Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 236

پاکی کا بیان

نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد تیمم کرنا

2 hadiths in this chapter

1058

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1058

Sahih

(۱۰۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ : ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ سَیَّارٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَضَّلَنِی عَلَی الأَنْبِیَائِ))۔ أَوْ قَالَ : ((أُمَّتِی عَلَی الأُمَمِ بِأَرْبَعٍ : أَرْسَلَنِی إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً ، وَجَعَلَ الأَرْضَ کُلَّہَا لِی وَلأُمَّتِی طَہُورًا وَمَسْجِدًا فَأَیْنَمَا أَدْرَکَتِ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِی الصَّلاَۃُ فَعِنْدَہُ مَسْجِدُہُ وَعِنْدَہُ طَہُورِہِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ یَسِیرُ بَیْنَ یَدَیَّ مَسِیرَۃَ شَہْرٍ یُقْذَفُ فِی قُلُوبِ أَعْدَائِی ، وَأُحِلَّتْ لِی الْغَنَائِمُ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی الأَشْعَثِ۔ [حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۱/۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٩) سیدنا ابو امامہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ نے مجھے تمام انبیاء پر فضیلت دی ہے یا فرمایا : میری امت دوسری امتوں پر چار وجہ سے فضیلت رکھتی ہے : اللہ نے مجھے تمام لوگوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا اور اس نے تمام زمین میرے لیے اور میری امت کیلئے پاک اور مسجد بنادی ہے، میری امت میں سے جہاں بھی آدمی نماز کا وقت پالے تو اس کے پاس اس کی مسجد اور وضو ہے اور میں رعب سے مدد کیا گیا ہوں جو میرے آگے ایک ماہ کی مسافت سے چلتا ہے جو میرے دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈالا جاتا ہے اور میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں۔

1059

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1059

Sahih

(۱۰۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی یَعْنِی ابْنَ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -عَامَ غَزْوَۃِ تَبُوکَ قَامَ مِنَ اللَّیْلِ یُصَلِّی فَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ قَالَ : ((لَقَدْ أُعْطِیتُ اللَّیْلَ خَمْسًا مَا أُعْطِیَہِنَّ أَحَدٌ کَانَ قَبْلِی))۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ : ((وَجُعِلَتْ لِی الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَہُورًا أَیْنَمَا أَدْرَکَتْنِی الصَّلاَۃُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّیْتُ قَالَ وَالْخَامِسَۃُ قِیلَ لِی سَلْ فَإِنَّ کُلَّ نَبِیٍّ قَدْ سَأَلَ ، فَأَخَّرْتُ مَسْأَلَتِی إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، فَہِیَ لَکُمْ وَلِمَنْ شَہِدَ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ))۔ [حسن۔ أخرجہ احمد ۲/۲۲۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٠) عمرو بن شعیب اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک کے سال رات کو نماز کے ساتھ قیام کیا۔ پھر لمبی حدیث بیان کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” رات مجھ کو پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو بھی عطا نہیں ہوئیں۔۔۔ میرے لیے زمین مسجد اور وضو کا ذریعہ بنادی گئی ہے، جہاں نماز کا وقت ہوجائے، میں مسح کروں گا اور نماز پڑھ لوں گا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانچویں چیز جو مجھ سے کہی گئی آپ سوال کریں، ہر نبی نے سوال کیا میں نے اپنا سوال قیامت تک کے لیے مؤخر کردیا ہے وہ تمہارے لیے ہوگا (یعنی امت کے لیے) اور وہ (سفارش) ہر اس شخص کے لیے جو لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہوگا۔