Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 23 · Chapter 2178

فضائل و مناقب اور معائب و نقائص

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت

3 hadiths in this chapter

3282

Silsila Sahiha #3282

Sahih

-" فاطمة بضعة مني، يقبضني ما يقبضها ويبسطني ما يبسطها، وإن الانساب يوم القيامة تنقطع غير نسبي وسببي وصهري".-" فاطمة بضعة مني، يقبضني ما يقبضها ويبسطني ما يبسطها، وإن الأنساب يوم القيامة تنقطع غير نسبي وسببي وصهري".

اردو ترجمہ · Urdu

مسور کہتے ہیں کہ حسن بن حسن نے میری بیٹی سے شادی کرنے کے لیے مجھے پیغام بھیجا، میں نے قاصد کو کہا: اسے کہنا کہ وہ مجھے شام کو ملے۔ اس نے مسور سے (‏‏‏‏وقت کے مطابق) ملاقات کی۔ مسور نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا: اللہ کی قسم! مجھے کوئی نسبی اور ازدواجی رشتہ و قرابت تمہارے نسب و حسب اور نسبی و ازدواجی تعلق و قرابت سے بڑھ کر محبوب نہیں ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ میرے (‏‏‏‏ بدن کا) ٹکڑا ہے، جو چیز اسے پریشان کرتی ہے وہ مجھے بھی پریشان کرتی ہے، جو چیز اسے خوش کرتی ہے وہ مجھے بھی خوش کرتی ہے اور قیامت والے دن سب احساب و انساب منقطع ہو جائیں گے، ماسوائے میرے نسب، رشتہ و قرابت اور دامادگی کے۔“ (‏‏‏‏ اس حدیث کے بعد غور کر (‏‏‏‏کہ) تیرے گھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عہنا کی بیٹی ہے۔ اگر میں نے اپنی بیٹی سے بھی تیری شادی کر دی تو وہ پریشان ہو گی (‏‏‏‏ایسی صورت میں میرا اور میری بیٹی کا کیا بنے گا؟) حسن بن حسن نے اسے معذور سمجھا اور چل دیے۔

3283

Silsila Sahiha #3283

Sahih

-" سيدات نساء اهل الجنة بعد مريم بنت عمران: فاطمة وخديجة وآسية امراة فرعون".-" سيدات نساء أهل الجنة بعد مريم بنت عمران: فاطمة وخديجة وآسية امرأة فرعون".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مریم بنت عمران کے بعد جنتی عورتوں کی سردار یہ (‏‏‏‏تین عورتیں) فاطمہ، خدیجہ اور فرعوں کی بیوی آسیہ ہیں۔“

3284

Silsila Sahiha #3284

Sahih

-" يا فاطمة! الا ترضين ان تكوني سيدة نساء المؤمنين، او سيدة نساء هذه الامة".-" يا فاطمة! ألا ترضين أن تكوني سيدة نساء المؤمنين، أو سيدة نساء هذه الأمة".

اردو ترجمہ · Urdu

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ کے پاس جمع تھیں، کوئی ایک بھی غیر حاضر نہیں تھی، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس چل کر آ رہی تھیں، ان کے چلنے کا انداز بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا تھا۔ جب آپ نے ان کو دیکھا تو یوں خوش آمدید کہا: ”میری بیٹی! مرحبا۔“ پھر ان کو اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا، آپ نے ان سے سرگوشی کی، وہ شد و مد سے رونے لگ گئیں۔ جب آپ نے ان کے غم و الم کو دیکھا تو دوسری دفعہ سرگوشی کی، اب کی بار انہوں نے ہنسنا شروع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے میں نے اس سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کوئی رازدارانہ بات کی، لیکن تو نے رونا شروع کر دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے تو میں نے ان سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا سرگوشی کی ہے؟ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش نہیں کر سکتی۔ جب آپ فوت ہو گئے تو میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں تجھے تجھ پر اپنے حق کا واسطہ دے کر پوچھتی ہوں کہ اب تم مجھے ضرور بتاؤ گی۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے اب، بتا دیتی ہوں۔ انہوں نے مجھے بتلایا کہ آپ نے پہلی دفعہ والی سرگوشی میں مجھے فرمایا: ”‏‏‏‏ جبریل مجھ سے ہر سال ایک دفعہ قرآن مجید کا دورہ کیا کرتے تھے اور اس سال دو دفعہ کیا، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ میری موت کا وقت قریب آ چکا ہے۔ لہٰذا اللہ سے ڈرنا اور صبر کرنا، میں تیرے لیے بہترین پیش رو ہوں گا۔“ یہ بات سن کر مجھے رونا آ گیا، آپ دیکھ ہی رہی تھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بےچینی اور گھبراہٹ کو دیکھا تو فرمایا: ”‏‏‏‏فاطمہ! اگر تمہیں (‏‏‏‏ ‏‏‏‏جنت میں) مومنوں کی عورتوں یا اس امت کی عورتوں کی سرداری دی جائے تو راضی ہو جاؤ گی؟“ یہ سن کر میں ہنس پڑی، آپ دیکھ ہی رہی تھیں۔