Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 142

پاکی کا بیان

چھونے سے وضو کرنے کا بیان اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ } [المائدۃ : ٦] یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو۔” اسم لمس “ جماع کے علاوہ بھی مستعمل ہے جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماعز بن مالک سے فرمایا : تو نے شاید اس کا بوسا لیا ہو یا چھوا ہو اور اسی طرح بیع ملامسہ سے ممانعت۔ اس طرح سیدنا ابوہریرہ (رض) کی روایت کہ ہاتھوں کا زنا لمس ہے۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کبھی کبھار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم تمام عورتوں کے پاس ایک ہی دن میں چکر لگاتے تھے، آپ ہمیں بوس و کنار کرتے جماع نہیں کرتے تھے۔

8 hadiths in this chapter

604

Sunan Al Kubra Bayhaqi #604

Sahih

(۶۰۵) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ - یَعْنِی ابْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ - عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِنَّ الْقُبْلَۃَ مِنَ اللَّمْسِ فَتَوَضَّئُوا مِنْہَا۔ [صحیح۔ لغیرہٖ أخرجہ الحاکم ۱/۲۲۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٠٥) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : بوسہ، چھونے کی طرح ہے، لہٰذا تم اس سے وضو کرو۔

605

Sunan Al Kubra Bayhaqi #605

Sahih

(۶۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ} قَوْلاً مَعْنَاہُ مَا دُونَ الْجِمَاعِ۔ [صحیح۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۲۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٠٦) سیدنا ابن مسعود (رض) اللہ کے اس فرمان { أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ } کے متعلق بیان فرماتے ہیں کہ اس کا معنی جماع کے علاوہ ہے۔

606

Sunan Al Kubra Bayhaqi #606

Sahih

(۶۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ بَالَوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : الْقُبْلَۃُ مِنَ اللَّمْسِ وَفِیہَا الْوُضُوئُ ، وَاللَّمْسُ مَا دُونَ الْجِمَاعِ۔ (ت) ہَکَذَا رَوَاہُ الثَّوْرِیُّ وَشُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح لغیرہٖ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٠٧) سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : بوسہ چھونے سے ہے اور اس میں وضو ہے اور ” لمس “ جماع کے علاوہ ہے۔

607

Sunan Al Kubra Bayhaqi #607

Sahih

(۶۰۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ۔ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : قُبْلَۃُ الرَّجُلِ امْرَأَتَہُ وَجَسُّہَا بِیَدِہِ مِنَ الْمُلاَمَسَۃِ ، فَمَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَہُ أَوْ جَسَّہَا بِیَدِہِ فَعَلَیْہِ الْوُضُوئُ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، وَفِی رِوَایَۃِ ابْنُ بُکَیْرٍ : فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ الْوُضُوئُ۔ (ق) فَہَذَا قَوْلُ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَخَالَفَہُمُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَحَمَلَ الْمُلاَمَسَۃَ الْمَذْکُورَۃَ فِی الْکِتَابِ الْعَزِیزِ عَلَی الْجِمَاعِ وَلَمْ یَرَ فِی الْقُبْلَۃِ وُضُوئً ا۔[صحیح۔ أخرجہ مالک ۹۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٠٨) (الف) سالم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ آدمی کا اپنی بیوی کو بوسہ دینا اور اس کے جسم کو اپنے ہاتھ سے چھونا اور جو شخص اپنی بیوی کو بوسہ دے یا ہاتھ سے چھوئے تو اس پر وضو ہے۔ (ب) ابن بکیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اس پر وضو واجب ہے۔ (ج) یہ قول سیدنا عمر، عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عمر (رض) کا ہے ابن عباس نے ان کی مخالفت کی ہے۔ انھوں نے کتاب اللہ میں مذکور ملامسہ کو جماع پر محمول کیا ہے اور ان سے بوسہ لینے سے وضو کے متعلق کوئی روایت نہیں۔

