Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 23 · Chapter 2193

فضائل و مناقب اور معائب و نقائص

مہاجرین کی فضیلت

5 hadiths in this chapter

3317

Silsila Sahiha #3317

Sahih

- (للمهاجرين منابر من ذهب يجلسون عليها يوم القيامة، قد امنوا من الفزع)- (للمهاجرين منابرُ من ذهبٍ يجلسون عليها يوم القيامة، قد أمنوا من الفزع)

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمٰن اپنے باپ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجرین کے لیے قیامت والے دن سونے کے منبر ہوں گے، وہ ان پر بیٹھیں گے اور ہر قسم کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔“

3318

Silsila Sahiha #3318

Sahih

-" المهاجرون بعضهم اولياء بعض في الدنيا والآخرة ¬ (¬1) كذا الاصل والصواب" عبيد الله" كما تقدم. اهـ. والطلقاء من قريش والعتقاء من ثقيف بعضهم اولياء بعض في الدنيا والآخرة".-" المهاجرون بعضهم أولياء بعض في الدنيا والآخرة ¬ (¬1) كذا الأصل والصواب" عبيد الله" كما تقدم. اهـ. والطلقاء من قريش والعتقاء من ثقيف بعضهم أولياء بعض في الدنيا والآخرة".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجرین دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہوں گے اور قریش کے طلقا اور ثقیف کے عتقا بھی دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہوں گے۔“

3319

Silsila Sahiha #3319

Sahih

- (إن الله لا يحب هذا وضربه (¬1) ؛ يلوون السنتهم للناس لي البقرة لسانها بالمرعى! كذلك يلوي الله السنتهم ووجوههم في النار).- (إنّ الله لا يحبّ هذا وضَرْبَهُ (¬1) ؛ يلوُون ألسنتَهم للنّاس ليّ البقرة لسانَها بالمرعى! كذلك يلوي الله ألسنتهم ووجوهَهم في النّارِ).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا واثلہ بن اسقع سے روایت ہے، ‏‏‏‏وہ کہتے ہیں: میں اصحاب صفہ میں سے تھا، میں نے یہ دیکھا کہ ہمارا یہ حال تھا کہ ہم میں سے کسی شخص کے پاس مکمل لباس نہیں تھا اور گرد و غبار اور میل کچیل کی وجہ سے پسینے سے ہمارے جسم پر لکیریں پڑ جاتی تھیں۔ (‏‏‏‏ایک دن) اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”فقراء مہاجرین کے لیے خوشخبری ہو۔“ ہمارے پاس اچانک ایک اچھے لباس والا آدمی آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی کلام ارشاد فرماتے، وہ تکلف کے ساتھ آپ کی کلام سے افضل کلام کرتا۔ جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ اس کو اور اس جیسے شخص کو ناپسند کرتا ہے۔ یہ چراگاہ میں چرنے والی گائیوں کی طرح اپنی زبانوں کو لوگوں کے لیے مروڑتے ہیں، اللہ تعالیٰ بھی ان کے چہروں اور زبانوں کو آگ میں مروڑے گا۔“

3320

Silsila Sahiha #3320

Sahih

-" حوضي ما بين عدن إلى عمان ماؤه اشد بياضا من الثلج واحلى من العسل واكثر الناس ورودا عليه فقراء المهاجرين الشعث رءوسا، الدنس ثيابا، الذين لا ينكحون المتنعمات ولا تفتح لهم ابواب السدد، الذين يعطون الحق الذي عليهم ولا يعطون الذي لهم".-" حوضي ما بين عدن إلى عمان ماؤه أشد بياضا من الثلج وأحلى من العسل وأكثر الناس ورودا عليه فقراء المهاجرين الشعث رءوسا، الدنس ثيابا، الذين لا ينكحون المتنعمات ولا تفتح لهم أبواب السدد، الذين يعطون الحق الذي عليهم ولا يعطون الذي لهم".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے حوض (‏‏‏‏کی وسعت) عدن سے عمان تک ہے، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ وہاں آنے والوں میں اکثر فقراء مہاجرین کی ہو گی، جو اب پراگندہ بالوں والے اور میلے کپڑے والے ہیں، وہ آسودہ حال عورتوں سے شادی نہیں کرتے، بند دروازے ان کے لیے نہیں کھولے جاتے اور وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں، لیکن ان کے حقوق پورے نہیں کئے جاتے۔“

3321

Silsila Sahiha #3321

Sahih

-" اتعلم اول زمرة تدخل الجنة من امتي؟ قلت: الله ورسوله اعلم، فقال: المهاجرون ياتون يوم القيامة إلى باب الجنة ويستفتحون، فيقول لهم الخزنة: او قد حوسبتم؟ فيقولون: باي شيء نحاسب وإنما كانت اسيافنا على عواتقنا في سبيل الله حتى متنا على ذلك؟ قال: فيفتح لهم، فيقيلون فيه اربعين عاما قبل ان يدخلها الناس".-" أتعلم أول زمرة تدخل الجنة من أمتي؟ قلت: الله ورسوله أعلم، فقال: المهاجرون يأتون يوم القيامة إلى باب الجنة ويستفتحون، فيقول لهم الخزنة: أو قد حوسبتم؟ فيقولون: بأي شيء نحاسب وإنما كانت أسيافنا على عواتقنا في سبيل الله حتى متنا على ذلك؟ قال: فيفتح لهم، فيقيلون فيه أربعين عاما قبل أن يدخلها الناس".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ کو میری امت کی اس جماعت کے بارے میں علم ہے جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گی؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جماعت مہاجرین کی ہے۔ وہ روز قیامت جنت کے دروازے پر آ کر دروازے کھولنے کا مطالبہ کریں گے۔ دربان ان سے پوچھے گا: آیا تمہارا حساب و کتاب ہو چکا ہے؟ وہ کہیں گے: کس موضوع پر ہم سے حساب کتاب لیا جائے؟ اللہ تعالیٰ کے راستے میں مرتے دم تک ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر رہیں، سو وہ ان کے لیے دروازہ کھول دے گا اور وہ (‏‏‏‏داخل ہو کر) عام لوگوں کے داخلے سے پہلے چالیس سال کا قیلولہ بھی کر چکے ہوں گے۔“