Muslim99Muslim99

Sunan al-Daraqutni · Book 18 · Chapter 2

Military Campaigns

باب وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىباب وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى

4 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3667

Sunan al-Daraqutni #3667

نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ سَيَّارٍ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ، نَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ سورة النساء آية 3، قَالَتْ: يَا ابْنَ أَخِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا تُشْرِكُهُ فِي مَالِهِ، وَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا، فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا مَا يُعْطِيهَا مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ، فَنُهُوا عَنْ أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ أَوْ يَبْلُغُوا لَهُنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ فِي الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، وَذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَابِ الآيَةَ الأُولَى، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى فِي الآيَةِ الأُخْرَى وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، قَالَتْ: فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَنْ رَغِبُوا فِي مَالِهِ وَجَمَالِهِ مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ إِذَا كُنَّ قَلِيلاتِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ " ، تَابَعَهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ . وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ."

EnglishUnverified translation

Narrated Urwa bin Zubair: He asked Sayyida Aisha Siddiqa about this saying of Allah: "And if you fear that you will not be able to do justice to the orphan girls, then marry two or four of the women you like." Sayyida Aisha Siddiqa, may Allah be pleased with her, said: O my nephew, this refers to an orphan girl who was brought up by a person, and that girl was a sharer in his wealth. If that person was interested in the wealth and beauty of this girl, then the guardian wanted to marry her, so that she would not have to pay dowry according to justice. Marry the girls or ask the Ansar to give them Mahrad. These people were ordered to marry other women whom they did not like. Narrated ``Urwa: Sayyida Aisha (may Allah be pleased with her) said: After this verse, people asked various questions about it, so Allah revealed this verse: "People ask you about women: Say: Allah commands you about them, and about the orphan girls that have been recited in the Book, the orphan girls whom you do not pay what they have been appointed for youth and you are interested in marrying them." What Allah has mentioned here, that the verses of the Book of Allah that have been recited before you, refers to the previous verse, in which Allah Almighty said: "And if you fear that you will not be able to deal with the orphan girls fairly, then the women you like best." Sayyida Ayesha Siddiqa (may Allah be pleased with her) says: In the second verse, Allah says: Sayyida Aisha Siddiqa (may Allah be pleased with her) says that people were forbidden to marry orphan girls whom they were attracted to by their wealth and beauty: when they paid them according to justice, this was because if such girls had little wealth or less beauty, the guardians should not be attracted to them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا:۔ '' اور اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو تمہیں جو خواتین پسند ہوں دویاتین یا چار ان کے ساتھ شادی کرلو ''۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بھتیجے اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو کسی شخص کی زیر پرورش ہوتی تھی وہ لڑکی اس کے مال میں اس کی شریک ہوتی تھی، تو اس شخص کو اس لڑکی کے مال اور خوبصورتی میں دل چسپی ہوتی تو ولی اس لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا، تاکہ اسے مہر کے طور پر انصاف کے مطابق ادائیگی نہ کرنا پڑے وہ (انصاف کے مطابق یعنی عام رواج سے کم) مہر ادا کرتا تو لوگوں کو اس بات سے منع کردیا گیا کہ وہ اس طرح ان لڑکیوں کے ساتھ شادی کریں یاپھریہ ہے کہ وہ انصار سے انہیں مہراد اکریں ان لوگوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ دوسری خواتین کے ساتھ شادی کرلیں جوا نہیں پسند آتی ہیں۔ عروہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بتایا: اس آیت کے بعد لوگوں نے اس بارے میں مختلف سوالات کیے تو اللہ تعالیٰ ٰ نے یہ آیت نازل کی:۔ '' لوگ تم سے خواتین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں: تم فرمادو، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ ٰ تمہیں حکم دیتا ہے اور یتیم لڑکیوں کے بارے میں کتاب کے جو احکام تلاوت کیے گئے ہیں جن یتیم لڑکیوں کو تم وہ چیز ادا نہیں کرتے جوان کے لیے مقرر کی گئی ہے اور تم ان کے ساتھ نکاح کرنے میں دل چسپی رکھتے ہو ''۔ اللہ نے یہاں جو یہ بات ذکر کی ہے کہ کتاب اللہ کی جو آیات تمہارے سامنے تلاوت کی گئی ہیں اس سے مراد پہلے والی آیت ہے اللہ تعالیٰ ٰ نے ارشاد فرمایا ہے: '' اور اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو جو خواتین تمہیں اچھی لگتی ہیں ''۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ ٰ کا یہ فرمان: وترغبوھن ان تنکحوھن۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں لوگوں کو اس بات سے منع کردیا گیا کہ انہیں جن یتیم لڑکیوں کے مال اور خوبصورتی میں دل چسپی ہوتی ہے وہ ان کے ساتھ اسی وقت شادی کرسکتے ہیں: جب وہ انصاف کے مطابق انہیں ادائیگی کریں، اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر ایسی لڑکیاں تھوڑے مال یا کم خوبصورتی کی مالک ہوتیں تو ان سرپرستوں نے ان میں دل چسپی نہیں لینی تھی۔

