Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 26 · Chapter 2597

جنت اور جہنم

جنتی اور جہنمی لوگوں کی عمریں اور جسامتیں

2 hadiths in this chapter

3976

Silsila Sahiha #3976

Sahih

-" ما من احد يموت سقطا ولا هرما - وإنما الناس فيما بين ذلك - إلا بعث ابن ثلاثين سنة، فإن كان من اهل الجنة كان على نسحة آدم، وصورة يوسف، وقلب ايوب، ومن كان من اهل النار عظموا، او فخموا كالجبال".-" ما من أحد يموت سقطا ولا هرما - وإنما الناس فيما بين ذلك - إلا بعث ابن ثلاثين سنة، فإن كان من أهل الجنة كان على نسحة آدم، وصورة يوسف، وقلب أيوب، ومن كان من أهل النار عظموا، أو فخموا كالجبال".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنی تخلیق کی تکمیل سے پہلے (‏‏‏‏یعنی نامکمل حالت میں) مر جائے یا انتہائی عمر رسیدہ ہو کر، اور لوگ ان دو عمروں کے درمیان ہی ہوتے ہیں، (‏‏‏‏بہرحال اسے حشر والے دن) تیس سال کی عمر (‏‏‏‏کا جوان بنا کر) اٹھایا جائے گا، اگر وہ جنتی ہوا تو آدم علیہ السلام کی ساخت پر، یوسف ‏‏‏‏ علیہ السلام کی صورت پر اور ایوب ‏‏‏‏ علیہ السلام کے دل پر ہو گا اور جہنمی ہوا تو اس کے جسم کو پہاڑ کی مانند عظیم و جسیم بنا دیا جائے گا۔“ ‏‏‏‏

3977

Silsila Sahiha #3977

Sahih

-" الناس يومئذ على جسر جهنم".-" الناس يومئذ على جسر جهنم".

اردو ترجمہ · Urdu

امام مجاہد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے کہا: کیا تجھے جہنم کی وسعت کا علم ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! آپ کو واقعی علم نہیں ہو گا۔ (‏‏‏‏سنو! ایک جہنمی کے) کان کی لو اور کندھے کے درمیان کا فاصلہ ستر سال مسافت کا ہو گا، وہاں پیپ اور خون کی وادیاں چل رہی ہوں گی۔ میں نے کہا: نہریں چلیں گی؟ انہوں نے کہا: نہریں نہیں، وادیاں۔ پھر فرمایا: کیا تجھے جہنم کی وسعت کا علم ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! آپ کو واقعی علم نہیں ہو گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا «وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ» (۳۹-الزمر:۶۷) ‏‏‏‏ ”اور ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوں گے۔“ کہ اے اللہ کے رسول! (‏‏‏‏ جب زمین و آسمان کی یہ کیفیت ہو گی تو) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏ وہ اس وقت جہنم کے پل (‏‏‏‏ یعنی پل صراط) پر ہوں گے۔“