Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 19 · Chapter 1554

نصيحتين اور دل کو نرم کرنے والی احادیث

وصایائے نبوی، اللہ تعالیٰ کا تقویٰ کو پسند کرنا، کثرت سے ذکر کرنا، فی الفور توبہ کرنا

2 hadiths in this chapter

2323

Silsila Sahiha #2323

Sahih

- (عليك بتقوى الله ما استطعت، واذكر الله عز وجل عند كل حجر وشجر.! اذا عملت سيئة فاحدث عندها توبة؛ السر بالسر، والعلانية بالعلانية).- (عليك بتقوى الله ما استطعت، واذكر الله عز وجل عند كل حجر وشجر.! اذا عملت سيئةً فأحدثْ عندها توبةً؛ السرُّ بالسرِّ، والعلانيةُ بالعلانيةِ).

اردو ترجمہ · Urdu

عطا بن یسار کہتے ہیں: بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی وصیت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسب استطاعت تقویٰ اختیار کر، ہر پتھر اور درخت کے پاس اللہ کا ذکر کر اور جب تو کوئی برائی کرے تو اسی وقت توبہ کر۔ مخفی برائی کی توبہ مخفی انداز میں اور علانیہ برائی کی توبہ علانیہ انداز میں ہونی چاہئے۔“

2324

Silsila Sahiha #2324

Sahih

- (لا تحقرن شيئا من المعروف ان تاتيه؛ ولو ان تهب صلة الحبل، ولو ان تفرغ من دلوك في إناء المستقي، ولو ان تلقى اخاك المسلم ووجهك بسط إليه، ولو ان تؤنس الوحشان بنفسك، ولو ان تهب الشسع).- (لا تحقِرنَّ شَيئاً من المعروفِ أن تأتيَه؛ ولو أن تَهَبَ صِلَةَ الحبلِ، ولو أن تُفرغَ من دلوكِ في إناءِ المستقِي، ولو أن تلقَى أخاك المسلمَ ووجهُك بسطٌ إليه، ولو أن تؤنِس الوَحشان بنفسكَ، ولو أن تهَبَ الشِّسعَ).

اردو ترجمہ · Urdu

سہم بن معتمر، ہجیمی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور مدینہ کی کسی گلی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ نے روئی سے بنا ہوا تہبند باندھا ہوا تھا اور اس کا کنارہ پھیلا ہوا تھا۔ ہجیمی نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! «عليك السلام» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «عليك السلام» تو مردوں کا سلام ہے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی وصیت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نیکی سر انجام دینے کو معمولی خیال نہ کرنا، اگرچہ (وہ نیکی یہ ہو کہ تو کسی کو) رسی کا عطیہ دے دے، اپنے ڈول سے پانی مانگنے والے کے برتن میں پانی ڈال دے، اپنے مسلمان بھائی کو خندہ پیشانی کے ساتھ ملے، خوف و گھبراہٹ میں مبتلا آدمی کا دل بہلا دے یا (کسی کو) تسمہ ہبہ کر دے۔“