3668

Sunan al-Daraqutni #3668

نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى سورة النساء آية 3، قَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَتُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ وَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا فَيُعْطِيهَا مثل مَا يُعْطَى غَيْرُهُ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا لَهُنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الآيَةِ الأُخْرَى: وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ الَّتِي تَكُونُ فِي حِجْرِهِ، تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا فِي يَتَامَى النِّسَاءِ إِلا بِالْقِسْطِ، مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ " ."

EnglishUnverified translation

Narrated ``Urwa bin Zubair: He asked Sayyida Aisha (RA) about this saying of Allah: And if you fear that you will not be able to deal with orphan girls justly, marry two or four of the women you like.'' Sayyida Aisha Siddiqa (may God be pleased with her) said: O my nephew, this means an orphan girl who was brought up by a person, and that girl was a sharer in his wealth. If that person was interested in the wealth and beauty of this girl, then the guardian wanted to marry her, so that she would not have to pay as dowry according to justice. So the people were forbidden to marry these girls in this way, or else to marry them justly (i.e. according to common custom) and they were ordered to marry other women. Sayyida Ayesha Siddiqa, may Allah be pleased with her, said: In the second verse, Allah Ta'ala has said: "And you do not take heart in marrying them." That is, a person is not interested in marrying an orphan girl who is brought up under his care, whose wealth and beauty are less, so people were forbidden to marry those orphan girls whose wealth and beauty people are interested in (because otherwise) their interest ends, but if they do away with them according to justice (the ruling will be different).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا: اور اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو تمہیں جو خواتین پسند ہیں دویاتین یا چار، ان کے ساتھ چادی کرلو ''۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بھتیجے، اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو کسی شخص کی زیر پرورش ہوتی تھی وہ لڑکی اس کے مال میں اس کی شریک ہوتی تھی، تو اس شخص کو اس لڑکی کے مال اور خوبصورتی میں دل چسپی ہوتی تو ولی اس لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا، تاکہ اسے مہر کے طور پر انصاف کے مطابق ادائیگی نہ کرنا پڑے وہ (انصاف کے مطابق یعنی عام رواج سے کم) مہر ادا کرت?? تو لوگوں کو اس بات سے منع کردیا گیا کہ وہ اس طرح ان لڑکیوں کے ساتھ شادی کریں یاپھریہ ہے کہ وہ انصاف سے (یعنی عام رواج کے مطابق) انہیں مہراد اکریں ان لوگوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ دوسری خواتین کے ساتھ شادی کرلیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ ٰ نے ارشاد فرمایا ہے:۔ '' اور تم ان کے ساتھ شادی کرنے میں دل چسپی نہیں لیتے '۔ یعنی کوئی شخص ایسی یتیم لڑکی کے ساتھ شادی کرنے میں دل چسپی نہیں لیتا جو اس کے زیر پرورش ہوتی ہے جس کا مال اور خوبصورتی کم ہوتے ہیں تو لوگوں کو ان یتیم لڑکیوں کے ساتھ شادی کرنے سے منع کردیا گیا جن کے مال اور خوبصورتی میں لوگوں کو دل چسپی ہوتی ہے (کیونکہ دوسری صورت میں) ان کی دل چسپی ختم ہوجاتی ہے، البتہ اگر وہ انصاف کے مطابق انہیں مہرادا کریں تو (حکم مختلف ہوگا)۔

