Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 24 · Chapter 2309

فتنے، علامات قیامت اور حشر

سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے، مشاجرات صحابہ کے بارے میں متاخرین کو کیا کہنا چاہیے؟

5 hadiths in this chapter

3539

Silsila Sahiha #3539

Sahih

-" ما خير عمار بين امرين إلا اختار ارشدهما".-" ما خير عمار بين أمرين إلا اختار أرشدهما".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھی عمار کو دو امور میں سے ایک کو انتخاب کرنے کا اختیار دیا گیا تو انہوں نے انتہائی ہدایت والے معاملے کو اختیار کیا۔“

3540

Silsila Sahiha #3540

Sahih

- (ابو اليقظان على الفطرة، لا يدعها حتى يموت، او يمسه الهرم).- (أبو اليقظان على الفطرة، لا يدَعُها حتى يموت، أو يمسَّهُ الهرم).

اردو ترجمہ · Urdu

بلال بن یحییٰ کہتے ہیں جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: اے ابوعبداللہ! عثمان (‏‏‏‏رضی اللہ عنہ) کو تو شہید کر دیا گیا ہے اور لوگ اختلاف میں پڑ چکے ہیں، ایسے میں آپ کیا کہیں گے؟ انہوں نے کہا: مجھے سہارا دو۔ انہوں نے ان کو ایک آدمی کے سینے کا سہارا دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”ابوالیقظان فطرت (‏‏‏‏اسلام) پر ہے اور اس کو مرنے تک یا انتہائی بوڑھا ہونے تک نہیں چھوڑے گا۔“

3541

Silsila Sahiha #3541

Sahih

-" ابشر عمار، تقتلك الفئة الباغية".-" أبشر عمار، تقتلك الفئة الباغية".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمار! خوش ہو جا، تجھے باغی گروپ قتل کرے گا۔“

3542

Silsila Sahiha #3542

Sahih

-" لتقاتلنه وانت ظالم له. يعني الزبير وعليا رضي الله عنهما".-" لتقاتلنه وأنت ظالم له. يعني الزبير وعليا رضي الله عنهما".

اردو ترجمہ · Urdu

ابوحرب بن ابو اسود کہتے ہیں: میں سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر صفوں کو چیرتے ہوئے واپس جا رہے تھے، ان کا بیٹا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان کے سامنے آیا اور پوچھا: آپ کو کیا ہو گیا؟ انہوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے ایسی حدیث بیان کی جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس سے ضرور لڑے گا اور تو اس کے حق میں ظالم ہو گا۔“ سو میں اس سے قتال نہیں کرتا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لڑنے کے لیے تھوڑے آئے ہیں؟ آپ تو لوگوں کے مابین صلح کروانے کے لیے آئے ہیں، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے اس معاملے کا تصفیہ کر دے۔ انہوں نے کہا: میں نے تو قتال نہ کرنے کی قسم اٹھا لی ہے۔ سیدنا عبداللہ نے کہا: (‏‏‏‏ تو بطور کفارہ) جرجس نامی غلام کو آزاد کر دو اور لوگوں کے درمیان صلح کروانے تک یہیں ٹھہرے رہو۔ سو انہوں نے اپنے غلام جرجس کو آزاد کر دیا اور وہیں ٹھہر گئے، لیکن جب لوگوں کا معاملہ مختلف فیہ ہو گیا (‏‏‏‏ اور صلح نہ ہو سکی) تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر چلے گئے۔

3543

Silsila Sahiha #3543

Sahih

-" اسلم الناس وآمن عمرو بن العاص".-" أسلم الناس وآمن عمرو بن العاص".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏لوگوں میں عمرو بن العاص زیادہ سلامتی والا اور امن والا ہے۔“ ‏‏‏‏