Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 21 · Chapter 1791

آداب اور اجازت طلب کرنا

نیک اور برے خواب اور دونوں کے احکام اور اقسام

4 hadiths in this chapter

2692

Silsila Sahiha #2692

Sahih

-" إذا راى احدكم الرؤيا تعجبه فليذكرها وليفسرها وإذا راى احدكم الرؤيا تسوءه، فلا يذكرها ولا يفسرها".-" إذا رأى أحدكم الرؤيا تعجبه فليذكرها وليفسرها وإذا رأى أحدكم الرؤيا تسوءه، فلا يذكرها ولا يفسرها".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی پسندیدہ خواب دیکھے تو وہ اسے بیان کرے اور اس کی تعبیر کی بھی وضاحت کر دے اور اگر ناپسندیدہ خواب دیکھے تو نہ اسے بیان کرے اور نہ اس کی تعبیر کی وضاحت کرے۔“

2693

Silsila Sahiha #2693

Sahih

-" الرؤيا ثلاث، فالبشرى من الله وحديث النفس وتخويف من الشيطان، فإذا راى احدكم رؤيا تعجبه فليقصها إن شاء، وإذا راى شيئا يكرهه فلا يقصه على احد وليقم يصلي".-" الرؤيا ثلاث، فالبشرى من الله وحديث النفس وتخويف من الشيطان، فإذا رأى أحدكم رؤيا تعجبه فليقصها إن شاء، وإذا رأى شيئا يكرهه فلا يقصه على أحد وليقم يصلي".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواب تین قسم کے ہوتے ہیں: اللہ کی طرف سے خوشخبری، نفس کے خیالات اور شیطانی ڈراوا۔ جب کوئی آدمی پسندیدہ خواب دیکھے تو وہ اسے بیان کر سکتا ہے اور اگر ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کو بیان نہ کرے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھے۔“

2694

Silsila Sahiha #2694

Sahih

-" إذا راى احدكم رؤيا يكرهها فليتحول وليتفل عن يساره ثلاثا وليسال الله من خيرها وليتعوذ من شرها".-" إذا رأى أحدكم رؤيا يكرهها فليتحول وليتفل عن يساره ثلاثا وليسأل الله من خيرها وليتعوذ من شرها".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ اپنا پہلو بدل لے (‏‏‏‏جس پر وہ لیٹا ہو) اور تین دفعہ بائیں جانب تھوکے اور اللہ تعالیٰ سے اس (‏‏‏‏خواب) کی خیر کا سوال کرے اور اس کی شر سے پناہ طلب کرے۔“

2695

Silsila Sahiha #2695

Sahih

- (إذا لعب الشيطان باحدكم في منامه؛ فلا يحدث به الناس).- (إذا لَعِبَ الشّيطانُ بأَحدِكم في منامِه؛ فلا يحدِّث به النّاسَ).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وه کہتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جبكہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! گزشتہ رات میں نے خواب دیکھا کہ میری گردن قلم کر دی گئی، سر گر پڑا اور لڑھک گیا، میں اس کے پیچھے چلا، اس کو پکڑا اور اسے اس کی جگہ پر لوٹا دیا، (‏‏‏‏اس خواب کے بارے میں آپ کا خیال ہے)؟ جواباً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ‏‏‏‏ مسکرائے اور فرمایا: ”جب شیطان کسی کے ساتھ نیند میں کھیلے تو وہ (‏‏‏‏ایسا خواب) لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے۔“