Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 22 · Chapter 2089

فضائل قرآن، دعا ئیں، اذکار، دم

دم اور اس کی صورتیں

6 hadiths in this chapter

3114

Silsila Sahiha #3114

Sahih

-" إذا اشتكيت فضع يدك حيث تشتكي وقل: بسم الله (وبالله)، اعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما اجد من وجعي هذا، ثم ارفع يدك ثم اعد ذلك وترا".-" إذا اشتكيت فضع يدك حيث تشتكي وقل: بسم الله (وبالله)، أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد من وجعي هذا، ثم ارفع يدك ثم أعد ذلك وترا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تجھے تکلیف ہو تو اپنا ہاتھ تکلیف والی جگہ پہ رکھ اور یہ دعا پڑھ: اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ کے ساتھ، میں اللہ تعالیٰ کی عزت و قدرت کی پناہ میں آتا ہوں، اس تکلیف سے، جسے میں محسوس کر رہا ہوں۔ پھر اپنا ہاتھ اٹھا لے اور یہ عمل طاق (‏‏‏‏تین یا پانچ یا سات . . .) دفعہ کر۔“

3115

Silsila Sahiha #3115

Sahih

-" كان يرقي، يقول: امسح الباس رب الناس بيدك الشفاء لا يكشف الكرب إلا انت".-" كان يرقي، يقول: امسح البأس رب الناس بيدك الشفاء لا يكشف الكرب إلا أنت".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (‏‏‏‏یہ کلمات پڑھ کر مریض کا) علاج کرتے تھے: ”لوگوں کے ربّ! تکلیف کو دور کر دے، تیرے ہاتھ میں شفاء ہے، تو ہی رنج و تکلیف کو ہٹا سکتا ہے۔“

3116

Silsila Sahiha #3116

Sahih

-" ارقيه، وعلميها حفصة، كما علمتيها الكتاب، وفي رواية الكتابة".-" ارقيه، وعلميها حفصة، كما علمتيها الكتاب، وفي رواية الكتابة".

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکر بن سلیمان بن ابوحثمہ قریشی کہتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی کے پہلو میں ایک پھوڑا نکل آیا، اسے بتلایا گیا کہ سیدہ شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا اس پھوڑے پر جھاڑ پھونک کرتی ہیں۔ وہ ان کے پاس گیا اور مطالبہ کیا وہ اسے دم کریں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے جب سے اسلام قبول کیا، کسی کو دم نہیں کیا۔ وہ انصاری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا اور شفاء کی ساری بات بتلا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفاء کو بلایا اور اسے فرمايا ”‏‏‏‏ اپنا دم مجھ پر پیش کرو۔ ”‏‏‏‏انہوں نے ایسے ہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصاری کو دم کر اور حفصہ کو اس دم کی تعلیم دے، جیسا کہ تو پہلے اسے کتابت سکھلا چکی ہے۔“

3117

Silsila Sahiha #3117

Sahih

-" اعرضوا علي رقاكم، لا باس بالرقى ما لم يكن فيه شرك".-" أعرضوا علي رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عوف بن مالک اشجی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم دور جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے۔ (‏‏‏‏مسلمان ہونے بعد) پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کا ان (‏‏‏‏دموں) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے تعویذات (‏‏‏‏دم) مجھ پر پیش کرو اور (‏‏‏‏یاد رکھو کہ) اس وقت تک دموں میں کوئی حرج نہیں جب تک وہ شرک پر مشتمل نہ ہوں۔“

3118

Silsila Sahiha #3118

Sahih

-" من استطاع منكم ان ينفع اخاه فليفعل".-" من استطاع منكم أن ينفع أخاه فليفعل".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوعمر کو سانپ سے دم کرنے کی رخصت دی۔ ابو زبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ایک بچھو نے ایک آدمی کو ڈسا اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک دوسرے آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اسے دم کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہے وہ پہنچائے۔“ ‏‏‏‏

3119

Silsila Sahiha #3119

Sahih

-" كان يعوذ بهذه الكلمات:" [اللهم رب الناس] اذهب الباس، واشف وانت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما". فلما ثقل في مرضه الذي مات فيه اخذت بيده فجعلت امسحه [بها] واقولها، فنزع يده من يدي، وقال:" اللهم اغفر لي والحقني بالرفيق الاعلى". قالت: فكان هذا آخر ما سمعت من كلامه صلى الله عليه وسلم".-" كان يعوذ بهذه الكلمات:" [اللهم رب الناس] أذهب الباس، واشف وأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما". فلما ثقل في مرضه الذي مات فيه أخذت بيده فجعلت أمسحه [بها] وأقولها، فنزع يده من يدي، وقال:" اللهم اغفر لي وألحقني بالرفيق الأعلى". قالت: فكان هذا آخر ما سمعت من كلامه صلى الله عليه وسلم".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دم کرتے تھے: ”اے اللہ! لوگوں کے رب! بیماری کو ختم کر دے اور شفاء دے، تو شفاء دینے والا ہے، تیری شفاء کے علاوہ اور کوئی شفاء نہیں، ایسی شفا (‏‏‏‏دے) جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے۔ ”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض الموت شدت اختیار کر گئی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر آپ پر پھیرنے اور یہ دعا پڑھنے لگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے کھینچ لیا اور یہ پڑھنے لگ گئے۔ ”اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھے رفیق اعلیٰ میں پہنچا دے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یہ آخری کلمات تھے جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے۔