Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 18 · Chapter 1506

توبہ، نصیحت اور نرمی کے ابواب

مختلف اسباب کی بنا پر ایمان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے

3 hadiths in this chapter

2265

Silsila Sahiha #2265

Sahih

-" لو تدومون على ما تكونون عندي في الخلاء لصافحتكم الملائكة حتى تظلكم باجنحتها عيانا، ولكن ساعة وساعة".-" لو تدومون على ما تكونون عندي في الخلاء لصافحتكم الملائكة حتى تظلكم بأجنحتها عيانا، ولكن ساعة وساعة".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو ہمیں اپنے آپ میں پسندیدہ صفات نظر آتی ہیں، لیکن جب ہم اپنے اہل و عیال کی طرف لوٹتے ہیں اور ان میں مل جل کر رہتے ہیں تو خود کو گنہگار سمجھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اپنی خلوتوں میں اسی حالت پر قائم رہو جس پر میرے ہاں ہوتے ہو تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں گے اور اپنے پروں سے تم پر اس طرح سایہ کریں گے کہ ہر کوئی دیکھ سکے گا۔ (دراصل حالات بدلتے رہتے ہیں) کبھی یہ اور کبھی وہ۔“

2266

Silsila Sahiha #2266

Sahih

-" لو تكونون كما تكونون عندي لاظلتكم الملائكة باجنحتها".-" لو تكونون كما تكونون عندي لأظلتكم الملائكة بأجنحتها".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حنظلہ اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم لوگ (ایمان و ایقان کی اسی) حالت و کیفیت پر برقرار رہو جس پر میرے پاس ہوتے ہو تو فرشتے تم پر اپنے پروں سے سایہ کرنا شروع کر دیں۔“

2267

Silsila Sahiha #2267

Sahih

-" والذي نفسي بيده إن لو تدومون على ما تكونون عندي وفي الذكر، لصافحتكم الملائكة على فرشكم وفي طرقكم، ولكن يا حنظلة! ساعة وساعة، ثلاث مرات".-" والذي نفسي بيده إن لو تدومون على ما تكونون عندي وفي الذكر، لصافحتكم الملائكة على فرشكم وفي طرقكم، ولكن يا حنظلة! ساعة وساعة، ثلاث مرات".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حنظلہ اسدی رضی اللہ عنہ، جو آپ کے کاتبین میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھے کہا: حنظلہ! کیا حال ہے؟ میں نے کہا: حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! (بڑا تعجب ہوا) کیا کہہ رہے ہو تم؟ میں نے کہا: (حقیقت یہ ہے کہ) جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں، آپ ہم کو جنت و جہنم کے موضوع پر وعظ و نصیحت کرتے ہیں (تو ایسے لگتا ہے کہ) ہم جنت و دوزخ کو روبرو دیکھ رہے ہیں۔ لیکن جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے جاتے ہیں اور اپنی آل و اولاد اور مال و منال میں بیٹھتے ہیں تو ہمیں بہت سی چیزیں بھول جاتی ہیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ شکوہ تو ہمیں بھی ہے، سو میں اور ابوبکر چل پڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کیسے؟“ میں نے کہا: جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں اور آپ ہمیں جنت و دوزخ کا وعظ کرتے ہیں (تو ہماری روحانی رغبت و رہبت کی کیفیت یہ ہو جاتی ہے کہ) گویا کہ ہم جنت و جہنم کو دیکھ رہے ہیں، لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں اور اہل و عیال اور ساز و سامان میں مشغول ہو جاتے ہیں تو (ایسی کیفیتوں کو) بھول جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم لوگ اسی حالت پر برقرار رہتے جس پر میرے پاس ہوتے ہو اور اللہ کے ذکر میں محو رہتے تو فرشتے تمہارے بچھونوں اور شاہراہوں پر تم سے مصافحہ کرنے کے لیے آتے۔ لیکن حنظلہ! (حالات بدلتے رہتے ہیں) کبھی یہ حالت ہوتی ہے اور کبھی وہ۔“ آپ نے یہ جملہ تین دفعہ دوہرایا۔