3669

Sunan al-Daraqutni #3669

نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، نَا أَبُو الْيَمَانِ، أنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، نَا أَبُو أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ ، نَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ ، نَا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وَنا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ الْحَافِظُ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، نَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 3؟، قَالَتْ: أَيِ ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا وَيُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِأَدْنَى مِنْ سُنَّةِ صَدَاقِهَا، فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ، إِلا أَنْ تُقْسِطُوا لَهُنَّ فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ اسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَبَيَّنَ اللَّهُ لَهُمْ فِي هَذِهِ الآيَةِ أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا كَانَتْ ذَاتَ مَالٍ وَجَمَالٍ رَغِبُوا فِي نِكَاحِهَا وَلَمْ يُلْحِقُوهَا بِسُنَّتِهَا فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ، فَإِذَا كَانَتْ مَرْغُوبًا عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ تَرَكُوهَا وَالْتَمَسُوا غَيْرَهَا مِنَ النِّسَاءِ، يَتْرُكُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْكِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا فِيهَا، إِلا أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الأَوْفَى مِنَ الصَّدَاقِ ، مَعْنَاهُمْ مُتَقَارِبٌ."

EnglishUnverified translation

Narrated Urwa bin Zubair: He asked Sayyida Aisha Siddiqa (RA) about this saying of Allah: And if you fear that you will not be able to deal with orphan girls justly, then marry two, or three or four women whom you like. Sayyida Aisha Siddiqa (may Allah be pleased with her) said: O my nephew, this means an orphan girl who was brought up by a person, and that girl was a sharer in his wealth, and if that person was interested in the wealth and beauty of that girl, then the guardian wanted to marry her, so that she would not have to pay the dowry according to justice. Marry these girls, or rather give them Mehrad Akrin justly (i.e. according to common custom). These people were ordered to marry other women. Sayyida Ayesha Siddiqa Radiyallahu Anha: Then the people asked the Prophet, may God bless him and grant him peace, so Allah revealed this verse. "People ask you about women, then say, Allah commands you about them, and about the orphan girls that have been recited in the Book, to whom you do not pay what is prescribed for a young man, and you are interested in marrying her." Sayyida Ayesha Siddiqa Radiyallahu Anha: In this verse, Allah Ta'ala has explained this command to the people, if someone is beautiful and rich, then people are interested in marrying her, but they do not give her full Mahrada according to the general custom, but if the girl is lacking in terms of beauty and wealth, then they do not marry her, but look for other women. Sayyida Aisha Siddiqa Radiyallahu Anha: When these people do not feel interested in such girls and they abandon them, then they do not have the right to marry such girls when they feel attracted to them, but if they treat them fairly and pay the dowry in full (then the ruling will be different). Their subject is mutually exclusive.