Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 24 · Chapter 2311

فتنے، علامات قیامت اور حشر

سیدنا عثمان برحق خلیفہ رسول تھے

3 hadiths in this chapter

3545

Silsila Sahiha #3545

Sahih

- (إنكم تلقون بعدي فتنة واختلافا- او قال: اختلافا وفتنة-، فقال له قائل من الناس: فمن لنا يا رسول الله؟! قال: عليكم بالامين واصحابه، وهو يشير إلى عثمان بذلك).- (إنَّكم تَلقَونَ بَعدي فِتنةً واختلافاً- أو قال: اختلافاً وفتنةً-، فقال له قائلٌ من الناس: فمن لنا يا رسولَ اللهِ؟! قال: عليكم بالأمينِ وأصحابهِ، وهو يشيرُ إلى عثمان بذلك).

اردو ترجمہ · Urdu

موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں: مجھے میرے نانا ابوحبیبہ نے بیان کیا کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر، جس میں وہ محصور تھے، داخل ہوئے، انہوں نے دیکھا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ باتیں کرنے کے لیے اجازت طلب کی۔ انہوں نے اجازت دے دی، وہ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”تم لوگ میرے بعد فتنے اور اختلاف میں پڑ جاؤ گے۔“ کسی کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس وقت (‏‏‏‏کون سا قائد) ہمارے حق میں بہتر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اس امین اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑنا۔“

3546

Silsila Sahiha #3546

Sahih

- (تهجمون على رجل معتجر ببرد حبرة، يبايع الناس، من اهل الجنة)- (تَهجُمون على رجلٍ مُعتَجرٍ ببردٍ حَبِرَةٍ، يبايعُ الناسَ، من أهل الجنة)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: ”اچانک تم ایسے آدمی پر (‏‏‏‏بیعت کرنے کے لیے) ٹوٹ پڑو گے، جس نے دھاری دار چادر لپیٹی ہو گی، وہ لوگوں سے بیعت لے گا، اس حال میں کہ وہ جنتی ہو گا۔“ (‏‏‏‏ایک دن آیا کہ) ہم نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے کے لیے ان پر ہجوم کیا اور انہوں نے دھاری دار چادر لپیٹی ہوئی تھی۔

3547

Silsila Sahiha #3547

Sahih

- (لتخرجن فتنة من تحت قدمي ـ او بين رجلي - هذا، (يعني: عثمان رضي الله عنه)، هذا يومئذ ومن اتبعه على الهدى).- (لَتَخْرُجَنَّ فتنةٌ من تحتِ قدمَيْ ـ أو بين رجلَيْ - هذا، (يعني: عثمان رضي الله عنه)، هذا يومئذٍ ومن اتبعهُ على الهُدى).

اردو ترجمہ · Urdu

جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خیمہ زن تھے، سیدنا کعب بن مرہ بہزی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی تو میں اس مقام پر کھڑ ا نہ ہوتا۔ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنا تو لوگوں کو بٹھا دیا، انہوں نے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے اپنے بالوں کو سنوارا اور چہرے پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏اس (‏‏‏‏عثمان) کے قدموں کے نیچے سے فتنہ نکلے گا، اس وقت یہ (‏‏‏‏عثمان) اور اس کے پیروکار ہدایت پر ہوں گے۔ منبر کے پاس سے ابن حوالہ ازدی کھڑا ہوا اور مجھے کہا: (‏‏‏‏کعب!) تو بھی اسی کا ساتھی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ اللہ کی قسم! میں اس مجلس میں حاضر تھا، اگر مجھے یہ یقین ہو جائے کہ اس لشکر میں میری تصدیق کرنے والے موجود ہیں تو اس کے بارے میں سب سے پہلے میں کلام کروں گا۔