Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 25 · Chapter 2451

ابتدائے (مخلوقات)، انبیا و رسل، عجائبات خلائق

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عجز و انکساری

4 hadiths in this chapter

3793

Silsila Sahiha #3793

Sahih

- (ذاك إبراهيم عليه السلام. يعني: انه خير البرية).- (ذاك إبراهيم عليه السلام. يعني: أنّه خير البريّة).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے خیر البریّہ! (‏‏‏‏یعنی مخلوقات میں سے بہترین) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (‏‏‏‏ ‏‏‏‏وصف تو) ابراہیم علیہ السلام کا تھا۔“ ‏‏‏‏

3794

Silsila Sahiha #3794

Sahih

-" إن الكريم ابن الكريم ابن الكريم ابن الكريم يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم خليل الرحمن تبارك وتعالى، لو لبثت في السجن ما لبث يوسف ثم جاءني الداعي لاجبت، إذ جاءه الرسول فقال: * (ارجع إلى ربك فاساله ما بال النسوة اللاتي قطعن ايديهن) *، ورحمة الله على لوط إن كان لياوي إلى ركن شديد، إذ قال لقومه: * (لو ان لي بكم قوة او آوي إلى ركن شديد) *، فما بعث الله بعده من نبي إلا في ثروة من قومه".-" إن الكريم ابن الكريم ابن الكريم ابن الكريم يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم خليل الرحمن تبارك وتعالى، لو لبثت في السجن ما لبث يوسف ثم جاءني الداعي لأجبت، إذ جاءه الرسول فقال: * (ارجع إلى ربك فاسأله ما بال النسوة اللاتي قطعن أيديهن) *، ورحمة الله على لوط إن كان ليأوي إلى ركن شديد، إذ قال لقومه: * (لو أن لي بكم قوة أو آوي إلى ركن شديد) *، فما بعث الله بعده من نبي إلا في ثروة من قومه".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن خلیل رحمن ابراھیم (‏‏‏‏علیہم السلام)، کریم بن کریم بن کریم بن کریم تھے۔ اگر میں (‏‏‏‏محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اتنا عرصہ جیل میں ٹھہرتا جتنا کہ یوسف علیہ السلام ٹھہرے تھے اور میرے پاس بلانے کے لیے داعی آتا تو میں (‏‏‏‏ ‏‏‏‏فوراً) اس کی بات قبول کرتا اور جب ان کے پاس قاصد آیا تو انہوں نے تو کہا: «فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ» ”اس سے پوچھو کہ اب ان عورتوں کا حقیقی واقعہ کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔“ (۱۲-يوسف:۵۰) اور اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحمت کرے، وہ تو کسی مضبوط آسرے کا سہارا لینا چاہتے تھے۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: ‎ ‏‏‏‏ «لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ» ”کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا۔“ (۱۱-هود:۸۰) سو ان کے بعد جب بھی اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی بھیجا تو اسے اس کی قوم کے لوگوں کے انبوہ کثیر میں بھیجا۔“

3795

Silsila Sahiha #3795

Sahih

-" عجبت لصبر اخي يوسف وكرمه - والله يغفر له - حيث ارسل إليه ليستفتي في الرؤية، ولو كنت انا لم افعل حتى اخرج، وعجبت لصبره وكرمه - والله يغفر له - اتى ليخرج فلم يخرج حتى اخبرهم بعذره، ولو كنت انا لبادرت الباب".-" عجبت لصبر أخي يوسف وكرمه - والله يغفر له - حيث أرسل إليه ليستفتي في الرؤية، ولو كنت أنا لم أفعل حتى أخرج، وعجبت لصبره وكرمه - والله يغفر له - أتى ليخرج فلم يخرج حتى أخبرهم بعذره، ولو كنت أنا لبادرت الباب".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنے بھائی یوسف علیہ اسلام، اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے، کے صبر اور کشادہ دلی پر بڑا تعجب ہے، جب ان کی طرف خواب کی تعبیر بیان کرنے کا پیغام بھیجا گیا۔ اگر میں وہاں ہوتا تو تعبیر بیان کرنے سے پہلے (‏‏‏‏جیل سے) باہر نکل آتا۔ بس ان کے صبر اور فیاضی پر بڑا تعجب ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے، ان کے پاس آدمی آیا تاکہ وہ باہر نکل آئیں لیکن وہ اس وقت تک نہ نکلے، جب تک ان پر اپنے عذر کی وضاحت نہیں کر دی۔ اگر میں ہوتا تو دروازے کی طرف لپک پڑتا۔ اگر «اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ» ”‏‏‏‏اپنےآقاکےپاس میرا تذکرہ کرنا“ (۱۲-يوسف:۴۲) والی بات نہ ہوتی تو وہ جیل میں نہ ٹھہرتے، جب کہ وہ غیر اللہ سے پریشانی کا ازالہ چاہ رہے تھے۔

3796

Silsila Sahiha #3796

Sahih

-" لو لبثت في السجن ما لبث يوسف ثم جاء الداعي لاجبته، إذ جاءه الرسول فقال: * (ارجع إلى ربك فاساله ما بال النسوة اللاتي قطعن ايديهن إن ربي بكيدهن عليم) * ورحمة الله على لوط إن كان لياوي إلى ركن شديد، إذ قال لقومه: * (لو ان لي بكم قوة او آوي إلى ركن شديد) *، وما بعث الله من بعده من نبي إلا في ثروة من قومه".-" لو لبثت في السجن ما لبث يوسف ثم جاء الداعي لأجبته، إذ جاءه الرسول فقال: * (ارجع إلى ربك فاسأله ما بال النسوة اللاتي قطعن أيديهن إن ربي بكيدهن عليم) * ورحمة الله على لوط إن كان ليأوي إلى ركن شديد، إذ قال لقومه: * (لو أن لي بكم قوة أو آوي إلى ركن شديد) *، وما بعث الله من بعده من نبي إلا في ثروة من قومه".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏اگر میں (‏‏‏‏محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اتنا عرصہ جیل میں ٹھہرتا جتنا کہ یوسف علیہ السلام ٹھہرے تھے اور میرے پاس بلانے کے لیے داعی آتا تو میں (‏‏‏‏فوراً) اس کی بات قبول کرتا اور جب ان کے پاس قاصد آیا تو انہوں نے تو کہا: «ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ» ”اس سے پوچھو کہ اب ان عورتوں کا حقیقی واقعہ کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا رب ان کے مکر سے واقف ہے“ (۱۲-يوسف:۵۰) اور اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحمت کرے، وہ تو کسی مضبوط آسرے کا سہارا لینا چاہتے تھے۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: «لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ» ‏‏‏‏ ”کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا۔“(۱۱-هود:۸۰) سو ان کے بعد جب بھی اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی بھیجا تو اسے اس کی قوم کے لوگوں کے انبوہ کثیر میں بھیجا۔“