Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 188

پاکی کا بیان

غسل کے فرائض اور تکرا رکی فرضیت کے ساقط ہونے کا بیان

5 hadiths in this chapter

845

Sunan Al Kubra Bayhaqi #845

Sahih

(۸۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِی جَمِیلَۃَ عَنْ أَبِی رَجَائٍ الْعُطَارِدِیِّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ : کُنَّا فِی سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : وَنَادَی بِالصَّلاَۃِ فَصَلَّی بِالنَّاسِ فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنَ الصَّلاَۃِ إِذَا رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ لَمْ یُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ قَالَ : ((مَا مَنَعَکَ یَا فُلاَنُ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَ الْقَوْمِ؟))۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَصَابَتْنِی الْجَنَابَۃُ وَلاَ مَائَ ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((عَلَیْکَ بِالصَّعِیدِ فَإِنَّہُ یَکْفِیکَ))۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : وَکَانَ آخِرَ ذَلِکَ أَنْ أَعْطَی الَّذِی أَصَابَتْہُ الْجَنَابَۃُ إِنَائً مِنْ مَائٍ فَقَالَ : ((اذْہَبْ فَأَفْرِغْہُ عَلَیْکَ))۔ مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ عَوْفِ بْنِ أَبِی جَمِیلَۃَ۔[صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٤٦) عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔۔۔ نماز کے لیے اذان کہی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب نماز سے پھرے تو دیکھا ایک شخص الگ بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے فلاں ! کس نے تجھے منع کیا کہ تو قوم کے ساتھ نماز ادا کرتا ؟ “ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں جنبی ہوگیا اور پانی نہیں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تو مٹی کو لازم پکڑتا، بیشک وہ کفایت کر جاتی ہے اور پھر لمبی حدیث بیان کی ۔۔۔ فرماتے ہیں : آپ نے اس کو پانی کا برتن دیا اور فرمایا : ” جا اس کو اپنے اوپر ڈال لے۔ “

846

Sunan Al Kubra Bayhaqi #846

Sahih

(۸۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بِنَی عَامِرٍ قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا ذَرٍّ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی الْجَنَابَۃِ تُصِیبُہُ وَلاَ مَائَ ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((یَا أَبَا ذَرٍّ الصَّعِیدُ الطَّیِّبُ کَافِیکَ وَإِنْ لَمْ تَجِدِ الْمَائَ عَشْرَ سِنِینَ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَائَ فَأَمِسَّہُ جِلْدَکَ))۔ قَالَ یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ یَعْنِی بِذَلِکَ۔ [صحیح لغیرہٖ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٤٧) قلابہ بنی عامر قبیلے کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ابو ذر (رض) کو دیکھا، انھوں نے جنابت والی حدیث بیان کی جس میں ان کے جنبی ہونے کا ذکر ہے اور (ان کے پاس) پانی نہیں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے ابو ذر ! پاک مٹی تجھ کو کافی تھی ، اگرچہ دس سال بھی پانی نہ ملے اور جب تو پانی پائے تو اپنے جسم کو لگا (یعنی غسل کر) ۔

847

Sunan Al Kubra Bayhaqi #847

Zaeef

(۸۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عِصْمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : کَانَتِ الصَّلاَۃُ خَمْسِینَ وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ سَبْعَ مِرَارٍ ، وَغَسْلُ الثَّوْبِ مِنَ الْبَوْلِ سَبْعَ مِرَارٍ ، فَلَمْ یَزَلْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَسْأَلُ حَتَّی جُعِلَ الصَّلاَۃُ خَمْسًا وَغُسْلُ الْجَنَابَۃِ مَرَّۃً ، وَغَسْلُ الثَّوْبِ مِنَ الْبَوْلِ مَرَّۃً۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِیمَا حُکِیَ عَنْہُ : فَأَمَّا مَا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -: تَحْتَ کُلِّ شَعَرَۃٍ جَنَابَۃٌ ، فَبُلُّوا الشَّعَرَ وَأَنْقُوا الْبَشْرَۃَ ۔ فَإِنَّہُ لَیْسَ بِثَابِتٍ۔ یَعْنِی مَا۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۴۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٤٨) (الف) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نمازیں پچاس تھیں اور غسل جنابت سات بار تھا اور پیشاب کو کپڑے سے دھونا سات بار تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوال کرتے رہے، یہاں تک کہ نمازیں پانچ اور غسل جنابت ایک مرتبہ اور پیشاب کو کپڑے سے دھونا ایک مرتبہ مقرر کردیا گیا۔ (ب) امام شافعی سے منقول ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا بالوں کو تر کرو اور جلد کو صاف کرو “۔