608

Sunan Al Kubra Bayhaqi #608

Sahih

(۶۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : تَذَاکَرْنَا اللَّمْسَ ، فَقَالَ أُنَاسٌ مِنَ الْمَوَالِی : لَیْسَ مِنَ الْجِمَاعِ۔ وَقَالَ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ : ہِیَ مِنَ الْجِمَاعِ۔ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ : مَعَ أَیِّہِمْ کُنْتَ؟ قُلْتُ : مَعَ الْمَوَالِی۔ قَالَ : غُلِبَتِ الْمَوَالِی ، إِنَّ اللَّمْسَ وَالْمُبَاشَرَۃَ مِنَ الْجِمَاعِ ، وَلَکِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَکْنَی مَا شَائَ بِمَا شَائَ ، وَقَوْلُ مَنْ یُوَافِقُ قَوْلُہُ ظَاہِرَ الْکِتَابِ أَوْلَی۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٠٩) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ہم نے لمس (چھونے) کا ذکر کیا تو موالی میں سے بعض لوگوں نے کہا : یہ جماع نہیں ہے اور اہل عرب نے کہا : یہ جماع ہے۔ میں نے ابن عباس (رض) سے ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا : تم کن کے ساتھ ہو ؟ میں نے کہا : موالی کے ساتھ تو انھوں نے کہا : موالی کی بات ٹھیک نہیں ہے۔ بیشک چھونا اور مباشرت کرنا جماع میں سے ہے، لیکن اللہ نے کنایہ ذکرکیاجی سے اس نے چاہا۔ ان کا قول ظاہری کتاب کے موافق ہونے میں زیادہ اولیٰ ہے۔

609

Sunan Al Kubra Bayhaqi #609

Sahih

(۶۱۰) وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی وَیَحْیَی بْنُ الْمُغِیرَۃِ قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّہُ کَانَ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَجَائَہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا تَقُولُ فِی رَجُلٍ أَصَابَ مِنَ امْرَأَۃٍ لاَ تَحِلُّ لَہُ ، فَلَمْ یَدَعْ شَیْئًا یُصِیبُہُ الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِہِ إِلاَّ وَقَدْ أَصَابَہُ مِنْہَا إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یُجَامِعْہَا۔ فَقَالَ : ((تَوَضَّأْ وُضُوئً ا حَسَنًا ثُمَّ قُمْ فَصْلِّ)) ۔ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ہَذِہِ الآیَۃُ {أَقِمِ الصَّلاَۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ} [ھود: ۱۱۴] الآیَۃَ فَقَالَ : أَہِیَ لَہُ خَاصَّۃً أَمْ لِلْمُسْلِمِینَ عَامَّۃً۔ قَالَ : ((بَلْ ہِیَ لِلْمُسْلِمِینَ عَامَّۃً))۔ (ت) وَہَکَذَا رَوَاہُ زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ وَأَبُو عَوَانَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ وَفِیہِ إِرْسَالٌ۔ (ج) عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی لَیْلَی لَمْ یُدْرِکْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ۔ [صحیح۔ دون أمرہ بالوضوء ، اخرجہ الحاکم ۱/۲۲۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦١٠) سیدنا معاذ بن جبل (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک شخص نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو ایسی عورت پر واقع ہوا جو اس کے لیے حلال نہیں ہے اور اس نے جماع کے سوا ہر کام کیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اچھی طرح وضو کرے پھر کھڑا ہو اور نماز پڑھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کردی : { أَقِمِ الصَّلاَۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ }[ھود : ١١٤] پوچھا گیا : یہ اس کے لیے خاص ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔