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا: اور اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو تمہیں جو خواتین پسند ہوں، دو، یا، تین یا چار، ان کے ساتھ شادی کرلو۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بھتیجے، اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو کسی شخص کی زیر پرورش ہوتی تھی وہ لڑکی اس کے مال میں اس کی شریک ہوتی تھی، تو اس شخص کو اس لڑکی کے مال اور خوبصورتی میں دل چسپی ہوتی تو ولی اس لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا، تاکہ اسے مہر کے طور پر انصاف کے مطابق ادائیگی نہ کرنا پڑے وہ (انصاف کے مطابق یعنی عام رواج سے کم) مہر ادا کرتا تو لوگوں کو اس بات سے منع کردیا گیا کہ وہ اس طرح ان لڑکیوں کے ساتھ شادی کریں یاپھریہ ہے کہ وہ انصاف سے (یعنی عام رواج کے مطابق) انہیں مہراد اکریں ان لوگوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ دوسری خواتین کے ساتھ شادی کرلیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا: پھر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوالات کیے تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ '' لوگ تم سے خواتین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم فرمادو، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ ٰ تمہیں یہ حکم دیتا ہے اور یتیم لڑکیوں کے بارے میں کتاب کے جو احکام تلاوت کیے گئے ہیں جن یتیم لڑکیوں کو تم وہ چیز ادا نہیں کرتے جوان کے لیے مقرر کی گئی ہے اور تم اس کے ساتھ نکاح کرنے میں دل چسپی رکھتے ہو۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا: اس آیت میں اللہ تعالیٰ ٰ نے لوگوں کے لیے یہ حکم بیان کیا ہے، اگر کوئی خوبصورت ہو اور مالدار بھی ہوتویہ لوگ اس کے ساتھ نکاح میں دل چسپی لیتے ہیں لیکن عام رواج کے مطابق اسے مکمل مہرادا نہیں کرتے، لیکن اگر خوبصورتی اور مال کے اعتبار سے لڑکی میں کمی ہو تو یہ اس کے ساتھ شادی نہیں کرتے، بلکہ دوسری خواتین تلاش کرتے ہیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا: جب ان لوگوں کو ایسی لڑکیوں میں دلچسپی محسوس نہیں ہوتی اور وہ انہیں ترک کردیتے ہیں تو اب انہیں اس بات کا بھی حق نہیں ہوگا، کہ جب انہیں اس طرح کی لڑکیوں میں دل چسپی محسوس ہو تو وہ ان کے ساتھ شادی کرلیں، البتہ اگر مہر کے حوالے سے وہ ان کے ساتھ انصاف سے کام لیں اور پوری ادائیگی کریں (تو حکم مختلف ہوگا)۔ ان کا مضمون باہمی طور پر قریب ہے۔

3670

Sunan al-Daraqutni #3670

نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3، قَالَتْ: هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ هُوَ وَلِيُّهَا فَيَتَزَوَّجُهَا عَلَى مَالِهَا وَيُسِيءُ صُحْبَتَهَا، وَلا يَعْدِلُ فِي مَالِهَا، فَلْيَتَزَوَّجْ مَا طَابَ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثَلاثَ وَرُبَاعَ " ."

EnglishUnverified translation

Hisham bin Urwah narrates the statement of Sayyidah Aisha Siddiqah (may Allah be pleased with her) regarding his father (Urwah bin Zubair): If you fear that you will not be able to do justice to the orphan girls, then marry those women whom you like. Sayyida Aisha Siddiqa (may Allah be pleased with her) says: It means an orphan girl who was raised by a person, that person was the guardian of that girl, and then married her because of her wealth, but he did not want to keep her with him and did not deal with her fairly even in wealth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہشام بن عروہ اپنے والد (عروہ بن زبیر) کے حوالے سے، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جو اللہ کے اس فرمان کے بارے میں ہے:۔ اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو تم ان خواتین کے ساتھ شادی کرلو اور جو تمہیں پسند آتی ہیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو کسی شخص کی زیر پرورش ہوتی تھی وہ شخص اس لڑکی کا سرپرست ہوتا تھا، اور پھر اس کے مال کی وجہ سے اس کے ساتھ شادی کرلیتا تھا، لیکن وہ اسے اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتا تھا اور مال میں بھی اس کے ساتھ انصاف سے کام نہیں لیتا تھا ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ دوسری کسی خاتون کے ساتھ شادی کرے خواہ دوشادیاں کرے یاتین کرے یا چار کرے۔