کیا ہے اور موقوف قرار دیا ہے۔ پھر انھوں نے کہا : توبہ و استغفار کرو اور سنداً یہ بیان کیا کہ میں نے کبھی اس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں دیکھا۔

7066

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7066

Zaeef

(۷۰۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحَمْنِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ کَثِیرِ بْنِ مُدْرِکٍ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ إِذَا سَوَّی عَلَی الْمَیِّتِ قَالَ : اللَّہُمَّ أَسْلَمہَ إِلَیْکَ الأَہْلَ وَالْمَالَ وَالْعَشِیرَۃِ وَذَنْبُہُ عَظِیمٌ فَاغْفِرْ لَہُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن ابی شیبہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٠٦٥) کثیر بن مدرک فرماتے ہیں کہ عمر (رض) جب میت پر مٹی برابر کرتے تو کہتے : ” اللَّہُمَّ أَسْلَمہَ إِلَیْکَ الأَہْلَ وَالْمَالَ وَالْعَشِیرَۃِ وَذَنْبُہُ عَظِیمٌ فَاغْفِرْ لَہُ ۔ “ اے اللہ ! اس نے اپنا مال واہل اور خاندان تجھے سونپ دیا ہے اور اس کے گناہ عظیم ہیں۔ مگر تو اسے معاف کر دے۔

7067

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7067

Sahih

(۷۰۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِی مُلَیْکَۃَ یَقُولُ : رَأَیْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ لَمَّا فَرَغَ مِنْ قَبْرِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ السَّائِبِ فَقَامَ النَّاسُ عَنْہُ قَامَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَقَفَ عَلَیْہِ وَدَعَا لَہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٠٦٦) ابن جریج فرماتے ہیں : میں نے ابن ابی ملیکہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبداللہ بن عباس کو دیکھا، جب وہ عبداللہ بن سائب کی قبر سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوگئے اور لوگ بھی کھڑے ہوگئے اور اس کے لیے دعا کی۔

7068

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7068

Sahih

(۷۰۶۷) وَرُوِّینَا عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ لاِبْنِہِ عَبْدِ اللَّہِ : فَإِذَا مِتُّ فَلاَ تَصْحَبْنِی نَائِحَۃٌ ، وَلاَ نَارٌ فَإِذَا دَفَنْتُمُونِی فَسُنُّوا عَلَیَّ التُّرَابَ سَنًّا ، فَإِذَا فَرَغْتُمْ مِنْ قَبْرِی فَامْکُثُوا حَوْلَ قَبْرِی قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جَزُورٌ وَیُقْسَمُ لَحْمُہَا فَإِنِّی أَسْتَأْنِسُ بِکُمْ حَتَّی أَعْلَمَ مَا أُرَاجِعُ بِہِ رُسُلَ رَبِّی۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ أَخْبَرَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ عَنِ ابْنِ شِمَاسَۃَ الْمَہْرِیِّ قَالَ: حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَہُوَ فِی سِیَاقَۃِ الْمَوْتِ فَذَکَرَہُ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٠٦٧) عمروبن عاص (رض) نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا : جب میں فوت ہو جاؤں تو میرے ساتھ نوحہ کرنی والی نہ لے کر آنا اور نہ ہی آگ لانا جب مجھے دفن کر دو تو مجھ پر مٹی ڈالو۔ جب تم میری قبر سے فارغ ہو جاؤ تو میری قبر کے ارد گرد اتنی دیر کھڑے رہنا جس قدر اونٹ ذبح کر کے تقسیم کیا جاتا ہے۔ میں تم سے انس محسوس کروں گا جب تک میں جان نہ لوں کہ میرے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے واپس جا چکے ہیں۔