610

Sunan Al Kubra Bayhaqi #610

Sahih

(۶۱۱) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْعَبْسِیُّ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِہِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّلاَۃِ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ (ج) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ سَعِیدٍ وَذُکِرَ لَہُ حَدِیثُ الأَعْمَشِ عَنْ حَبِیبٍ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ : أَمَا إِنَّ سُفْیَانَ الثَّوْرِیَّ کَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ بِہَذَا ، زَعَمَ أَنَّ حَبِیبًا لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عُرْوَۃَ شَیْئًا۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا عَلِیٌّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیُّ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی وَذُکِرَ عِنْدَہُ حَدِیثُ الأَعْمَشِ عَنْ حَبِیبٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ : تُصَلِّی وَإِنْ قَطَرَ عَلَی الْحَصِیرِ ، وَفِی الْقُبْلَۃِ۔ قَالَ یَحْیَی : احْکِ عَنِّی أَنَّہُمَا شِبْہُ لاَ شَیْئَ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَخْلَدٍ الطَّالْقَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَائَ أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ أَخْبَرَنَا أَصْحَابٌ لَنَا عَنْ عُرْوَۃَ الْمُزَنِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ بِہَذَا الْحَدِیثِ۔ (ج) قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رُوِیَ عَنِ الثَّوْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ : مَا حَدَّثَنَا حَبِیبٌ إِلاَّ عَنْ عُرْوَۃَ الْمُزَنِیِّ۔ یَعْنِی لَمْ یُحَدِّثْہُمْ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ بِشَیْئٍ ۔ قَالَ الشَّیْخُ فَعَادَ الْحَدِیثُ إِلَی رِوَایَۃِ عُرْوَۃَ الْمُزَنِیِّ وَہُوَ مَجْہُولٌ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۷۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦١١) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ایک بیوی کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا۔ (ب) سفیان ثوری اس روایت کو زیادہ جانتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ حبیب نے عروہ سے سماع نہیں کیا۔ (ج) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ وہ عورت نماز پڑھے گی اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں۔ (د) امام ابوداؤد (رح) فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری فرماتے ہیں : حبیب نے ہمیں صرف عروۃ مزنی سے روایت کیا ہے۔

611

Sunan Al Kubra Bayhaqi #611

Sahih

(۶۱۲) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی رَوْقٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یُقَبِّلُ بَعْدَ الْوُضُوئِ ثُمَّ لاَ یُعِیدُ الْوُضُوئَ ، وَقَالَتْ : ثُمَّ یُصَلِّی۔ فَہَذَا مُرْسَلٌ۔ (ج) إِبْرَاہِیمُ التَّیْمِیُّ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عَائِشَۃَ قَالَہُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ وَغَیْرُہُ۔ وَأَبُو رَوْقٍ لَیْسَ بِقَوِیٍّ ضَعَّفَہُ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَغَیْرُہُ۔ (ت) وَرَوَاہُ أَبُو حَنِیفَۃَ عَنْ أَبِی رَوْقٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ حَفْصَۃَ۔ (ج) وَإِبْرَاہِیمُ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عَائِشَۃَ وَلاَ مِنْ حَفْصَۃَ قَالَہُ الدَّارَقُطْنِیُّ وَغَیْرُہُ۔ وَقَدْ رَوَیْنَا سَائِرَ مَا رُوِیَ فِی ہَذَا الْبَابِ وَبَیَّنَّا ضَعْفَہَا فِی الْخِلاَفِیَّاتِ۔ (ق) وَالْحَدِیثُ الصَّحِیحُ عَنْ عَائِشَۃَ فِی قُبْلَۃِ الصَّائِمِ فَحَمَلَہُ الضُّعَفَائُ مِنَ الرُّوَاۃِ عَلَی تَرْکِ الْوُضُوئِ مِنْہَا وَلَوْ صَحَّ إِسْنَادُہُ لَقُلْنَا بِہِ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۴۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦١٢) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کے بعد بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ پھر دوبارہ وضو نہیں کرتے تھے اور سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : پھر نماز پڑھتے تھے (یہ روایت مرسل ہے) ۔ (ب) یحییٰ بن معین نے ابو روق کو ضعیف قرار دیا ہے۔ (ج) امام دارقطنی (رح) فرماتے ہیں کہ ابراہیم کا سیدہ عائشہ (رض) اور حفصہ (رض) سے سماع ثابت نہیں ہے۔ (د) سیدہ عائشہ (رض) سے روزہ کی حالت میں بوسہ لینے والی روایت صحیح ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو ترک وضو پر محمول کیا ہے۔