848

Sunan Al Kubra Bayhaqi #848

Zaeef

(۸۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَدِیٍّ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ حُبَابٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِی حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِیہٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((تَحْتَ کُلِّ شَعْرَۃٍ جَنَابَۃٌ ، فَبُلُّوا الشَّعَرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَۃَ)) ۔ تَفَرَّدَ بِہِ ہَکَذَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِیہٍ۔ وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ : سَأَلْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ وَجِیہٍ فَقَالَ : لَیْسَ حَدِیثُہُ بِشَیْئٍ ۔ وَأَنْکَرَہُ غَیْرُہُ أَیْضًا مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ الْبُخَارِیُّ وَأَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ وَغَیْرُہُمَا ، وَإِنَّمَا یُرْوَی عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -مُرْسَلاً۔ وَعَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَوْقُوفًا ، وَعَنِ النَّخَعِیِّ۔ کَانَ یُقَالُ۔ وَقَدْ حَمَلَہُ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَۃِ الزَّعْفَرَانِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْہُ عَلَی مَا ظَہَرَ وَدَاخِلِ الأَنْفِ وَالْفَمِ مِمَّا بَطْنَ ، فَأَشْبَہَ دَاخِلَ الْعَیْنَیْنِ وَدَاخِلَ الأُذُنَیْنِ ، فَقَالَ مَنْ تَکَلَّمَ فِیہَا مَعَ الشَّافِعِیِّ : الْقِیَاسُ أَنْ لاَ یُعِیدَ وَلَکِنَّا أَخَذْنَا بِالأَثَرِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ یَعْنِی۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٤٩) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہر بال کے نیچے جنابت ہے بالوں کو تر کرو اور جلد کو اچھی طرح صاف کرو۔ “ (ب) حارث بن وجیہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی کوئی حیثیت نہیں۔ (ج) محدثین میں سے امام بخاری (رح) ، امام ابوداؤد (رح) اور دوسروں نے اس کا انکار کیا ہے۔ حسن بصری (رح) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرسل روایت بیان کرتے ہیں، اسی طرح امام حسن بصری سیدنا ابوہریرہ (رض) سے موقوف روایت بیان کرتے ہیں، امام نخعی (رح) سے بھی اسی طرح نقل کیا گیا ہے۔ (د) امام شافعی (رح) نے اس بات پر محمول کیا ہے کہ ناک اور منہ پوشیدہ اعضاء میں داخل ہیں، انھوں نے آنکھوں اور کانوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ شیخ کہتے ہیں کہ جس نے امام شافعی (رح) کے ساتھ اس مسئلہ میں کلام کیا تو قیاس یہ ہے کہ وہ غسل نہیں دہرائے گا لیکن ہم نے سیدنا ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے۔

849

Sunan Al Kubra Bayhaqi #849

Zaeef

(۸۵۰) مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا أَبُو حَنِیفَۃَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ عَجْرَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لاَ یُعِیدُ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ جُنُبًا یَعْنِی الْمَضْمَضَۃَ وَالاِسْتِنْشَاقَ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عُثْمَانَ۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ : لَیْسَ لِعَائِشَۃَ بِنْتِ عَجْرَدٍ إِلاَّ ہَذَا الْحَدِیثُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ: أَثَرُہُ الَّذِی یَعْتَمِدُ عَلَیْہِ عُثْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ عَجْرَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَزَعَمَ أَنَّ ہَذَا الأَثَرَ ثَابِتٌ یُتْرَکُ لَہُ الْقِیَاسُ وَہُوَ یَعِیبُ عَلَیْنَا أَنْ نَأْخُذَ بِحَدِیثِ بُسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ وَعُثْمَانُ وَعَائِشَۃُ غَیْرُ مَعْرُوفِینَ بِبَلَدِہِمَا، وَکَیْفَ یَجُوزُ لأَحَدٍ یَعْلَمُ أَنْ یُثَبِّتَ ضَعِیفًا مَجْہُولاً وَیُوَہِّنَ قَوِیًّا مَعْرُوفًا۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَرَوَاہُ الْحَجَّاجَ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ عَجْرَدٍ۔ وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ لَیْسَ بِحَجَّۃٍ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۱۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٥٠) سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں وہ دوبارہ (غسل) نہیں کرے گا مگر جنبی ہوا تو کرے گا۔ یعنی کلی اور ناک میں پانی چڑھائے گا۔ (ب) علی بن عمر فرماتے ہیں کہ عائشہ بنت عجرد کی سیدنا ابن عباس (رض) سے یہی روایت ہے۔ (ج) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ان کا اثر وہ ہے جس کی سند عثمان بن راشد عن عائشہ بنت عجرد عن ابن عباس (رض) ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ حدیث ثابت ہے۔ اس کی وجہ سے قیاس کو ترک کردیا جائے گا اور یہ ہم پر عیب ہے کہ ہم حدیث بسرہ بنت صفوان (رض) کو لیں۔ (د) عثمان اور عائشہ غیر معروف ہیں اور ان کے شہروں کا علم نہیں۔ شیخ کہتے ہیں : اس حدیث کو حجاج بن ارطاۃ عن عائشہ بنت عجرد روایت کیا گیا ہے۔ حجاج بن ارطاۃ قابل حجت نہیں۔